سوشلزم ، جمہوریت اور پاکستان

 

(برائے بحث )

 

پاکستان میں سوشلزم اور جمہوریت کے حوالے سے بہت سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں اقتصادی نظام کی کیا نوعیت ہے، دولت کی پیداوار اور تقسیم کا کیا نظام ہے؟ یہ نظام ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دے رہا ہے یا پیچھے دھکیل رہا ہے۔ یہ منصفانہ ہے یا غیر منصفانہ؟ ۔اس کی قوت کس بنیاد پر قائم ہے؟ عوام اس قوت کےخلاف کس طرح لڑ رہے ہیں ؟۔ عوام اپنی لڑائی میں کس طرح آگے بڑھ سکتے ہیں؟۔ یہ تحقیق اس لئے بھی ضروری ہے کہ مارکسی نظریہ جب وجود میں آیا تو د±نیا میں پہلے صنعتی انقلاب کا آغاز ہوا تھا۔ اب د±نیا چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے۔ اورکئی ممالک سوشلسٹ انقلاب کے دور سے گزر کر ایک سرمایہ دارانہ عالمی نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔ سرمایہ دار کارپوریشنوں کے حصص خریدنے کے عمل میں مزدور طبقے کے لوگ بھی سرمائے کے مالکوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ اور سرمایہ دارانہ نظام کے اندررہتے ہوئے شراکتی اقتصادی برادریاں بنانے کے تجربے بھی ہو رہے ہیں۔ طبقاتی نابرابری کے علاوہ نابرابری کی دوسری شکلوں کےخلاف لڑائی شناختی سیاست کے حوالے سے ہوئی ہے۔ جمہوری اورمسلح بغاوت دونوں طریقوں سے انقلابی سیاست کے کامیاب اورناکام تجربات ہوئے ہیں۔ فرد کی آزادی ، ثقافتی آزادی ، جنسی رویوں اور جدید مالیاتی نظام میں موجود استحصال کی شکلوں اورانہیں تبدیل کرنے کے امکانات کی شکلوں کے حوالے سے نظریہ سازی ہوئی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ استحصالی نظام ختم ہوگیاہے ۔بلکہ اس کی تو شکل بدل گئی ہے۔ اور اسے تبدیل کرنے کے طریقوں کی شکل میں بھی بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ آج کے دورکا بنیادی تضاد جدید عالمی کارپوریشن اور مختلف شناختوں سے تعلق رکھنے والے شہری گروہوں کے درمیان کشمکش کی صورت میںظاہر ہو رہا ہے۔

میرے خیال میں پاکستان میں سرمایہ داری نظام قائم ہے۔ یہ سرمایہ داری برطانیہ، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، ہندوستان اور روس کی سرمایہ داری سے مختلف ہے۔ پاکستان میں سرمایہ داری کا آغاز 1885 میں ہوا۔ سرمایہ داری سے پہلے بھی دنیا میں منافع کمانے کیلئے پیداوار اور تجارت ہوتی تھی۔ اپنے استعمال کے لئے پیدا ہونے والی چیزوں کا ایک حصہ بازار میں بیچا جاتا تھا۔ تکنیکی طور پر اسے جنس (اشیائے فروخت) کی پیداوار کا نظام کہا جاتا تھا۔ لیکن اس پیداواری نظام کو مارکس نے سرمایہ داری نظام نہیںکہا۔ سرمایہ داری نظام سے قبل زمین اور اشیاءجنس کے دائرے میں آتی تھیں۔ سرمایہ داری نظام میں محنت کرنے کی قوت بھی جنس بن گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سرمایہ داری کی ابتدا کرنے والے ملک برطانیہ میں زرعی پیداوار کرنے والے کاشتکاروں کو ورثہ میں ملنے والی مقامی مشترکہ زمین۔ یعنی کامنز- سے جبری طور پر الگ کر کے انہیں مجبور کر دیا گیا کہ وہ کارخانہ داروں کے پاس اپنی قوت محنت بیچ دیں۔مارکس نے مزدور کی محنت کو جنس نہیں کہا۔ اس کی قوت محنت کو جنس کہا۔ مزدور کو اپنی محنت کارخانے کے مالک کے حوالے کرنے کا جو موقعہ ملتا تھا۔ اس کے معاوضے میں اسے جو مزدوری ملتی تھی۔ وہ اس کی قوت محنت کامعاوضہ تھی جو اس کی محنت کی قدر( یا قیمت) سے کم تھی اور منافع کمانے کا ذریعہ بنتی تھی۔ اس لئے محنت کی قوت کا جنس بننا سرمایہ داری نظام کی بنیاد تھا۔ اس کے خاتمے کے لئے پیداواری ذرائع کو مزدور طبقے کی ملکیت میں لانا ضروری تھا۔ لیکن سرمایہ داری نظام، ذرائع پیداوار، مزدور طبقہ ، سرمایہ دار ریاست اور انقلابی سیاست میں پچھلی دو صدیوں میں مسلسل تبدیلیاںآئی ہیں۔ اس لئے پرانے سوالوں کو نئے زمانے اور ایک نئے خطے ( پاکستان) کے حوالے سے دوبارہ اٹھانا ضروری ہے۔

موجودہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ پنجاب میں ہے۔ اس علاقے میں 1885 میں انگریز نے ایک نہری نظام کی بنیاد رکھی جو اس زمانے میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام بن گیا۔ اس کے ذریعے پنجاب کے جنگلوں میں موجود مشترکہ ملکیت کی چراگاہوں کولاکھوں ایکڑ کے زرعی رقبے میں تبدیل کر کے انگریزوں نے یہ زمین اپنا راج مضبوط کرنے کیلئے اپنے پسندیدہ اور قابل اعتماد طبقات میں تقسیم کی۔ اس طرح زرعی سرمایہ داری کی ابتدا تو ہوگئی لیکن یہ کاشت کا تجربہ اور زراعتی کاروبار میں مہارت رکھنے والے لوگوں کو نہیں دی گئی۔ انگریزوں نے مارکیٹ سے کم نرخ پر یہ زمین سب سے زیادہ فوجی افسران کو دی۔ کیونکہ پنجابی فوج برطانوی سلطنت کی پورے ایشیا اور افریقہ کی محافظ فوج تھی اور دو عالمی جنگوں میں اس نے برطانوی راج کو بچانے کے لئے قربانیاں دی تھیں۔ یہ نہ صرف زراعت کے ماہر نہیں تھے بلکہ ان میں سے اکثر غیر حاضر زمیندار تھے۔ اس لئے ان کی کاروباری نااہلی کی وجہ سے زمین ان کے ہاتھوں سے نکل کر بنیوں کے ہاتھوں میں جانے کا ڈر تھا۔ اس لئے بیسویں صدی کے اوائل میں لینڈایلی نیشن ایکٹ بنا کر یہ زمینیں غیر کاشتکار قوموں کو بیچنے پر پابندی لگا دی گئی۔ اس طرح ایک بیمار سرمایہ داری کی بنیادرکھی گئی۔ یہ منافع بخش سرمایہ داری نہیں تھی بلکہ سیاسی سرمایہ داری تھی۔اس روایت کے تسلسل نے ہمیں دیوالیہ ہونے کی حد تک پہنچا دیا ہے۔

فوجی افسروں کے بعد زمین کا بڑا رقبہ وفادار سیاستدانوں، اور با اثر لوگوں کی نجی ملکیت میں دے دیا گیا۔ پنجاب کے سرکش قبائل پر راج کی طاقت قائم رکھنے کے لئے انگریزوں نے مقامی معتبر وں اور بڑے زمینداروں کا طبقہ قائم کیا جو مقامی تھانے کی مدد سے مقامی آبادیوں سے سرکار سے تعاون حاصل کرنے کا کام کرتے تھے۔ سرکاری اداروں میں عہدے حاصل کرتے تھے۔ نہری آبادیاںقائم ہونے سے زمین، پانی، اور زرعی پیداوار اجناس بن گئیں۔ یہ زرعی سرمایہ داری کے آغاز کا دور تھا۔ 1970 کی دہائی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے بعد زمینیں کسانوں کی ملکیت میں جانے کا ڈر پیدا ہوا تو بڑے زمینداروں نے تیزی سے ٹریکٹر اورمشینی زراعت کاری کو فروغ دیا اور مزارعوں سے بٹائی پر کاشت کرانے کی بجائے اجرتی مزدوروں کے ذریعے کاشت کاری شروع کرائی۔ محنت بھی ایک جنس میں بدل گئی اور زرعی سرمایہ داری کا عمل مکمل ہو گیا۔ اسی طرح کی تبدیلیاں باقی پاکستان میںبھی آئیں۔

اسی طرح کا زمیندار طبقہ سندھ میں بھی پیدا کیا گیا-یہ زرعی سرمایہ داری مختلف طریقے سے پختون اور بلوچ علاقوں میں داخل ہوئی۔ زرعی سرمایہ داری کے ساتھ راج نے روایتی پنچایتی جمہوریت کا خاتمہ کیا۔پورے پنجاب میں قائم تعلیمی نظام جس کے ذریعے تمام بچوں اور بچیوں کوتعلیم کے مواقع حاصل تھے ختم کر دیا۔ اور زراعتی ہنر کاری اور پیدا واریت بڑھانے کا جو نظام قائم کیا اسکی پہنچ انتہائی محدود تھی۔ اس بات کا اندازہ آپ اس حقیقت سے کر سکتے ہیں کہ آج بھی سب سے مالدار صوبے پنجاب میں70,00 کاشتکاروں کے لئے صرف 1 ایکٹنشن ورکر موجود ہے۔ انگریزوں نے ایک مضبوط فوج، پولیس اور محکمہ مال تو قائم کیا لیکن عام لوگوں کو بنیادی سہولتیں پہنچانے والے انتظامی محکمے ضلعی مراکز سے نیچے نہیں بنائے۔ ضلعی مرکز سے نیچے تمام کام مقامی سردار بےگار کے ذریعے کرواتے تھے۔سماجی طور پر قائم شدہ وقف جو کم و بیش ہر گائوں میں موجود تھے ختم کردئے اور تعلیم کا نظام اور سماجی انفراسٹرکچر ختم کردیا۔ مقام سیاسی انفراسٹرکچر قائم کیا لیکن پاکستان بننے کے بعد وہ بھی قائم نہیں رہا۔پاکستان کو ایک ایسی ریاست ورثے میں ملی جو دفاعی فرائض بہتر طریقے سے اور عوام کی فلاح کے فرائض ادھورے طریقے سے اداکرنے کے قابل تھی۔ پاکستانی سیاست کا بنیادی انحصار ریاستی قوت پر تھا۔ اور سیاست کا مقصد لوگوں کی خدمت سے زیادہ ریاست کی مالی سرپرستی حاصل کرنا تھا۔اس ریاستی قوت کے فلاحی فریضے مقامی فلاحی تنظیموں نے سنبھال لیے۔

پاکستان بننے کے وقت یہاں کوئی صنعتی سرمایہ دار طبقہ موجود نہیں تھا۔ ہندوستان سے تجارت کا تجربہ رکھنے والے کاروباری طبقے کے لوگ بڑی تعداد میں کراچی میں آکر آباد ہوئے۔ پاکستان کے اقتصادی منصوبہ بندی کے معمار ڈاکٹر محبوب الحق نے ساٹھ کی دہائی میں اقتصادی منصوبہ بندی کے ذریعے اس طبقے کو صنعتی سرمایہ دار بنانے اور صنعتکاری کرنے کا آغاز کیا۔ اس منصوبہ بندی میں ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ریاست کی نام نہاد ترقیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں دولت کی زراعت سے صنعت، کم ترقی یافتہ علاقوں سے زیادہ ترقی یافتہ علاقوں، اور مزدوروں سے سرمایہ داروں کو منتقلی کا عمل شروع ہوا۔اس ترقیاتی نظام کے نتائج خود محبوب الحق صاحب کے لئے حیران کن تھے۔ وہ پہلے معیشت دان تھے جنہوں نے 20 گھرانوں کے ہاتھ میں اقتصادی طاقت کےارتکاز کی نشاندہی کی اور اس پر تنقید کی۔ دولت کے ارتکاز نے جس مہنگائی اور نابرابری کو جنم دیا اس کے نتیجے میں عوامی حتجاجوں کا طویل سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں دس سالہ دور ترقی کے خالق جنرل ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا- اس سے پہلے 1965 کی جنگ میں صنعتی سرمایہ کاری کی گاڑی پٹڑی سے اتر گئی ، امریکی امداد بند ہو گئی- کے آنے کے بعدصنعتوں کے قومیانے سے رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی۔ اور پاکستان جو اقتصادی ترقی کے تجربے میں ایشیا کے پوسٹرچائلڈ کا درجہ حاصل کر چ±کا تھا پردہِ گمنامی میں چلا گیا۔

بھٹو کے دور میں 1970 کی دہائی کے اوائل میں ریاستی سرمایہ داری کا آغاز ہوا۔ نہ صرف بڑی صنعتیں بلکہ گندم پیسنے اور چاول چھڑنے کے چھوٹے یونٹ بھی ریاستی ملکیت میں لے لیے گئے۔ اقتصادی فیصلے کے اختیار سرکاری بابووں کو منتقل کر دیے گئے۔ یہ پالیسی ضیا الحق کے دور میں اور اس کے بعدتک جاری رہی کیونکہ آمرانہ سیاست کرنے کے لئے اور نا اہل کاروباری اداروں اور سیاستدانوں کی سرپرستی اور عوامی مزاحمت کوروکنے کے لئے ان کا تعاون حاصل کرنے کا اس بہتر کوئی اور ہتھیار نہیں تھا۔ لیکن جب نجی سرمایہ دار کو دوبارہ کاروبار کی اجازت دی گئی تو انفارمل سیکٹر ہماری معیشت کے 90 فیصد حصے تک پھیل گیا تھا۔ مسابقت پر مبنی سرمایہ داری کی جگہ سرکاری سر پرستی اور سرکاری ضابطوں کی تروڑ مروڑ کے ذریعے مال کمانے نے لے لی۔ سرمایہ دار طبقے کی ناقص کارکردگی کے باوجود ہمیں غیر ملکی امدا دکا بڑا حصہ سرد جنگ میں مغربی ممالک کے حلیف کے طور خدمات انجام دینے کے صلے میں ہمیں ملا۔ اسی وجہ سے عسکری قیادت کی اقتصادی نظام میں دخل اندازی کی گنجائش بڑھتی گئی۔ اور وہ ریاستی سرمایہ دار کے طور پر پاکستان کے سرمایہ داری نظام کا ایک اہم ستون ہیں-

زرعی ، صنعتی اور سیاسی/ ریاستی سرمایہ دار طبقے کو ملنے والا منافع قرضوں اور اجتماعی خسارے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔اس قرض اور خسارے کی ادائیگی زرعی مزدور، صنعتی مزدور، اور انفارمل سیکٹر کے مائکرو کاروبار کرنے والے طبقات کی جیب کاٹ کر ہوتی رہی ہے۔ ہم نے کاروباری سرمایہ کاری پر وسائل خرچ کرنے پر تو زور دیا لیکن افرادی قوت پر سرمایہ لگانے کو نظر انداز کیا۔ہمارا معاشی نظام اس وقت مقروض (فارمل) اور خود کفیل (انفارمل) دو طرح کے معاشی شعبوں پرمشتمل ہے- ان دو شعبوں کے درمیان کشمکش ریاست اور شہریوں کے درمیان کشمکش بن گئی ہے۔ اس کشمکش کی نظریاتی اور عملی شکلیں ہماری سماجی تبدیلی کی شکل متعین کر رہی ہیں۔ہماری اشرافیہ ٹیکس ،قرضے اور زمین چوری کرتی ہے۔ اور غریب شہری سرکاری وسائل چوری کرنے والوں سے سستے داموں سہولیات زندگی خرید کر ، یا سول سوسائٹی اور خیراتی اداروں سے سروسز حاصل کر کے اپنا گزارہ کر تے ہیں۔اشرافیہ کی قیادت ریاستی اداروں میں قدم جمائے ہوئے مافیا کے ہاتھ میں ہے اور عوام کی قیادت سول سوسائٹی اور انسول سوسائٹی مافیا دونوں کے ہاتھ میں ہے۔ہمارے شہری ریاستی سرمایہ داری کی لوٹ کھسوٹ کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔اور ہماری اشرافیہ لوٹ کھسوٹ ترک کر کے ٹیکس میں اپنا حصہ ادا کرنے کو تیار نہیں۔ اشرافیہ کے پاس دور اندیش فکری قیادت نہیں ہے اور عوام کے پاس اقتدار کے نظام میں شرکت مانگنے والی سیاسی قیادت نہیں ہے۔ قیادت کا یہ خلا غیر ملکی اداروں کے ہاتھ میں اقتصادی پالیسیوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار دینے سے پر ہو گا۔

سوال یہ ہے کہ جمہوری سوشلسٹ سیاست کی اس وقت کیا شکل ہو سکتی ہے۔ اس کی ابتدائی شکل مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات کی مقامی حکومت کو منتقلی کے لئے آئینی ترمیم کرانے اور مقامی حکومت کی سیاست میں سر گرم ہونے سے بنے گی -پھرٹیکسوں اور مراعات کے نظام میں تبدیلی ، اور قرضوں کی بجائے براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے ترقیاتی کام کرنے، دفاعی بجٹ میں کمی کرنے،اور افرادی قوت کی ترقی پر خرچ کرنے کیلئے قانون سازی سے ہو گی۔ پاکستانی عوام نے دو سطح پر لڑائی لڑی ہے۔ ایک دستوری نظام کے اندر رہتے ہوئے۔ سول سوسائٹی، اور قائدانہ صلاحیت رکھنے والے باضمیر سرکاری افسران کے ذریعے۔ ان میں رامون میگسی سے ایوارڈ حاصل کرنے والے چودہ پاکستانی اور بے شمار اسی طرح کے لوگ ہیں۔ انہوں نے فلاحی ریاست کی ذمہ داریاں خود سنبھال لیں۔ دوسرے قانون کو توڑتے ہوئے اور نظام کی حدود سے باہر لڑائی کرتے ہوئے۔ یہ رول سرمایہ داری نظام کی مخالف کوئی جماعت نہیں کر سکی۔ اس لڑائی کی قیادت کرنے والوں کے پاس انقلابی نظریہ نہیں تھا، لیکن ان کے کام کے نتائج انقلابی تھے۔ انقلابی سیاسی جماعتوں نے دانشوروں، طالب علموں، مزدوروں، صحافیوں اور غریب شہری عوام کی شراکت سے آمرانہ نظام کے خلاف مسلسل احتجاج کیا ہے، انتخابی سیاست میں محدود کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن نظریہ سازی،پاکستانی ریاست اور معاشرے کے تجزیے، عوامی سیاست اور قانون سازی میں ان کا کام انتہائی محدود رہا ہے۔ جمہوری کلچر بائیںبازو میں بھی دائیں بازو کی جماعتوں اور پاکستان کی سماجی زندگی کی طرح انتہائی کمزور رہا ہے۔ نیا علم پیدا کرنے اور سیاسی نظام کے اندر باہر حلقے قائم کرکے ریاست کی طرف سے غصب کیے گئے عوامی وسائل واپس لینے کی سیاست دستوری، قانونی اورجمہوری طریقے سے ہو سکتی ہے۔ اس کی مثالیں پاکستان میں موجود ہیں۔ انہیں جاننے کی ضرورت ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*