عصا ایجاد تو کرتے! 

 

مسلسل کوئی اک آواز

پیچھا کررہی ہے

تسلسل سے

کوئی قصہ

مخاطب کررہا ہے

خوش گماناں

معجزہ خواہاں

کبھی خود کو

تم اپنی قید سے

آزاد تو کرتے

کبھی احوال کے

دیمک زدہ اوراق کا

اثبات تو کرتے

کسی گرداب میں

خوابوں کے

اپنے آپ کو

برباد تو کرتے

کسی ایفا ئے وعدہ میں

کہیں مقتل کو ئی

آباد تو کرتے

ہمارا تم سے وعدہ ہے

سمندرراستہ دے گا

مگرجاناں

کوئی ایسا عصا

ایجاد تو کرتے

 

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*