خزاں آرہی ہے 

 

فضا قرمزی سبزئی

لاجوردی

تڑختے ہوئے

سوکھے پتوں کے بوجھے تلے

کچھ خنک

اور بھاری ہوئی جارہی ہے

خزاں آ رہی ہے

مئے خاک پی کر گھٹا

اک نئی سرمئی ارمغانی

نظر کاتتی

خود میں مدہوش ہے

لڑکھڑاتی ہوئی

اپنے افلاک کی وسعتوں تک

اڑی جا رہی ہے

خزاں آرہی ہے

سر وسبز ڈالی پہ ٹہری ہوئی

صوفیانہ فضا

میرے ادراک تک

ہوکتی آرہی ہے

خزاں آرہی ہے

خامشی

میگھ ملہار میں

کوکتے راگ سے

زخمی سینوں کو

برما رہی ہے

خزاں آرہی ہے ہے

±سرد وزنی ہوا

اپنے قدموں تلے

چرچراتے ہوئے

سوکھے پتوں کی

اس سرمئی موت سے

اک نئی زندگی

کھینچ کر لا رہی ہے

خزاں آرہی ہے

جنگلوں راستوں کی زمیں

تارکولی کسی راہ تک

چرمراتے ہوئے

پستئی مونگیا

ذرد موسم کی

فوج ظفرکے تلے

ہانپتی کس طرف جا رہی ہے

خزاں آرہی ہے

اے برہنہ شجر دیکھ تو

تیری خون آشام سرخی

شفق رنگ میں

خود سے شرما ئے سی جا رہی ہے

خزاں آرہی ہے

انہیں پیپلوں کے تلے

عاشقوں کے لیے

ٹھنڈی میٹھی پونن

چھوٹے چھوٹے دنوں

لمبی لمبی شبوں کی

خبر لا رہی ہے

خزاں آرہی ہے

جھنڈ اور ٹولیوں میں

پرندوں کا رخت سفر

دیکھ کر

سطح دریا ہر اک موج میں

درد تنہائی سے

اپنے اندر

بجھی جارہی ہے

خزاں آرہی ہے

بیج کی پھر بوائی کرانے

اسے گدگدانے

نئی رت ابھی سے

کہاں تو چلی آرہی ہے

خزاں آرہی ہے

بتا تو بتا

مرے پیپل کی ٹہنی میں

جاگے ہوئے شوق رفتار

تیری نظر

کس طرف

اور کس کے لیے جا رہی ہے

خزاں آرہی ہے

 

ماہتاک سنگت کوئٹہ فروری 2023

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*