لطیف آفریدی ۔۔۔ ایک بڑا قلعہ گر گیا

 

سنگت لطیف آفریدی ایک روشن فکر اور جمہوری راہنما تھا۔وہ ایک اچھا انسان اور ایک ذاتی دوست اور سنگت تھا۔

شیطانوں کے اکسائے ہوئے ایک شخص نے اسے عدالت کے اندر گولیاں مار کر نمیران کردیا ۔ ایک نازک خیال شخص اس طرح کی موت کے لیے تو نہ تھا۔ وہ بے دماغی ، بے حسی، فاشزم اور تباہ کن تشدد کا نشانہ بنا۔

وہ ساری زندگی جس چیز کے خلاف لڑا، اُسی بدبخت چیز کا نشانہ بنا۔ وہ بے کار شدہ قبائلی نظام کے خلاف تھا، اسی کی سیاہ بختی میں ڈبو دیا گیا۔ جس گولی گولہ کے خلاف وہ ساری عمر لڑتا رہا، انہی گولیوں میں اس کا جسم پرودیا گیا۔

لطیف آفریدی مزاحمتی سیاست اور مصمم ڈیموکریسی کی نمائندہ آوازوں میں سے تھا۔ جنرل ایوب کے دور میں اسے جیل ہوئی تھی ۔ ضیا کا تقریباً پورا دور اس نے جیلوں میں گزارا۔ جنرل مشرف کے ساری سیاہ بختی کے دور میں وہ انسانی حقوق کی آواز بن گیا تھا۔

مشرف نے آئین معطل کرکے ایمرجنسی نافذ کی تو وہ ہی سب سے پہلے گھر سے نکلا۔ صوبائی اسمبلی کے بالکل پاس ہی ایک بکتر بند گاڑی اس کو بے دردی سے روندتی ہوئی نکل گئی۔ اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔ بعد میںجو اس کے ہاتھ میں ہر دم ایک لاٹھی نظر آتی تھی، وہ اس کی مزاحمت کی گواہی تھی۔ یہ لاٹھی اُس کا سہارا تھی اور یہ لاٹھی ٹیکتا انسان خود مظلوموں کا سہارا تھا۔

لطیف آفریدی آئین میں اٹھارویں ترمیم کے مصنفوں میںسے ایک تھا۔

سال 2020 میں وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میںنمائندہ سامنے آیا۔ مشکل حالات تھے، مگر مخالف دھڑے کو اس نے شکست دیدی۔ اس کی فتح کو آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کے فلسفے پر یقین رکھنے والے تمام حلقوں نے اپنی جیت سے تعبیر کیا تھا۔

خڑ کمر واقعے کے بعد محسن داوڑ اور علی وزیر کو جیل ہوئی تو تقریبا ہر زبان خشک تھی اور ہر قلم سہما ہوا تھا۔ لطیف آفریدی نے ریاست کی ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر ان پُر امن سیاسی کارکنوں کا مقدمہ لڑا اور سر خرو ہوا۔

مقدمات اور جیلوں کا سامنا کرنے والے جن پسے ہوئے طبقات کا کوئی نہیں ہوتا تھا، ان کا لطیف آفریدی ہوتا تھا۔

آج ہماری شمالی سرحد پہ انسانیت کے حق میں ہمیشہ موجود وہ مضبوط، اونچی اور بہادر آواز ختم کردی گئی۔ بلاشبہ لطیف آفریدی پورا علاقہ ویران کر گیا۔

مظلوموں کے پاس اپنے اِس ہمدرد کو یاد رکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ لطیف جان نے بے پناہ فالوئرز پیدا کیے۔ وہ سب ہر کونے سے اپنے اس میٹھے ساتھی کے بہیمانہ قتل پہ سوگوار ہیں۔۔۔ سلام سنگت!

 

ماہتاک سنگت کوئٹہ ۔ فروری 2023

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*