سنگت ادبی دیوان لیاری کی ادبی نشست

 

 

اوسط جعفری۔ نور محمد شیخ اور مجید رحمانی کراچی کے پروگریسو مصنفین کے حلقوں میں کافی جانے پہچانے نام ہیں۔ لیاری میں علمی۔ سماجی۔ ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کے مرکز "مہر گھر” (House of Love) میں 29 جنوری 2023 کو ان ہی شخصیات کی دیرینہ ادب شناسی اور ادب دوستی کی گونج سنگت ادبی دیوان کی پہلی ادبی نشست میں بھی سنائی دی۔

 

معروف مصنف و مفکر ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کراچی آرٹس کونسل کی لائبریری کمیٹی کی چیرپرسن ڈاکٹر فاطمہ حسن کی میزبانی میں ایک ادبی بیٹھک کے دوران گزشتہ مہینے نوجوانوں کو روشن خیالی اور ادبی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔

 

ان ہی کے فرمودات کی روشنی میں حتمی طور پر مجوزہ تنظیم کو ادبی میدان میں متحرک کرنے لئے کمیٹی قائم کی گئی جس کی جانب سے 29 جنوری کو پہلی ادبی و تنقیدی نشست کا اہتمام ہوا۔ اس نشست کی صدارت بزرگ ادبی شخصیت اوسط جعفری نے کی جبکہ نظامت کے فرائض نور محمد شیخ نے انجام دئے۔ لیاری کی ادبی شخصیات کی بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔

 

نشست کے آغاز میں ایجنڈا کے مطابق لیاری کے نوجوان شاعر اصغر لعل نے ایک افسانچہ پیش کیا اور ترقی پسند شاعر عیسیٰ بلوچ نے ایک غزل پیش کی۔ دونوں تخلیق کاروں کی کاوشوں کو شرکاء کی جانب سے مجموعی طور پر سراہا گیا۔

 

اس کے بعد صاحب صدر کی اجازت سے موجود شاعر حضرات یعنی وحید نور۔ اسحاق خاموش۔ عمران فاخر۔ چراگ سحر اور اورنگ زیب نے اپنا اپنا کلام سنا کر حاضرین سے داد وصول کی۔ "غیرشاعرانہ” سامعین میں مس در بی بی۔ استاد غلام محمد۔ زاہد بارکزئی۔ رؤف عرفی۔ اے۔ بی۔ راٹھور اور یہ حقیر فقیر شامل تھے۔

 

داد تو صاحب صدر اوسط جعفری اور نور محمد شیخ کو بھی خوب ملی جب انہوں نے اپنے کلام سے پسندیدہ کچھ نظمیں اور غزلیں پیش کیں۔ مجید رحمانی نے بین الاقوامی شہرت کے ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کے جب وہ لیاری عبداللہ ہارون کالج میں پرنسپل تھے ان دنوں کی ادبی سرگرمیوں اور فیض صاحب کے حوالے سے اپنی یادداشتوں کو تازہ کیا۔

 

اس طرح "محبت کے گھر” میں چائے اور دوستوں کی مسکراہٹوں کے ساتھ سنگت ادبی دیوان لیاری کی ماہانہ نشست کا اختتام ہوا۔

 

FROM LYARI WITH LOVE

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*