مست تئوکلی

 

میرے مستیں تئوکلی سن لے

اب بھی جزبوں کی نوحہ خوانی ہے

اب بھی دستار کی کہانی ہے

میرے مستیں تئوکلی۔سن لے

اب بھی جنگ وجدل کا عالم ہے

ہر طرف ہی خزاں کا موسم ہے

میرے مستیں تئوکلی سن لے

اب بھی درویش یوں بھٹکتے ہیں

شب کی تنہائیوں میں بستے ہیں

میرے مستیں تئوکلی۔سن لے

اب بھی کانٹے چبھے ہیں پیروں میں

اب بھی تاریکیاں سویروں میں

میرے مستیں تئوکلی سن لے

اب بھی دنیا کے سخت پہرے ہیں

ہر طرف پیار کے لٹیرے ہیں

میرے مستیں تئوکلی سن لے

اب بھی روحوں کی بیقراری ہے

یہ سفر تو ازل سے جاری ہے

میرے مستیں تئوکلی سن لے

پھر وہی داستان لکھتے ہیں

جنگلوں میں چلو بھٹکتے ہیں

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*