رائی دانہ

 

جب ہم لاہور میں رہتے تھے تو میں بالکل چھوٹی سی لڑکی تھی۔ میرے بابا کا ایک دوست تھا جو مسلمان تھا۔اگرچہ بابا کے بہت سارے دوست تھے لیکن یہ مہدر اقبال بہت خاص قسم کا دوست تھا۔ وہ موچی تھا اور ہمارے چپل وہی بناتا تھا۔اس سے جب ہماری جان پہچان ہوئی تھی تو وہ بہت مقروض تھا لیکن میرے والد نے اسے کام دینا شروع کر دیا۔ اور اپنے دوست احباب سے بھی اسے متعارف کروا دیا۔اس طرح وہ اپنا قرض اتارنے کے ساتھ ساتھ کچھ تھوڑا بہت پس انداز کرنے کے بھی قابل ہو گیا۔ اس نے گھر کی ڈیوڑھی میں ہی کام کے لئے تھوڑی سی جگہ مختص کی ہوئی تھی۔لیکن بازار میں باقاعدہ دوکان کھولنا اس کا خواب تھا۔ مصائب و آلام (تقسیم ہند )کے دن شروع ہونے تک اس نے پندرہ سو روپے کی بچت کر کر لی تھی ،یہ بات اس نے خود میرے والد کو بتائی تھی۔

ظاہری طور پر دونوں ایک جیسے تھے ؛ دونوں دبلے پتلے درخشاں اور چست مرد ، لیکن میرے والد کا دبلا پن چھوٹی ہڈیوں اور کمزوری کی وجہ سے تھا جب کہ مہدراقبال اپنے کاروباری چمڑے کی طرح مضبوط اور سخت جان تھا۔ہفتے میں دو یا تین مرتبہ میں انہیں والد کی دکان کے ٹھنڈے کونے میں شطرنج کی بساط پر جھکے ہوئے دیکھتی , میرے والد جوہری تھے اور ان دنوں ہمارے مالی حالات کافی اچھے تھے , شطرنج کی بازی کے ساتھ وہ ساری دنیا کے مسائل کا حل تلاش کرتے۔ دونوں میں مشترکہ خصوصیت یہ تھی کہ وہ دونوں اسے ممکن سمجھتے تھے۔

میرے والد نے ہی مجھے ، خدا کے عالمگیر ،اور مہربان ہونے پر یقین کرنا سکھایا تھا۔ یہ بھی سمجھایا تھا کہ انسان تکمیل پذیر ہے اور اپنے آغاز سے ہی نیکی کی طرف مائل ہے۔ میں اپنے والد سے بہت محبت کرتی تھی اس لئے ان کی کہی گئی ہر بات کو سچ مانتی تھی۔

ناموافق حالات دکھائی دینا شروع ہو گئے تھے۔ اگرچہ مجھے ان کا ادراک نہیں تھا۔مجھے یہ بات آپ کو سمجھانے کی قطعاً ضرورت نہیں کہ تقسیم کے وقت ہمارے لیے لاہور میں کیا حالات تھے۔ نہ جانے کہاں سے نفرت نمودار ہوئی اور ہر چیز پر چھا گئی۔ یہاں تک کہ ایسا وقت آ گیا کہ ہم گلی میں نکلنے کی بھی جرات نہیں کرتے تھے۔ ہماری دکان کو لوٹنے کے بعد آگ لگا دی گئی۔ پھر گھر کو بھی ،تاہم ایک چھت بچ گئی تھی جس میں ہم چھپے ہوئے تھے ، اب ایک ہی سوچ تھی کہ کسی طرح ہم واپس انڈیا پہنچ جائیں۔

میرے والد نے ہمارے لوگوں میں سے سب سے زیادہ برداشت کیا ،اس لئے کہ اس کے انسان کے بارے میں تمام خیالات ایک ایک کر کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر خاک میں مل گئے۔ شروع شروع میں وہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے کہ یہ نفرت اور غیر معقولیت جاری رہ سکتی ہے اور یہ کہ وہ اس سے ہار نہیں مانیں گے۔ لیکن آخر کار یہ واضح ہو گیا کہ یا تو ہم بھاگ جائیں یا مارے جائیں۔

ہمارے وہ لوگ جو اچھے وقت میں نکل گئے تھے وہ اپنا کچھ نہ کچھ سرمایہ بھی ساتھ لے گئے تھے۔ جس وقت ہم نے لاہور چھوڑنے کا ارادہ کیا ،اس وقت ہمارے پاس اپنے تن پر موجود کپڑوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا اور اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ شاید ہم یہاں سے جا بھی نہ پائیں۔ تاہم آخر یہ خبر ملی کہ ایک ٹرین جائے گی اور ہم اس میں جا سکتے ہیں۔ لیکن کسی کو اپنے ساتھ کوئی قیمتی چیز لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

ایک شام جب ٹرین نے روانہ ہونا تھا تو ہم اپنی پناہ گاہ سے نکلے اور ریلوے سٹیشن روانہ ہوئے۔ گلیاں مسلمانوں سے بھری تھیں۔وہی شریف لوگ جو ہمارے پڑوسی تھے وہ سب ہمیں چلا چلا کر دھمکیاں دے رہے تھے ،ہم پر تھوک رہے تھے ،اور جب ہم تیز تیز چل رہے تھے تو ہم پر پتھر پھینک رہے تھے۔ اس وقت ہم اپنی والدہ پر انحصار کر رہے تھے ،میری والدہ نے کبھی بھی اپنے ارد گرد کے انسانوں کے بارے میں بہت اعلی خیالات نہیں رکھے تھے ،اس لئے وہ میرے والد جتنی د±کھی اور ٹوٹی ہوئی بھی نہیں تھیں۔ وہ جواباًان سے نفرت کر سکتی تھی لیکن میرے والد ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ اس وجہ سے ان حالات کو والدہ کے لیے برداشت کرنا نسبتاً آسان تھا۔ جہاں تک والد کا تعلق تھا تو وہ جو تھوڑا سا گوشت ان پر تھا اسے بھی آدھا گنوا چکے تھے۔ اور ان کا چہرہ ان کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے خلاف ان کی جدوجہد کا آئینہ دار تھا۔ ہر چیز جسے وہ جانتا تھا اور جس پر یقین رکھتا تھا ٹوٹ پھوٹ چکی تھی۔

ہم بمشکل پلیٹ فارم تک پہنچے تھے کہ ہجوم تمام رکاوٹیں توڑ کر ہمارے پیچھے بھاگا اور بالکل اچانک مجھے ہجوم میں مہدر اقبال کا چہرہ دکھائی دیا۔ ہم نے کئی ہفتوں سے اسے نہیں دیکھا تھا۔سب کا عام حالات کی طرح آنا جانا یا دوستوں سے ملنا جلنا بند ہو چکا تھا۔ مجھے اپنے والد کے چہرے کے کھنڈرات میں امید کی ہلکی سی چمک نظر آئی ، کہ ان کا مہدر اقبال سے ایک بامعنی نگاہوں کا تبادلہ ان کے لئے کچھ ایسا محفوظ کر سکتا تھا جس پر مستقبل میں ہر چیز کی تعمیر ہو سکتی تھی۔

مہدر اقبال نے اس ہجوم میں سے رستہ بنایا ،میرے والد پر چھلانگ لگائی۔اورانہیں کندھوں سے پکڑ کر وحشیانہ انداز میں جھنجھوڑا۔

“ ہندو کتا ! وہ والد کے منہ پر چلایا۔” چلو دکھائو ،تم نے اپنے جیبوں میں کیا ڈالا ہوا ہے۔چلو دکھائو تم کیا چرا کر لے جا رہے ہو۔!

اس نے اپنے ہاتھ والد کی جیبوں میں ڈالے اور ان میں جو کچھ تھا باہر نکال لیا۔والد کا رومال ،عینکیں اور زندگی کی وہ رمق جو بچی کھچی رہ گئی تھی۔ سارا وقت پاگل آدمی کی طرح ان پر بڑبڑاتا رہا۔

میرے والد کسی مردہ مخلوق کی طرح کھڑے تھے اور اپنے ساتھ ہونے والی بد سلوکی برداشت کرتے رہے۔ ایک آدمی جو اس کا دوست تھا وہ انتہائی بدتمیزی سے اس کے آخری مال پر جھپٹا ، نفرت سے زمین پر تھوکا اور قہقہہ لگایا۔انتہائی معمولی چیزوں کو دوبارہ اکٹھا کرتے ہوے چلایا .

“ جائو اور اس سے امیر بن جائو۔ یہ کوڑا جیب میں بھر کر گھر لے جائو۔ “پھر میرے والد کو کندھوں سے پکڑا اور ٹرین کے اندر اس بری طرح پھینکا کہ وہ لڑکھڑا کر گر پڑے۔

میری ماں نے والد کے پیچھے مجھے اندر دھکیلا اور اپنے آپ کو میرے اور اس ہجوم کے درمیان کر لیا جس نے بالکل اچانک ٹرین کا گھیراو¿ کر لیا تھا , وہ کھڑکیوں پر مار رہے تھے اور ہمارے اوپر لعنتیں بھیج رہے تھے۔آخری بار میں نے مہدر اقبال کو پلیٹ فارم پر چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے ہماری جانب مکہ لہراتے ہوئے پلیٹ فارم پر کھڑے دیکھا۔ لیکن ہم ٹرین کے اندر تھے ہم ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گئے ،ہماری پشت پر دیوار تھی۔

ٹرین کے چلنے سے پہلے ہی فساد شروع ہو گئے۔ بہت سارے لوگ قتل ہو گئے ،اور بہت ساروں کو بری طرح پیٹا گیا۔لیکن ہم خوش قسمت تھے — کیا یہ درست لفظ ہے ؟ کہ ہم والد کے ٹوٹے چشموں اور ٹوٹے دل سے زیادہ کسی نقصان کے بغیر فرار ہو رہے تھے۔

امرتسر پہنچنے تک لوگ ٹرین کے اندر بھی ہلاک ہوئے۔ ہم اس طرح پھنسے ہوئے تھے کہ کوئی ہلنے جلنے کے قابل نہیں تھا۔ بہت ہی خوفناک صورتحال تھی۔ میں والد کے ساتھ اس طرح جڑی تھی جیسے ان کے گوشت کا حصہ تھی اور یہ احساس کہ وہ اس وقت میرے ساتھ ہر گز نہیں تھے ،بلکہ مجھ سے بہت دور کہیں اکیلے تھے۔

“ تم کیا توقع رکھتے تھے ؟ “ میری ماں نے والد سے پوچھا۔ وہ ناراض تھی ہمیشہ کی طرح جب وہ گہرے دکھ اور پریشانی میں ہوتی۔” کیا وہ تمہیں اپنے بازوو¿ں میں لے کر محفوظ سفر کی دعا دیتا ؟۔ تمہاری طرح اس کے بھی بیوی بچے ہیں۔ جن کی اس نے تمہاری طرح دیکھ بھال کرنی ہے “۔

میرے والد ٹوٹی عینکیں جو ناک پر لٹک رہی تھیں ،کے ساتھ بیٹھے تھے اور خلا ءمیں گھور رہے تھے۔

“ میں جانتا ہوں وہ مجھے دعائیں دینے کے لئے نہیں آ سکتا تھا ،“انہوں نے کہا ،“ لیکن کیا وہ مجھ سے دور نہیں رہ سکتا تھا ؟۔ کیا اس بے رحمی سے میرے ساتھ پیش آنا اور مجھے چور کہنا ضروری تھا ؟۔کیا وہ میرے ساتھ اس تشدد پر مجبور تھا ؟۔”

” اسے اپنے آپ کو ایک اچھا مسلمان ظاہر کرنا بھی ضروری تھا ،“ میری ماں نے تلخی سے جواب دیا ،” اور اچھا مسلمان ہم سے نفرت کرتا ہے۔صرف ہم سے محبت نہ کرنا ہی کافی نہیں۔وہ دکھانا چاہتا تھا ،کہ اس نے کتنا سخت وار ہم پر کیا۔کیا تم سوچتے ہو کہ وہ اس کے ہمارے ساتھ میل جول سے ناواقف تھے ؟ “

“ وہ یہ سب کسی اور طریقے سے بھی کر سکتا تھا , “ میرے والد نے مدھم آواز ”میں مایوسی بھرے یقین کے ساتھ کہا . “ وہ منظر پر نہ آتا ، یہ نہیں کہ مجھے بے عزت کرنے کے لئے سب سے پہلے بھاگا آیا۔نہیں ، وہ نفرت میں پاگل ہو گیا ہے ، وہ باقی سب بلکہ ساری دنیا کی طرح نفرت سے پاگل ہو چکا ہے۔”

کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد اسی نرم ، دور سے آتی آسیب زدہ آواز میں کہا ، ” میں اس پر کوئی دعوی نہیں رکھتا ، اسے میرے نزدیک نہیں آنا چاہیے تھا۔بس ایک مہربان نگاہ کافی ہوتی۔ میں اس پر زندہ رہ لیتا۔ اس احساس کے ساتھ کہ وہ ویسا ہی تھا جیسا ہمیشہ سے تھا اور تمام انسان قابل ملامت نہیں ہیں۔ اور یہ کہ اس وقت کے بعد بھی ایک وقت آئے گا۔ “

میری ماں جیسا کہ ڈری ہوئی تھی ،کوستے ہوے کہنے لگی ،یقینا” اس کے بعد بھی وقت آئے گا۔ اور یہ کہ دنیا میں ابھی نیک لوگ مو جود ہیں۔لیکن اس کی آواز سے پتہ چل رہا تھا کہ اسے خود بھی اس کا یقین نہیں۔اگر نفرت مہدراقبال کو برباد کر سکتی ہے تو یہ ہر آدمی کو کر سکتی ہے۔ اور کہیں بھی ایسی محفوظ جگہ نہیں تھی جہاں اس سے چھپا جا سکے۔

میرے والد نے اپنا چہرہ دیوار کی طرف موڑ لیا ،اور اگلے لمحے میں نے انہیں ٹھنڈے لہجے میں ارادتاً کہتے سنا ، گویا کہ اس بے وفائی دھوکہ دہی نے انہیں اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کر دیا ہوں : “ آدمی ناقابلِ اصلاح ہے۔ اس کی کوئی امید نہیں اور خدا کو پرواہ نہیں “۔

وہ جو کچھ کہہ رہے تھے میں ہر لفظ سن رہی تھی اور سمجھ بھی رہی تھی۔لیکن انہوں نے مجھے اتنا اچھا سکھایا تھا کہ اس وقت جو وہ کہہ رہے تھے میں اس پر یقین نہیں کر رہی تھی۔

اگر خدا کو پرواہ نہیں ، تو پھر وشنو دیوتا کیوں نو دفعہ اس دنیا میں لوگوں کی مدد کے لئے آ چکے ہیں ،؟ یسوع مسیح انسانوں کے درمیان کیوں آئے ؟ اور کیوں سب سے زیادہ تکالیف کا سامنا کیا ، کیوں بدھستوا نروانہ کی مکمل خوشی سے منہ موڑ کر دنیا میں واپس آیا ؟۔ انسانوں کو وہ رستہ دکھانے کے لیے جس کے ذریعے وہ آگہی حاصل کر سکتے ہیں ،خدا کیوں —-( پوری دنیا میں خدا کے جتنے بھی تصورات ہیں ) اگر انسان ناقابل اصلاح ہے تو — انسان کی اصلاح پر اتنا زیادہ وقت صرف کرے گا ؟ “ اس “ کے علاوہ کون بہتر جانتا ہے ؟ میرے دل نے مجھے بتایا کہ یہ سچ نہیں ہو سکتا۔

مجھے لگا کہ اگر میرا واقعی یقین ہے ،تو اس تجربے کو الٹا دینا ممکن ہونا چاہیے اور اس غلط فہمی کو جس نے اسے غلط معانی عطا کئے ،ڈھونڈ لینا چاہیے ، اس طرح میرے والد زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے۔ چنانچہ میں نے اپنے دماغ میں انتہائی مختصر اور بامقصد دعا سوچی اور خدا کے حضور پیش کر دی۔ رسمی دعا کے لئے نہ تو وقت تھا ،نہ ہی میرے پاس وسائل تھے۔

“ برائے مہربانی ،اے خدا ،توجہ فرما ،میں ایک چھوٹی سی لڑکی ہوں اور آپ یہ سب مجھ پر نہیں چھوڑ سکتے۔میں جانتی ہوں ،میں حق پر ہوں۔ثبوت بھی موجود ہیں لیکن مجھے انہیں ڈھونڈنا نہیں آتا۔برائے مہربانی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے وہاں لے جاو¿ ،وگرنہ میرے والد مر جائیں گے “۔

مجھے فوری معجزے کی کوئی امید نہیں تھی اور ایسا ہوا بھی نہیں۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں تھا۔ میں نے اپنا کام کر دیا تھا اور یہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ میرے اوپر سے بوجھ ہٹ جاتا ہے۔ اور میں مطمئن ہو جاتی ہوں۔

میں نے دوبارہ اپنے والد کو دیکھا ،تو مجھے ان کے رخساروں پر بہتے چکنے پسینے کے ساتھ آنسو دکھائی دیے۔ ہم اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوے تھے کہ وہ اپنا ہاتھ اچکن کی جیب میں ڈال کر رومال نہیں نکال سکتے تھے۔ لیکن میرا ہاتھ چھوٹا تھا ،اور اسی سمت تھا۔کوشش کر کے میں نے اپنی انگلیاں جیب کے اندر ڈال لیں اور رومال کا ایک کو نہ کھینچ لیا۔

رومال کے ساتھ ہی کچھ اور بھی باہر آ گیا۔ ایک چھوٹا سا بنڈل ڈوری سے مضبوطی سے بندھا ہوا۔ یہ میرے والد کی گود میں گر گیا۔گرنے سے لفافہ پھٹ گیا۔ہمیں مڑے تڑے بینک نوٹوں کے سرے دکھائی دئیے جو آہستہ آہستہ کھل رہے تھے اور اس بنڈل کے مرکز میں ایک سفید کاغذ تھا۔

میری والدہ نے جبلتاً ہاتھ بڑھا کر تمام رقم چھپا دی ،ایک تو چھینے جانے کے خوف سے دوسرے یہ سب اس وقت بہت نازیبا دکھائی دیتا تھا۔ ایسے وقت میں جب کسی کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ میرے والد نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ کاغذ کا ٹکڑا اٹھا لیا تھا اور اسے اور ان نوٹوں کو ایسے گھور رہے تھے جیسے وہ دیوانگی سے واپس زندگی میں دھکیل دیے گئے ہوں۔

“ یہ ناممکن ہے میرے پاس کوئی رقم نہیں تھی ،میں قسم کھاتا ہوں میرے پاس کچھ نہیں تھا ،یہ کہاں سے آئے ہیں ؟۔”

“ لیکن میں جانتی ہوں ! “ میں نے اپنے گال ان کے کندھوں سے رگڑتے ہوئے ان کے کان میں پھولتے سانس کے ساتھ کہا۔کیا آپ کو دکھائی نہیں دے رہا ؟ کیا آپ کو سمجھ نہیں آ رہا ؟ ،یہ اور کہاں سے آ سکتے ہیں ؟ آپ کی جیبوں میں کس نے ہاتھ ڈالے تھے ؟ کس نے آپ کی ساری ملکیت جیبوں سے نکالی تھی اور پھر سب کچھ واپس ڈال دیا تھا ؟ “

“ مہدر اقبال “ والد نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ بولے ، اور رقم کو گھورنے لگے۔لیکن مجھے یہ یقین تھا کہ یہ رقم نہیں تھی جو ان کے چہرے کو احساسات ،روپ اور معانی دے رہی تھی۔

“ رقعہ پڑھو ،” میری والدہ نے بے تابی سے کہا۔

ایسے لگا کہ پہلے انہوں نے اسے خاموشی سے پڑھا اور وہ اپنی اصلی جون میں جو وہ تھے واپس آ گئے۔ اور جب انہوں نے دوبارہ اونچی آواز سے پڑھا تو وہ جیسے ہمیشہ سے تھے اس کے قریب تر پہنچ چکے تھے۔ اس سے تھوڑا کم اور تھوڑا زیادہ۔ تھوڑا کم اس لئیے کہ وہ ترمیم کرنے کے قابل نہیں تھے اور تھوڑا زیادہ اس لئے کہ کہ انہوں نے اپنی ابدی معذوری کو عاجزی کے ساتھ تسلیم کر لیا تھا۔.

” مجھے معاف کر دیں “ انہوں نے پڑھا ،” لیکن اس کے سوا آپ تک یہ پہنچانے کوئی طریقہ نہیں ہے۔اگر میں دوستانہ لہجے میں آپ سے بات کروں تو ہم دونوں ہی کے ٹکڑے کر دئیے جائیں گے۔ برائے مہربانی اسے وصول کر لیجئے ،اس کی اس وقت مجھ سے زیادہ آپ کو ضرورت ہے۔ مجھے معاف کر دینا اور مجھے یاد رکھنا اس طرح نہیں جیسے میں آج تھا بلکہ جیسا ہمیشہ میں آپ کے ساتھ روحانی طور پر رہوں گا۔مجھے آپ سے بہتر انسان کبھی نہیں ملے گا۔“

اس کاغذ میں لپٹی رقم پندرہ سو سے زیادہ تھی۔ مہدر اقبال نے جو کچھ اس کے پاس تھا سب ہمیں دے دیا تھا۔

 

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*