ورثہ

 

 

شام کی آمد آمد ہے

پرندے سر میں

کوئی شعر گنگنا رہے ہیں

نظم میرے برابر لیٹی

عینک کی شیشوں پر ابھرتی

زعفرانی رنگوں کو دیکھتی ہے

ایسی ہی اک شام تھی

مَیں نے کافی شاپ کے باہر لگی بینچ پر

بیٹھے بیٹھے

تمہاری شربتی آنکھوں میں

سورج کو

ڈوب جانے کے گر سکھائے تھے،

تم نے ہتھیلی پہ بوسہ دے کر

قسمت بدل دی لکیروں کی

انسان نے چاند پر قدم رکھا

اور تارے توڑ لائے،

تمہاری دھانی آنچل تلے

آسمان درختوں سے گرا تھا

میں نے دیکھا !

میری مادری زباں میں۔۔۔۔۔

کوئی پرندہ اپنی محبوبہ کو

منیر کی نظمیں سنا رہا ہے

تم نے بڑھ کر کاکلیں چہرے پر بکھرائے

اور رات میرے حصے میں آئی

صبح دم تڑکا

مٹی کی سوندھی سوندھی سی خوشبو میں لپٹی

پرندوں کی منقار پہ بکھری نظمیں

میرا ورثہ ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*