ہمبوئیں سلام

جناب مدیر محترم

ہمبویئں سلام

خوبصورت سرورق لیے ماہتاک سنگت کا دسمبر کا شمارہ موصول ہوا۔

” فیض کے لیے ایک نظم” ، رضی صاحب کی ایک اچھی کاوش ہے۔ نظم کے ساتویں مصرعے میں کتابت کی غلطی ہے۔

” بچھی ہوئی بساط” میں بجا طور پر ملک کو درپیش استحصالی نظام کی تباہ کاریوں کا ذکر کیا گیا ہے اور جو حقائق قاری کے سامنے رکھے گئے ہیں وہ بہت واضح اور مدلل ہیں۔ اس وقت ملک میں مزدوروں، کسانوں اور محنت کشوں کی تربیت کرنے والی کوئی فعال جماعت موجود نہیں اور جو ہیں وہ اپنا الگ الگ راگ الاپ رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یا تو ایسی تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے یا ایک نئی انقلابی جماعت کی تشکیل کی جائے جو طبقاتی استبداد سے نجات دلانے کے لیے محنت کشوں کی تربیت کرے تاکہ ہم نہیں تو ہماری اگلی نسل ہی اس ظلم سے نجات پا سکے۔

” کلاس اور کلاس سٹرگل” محترم شاہ محمد مری کو جب بھی پڑھا ،یا سنا تو ان کی باتوں سے لطف اور دانائی کشید کی۔ اس مضمون میں بھی ڈاکٹر صاحب نے مارکسی سائنسی اصلاحات کو بہت ہی عام فہم اور آسان زبان میں بیان کیا ہے تاکہ ہم جیسے لوگوں کی اچھی تعلیم ہو جائے۔

” پولیو وائرس” کے بارے میں مختصر مضمون وقت کی اہم ضرورت تھی۔ ناخواندگی اور وراثتی تعلیم اس کی بیخ کنی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

علی عارض نے انقلاب ایران کے پس منظر پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔

” یوکرین ” میں انقلابی کہاں ہیں ؟ وہاں تو شاید طبقاتی شعور بھی با لغ نہیں اسی لیے تو کمیونسٹ اور محنت کش ایک پیج پر نہیں ہیں۔

” کاسترو” کی تقریر کا آسان اردو میں ترجمہ ہم تک پہنچا۔ اس کے لیے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا بہت شکریہ۔

” علامہ اقبال ” کو اس پرچے میں خواہ مخواہ ہی تکلیف دی گئی ہے۔ جاوید اختر کے اس پیراگراف میں اقبال کا فکری تضاد عیاں ہے، ” اقبال کے نظریات۔۔۔۔۔۔ مواد فراہم کر سکیں” اس قبیل کی رجعت پسند اور طرز کہن پہ اڑنے والی شاعری اور دانشوری کسی بھی قسم کی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔

” پشتو شاعری” والے مضمون میں صاحب تصنیف نے رحمان بابا، حمید با با اور حمزہ با با کی شعری تمثال نگاری کا ذکر تو کیا لیکن مضمون چونکہ نئے پشتو شعر سے متعلق تھا ، کوئی نیا پشتو شاعر اس حوالے سے سامنے نہیں لایا گیا۔

” محنت کش طبقات کی صورت حال”، خوف، محبت اور انقلاب”، زن، زندگی آزادی” بہت اچھے مضامین ہیں۔

” سسی پنو” خاصے کی چیز ہے۔ ڈاکٹر مری چونکہ پوری دنیا کے انسانوں سے محبت کے فلسفے سے جڑے ہوئے ہیں اس لئے بھی یہ مضمون لطف دے گیا۔

” ہسٹری آف بلوچستان” پر جمیل بزدار کا تبصرہ ، کتاب پڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔

کرشن چندر کا ” شہزادہ” بہت عمدہ کلاسیکی اہمیت کا افسانہ ہے۔

نسیم سید، فاطمہ حسن، مہجور بدر اور فضل احمد خسرو کی شاعری نے بجا طور پر لطف دیا۔ خاص طور پر صفیہ حیات کی توانا شاعری نے بہت متاثر کیا۔

سنگت کا یہ شمارہ ہمیشہ کی طرح مدیر اور انکے ساتھیوں کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بہت سی داد۔

راشد جاوید احمد

لاہور

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*