نئے پشتو شعر میں تمثال کی روایت

 

سروینٹیز نے بہت خوب کہا ہے کہ شاعر تو ہسپانوی مصور اوبالیخا جیسا ہوتا ہے۔اوبالیخا ایک مقام پر کھڑاعکس بنا رہا تھا۔ اس دوران کسی نے اس سے پوچھا، یہ کس چیز کا عکس بنا رہے ہو؟ تو اس نے جواب میں کہا، ’جو (چیز) بن جائے‘۔ یعنی شعر بھی لفظوں کی ایسی ہی مصوری ہے۔ شعر تو ہمیشہ ایک تمثال کی صورت میں وارد ہوتا ہے۔ اگر کوئی شاعر، شعر کے لیےکسی موضوع کا انتخاب کرتا ہے اور پھر اس موضوع پر اپنی طبع آزمائی کرتا ہے، میرے خیال میں یہ تخلیق Creation نہیں ہے بل کہProduction ہے، اس لیے کہ شاعری کاری گری نہیں بلکہ تخیل کی زرگری ہے۔ پروڈکشن کے حوالے سے تو ہماری شاعری مالا مال ہے لیکن Creation کے حوالے سے پشتو شاعری ابھی تک اتنی آگے نہیں گئی۔ پشتو شاعری میں عمومی اور مصنوعی کام اس لیے زیادہ ہوا ہے کہ ایک تو شاعروں کی بڑی تعداد تاحال اس کڑوے سچ سے باخبر نہیں ہوسکی ہے کہ شاعری اور شاعرانہ صداقت کسے کہتے ہیں؟ ان کے خیال میں شاید الفاظ نظم کردینا ہی شاعری ہے۔ اسی ناقص رویے نے پشتو شاعری کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ شاعری کے بارے میں، میں  پشتونخوا (بشمولِ افغانستان) کے شاعروں کے لیے امریکہ کی شاعرہ ایملی ڈیکنسن کی معنی خیز رائے صرف اور صرف اس امید کے ساتھ پیش کر رہا ہوں کہ شاعری ایک ایسی ہی کڑوی سچائی ہے، جیسا کہ انہوں نے کہا ہے:

”جب میں کوئی کتاب پڑھتی ہوں اور جب میرا بدن اسے پڑھتے پڑھتے اتنا ٹھنڈا ہوجاتا ہے کہ آگ کے شعلے بھی اسے گرم نہیں کر پاتے، تو فوراً اس حقیقت سے آگاہ ہوجاتی ہوں کہ یہ شاعری ہے۔ اور اسی طرح جب ایک کتاب کو پڑھتے پڑھتے میں یہ محسوس کر لوں کہ میرا سر میرے کندھوں سے غائب ہوگیا ہے تو اس صورت میں بھی میں اس بات سے آشنا ہوجاتی ہوں کہ یہ شاعری ہے۔ شعر کی شناخت کے لیے میرے پاس یہی دو راستے ہیں۔”

میری ذاتی رائے کے مطابق تو شعر کی قرات اس وقت تک ناممکن ہے جب تک شاعر فطرت کے مقدس محراب میں ڈوب نہ گیا ہو یا علامتوں کے گھنے جنگل سے گزر نہ گیا ہو، یا پھر لاشعور کے کالے سیاہ اندھیرے کاقیدی نہ بن گیا ہو۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ شعری زبان اظہار کی زبان ہے لیکن وہ زبان بالکل نہیں، جو انسان عام (روزمرہ) ابلاغ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ شاعری کی زبان تو اپنے آپ میں ایک فطری صورت رکھتی ہے۔ میں یہاں اصل میں کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ شعر کی صداقت اور حقیقت کے علم کے بغیر شعر پڑھنا (شعری قرات) شاعری کی توہین کے مترادف ہے۔

نئی پشتو شاعری میں تمثالوں کی روایت پر بحث کرنے سے قبل اہم بات یہ ہوگی کہ پہلے تمثال کی اصطلاحقیقت پر بحث کی جائے۔ تمثال کی وضاحت اور معنوی توضیح کی خاطر میں چند وضاحتیں کشاف تنقیدی اصطلاحات سے مستعار پیش کررہا ہوں:

(۱) تمثال ترجمہ ہی انگریزی اصطلاح امیج کا ہے اور امیج سے مراد کسی شے کی وہ تصویر ہے جو شاعر کے مہیا کیے ہوئے الفاظ کے ذریعے ہمارے چشمِ تصور (چشم خیال) کے سامنے آتی ہے۔

(۲) وصف الحال Descriptionاور امیج میں فرق یہ ہے کہ وصف الحال تو اس شے کی تصویر کو روشن کرتا ہے جو دکھائی جانی مطلوب ہو اور امیج اصل شے کی تصویر بنانے کے بجائے یا اصل شے کو تصویر کے ساتھ ایک اور تصویر بنا دیتا ہے۔

(۳) ایک شاعرانہ تمثال ایک لفظی تصویر ہوتی ہے۔ جس پر جذبات یا امثال کا رنگ چڑھا ہوتا ہے۔

(۴) تمثال کے ہاتھ میں ایک ایسا آلہ ہے جس سے وہ حقیقت کو حواس کے شیشے میں اتار دے۔

گویا مطلب یہ کہ وہ تصویریں یا ذہنی عکس، جو تخیل کے عمل کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں، ادب کی زبان میں ہم انہیں تمثالیں کہتے ہیں۔ یا اور لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تخیل کی دنیا اصل میں تمثالوں کی دنیا ہے۔ انگریزی اصطلاح Image کے بہت سارے معانی انگریزی اردو لغت یوں پیش کرتی ہے، جیسے:

Imageخیال، عکس، تصویر، شبیہ، تمثال، محاکات، شعری پیکر، کسی شخص یا چیز کی نمائندگی، جو مجسمہ یا تصویر کی صورت میں ہو۔ یا کسی اور طرح مرئی یا دکھائی دینے کے قابل بنا ئی گئی ہو۔ مورت، بت، جو کسی دوسری چیز کی مماثلت یا مشابہت رکھتا ہو۔ مجسمہ، پرتو، شباہت۔ وہ تصویر جو حافظے یا تصور کی مدد سے بنائی گئی ہو۔ ذہنی تصویر جو کسی نظم یا کہانی میں بیانیہ الفاظ میں بنائی گئی ہو۔

میرے خیال میں تمثال اور تمثال آفرینی کی اصطلاحات اب ادب کے قارئین کے لیے حقیقی معنوں میں روشن ہوگئی ہوں گی۔ زمانے کے شعوری ارتقائ کے ساتھ ساتھ شاعری بھی اپنے ارتقائی سفر میں مختلف مرحلوں سے گزرتی آئی ہے۔ اسی لیے تو آج شاعری کی اپنی زبان اور گرائمر (شعریات) ہے۔ اور اپنا مختلف مزاج اور جدا روش بھی۔ آج شاعری کے تشبیہات و استعارے اپنی معنوی اہمیت اور قدروقیمت کے لحاظ سے اپنا انفراد رکھتے ہے۔ آج کی شاعرانہ روش اور مزاج تو تخیل کی نئی دنیا آباد کرنا چاہتی ہے  اور یہ اعتقاد بھی، کہ شاعر کی ذات میں ازلی اور ابدی تمثالیں محفوظ ہیں اور حقیقت کا قدیم حقیقی منبع تو ماضی کی گٹھڑی میں محفوظ پڑا ہے۔ گستاوڑنگ بھی ماقبلِ شعور تمثالیں اجتماعی لاشعور میں موجود اور محفوظ گردانتا ہے۔ مطلب یہ، کہ جو دنیا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لاشعور کی دنیا سے کئی گنا وسیع ہے۔ گویا یہ موروثی تجربات کی صورتیں اور شبیہیں اصل انسانی حقایق کے خزینے ہیں۔ تمثالوں کی دنیا تخیل کے شکم سے پیدا ہوتی ہے۔ جو کہ زیادہ حسین اور پ±ر کشش دنیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج کے شاعر، شعر کے اس نئے ڈکشن کے عقیدت مند ہیں۔ دانتے کی تمثالیں فطرت سے مستعار لی ہوئی تمثالیں ہیں اور اس کی تمثالیں آفاقی تمثالوں کی نمائندگی اور ترجمانی کرتی ہیں۔ اسی لیے وہ عام عوام کے دلوں پر بادشاہت کرتا ہے کیوں کہ عام عوام فطرت کے ساتھ فطری اور بے لوث رشتہ رکھتے ہیں۔ اور اسی طرح کولرج کی تمثالیں مبہم علامتوں اور اشاروں کی صورت میں استعمال ہوئیں، کیوں کہ اس کا عقیدہ یہ تھا کہ ان تصویروں میں زیادہ تجسس ہوتا ہے جو وقت کی گرد میں آنکھوں سے تھوڑی بہت پوشیدہ ہوتی ہیں۔ بودلیئر کی شاعری میں جو تصویریں تمثالوں کی صورت میں قاری دیکھتا ہے وہ حتمی طور پر بیشتر اوقاتشک ہی سے پیدا ہوئی تھیں۔ اسی طرح شیکسپیر کی تمثال سازی، مرکب تمثالیں پیش کرتی ہے۔ ان کے یہ حسی تجربے حواس کی عین صورت گری نہیں تو اور کیا ہوسکتے ہیں؟

ایک دنیا وہ ہے جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور ایک دنیا وہ ہے جو ہم محسوس کرتے ہیں۔ اسی محسوسات کی دنیا میں فن کی پری چھپی ہوئی ہے اور یہی دنیا میری ذاتی فکر کے مطابق شاعر کے تخیل کی دنیا ہے جو اس دنیا سے بہت خوب صورت ہے جس دنیا میں ہم خود رہتے ہیں۔ جس دنیا کو ہم محسوس کرتے ہیں وہ تخیل کے بغیر وجود میں آ ہی نہیں سکتی کیوں کہ صرف تخیل کی صورت میں شعور اور لاشعور کا وصال ممکن ہے۔ تخیل کے بارے میں شیکپیر نے خوب کہا ہے کہ:

”دیوانے، عاشق اور شاعر میں تخیل کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔“

یا، یعقوب بومہ، جو کہتے ہیں:

”فطرت خدا کا تخیل ہے۔“

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ایسی تمثال سازی یا تمثال آفرینی ہم موجودہ پشتو شاعری میں ڈھونڈ سکتے ہیں؟ عصری شعور کی موجودہ شاعرانہ روش کے ساتھ آج کی پشتو شاعری کس قدر ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ بہت اہمیت کا حامل ہیں اور دوسرا اس راستے سے شعر کے بارے میں نئی شعری بحث بھی دوام رکھتی ہے۔ تشریحی اور تاثراتی تنقید کے مباحث آج کے قاری کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے اس لیے کہ اب وہ ایک ایسی دنیا میں رہتا ہے جہاں ہر کوئی دنیا اور کائنات کو ایک نئے تناظر سے دیکھتا ہے۔ وہ وجدان کی آنکھ سے چیزوں کا گہرا تجزیہ اور مطالعہ کرنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ شعر کے بارے میں تمثال آفرینی کے مباحث اسے ذہنی غذا بخشتے ہیں۔ شعری تمثال یا شاعرانہ پیکر کے نمونے اگر ہم چاہیں تو خوشحال کی شاعری میں بھی سامنے لاسکتے ہیں۔ اس لیے تو خوشحال ہمارے لیے کلاسیک کا درجہ رکھتے ہیں کیوں کہ انہوں نے پشتو شعر کے لیے ایک ایسی مضبوط بنیاد رکھی ہے کہ ان کی شاعری سے پشتون شاعر، شعر کے حوالے سے زیادہ استفادہ کر سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اکثر پشتون شعرائ نے خوشحال بابا کی شاعری کے مطالعہ کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ شعری پیکر اور تمثالیں خوشحال بابا کی شاعری میں ہم آسانی سے سامنے لاسکتے ہیں۔ شعر ملاحظہ ہوں:

یہ عالم ریگِ رواں ہیں اگر دیکھ رہے ہو

لیکن یوں ہی الٹ (پلٹ) رہا ہے اوپر نیچے

 

تمام لوگ اندوہ کے دریا میں ڈوبے ہوئے ہیں

کبھی کبھی دریا سے سر بلند کرتے ہیں

پتھر، پھول، سوکھے، گیلے سب کچھ آگے (ساتھ) لے جاتا ہے

مشیت جیسے دریا ہے جو بہہ رہا ہے

میں حیران ہوں ان لوگوں کو سمجھ نہیں پا رہا

پیاس سے مرتے ہیں اور حلق تک دریا میں(ڈوبے ہوئے ہیں)

گرج بھی میری ذات سے پیدا ہوئی ہے

سفید دل میں بارش کا سفید پانی ہوں

خزان کا طوفان آیا ہے

جیسے برگ، ویسے کانپو!

اے میرے غمِ یار دوسری جگہ مجھے قبول نہیں ہو

تم میرے دل کے ٹوٹے ہوئے برتن کے ریحان ہو

ذکر شدہ ہرشعر، ایک لفظی تصویر ہے۔ تمثال آفرینی کی عظمت کے نمونے ہیں، لیکن اگر ہم غور سے خوشحال بابا کے تحریر کردہ اشعار کو دیکھیں تو ایک طرف تو ان کی تمثالیں ہو بہو دانتے کی تمثالوں کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتی ہیں کیوں کہ صرف یہ نہیں کہ یہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، بل کہ اس کے رنگ میں رنگ دکھائی دیتی ہیں اور تخیل کے حوالے سے کولرج کے وسیع تخیل کے ساتھ بھی ہم آشنا دکھائی دے رہی ہیں۔ اسی لیے کہ چند تصویریں واضح تمثالوں کی بہ جائے، علامتی تمثالیں دکھائی دیتی ہیں۔ جہاں یہ تصویریں مبہم اور فکر کے غبار میں پوشیدہ محسوس ہوتی ہیں وہاں خوشحال کولرج کی فکر کا مداح دکھائی دیتا ہے اور جہاں یہ شعری پیکر واضح ہیں وہاں (خوشحال) دانتے کے ساتھ ہم نوا معلوم ہوتا ہے۔ یہاں خوشحال بابا کا ایک شعر ایک بار پھر پیش کرتا ہوں:

یہ عالم ریگِ روان ہیں اگر دیکھ رہے ہو

لیکن یوں ہی الٹ (پلٹ) رہا ہے اوپر نیچے

کائنات کی ایک مکمل تصویر اس شعر میں موجود ہے۔ جو کائنات شاعر محسوس کرتا ہے آیا دو مصرعو میں پوری کائنات اس لفظی پیکر میں شعری معیار کا ایک عظیم حسی تجربہ نہیں ہے؟ آیا یہ شعری عکس ہمیں شعر کے ایک عظیم فنکار کی طرف متوجہ نہیں کر رہا؟ ذکر شدہ شعر میں صرف ایک استعارہ’عالم‘ اور ایک شعری ترکیب ’ریگِ رواں‘ استعمال ہوئی ہے۔ باقی تمام عام الفاظ ہیں۔ لیکن اس کی بناوٹ یا Treatment کے حساب سے جو خیال ایک تصویر کی شکل میں پیش کیا گیا ہے، تخیل کے اعجازکے سوا (اِسے) اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ حقیقی تخلیق کے جوہر کا نمونہ ایسے ہی شعر کو ہم بڑے دل کے ساتھ کہہ سکتے ہیں اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے پیکر صرف باطن کی آنکھ سے دیکھے جاسکتے ہیں کیوں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذکر کی گئی شعری تمثال بصیرت یا وجدان کی نرم اور نازگ انگلیوں نے جوڑ کے بنائی ہے۔ یہ لفظی تصویر بھی اسی طرح تخلیق ہوئی ہے، اس شعر میں بھی تخیل کا پورا ہاتھ دکھائی دیتا ہے، حمید بابا کہتے ہیں:

یا حسینوں کی چونّیوں کی جھنکار ہے

یاعشق کے دیوانوں کی زنجیر کی

حمید بابا کے نقل کیے گئے شعر میں جو دنیا ہمیں دکھائی دیتی ہے وہ بدمستی اور محبت کی جنت ہے۔ جس جنت میں ہم صرف اور صرف محبت کے پاگل پن کا شور و غوغا سن سکتے ہیں۔ اس شعری تمثال نے بلا وجہ تخلیقی صورت اختیار نہیں کی بل کہ اس دنیا کو حمید بابا نے ایک بار درہم برہم کیا ہے اور اس کے بعد اس اجڑی ہوئی دنیا سے محبت کی ایک خیالی جنت کی تصویر کی صورت گری کی ہے۔ آیا یہ تمثال آفرینی معاصر شاعرانہ روش کی پوری پوری نمائندگی نہیں کر رہی؟ حمید بابا کے تخیل کی آرٹ گیلری میں ذکر کیے گئے شعر کے علاوہ ایسے اور کئی شعر موجود ہیں لیکن انہیں، وہ لوگ دیکھ سکتے ہیں جنہوں نے حمید بابا کی شاعری کے آرٹ گیلری کی سیر کر رکھی ہے۔ ان کے شعر میں جو Originality قاری محسوس کرتا ہے تو وہ لامحالہ یہ اعتراف کرتا ہے کہ ان کی شاعری میں فطرت کا حسن تحلیل ہے۔ اس لیے کہ وہ فطرت کے حسن کا حقیقی مداح تھا جس وجہ سے ان کا فطری عشق، فطرت کی الہامی تفسیر معلوم ہوتا ہے۔ اس شعر میں حمید بابا انالحق دکھائیدیتے ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ کہ عشق کا یہ دیوانہ اپنے عشق کا درد ایک مختلف اور لطیف زبان میں بیان کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ لفظوں کی ایک تصویر کے ذریعے اپنے عشق اور پاگل پن کا اظہار کرتا ہے اور اس تصویر میں اس کے تخیل کا حسن فطرت کے حسن کی طرح سچا اور صادق دکھائی دیتا ہے۔

کچھ دیر پہلے تمہاری آنکھوں میں تھا

اب جو نہیں دکھائی دے رہا، کہاں کیا مجھے؟

اس شعر میں حمزہ بابا ان برہنہ آنکھوں کی تصویر کشی کر رہے ہیں جن آنکھوں میں ان آنکھوں کا دیوانہ دکھائی دیتا تھا۔ یہ ایسی خالی آنکھوں کا شعری پیکر ہے جن آنکھوں نے اپنے محبوب کو کھو دیا ہے۔ محبوب کی تصویر کی خالی آنکھیں کیسی دِکھتی ہیں؟ ایسی خالی اور برہنہ آنکھیں آپ حمزہ بابا کے ذکر کیے گئے شعر میں دیکھ سکتے ہیں۔ محبت اور عشق کی ایک ناتمام داستان قارئین اس شعری پیکر میں پڑھ سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ کھلی ہوئی کھڑکیاں قاری دل کی آنکھوں سے دیکھے۔

ایذرا پاونڈ شاید اسی وجہ سے شاعری کے لیے Image کو بنیادی چیز سمجھتی تھیں، ان کے خیال میں:

”کوئی بھی پیکر ایک خیال نہیں بل کہ وہ ایک ایسا گرداب ہے جس میں خیالات طوفانی کیفیت میں موجزن ہوتے ہیں۔”

حمزہ بابا کے شعر میں، جو خالی آنکھیں ہم دیکھتے ہیں وہ یقیناً اس اجڑے ہوئے عصر کا حسی تجربہ ہے۔ یہاں جو ناروا درد، ان خالی آنکھوں میں قاری محسوس کرسکتا ہے اور وہ بھی ایک تصویر کے ذریعے، ایسے درد اور کرب کا لفظوں میں بیان، شاعری کے علاوہ کہاں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ عشق کے لطیف احساس کی ایک اور تصویر یا پیکر حمزہ بابا کے تخیل کی نرم اور نازک انگلیاں ایسے بناتی ہیں:

زود رنجی آئینہ دل رکھنے والوں کی صفت ہے

صافی غبار کو قبول کرنے کی بہت سکت رکھتی ہے

ایک اور شعری پیکر جو تمثال آفرینی کی حیرت انگیز تصویر ہے۔

یہ دماغ تو سینگار سے پہلے نہیں تھا

آئینے نے آخر (ایسا) کیا کہہ دیا، حیران ہوں

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ تخیل کی دنیا ایک مختلف دنیا ہے۔ اس دنیا کے رہنے والے لوگ منفرد ہوتے ہیں اور تخیل کی دنیا کے لوگ ایک مختلف اور جدا زبان بولتے ہیں۔ اگر اس دنیا کو قاری گہری نظر سے دیکھے تو ہو بہو ایک فطری اور آرٹ کی دنیا محسوس ہوگی۔ ذکر کردہ اشعار کے بارے میں کیا آپ لوگوں کو پلوٹارک کی یہ بات یاد نہیں آتی کہ ”شاعری ایک بولتی ہوئی تصویر ہے اور تصویر بے آواز شعر “۔

 

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*