زندگی پیاروں کے سینے میں دھڑکنے کی سند مانگتی ہے

 

اے دلِ زاربتا

تونے مرحوم کی اب

مرثیہ خوانی میں بچھائی ہے جویہ فرش ِ عزا

اس کا بتا فائدہ کیا ؟

آج منبر پہ فلاں اورفلا ں اورفلا ں

دھج سے بیٹھیں گے،

گنا ئیں گے وہ اوصا ف حمید ہ تجھے مرحوم کے

جنکا انہیں شاید ابھی الہام ہوا۔

نذد کو خوان ہیں

اورخوان میں

ہرقسم کے ، ہررنگ کے ہرذائقہ کے

روح کو اس کی تواضع کو دھرا ہوگا

سمرقندی تواضع کا نشہ

اے دل ِ زاربتا

کیا تجھے علم نہ تھا

چشم بینا نے تری

کسی سنسان بیابان مکاں جیسا اسے

گھپ اندھیرے میں بلکتا ہوا دیکھا ہی نہ تھا؟

گوش ِ دانا نے ترے

خشت درخشت چٹختا ہوا، بنیاد پہ خود اپنی ہی گرتا ہوا

اس ہمدم ِ دیرینہ کے لہجے سے ٹپکتا

ہوا تنہائی کا نوحہ نہ سنا ؟

زندگی پیاروں کے سینے میں دھڑکنے کی سند ما نگتی ہے

اے دل زارتجھے سب ہے پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تومگرکہنہ روایات کا زندانی ہے

مجھے حیرانی ہے

بعد ازمرگ ستائش کی وراثت ہی مرے یار

ترا بخت ِ نگہبانی ہے ؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*