محنت کش طبقے کی صورت حال

 

بورژوا میڈیا ، خبروں ، اخباروں ، کالموں ، مباحثوں ، پارٹیوں ، جلسوں ، منشوروں میں جو چیز نہیں آتی وہ ہے محنت کشوں کی صورت حال۔۔۔!!!

کتنے المیے کی بات ہے کہ جن کی محنت سے ہم سب ایک سویلائزڈ زندگی گزار رہے ہیں آرام دہ کمروں میں زندگی بسر کرتے ہیں لگژری گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں ان کو بنانے والے عظیم ہاتھوں کو بھول جاتے ہیں۔ ہمارے علاقوں میں بالخصوص اور عالمی دنیا میں بالعموم جس طبقے کا سب سے زیادہ استحصال ہورہا ہے وہ ورکنگ کلا س ہے۔ یہ کلاس بلاشبہ تعداد میں سب سے زیادہ وسیع اور پھیلی ہوئی ہے زندگی کے تمام شعبوں میں محنت کش طبقے کی نمائندگی شامل ہے یوں سمجھیں کہ یہ ہماری زندگی کے تمام عوامل کی ریڑھ کی ہڈی ہے جس سے ہر چھوٹے موٹے شعبے جڑے ہوئے ہیں۔ سائنسی ایجادات بلخصوص مشینوں نے محنت کشوں پر دوہرا ظلم ڈھا دیا ہے ۔جہاں ان کے کام کرنے کی صلاحیت پر ڈاکہ ڈالا گیا وہیں بڑی تعداد میں محنت کش طبقہ بے روزگار ہوکر رہ گیاہے۔ سرمایہ دار نے سرمایہ کے چکر میں جدید سے جدید مشینوں کو فروغ دیا ۔یہ ظالم مشینیں اتنی تیز اور سوفٹ انداز میں کام کرتی ہیں کہ ساتھ کام کرنے والے محنت کش کے اعصاب ہی جواب دیتے ہیں۔ آپ کسی دن کسی فیکڑی میں چند منٹ کےلیے کھڑے ہو کر مشاہدہ کریں کہ ان آٹومیٹک مشینوں نے فیکٹریوں میں کام کرنے والے محنت کش کو کس حد تک غلام بنایا ہوا ہے اور کس قدر جکڑا ہواہے۔ آٹومیٹک مشینوں میں جہاں جہاں مزدور مشینوں کی مدد کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ان کو پلک جھپکنے کا وقت بھی نہیں ملتا۔ ایک پراڈکٹ آتا ہے اسے آگے پراسس کیا جاتا ہے اتنے میں دوسری پراڈکٹ آنا شروع ہوجاتی ہے اور یہ کام منٹوں اور سیکنڈوں میں کرناپڑتاہے اگر ذرا سی بھی کمزوری دکھائی گئی یا وقت پر کام نہ ہوا تو پیچھے سے آنے والے پڑاڈکٹس کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے اور مجبورا مشینوں کو بند کر کے کام کو واپس ریسٹ کرنا پڑتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ حریص سرمایہ دار تو ایک سیکنڈ بھی ضائع کرنے کے لیے تیار نہیں اور کمزور اور کاہل محنت کش کو اسی وقت نکال باہر کیا جاتا ہے۔ اس آٹومیٹک اور سینکرونائزڈ انڈسٹری میں کام کرنے والے محنت کش مکمل طور پر اپنے ورکنگ ہاورز (کام کرنے والے گھنٹوں) میں مشین کے غلام رہتے ہیں جو ان میں عصابی بے چینی کو بڑھاتی ہے جس میں محنت کش کئی عصابی بیماریاں ، بلڈ پریشر ، ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں اور خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتی جاتی ہیں وہ ایک ربوٹ کی طرح ہوجاتے ہیں یعنی احساسات سے عاری افراد۔

کارخانوں اور مشینوں کی ایجاد سے پہلے اجتماعی دستکاریوں اور افرادی دستکاریوں کے دور میں انسان کی صلاحیتیں عروج پر تھی۔ وہ خود ڈیزائن کرتا اور پھر اپنی ہی محنت سے کسی چیز کو حتمی شکل میں ڈھال دیتا اور وہ اس چیز کو کرنے میں یہ نہ کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہوتا تھا۔ وہ چیزوں کے تبادلے سے اپنی ضروریات زندگی پورا کرتا اور خوشحال زندگی گزارتا۔ وہیں فیکٹری کے اند ر کام کرنے کے دوران سرمایہ دار نے اس سے اس کی تمام صلاحتیں چھین کر بس صرف ایک روبورٹ کی طرح ایک ہی کام پر لگا رکھا ہوتا ہے اور اس کو صبح شام بس وہی بورنگ کام کرنا پڑتا ہے جس میں کسی قسم کی کریٹویٹی نہیں ہوتی ۔ یہ کام نہ صرف ایک دن ، ایک ہفتے کے لیے کرنا پڑتا ہے بلکہ ساری عمر وہ بس اسی کام کو کرتا ہے چنانچہ آہستہ آہستہ اس کی کریٹویٹی ختم ہوتے ہوئے جواب دیتا ہے۔ جب انسان میں کریٹویٹی ختم ہو تو پھر انسان کا غلام بننا اٹل ہے۔ یوں وہ اپنی انفرادیت کھودیتی ہے

مشینوں کی ایجاد نے کام کرنے کی طاقت کو کم کیا ہے اب نوجوان اور کم عمر لوگ بھی مشینوں کو آسانی سے چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ نوجوان اور کم عمر خاص کر لڑکیوں کا استحصال کر نا تو ا±ن کے لیے اور بھی آسان ہوگیا ہے وہ انہیں زیادہ وقت اور کم اجرت پر رکھ لیتا ہے جس کے نتیجے میں یہ کم عمر محنت کشوں کا نہ صرف جسمانی لحاظ سے استحصال کیا جاتا ہے بلکہ ان کو مستقل غلام بنانے کے ترکیب بھی اپنائے جاتے ہیں جیسے بونس یا معمولی آسائش دے کر ان کو مسلسل اپنے ساتھ جوڑے رکھنا۔ یہ نئے نوجوان نہ صرف کام کرنے کی اچھی اہلیت رکھتے ہیں بلکہ ان کا استحصال کرنا اور کم اجرت پر رکھنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ ان کم عمر لوگو ں کا انڈسٹری میں آنا جہاں سرمایہ دار کے لیے منافع بخش ہے وہیں معاشرے کے لیے بہت ہی تباہ کن ہے۔ ان کم عمر محنت کشوں میں نہ صرف نوجوان بلکہ بچے بھی شامل ہیں بہت سی فیکٹریوں میں سات سے دس سال کے بچے کام کرتے ہیں ۔اسی طرح عورتیں اپنی فیملی سمیت صبح سے شام تک کام کرتی ہیں۔ جس سے نہ صرف ورکنگ کلاس کے بچے ایجوکیشن سے دور رہتے ہیں وہیں مستقل غلامی بھی ان کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ دسمبر 2022

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*