پولیو وائرس

 

پولیو ایک خطرناک بیماری ہے۔ یہ وائرس سے پھیلتا ہے اس وائرس کو پولیو وائرس کہتے ہیں۔ یہ بیماری اگر کسی بچے کو لگ جائے تو معذوری کا باعث بنتی ہے۔ اگر کسی ایک بچے کو پولیو وائرس لاحق ہوجائے تو اس بچے کی وجہ سے دوسو پچاس وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں دو ممالک پولیو وائرس کا شکار ہیں جن میں ایک پاکستان اور دوسرا افغانستان ہے۔ پاکستان میں پچھلے سال ایک کیس رپورٹ ہوا تھا اور رواں سال 20 کیسز رپوٹ ہوئے ہیں جو کہ سارے صوبہ خیبر پختون خواہ سے ہیں۔

اس وائرس سے بچاو کے لئے ویکسین تو تیار کی گئی ہے لیکن تاحال اس کا کوئی مکمل علاج پوری دینا میں نہیں پایا جاتا۔ پولیو وائرس کا حملہ زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو ہوتا ہے ان کی قوت مدافعت کمزور ہونے کی وجہ سے ان پر زیادہ حملہ آور ہوتا ہے۔ پولیو وائرس کے قطرے پلانے سے بچوں کو اس مہلک بیماری سے بچایا جاسکتا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک جنہوں نے پولیو وائرس کا خاتمہ کیا انہوں نے یہ چار حکمت عملی اپنائی تھی۔ ایک یہ کہ بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات مکمل کیے جائیں ، دوسرا بار بار پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو وائرس سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں ، تیسری AFP Servileness ( ایوٹ فلاسڈ پیرالیز )کی نشاندہی کی جائے اور جہاں جہاں وائرس پوزیٹو پایا جائے وہاں مہم کیے جائیں اور آخری اصول یہ ہے کہ Mop upکیا جائے یعنی جہاں کیس ہو وہاں کے اردگرد کے تمام ایریاز کو مکمل پاک کیا جائے۔ اس کے علاوہ بیرونی ممالک سے آنے والے بچوں کو قطرے پلائیں جائیں خاص طور پر ہمسایہ ملکوں کی آمد و رفت والی جگہوں پر توجہ دی جائے۔

ہمارے معاشرے میں پولیو وائرس کو بہت ہلکا لیا جاتا ہے لوگ لوگ بار بارکے مہم سے بیزار ہوگئے ہیں اور اتنی تنگ نظری سے پولیو ورکرز کے ساتھ پیش آتے ہے جیسے عوام کے سارے مسائل کا ذمے دار ہوں۔۔ لوگ اپنے بچوں کو چھپاتے ہے انہیں ویکسینشین کروانے سے انکار کرتے ہیں یہاں تک اتنی اطمینان سے جھوٹ بولتے ہیں کہ بچے کی ڈیتھ ہوگئی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہسپتالوں میں ایک سرینج نہیں ملتا یہاں گھر گھر آ کہ مفت میں قطرے کیوں پلاتے ہیں یہ سب انگریزوں کی سازشیں ہے جو ہمارے بچوں کو وقت سے پہلے جوان کرتے ہیں اور شادی کے بعد ان کی مردانگی ختم ہوجاتی ہے۔۔ کچھ لوگ اپنے لڑکوں کو چھپاتے ہیں جب کہ لڑکیوں کو سامنے لا کر کہتے ہیں پلاو اسے۔۔ یعنی لڑکیاں ان پر بوجھ ہوں جیسے۔۔۔

 

ماہنامہ سنگت دسمبر 2022

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*