کلاسز اور کلاس سٹرگل

 

کلاس: لوگوں کا ایک گروپ ہوتا ہے جو اپنے معاشی مفادات کے سبب سماج کے دوسرے گروپوں سے مختلف ہو۔ کپٹلزم میں دو شرائط پر دو وسیع گروپ موجود ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے مندررجہ ذیل فرق رکھتے ہیں :

1۔ ذرائع پیداوار کی ملکیت کس کی ہے ؟

2۔ دوسرے لوگوں کی محنت پہ کنٹرول کس کا ہے ؟

 

طبقے دو طرح کے ہوتے ہیں: بنیادی طبقے اور غیر بنیادی طبقے۔

الف ۔ بنیادی طبقے

سماج ،دو بڑے متصادم کیمپوں میں منقسم ہے جو سیدھا سیدھا ایک دوسرے کے مقابل اور برسرِ پیکار ہیں۔ یعنی وہ جو ذرائع پیداوار اور دوسروں کی محنت کا مالک ہو ،اور وہ جس کے پاس اپنی محنت بیچنے کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو ۔ یہ دونوں بنیادی طبقات کہلاتے ہیں ۔اس لیے کہ سماج کے اندر پیداواری عمل میں یہی دو طبقات لازم و ملزوم ہیں۔ باقی جتنے بھی لوگ ہیں وہ اِن دو بنیادی طبقات میں نہیں آتے ۔اگر اِن دونوں میں سے ایک طبقہ نہ ہو تو نظام ’طبقاتی “ رہے گا ہی نہیں۔

یہ دونوں بنیادی کلاسز یہ ہیں :

1۔ بورژوازی: فرانسیسی زبان کا لفظ ۔ مڈل ایجز میں چاردیواری والی فصیل کے اندر چھوٹے سے مارکیٹ قصبے کے رہنے والوں کو بورژوازی کہتے تھے جو آس پاس پھیلے دیہی کاشتکاروں سے معاشی طور پر ایک قدم آگے ہوا کرتے تھے۔

کپٹلزم کے اندر سرمایہ دار یا کپٹلسٹ کلاس کو ”بورژوازی “بھی کہتے ہیں۔ ذرائع پیداوار کی ملکیت اس کے قبضے میں ہے ،اور دوسروں کی محنت بھی وہی خریدتا ہے ۔

2۔ پرولتاریہ :فرنچ زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے شہریوں کا سب سے نچلا طبقہ۔کپٹلزم کے اندر دوسرا بنیادی طبقہ مزدور یا ورکنگ کلاس ہے ۔اور یہ ایک ایسی کلاس ہے جس کے پاس ذرائع پیداوار کی ملکیت نہیں ہے ۔ یہ دوسروں کی محنت بھی نہیں خریدسکتا۔ یہ تو اپنی محنت بیچ کر اپنی روزی کماتا ہے ۔

بورژوازی طبقہ اور پرولتاریہ طبقہ میں اول الذکر ظالم ہوتا ہے اور دوسرا مظلوم طبقہ۔پہلا حاکم طبقہ ہوتا ہے اور دوسرا محکوم طبقہ ۔پہلا طبقہ لوٹنے والوں کا ہوتا ہے اور دوسرا لُٹ جانے والا ۔

ظاہر ہے کہ دونوں کے مفادات ایک جیسے نہیں ہوتے اور اُن میں زبردست تضاد رہتا ہے ۔

کلاس تضاد اور کلاس سٹرگل

چونکہ یہ تضاد بورژوازی اور پرولتاریہ پر مشتمل دو کلاسز کے درمیان ہے ، اس لیے اِسے ”کلاس تضاد “کہتے ہیں۔

یہ بنیادی طبقات ، معاندانہ طبقات بھی کہلائے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے معاشی مفادات میں بنیادی اختلافات ہیں۔ اوراِن بنیادی تضادات کے بیچ کوئی میڑھ مرکہ ، کوئی جرگہ عدالت اور کوئی مصالحت و جنگ بندی ممکن نہیں ہوتی۔ یہ جنگ دونوں فریقوں میں سے ایک کی فتح اور دوسرے کی شکست کی بدولت ہی حل ہوتی ہے ۔ یہی کلاس تضاد ہی سماج میں بنیادی تضاد ہوتا ہے ۔

ایک کلاس سوسائٹی میں ارتقا ، نشوونما اور ترقی کا واحد راستہ کلاس سٹرگل ہے ۔ اور یہ سٹرگل انہی بنیادی دو کلاسز کے مابین ہوتی ہے ۔

یہی (کلاس امتیاز) معیشت کے میدان میں پیدا ہو کر زندگی کے ہر شعبے پر چھا جاتا ہے ۔ یوں دونوں کلاسز کے سیاسی مفادات ، ان کی نفسیاتی خصوصیات اور خیالات اُس کلاس کی معاشی حالت او ر مادی فائدے کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں۔

ب۔ غیر بنیادی طبقات

معاشرے میں انسانوں کے بیچ کلاس تضاد کے علاوہ دیگر امتیازات بھی ہوتے ہیں۔ مثلاًقومیت ،جنس ، عمر، پیشے ، تعلیم ،وغیرہ ۔اور کبھی کبھی استثنائی طور پر ایک یا بہت سے غیر بنیادی تضادات اس قدر نمایاں ہوجاتے ہیں کہ بالکل بنیادی تضاد کا رول ادا کرنے لگتے ہیں ۔ مثلاً بلوچستان قومی تضاد۔ لیکن استثنا کو چھوڑ کر اصولی بات یہ ہے کہ کلاس تضاد سماج کا اہم ترین تضاد ہوتا ہے ۔ باقی ساری سماجی تہیں اور پرتیں اوران کے بیچ تضادات غیر بنیادی ہوتے ہیں ۔

کپٹلزم میں پچھلے سماج یعنی فیوڈلزم کے باقیات موجود ہوتے ہیں۔ مثلاً کسان طبقہ ۔ جو فیوڈلزم میں تو بنیادی طبقہ ہوتا تھا مگر اب کپٹلزم میں نہیں۔مگر یہ پرولتاریہ کلاس کا اتحادی ہوتے ہیں۔

انٹیلجنشیا نہ تو ایک الگ کلاس رہا ہے اور نہ ہوسکتا ہے ۔ اس لیے کہ یہ سماجی پیداوار کے نظام میں کوئی آزادانہ پوزیشن نہیں رکھتا ۔اس سماجی سیکشن کی سرگرمیوں کو اُسی بنیادی طبقے کے مفادات مقرر کرتے ہیں جس کی یہ خدمت کرتا ہے ۔بینک مالکان، فوج، پولیس اور افسر شاہی پیداواری عمل سے دور رہتے ہیں۔ اس لیے وہ بنیادی طبقات نہیں ہوتے ۔وہ مزدوروں پر جونک طبقات ہیں۔

یہ غیر بنیادی طبقات ، بنیادی دو طبقات میں سے کسی نہ کسی کا ساتھ دیتے ہیں۔ مگر ایسا وہ صرف اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے کرتے ہیں۔ بنیادی طبقات یعنی پرولتاریہ اور بورژوازی میں جو بھی طاقتور ہوتا ہے ، یہ غیر بنیادی طبقات اسی کا ساتھی بن جاتے ہیں۔

انجینئر ، وکیل ، ڈاکٹر، ٹیچر اور سائنسدان پر مشتمل پرت کپٹلزم کی خدمت کرتا ہے اس لیے وہ مزدور طبقہ اور اس کی جدوجہد سے دور رہتا ہے ۔اس نام نہاد ” مڈل کلاس“ کی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہے ۔ یہ کلاس نہیں بس ایک Stratumہے ۔ یہ لازمی طور پر بہت جلد منتشر ہوجاتے ہیں۔ بعض دائیں مڑ کر انقلاب دشمن صفوں میں جاملیں گے۔ البتہ اس پرت میں سے بعض افراد اپنے علم و دانش کو مزدور طبقے کو شعور دینے اور انہیں منظم کرنے میں لگا لیتے ہیں۔

ان کے لیے خود مختار رہنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

 

پرولتاریہ کی بغاوت اور بورژوازی کی مزاحمت

میں نے جان بوجھ کر ”مزاحمت “کپٹلسٹ کے ساتھ جوڑ دی ۔منافع کی بیماری کو جاری و ساری رکھنا بورژوازی کا جواز ، اور اُس کی عادت وخصلت بن جاتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اس میں کسی قسم کی ”مداخلت “برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ چنانچہ اُس کا نظام یعنی کپٹلزم سرمایہ کی اس ریل پیل میں رکاوٹ کی مزاحمت کرتا ہے ۔ وہ ایسا ملائم طریقوں سے لے کر ہلاکت آمیز اقدامات سے کر تا ہے ۔

مثلاًبورژوازی مزدوروں کی اپنی اجرتیں بڑھانے کے مطالبات کی راہ روکنے کا راستہ یہ نکالتی ہے کہ وہ بے روز گاروں کی ایک رجمنٹ پیداکردیتی ہے۔ تاکہ جب مزدور اپنی اجرت کم ہونے پہ کام سے انکار کردے تو اُس ایک کی جگہ پُر کرنے کے لیے دوسو مزدور لائن بنائے موجو دہوں۔ روزگار کے لیے منتظر اِس لشکر کو ”ریزرو ڈ انڈسٹریل آرمی“ کا نام دیا گیا ہے۔

لہذا استاد کے بقول ”کام کی بھیک مانگنے کے لیے پھیلے ہوئے بازوﺅں کا جنگل موٹا ہوتا جاتا ہے ، جبکہ خود بازو لاغر ہوتے جاتے ہیں“۔

مزدور نہ صرف خود کو ایک دوسرے سے سستا بیچنے کا مقابلہ کرتے ہیں بلکہ ایک آدمی 5، 10، یا 20مزدوروں کا کام کرنے کا مقابلہ بھی کرتے ہیں۔

اسی طرح سرمایہ دار مزدوروں کے اندر سے ایک خو شحال طبقہ پیدا کرتے ہیں اور پھر اُن کے ذریعہ ٹریڈ یونینوں میں اپنا اثر اور رسوخ قائم کرتے ہیں ۔ا یسے ٹریڈ یونین لیڈر اور پیٹی بو رژو اعناصر مزدور تحریک میں انتشار پھیلا نے کا باعث بنتے ہیںاور مزدور تحریک میں مو قع پرستی لاتے ہیں۔ مزدور تحریک میں مو قع پرستی کا مطلب سر مایہ داروں سے مفاہمت کرنا اور مزدوروں کو سرمایہ داری نظام کے خلاف جدو جہد سے با ز رکھنا ہے۔ یہی عنا صر سر مایہ داروں کے اقتدار کو قائم رکھنے کا باعث بنتے ہیں ۔

سرپلس ویلیو کا ”ون وے ٹریفک “ اپنے مخالفین کے لیے ہمہ وقت ننگی تلوار بنے جاری رہتا ہے ۔ یہ مخالف کو تہس نہس کرتا ہے ۔ کوئی تصور ہی نہیں کرسکتا کہ جتنے قتل منافع نے کیے ہیں ،روئے زمین پہ اُتنے قتل زلزلوں ، سیلابوں ،وباﺅں اور قحطوں نے مل کر بھی نہیں کیے۔

اور بہت تلخ موت دیتا ہے سرپلس ویلیو کا نظام ۔یہ انسانیت کا ہر دم الرٹ ، ہر لمحہ ہشیار،اور ہر وقت خبردار دشمن ہے ۔ اور یہ دیکھنے میں خواہ جتنا رنگین،اور دلپذیر ہو، ہر وقت ظاہر داری کی خوشبوئیں بکھیرتا ہو،اور مہذب و شائستہ بولتا ہو، مگریہ اپنے تحفظ کے لیے تصور سے بھی بڑھ کر سفاک وظالم ہوتا ہے ۔

آپ کسی بھی بھیس میں ہوں، آپ اپنے نعروں ناموں جھنڈوں کو خواہ جتنا چاہیں مدھم اور مبہم رکھیں، یہ آپ کو پہچان لے گا۔ اس کی شناخت کی نظر، سماعت اور سونگھنے کی حسیات والے ریڈار آپ کو سرعت کے ساتھ تلاش کر لیتے ہیں، شناخت کرتے ہیں اور ٹھکانے لگاتے ہیں۔

نظریاتی یا فلسفیانہ بات تو چھوڑیے ، یہ نام نہاد اخلاقی ضروریات کے سبب سے بھی اپنے نظام میں تبدیلیاں کرنے نہیں دیتا ۔”وطن پرستی “کے نام پر اِس نظام کو ایک چھوٹے جغرافیائی خطے تک محدود رکھنے کی بات سوچنا اُس کے خلاف سنگین غداری ہے۔ ”ملکی مفاد “کے نام پر اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ مالک طبقات وعظ سے، تقریر سے، اللہ کے واسطے دے کر ، ایک ہی قوم یا قبیلے سے متعلق ہونے کے حوالے دے کر ، یا، یاری دوستی میںاس بات پہ قائل نہیں کیے جاسکتے کہ وہ بھوکے اور مفلس عوام الناس کی خاطر ملکیت اور حکمرانی سے رضا کارانہ طور پر دستبردار ہوجائیں۔وہ انسانیت اور انسانی بھائی چارے کے طفیل ، ہم مذہب اور ہم وطن اور ہم قوم ہونے کے محابے سے یہ سب کچھ ترک نہیں کریںگے۔ تاریخ اور قوموں کے تجربے بتاتے ہیں کہ ایسا ہر گز نہیں ہوتا۔۔ اس لیے کہ سرپلس ویلیو ہی نظریہِ ضرورت ہے ،سرپلس ویلیوہی جَے ہند ہے ، نظریہِ پاکستان ہے ،یہی حب الوطنی ہے اور یہی مذہب دوستی ہے ۔اس نظام میں black life mattersجیسے پاپولر نعرے بذاتِ خود جارج فلوئڈ کی گردن دبوچ لیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ہمہ گیر نظام ہے جس کا اپنا سیاسی، اخلاقی ، اور فلاسوفیکل سسٹم ہے ۔ یہ کسی اور نظام کو مانتا ہی نہیں۔ سب نظام اِس میں مدغم۔

کپٹلزم مقامی کے ساتھ ساتھ ایک عالمی نظام ہے ؛ معاشی طور پر بھی ،سیاسی طور پر بھی اور نظریاتی و فوجی طور پر بھی ۔ امریکہ اور مغربی یورپ اس نظام کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس سب کچھ کو الٹ دینے کے لیے مزدور طبقہ مقامی طور پر بھی اور عالمی پیمانے پر بھی تحریک چلائے ہوئے ہے ۔ ملٹی نیشنلز کے خلاف ،اور کپٹلزم کے خلاف مزدوروں کی یہ عالمی تحریک سوشلزم کی تحریک کہلاتی ہے ۔

کپٹلزم عالمی طور پر دنیا بھر کی انقلابی تحریکوں کے لیے دشمنی کے جذبات میں گندھا ہوتا ہے۔ اور یہ نظام اپنے بے پناہ وسائل، ملٹری قوت، جاسوسی جال اور سازشوں سے لیس دنیا کی ہر انقلابی تحریک پر ٹوٹ پڑتا ہے۔

تاریخ میں صرف ایک ہی نظام ایسا آیا تھا جو صحیح معنوں میں اس بین الاقوامی کپٹلزم کے سامنے کھڑا ہو پایا تھااور اُسے کئی بار تہس نہس بھی کر ڈالا تھا۔ وہ متبادل نظام سوویت یونین اور دیگر 22سوشلسٹ ممالک کا سوشلزم کہلاتا ہے ۔ سوشلزم 70 برس تک کپٹلزم کی جڑیں اور بنیادیں تباہ کرتا رہا ۔ مگر اِن ساری کوششوں کے باوجود کپٹلزم ایک بار پھر زندہ بچنے میں کامیاب ہوا۔

سوشلزم والا یہ متبادل نظام بار بار آئے گا ۔کہیں کامیاب، کہیں ناکام ۔ اُس متبادل نظام کا خیال ہے کہ کپٹلزم کو قدرتی موت نہیں آنی بلکہ اسے قتل کی موت مارنا پڑتا ہے۔ یعنی کپٹلسٹ رشتے خود بخود ختم نہیں ہوتے بلکہ کسی نے انہیں ختم کرنا ہوگا۔

 

محروم مزدور طبقے کے پاس خود کچھ کرنے کے بغیر کوئی راستہ نہیں رہتا ۔ اُسے خود ہی اپنی نجات کے لیے سٹرگل کرنی ہوتی ہے ۔ اُس کے لیے تین طریقے کے سٹرگل موجود ہیں :

 

1۔ معاشی سٹرگل

یہ مزدور وں اور اُن کی یونین کی روز مرہ کی جدوجہد ہے تاکہ مزدور کی اجرتیں بڑھیں، اُس کے کام کے حالات بہتر ہوں ۔ انسانی تاریخ، اپنی حالت بہتر بناتے رہنے کی تدابیر کی تاریخ رہی ہے۔ فرسودگی کے زمانوں سے لے کر آج کی ترقی یافتہ دنیا تک یہی سلسلہ رہا ہے ۔ اور یہ سلسلہ بے انت ہے، بے کراں ، لازوال اور ابدی ہے ۔سٹرگل کی یہ قسم بورژوازی کی نجی ملکیت کو چیلنج نہیں کرتی۔ مزدور ٹریڈ یونین میں منظم ہو کر بس آنہ ٹکہ کی لڑائی لڑتے ہیں۔

مگر یہ لازمی جدوجہد اصل نجات نہیں دیتی ۔ یہ کپٹلزم کو ختم نہیں کرتی۔ ورکنگ کلاس خود اپنی کوششوں سے محض ٹریڈ یونین شعور پیدا کرنے کے قابل ہوتی ہے ۔ ہر ہڑتال میں سماجی انقلاب کے عناصر پوشیدہ ہوتے ہیں“۔ لیکن یہ سوچنا حماقت ہوگی کہ ہم ہڑتال سے براہِ راست انقلاب کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔

اگر صرف یہی صورت رہے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ مزدور کی غلامی ابد تک رہے گی ۔ بس چھوٹی موٹی رعایتیں ملتی رہیں گی۔ ٹریڈ یونین سٹرگل میں مزدور طبقاتی طور پر باشعور تو ہوسکتا ہے ۔ مگر حتمی آزادی حاصل نہیں کرسکتا۔ٹریڈ یونین کمیونسٹ پارٹی نہیں ہوتی ۔ مزدور ، خود رو طور پر اپنے حاکموں کا تختہ الٹنے کے قابل نہیں ہیں ۔ مزدور ٹریڈ یونین تو بنا سکتے ہیں ، عمومی سیاسی تحریک کو تقویت تو دے سکتے ہیں مگر یہ سارے کام انہیں آٹو میٹک طور پر سیاسی پارٹی نہیں بناتے ۔

ایک اور غضب لینن کے وقت یعنی 1903سے لے کر آج تک یہ رہا کہ ٹریڈ یونین لیڈروں کو بورژوازی نے کرپٹ بنایا اور وہ خود پیٹی بورژوازی بن چکے ہیں۔

مگر مارکس یہ بھی کہتا ہے کہ ”صنعتی بغاوت خواہ جتنی بھی محدود ہو ، یہ اپنے اندر ایک عالمگیر روح رکھتی ہے“۔

بنیادی نجات کے لیے تو اُسے اس طریقے کو بھی جاری رکھنا ہوگا، اور ساتھ ساتھ اپنے لیے دوسری راہیں بھی تلاش کرنی ہوں گی۔ یعنی :

 

2۔ نظریاتی سٹرگل

طبقاتی جدوجہد کی سیاسی اور معاشی صورتیں اُس وقت تک مدہم اور مبہم ہی رہتی ہیں جب تک کہ انہیں نظریات کی قطب نما میسر نہ ہو۔ نظریاتی سٹرگل کا مطلب بورژوازی کے نظریات کی استرداد اور اُس کا متبادل ، عوامی نجات کا نظریہ فراہم کرناہوتا ہے ۔

نظریہ کی فراہمی اس لیے ضروری ہے کہ جس وقت تاریخ میں پیداوار کے آلات ابتدائی اورفرسودہ صورت میں تھے۔تو انسان کو سماج کا شعور ہی نہ تھا۔ ابتدائی انسان جو کچھ دیکھ اور سمجھ سکتا تھا، اُسی کے بہتر بنانے کو پورے معاشرے کا بہتر بنانا گردانتا تھا۔ چنانچہ کسی نے کلچر کے بہتر بنانے کو سماج کا بہتر بنانا سمجھا، کسی نے خواتین کی حالت میں اصلاح کرنے کو ، اور زیادہ تر نے تو اخلاقیات کو۔ سماج کو مجموعی نہیںبلکہ ٹکڑوں میں بہتر بنانے والے اِن سارے فلاسفروں کو ”یوٹوپیائی“ فلاسفر کہتے ہیں۔

اس کے برعکس آج مزدوروںکا نظریہ ہمہ پہلو ہے ۔ یو ٹو پیائی کے برعکس ہے ۔ اسے مارکسزم کہتے ہیں۔

3۔ سیاسی سڑگل

یہ ہے اصل جدوجہد۔ مقصد استحصالی نظام کو جڑ سے ہی ختم کرنے کی جدوجہد ۔ یہاں صرف اجرتوں میں اضافے یا حالاتِ کار میں بہتری کی بات نہیں کی جاتی بلکہ مہنگائی ، بے روزگاری، بے امنی، بے انصافی، اور بے جمہوریتی کے خلاف بات کرتے کرتے سیاسی اقتدار کا سوال اٹھا یا جاتا ہے ۔اس نتیجے پر پہنچا جاتا ہے اقتدار بورژوازی سے لی جائے اور پرولتاریہ کے حوالے ہو۔

کلاس سٹرگل کی سیاسی شکل ورکنگ کلاس اور ساری سوسائٹی کو استحصال سے نجات دلانے کے لیے فیصلہ کن شرط ہے ۔

سٹرگل کی معاشی اور نظریاتی صورتیں سیاسی سٹرگل کے اہداف کے ماتحت ہوتی ہیں۔

 

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ۔ دسمبر 2022

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*