غزل

 

 

ایک لمحے میں جکڑی کھڑی ہوں

کرب، شدت پہ ہے جھیلتی ہوں

 

آگ جھلسا چکی سارے جذبے

اب تپش ہے جو میں سہ رہی ہوں

 

دیکھتے ہیں سبھی میرا ظاہر

میں کہاں ہوں یہ میں جانتی ہوں

 

کوئی دیوار پیچھے نہیں ہے

اس لئے سامنے آگئی ہوں

 

بھیڑ میں میری آواز گم تھی

خامشی میں جسے سن رہی ہوں

 

کوئی منظر نہیں روکتا ہے

اب تو کچھ بھی نہیں دیکھتی ہوں

 

جنگ جیتی تو ہے دشمنوں سے

دوستوں سے مگر ڈر رہی ہوں

 

کتنی باتیں ہیں کہنے کی تم سے

کیسے لکھوں یہی سوچتی ہوں

 

کرچکی منتخب ایک مرقد

اس لئے مطمئن ہوگئی ہوں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*