خمارِ شب

 

رات کے دوسرے پہر یکدم

خوشبوئیں آنکھ سے امڈتی ہیں

رنگ تپتے ہیں نرم حدت سے

گنگناتی ہے چادرِ بستر

لفظ ہوتے ہیں بے معانی سے

راہِ خوشبو ئے نفس میں کھوکر

خود ہوائیں چراغ بنتی ہیں

گیت کرتے ہیں رقصِ خاموشی

اور نظر صادقین بنتی ہے

تیرگی کی نگہ سے بچنے کو

جگنووں کی قنات تنتی ہے

کوئی جھالر سفید پھولوں کی

رات کے پیرہن پہ سجتی ہے

نیم بیدار ساعتوں میں کہیں

دور اک بانسری سی بجتی ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*