غزل

 

 

ترے خیال کی باتیں نہ کوئی خواب فروش

ہمارے شہر میں گم ہوگئے کتاب فروش

 

نہ کوئی لمس نہ خوشبونہ کوئی آہٹ ہے

کہیں سے ڈھونڈکے لاو¿ کوئی گلاب فروش

 

یہ کوئی رسم ہے یا کاروبارِ ہستی ہے

جہاں بھی دیکھوملیں گے تمہیں عذاب فروش

 

ہیں چندلوگ مگراِن سے ہے بھرم اپنا

جنوں کی راہ میں ملتے ہیں پیچ وتاب فروش

 

نہ جانے کون سی لذت کا تازیانہ ہیں

دھویں میں لپٹے ہوئے کچھ یہاں کباب فروش

 

انہیں کچھ اپنی ضرورت نے باندھ رکھا ہے

ہرایک راہ میں ملتے ہیں احتساب فروش

 

کہاں مراد انہیں زندگی سمجھ آئی

کہاں سکون سے رہ پائے ہیں ثواب فروش

 

.       ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*