نجیبہ عارف کے افسانے 

 

ڈاکٹر نجیبہ عارف یونیورسٹی کی سطح پر اردو کی معروف اور ممتازاستاد ہیں۔راقم چونکہ ان کے ادارے میں تعلیم پاتا رہا ہے ، اس لیے جانتا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں میں ایک عالم و فاضل اور مشفق و مہربان استاد کی شہرت رکھتی ہیں۔ تحقیق و تنقید کے حوالے سے ان کی اب تک متعدد کتب شائع ہو کر اہل ِ نظر سے داد پا چکی ہےں۔چند سال قبل ان کا ایک شعری مجموعہ بھی شائع ہوا، جب کہ حال ہی میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’میٹھے نلکے‘ کے نام سے سامنے آیا ہے۔ یوںدیکھا جائے تو ان کا قلم مختلف ادبی اصناف کا احاطہ کرتا ہے۔ ایسے ہمہ جہت ادیب کی ساری دلچسپیوں کو ایک مختصر مضمون میں بیان کرنا ممکن نہیں ہوتاکہ ان کی تخلیقی شخصیت کا ہر پہلو الگ سے توجہ چاہتا ہے۔فی الوقت ان کے تازہ افسانوی مجموعے پر بات کرنا مقصود ہے۔واضح رہے کہ یہ کسی قسم کا تنقیدی محاکمہ نہیں بلکہ صرف ایک تعارفی اظہاریہ ہے۔یہ اور بات کہ ان کا نام اور کام کسی تعارف کا محتاج نہیں ، کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔

یہ مجموعہ ”میٹھے نلکے“ اسی سال اس وقت سامنے آیا جب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہونے والی طوفانی بارشوں اور ان کے سیلابی پانی نے ابھی ملک کے متعدد حصوں میں خوف ناک تباہی نہیں پھیلائی تھی۔ اور راوی ایک طرح سے چین ہی چین لکھتا تھا۔ایک طرح سے اس لیے کہ ایسی خوف ناک تباہی ابھی اس خطے کے بدقسمت باسیوں کے تصور میں بھی نہ تھی ، ورنہ ایسا سکون بھلا کب تھا۔ بھوک ، افلاس ، بیماری ، ناخواندگی ،بے روزگاری، صوبائی اور لسانی تعصب ، قتل و غارت گری، عورتوں پر تشدد اور مذہبی انتہا پسندی سمیت کیسے کیسے عفریتوں نے اس ملک اور معاشرے کو ایک عرصے سے جکڑ رکھا ہے۔اس کے علاوہ کئی علاقوں میں خشک سالی کے باعث کتنے سرسبز و شاداب باغ اجڑ کر رہ گئے۔ بلوچستان اور سندھ اس خشک سالی سے بہت متاثر رہے ہیں۔اس سارے سلگتے منظر نامے پر جب کوئی کتاب ’میٹھے نلکے‘ کے نام سے سامنے آتی ہے تو بے پڑھے آدمی کی توجہ اپنی جانب کھینچتی ہے ۔میٹھے نلکے کیا ہے؟ یہ استعارہ ہے میٹھے پانی کا، اور میٹھا پانی زندگی کی علامت ہے۔ سب جانتے ہیں کہ زمانہ قدیم سے انسان میٹھے پانی کے کنارے پر اپنی بستیاں بساتا آیا ہے۔پانی نے اپنا رخ موڑا تو یہ بستیاں بھی اجڑ گئیں۔ گویامیٹھا پانی میسر ہے تو زندگی کا پہیہ رواں دواں ہے ، بہ صورت دگر موت کی دہشت کے سائے ہر سو چھا جاتے ہیں۔پرانے وقتوں میںپنجاب ہی میں نہیں بلکہ پاک وہند کے متعدد حصوں میں میٹھا پانی کنوﺅں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ہمارے ہاں یعنی بلوچستان میں کاریز دراصل میٹھے پہاڑی کنویں یا چشمے کا پانی سطح زمین پر لانے کا قدیمی بست و بند ہے۔پنجاب میںمیٹھے پانی کے کنویں، مٹھی کھوئی کے نام سے بہت معروف رہے ہیں ۔ مشہور بھارتی مصنف خشونت سنگھ نے بھی ان کا تذکرہ اپنی سوانح حیات میں نہایت دلچسپ انداز میں کیا ہے ۔دیہات میں جیسے’ مٹھی کھوئی‘ مشہور ہوا کرتے تھے، زمانہ بدلا تو شہروں میں میٹھے نلکے ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز ہوئے۔ بالخصوص ان شہروں میں جو دریاﺅں یا بڑی نہروں کے کنارے یا ان کے قریب آباد ہوئے۔پہلے پہل ایسے نلکے گلیوں اور چوراہوں پر میونسپلٹی نے لگا ئے جہاں سے لوگ پینے کاپانی بھرتے اور رفتہ رفتہ گھروں تک بھی میٹھے نلکے جا پہنچے۔ خوش قسمتی سے میرا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے، جو اپنے بچپن اور لڑکپن میں ایسے میٹھے نلکوں سے خوب خوب لطف اندوز ہوئے۔ان نلکوں سے بچے بڑے پانی بھرتے، راہ گیرپیاسے ہوتے تو پانی پیتے بلکہ گرمی کے موسم میں لوگ باگ ان کے نیچے نہاتے بھی ۔ گھروں میں بہن بھائی اور گلیوں میں دوست باری باری پانی پیتے اور ایک دوسرے کے لیے نلکے گھڑتے یعنی نلکے کی لوہے کے لمبے حصے ، جس پر لکڑی کی دستی چڑھی ہوتی اسے پانی نکالنے کے لیے اوپر نیچے کرتے، جس سے تازہ، ٹھنڈا، میٹھا پانی باہر آتا اور جسم وجان کوراحت ملتی۔ گرمیوں میں جیسے ان نلکوں کا پانی ٹھنڈا ٹھار ہوتا ، سردیوں کے موسم میں حیران کن طور پر یہ پانی قدرے گرم ہوتا یا شاید باہر موجود سردی کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا۔ ہر موسم میں یہ نلکے اپنے اپنے علاقے کے لوگوں کی پانی کی ضرورت بغیر کسی ہرج مرج کے پورا کرتے اور وہ بھی بغیر معاوضے کے۔

نجیبہ عارف نے اسی عنوان سے لکھے افسانے میں ایک المیہ کو صورت دگر اجاگر کیا ہے۔وہ یوں کہ ہر موسم مفت میں تازہ پانی پلانے والے یہ میٹھے نلکے گم شدہ ہوئے بلکہ ان کا تصور بھی ہماری اجتماعی یاداشت سے محو ہو چکا ہے، اور یہ کیسی محرومی ہے، جدید طرز زندگی نے ہم سے یہ احساس بھی چھین لیا ہے۔یہ کتنا بڑا المیہ ہے جو رونما ہوا ہے۔نجیبہ عارف ایسے المیوں کے بارے میں لکھتی ہیں۔خشونت سنگھ دیہی پس منظر میں ختم ہوچکے مٹھی کھوئیوں پر افسردہ تھے، تو نجیبہ عارف شہروں میں متروک ہو چکے میٹھے نلکوں پر دکھی ہیں۔جن سے ماضی قریب کی ہماری زندگی جڑی تھی۔جیسا کہ شروع میں کہا گیا کہ پانی زندگی کی علامت ہے، اور اس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ اسی طرح آج کا فکشن نگار آب ِ حیات سے کنارہ کشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مقام شکر ہے کہ اسے اس اجتماعی لاپروائی کا احساس شدت سے ہے۔اسی لیے وہ کبھی ”بہاﺅ“ میں قدیم تہذیبوں کے مٹنے کی داستان سناتا ہے اور کبھی ” پانی مر رہا ہے“ تصنیف کر کے اپنی زندگی اور شعور کا احساس دیتا ہے۔ نجیبہ عارف کا افسانہ ’میٹھے نلکے‘ اسی خوب صورت روایت کا تسلسل ہے۔آج کل اردو تنقید میں ماحولیاتی تنقید کا خاصا چرچاہے، اور ایسے مطالعات کی اہمیت تسلیم شدہ ہے۔اردو کی ماحولیاتی تنقید جب فکشن کو موضوع بنائے گی تواس وقت دیگر تحریروں کے ساتھ ساتھ ’میٹھے نلکے‘ بھی اس کے سامنے رہے گا۔

مضمون کے شروع میں اس پوری کتاب پر بات کرنے کا ارادہ تھا۔ لیکن اس میں شامل ایک افسانے نے ہی اتنی جگہ لے لی کہ اگر دیگر افسانوں پر اسی طرح بات کی جائے تو بات تعارفی مضمون سے بڑھ کر مقالے کی شکل اختیار کر جائے گی ، جو کہ فی الوقت مقصود نہیں اور نہ یہ ’سنگت‘ کے مزاج سے مطابقت رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر مختصراً اتنا عرض کروں گا کہ نجیبہ عارف کے افسانے انسانی زندگی سے جڑے ہوئے بنیادی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔یہ فرد اور اس کے ماحول میں در آئی یاجبراً لائی گئی تبدیلی(اس لفظ کا حلیہ حال ہی میںکیسے بگاڑا گیا ہے) سے معاملہ کرتے ہیں۔ یہ جہاں مرد و عورت کی زندگی کے باطن میں پرورش پاتے بھیدوں کی گرہ کشائی کرتے ہیں۔ وہاں انسانی رشتوں میں در آئی اجنبیت اورمعروض کی بدلی ہوئی صورت حال کو بھی قرینے سے پیش کرتے ہیں۔ ان کے افسانے ’سخت بے زمینی‘ سے ایک مختصر اقتباس ملاحظہ کیجیے، اور دیکھیے کہ موجودہ معاشرت و سیاست اوراہل قتدار کی باہمی رسہ کشی سے ابھرتی تصویر پر وہ کس تخلیقی انداز میں تبصرہ کرتی ہیں؛

”ہماری سیکورٹی کے بہانے یہ کون ہے جو ہمارے آگے بڑھنے پر نظر رکھتا ہے اور اپنی مرضی کے راستوں کے سوا کسی اور راستے سے گزرنے نہیں دیتا۔ ہمارے اہم موڑ اور ضروری یوٹرن بند کر دیتا ہے، جس سے مختصر راستے طویل ہو جاتے ہیں اور منزل حقیقت سے زیادہ دور معلوم ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے شہر بھی اپنے نہیں لگتے۔ ایسے لگتا ہے دشمن کے علاقے میں داخل ہو گئے ہوں۔“

نجیبہ عارف کا اسلوب رواں مگر پختہ اور تہہ دار ہے۔ ان کے جملے مختصر مگر نپے تلے اور اثر انگیزہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان افسانوں میں جہاں تہاں ایسے روشن جملے ملتے ہیں جو بعض اوقات ایک دائمی سچ بیان کر جاتے ہیں، مثلاً ” فن کو بھی بازار کی قربت پسند ہے۔“ یا ” ماضی اس شہر کا پرانا باسی ہے وہ ہر راہ چلتے کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔“ یہ دونوں جملے ایک ہی افسانے سے لیے گئے ہیں۔نجیبہ عارف کم لکھتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب تک ان کی افسانون کی یہ واحد کتاب سامنے آئی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*