مہر گڑھ کے پوتے  سے شاہ محمد مری کی شناسائی

 

 

نام کتاب: ہڑپہ سے شناسائی

مصنف: ڈاکٹر شاہ محمد مری

تاثرات: راشد جاوید احمد

 

2022 میں شائع ہونے والی یہ کتاب بیک وقت تاریخی ورثے اور ہڑپہ کے سفرنامے کی کتاب ہے۔ سفرنامے کے ساتھ ساتھ یہ احباب نامہ بھی ہے۔ ان احباب کا ذکر جو اس سفر میں مصنف کے ہم سفر تھے۔

تاریخ اور تاریخی ورثے کی کتابیں ، ماہرین آثار قدیمہ یا اسکے طالب علموں کے لیے ہی زیادہ تر کشش رکھتی ہیں۔ کوئی تاریخ کا قاری بھی مزے لے کے پڑھ سکتا ہے لیکن عام قاری کے لیے ایسی کتابیں کافی خشک ہوتی ہیں۔

مجھے جناب شاہ محمد مری کے کچھ مضامین اور افکار سوشل میڈیا پر پڑھنے کا اتفاق ہوا تو میں دل ہی دل میں ان کی فکر اور طرز تحریر کا معترف ہوا۔ میں ادب کا ایک ادنی طالب علم تو ہوں ہی لیکن تاریخ اور تاریخی ورثوں سے بھی مجھے کافی شغف ہے۔ تاریخی سچ کی تلاش میں شاہ محمد مری کی ” ہڑپہ سے سشناسائی” نظر نواز ہوئی۔ مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی عام تاریخی ورثے کی کتاب نہیں۔ اس میں مصنف نے ہمیں ھڑپہ کے دادا، مہر گڑھ سے متعارف کروایا ہے اور ان کے بقول، مہر گڑھ دادا، موہنجودڑو بیٹا اور ھڑپہ پوتا بنتے ہیں۔ ہماری تاریخ تو موہنجودڑو کے حوالے سے چار ہزار سال پرانی بنتی تھی لیکن مہر گڑھ کی دریافت کی وجہ سے یہ گیارہ ہزار سال پرانی ہو گئی ہے۔ بقول شاہ محمد مری، اب کیسپین اور شام ہمارے اجداد نہیں رہے بلکہ ہماری اولاد قرار پائے ہیں۔ آرکیالوجی ابھی نہ جانے اور کون کون سے رازوں سے پردہ اٹھائے گی لیکن شاہ محمد مری نے ھڑپہ کے رازوں سے خوب پردہ ہٹایا ہے۔

سب سے پہلے تو قاری اس کتاب کے انتساب کو پڑھ کر حیران ہو جاتا ہے۔

” ھڑپہ کے اس بلند تصوراتی درخت کے نام جہاں سے مہر گڑھ نظر آئے”۔۔۔

ہے ناں کمال کا انتساب۔ پھر اس کتاب میں ھڑپہ سے شناسائی کے ساتھ ساتھ صاحب تصنیف کی اپنی شناسایﺅں کا ذکر ہے، جسے میں احباب نامہ بھی کہہ سکتا ہوں۔ ان میں ذکریا خان، شاہد رضا، بینا گوئندی، ریاض ہمدانی، شاد مسعود، روش ندیم، منیلا، رابعہ رشید، مصباح نوید اور رانا ظہر کے نام نمایاں ہیں۔

مہر گڑھ اور ھڑپہ کے بارے میں اس کتاب کو پڑھتے ہوئے قاری کو داستان گوئی اور سفرنامے کاسا لطف ملتا ہے ، ایسا سفرنامہ نہیں جو پیشہ ور سفرنامہ نگار، کسی پبلشر کی فرمائش اور سہولت کاری کی وجہ سے لکھتے ہیں بلکہ قاری شاہ محمد مری کے ساتھ سفر پر روانہ ہوتا ہے۔جہاں وہ رکتے ہیں آپ رک جاتے ہیں، جہاں وہ پڑاو کرتے ہیں وہاں آپ بھی ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ پڑاو کے دوران اس جگہ کی مکمل تفصیل، وہاں کے لوگوں سے میل جول، ان کی عادات حتیٰ کہ ان کی خوراک تک کی باتیں کہانی کے بیان کو اس قدر دلچسپ بنا دیتی ہیں کہ آپ کتاب ہاتھ سے رکھ ہی نہیں سکتے۔

اسی کتاب میں شاہ محمد مری کا ایک گراں قدر مقالہ ہے جس کا عنوان ہے، ” پاکستانی ثقافتیں اور گلوبلائزیشن”۔ کیا کمال کا مقالہ ہے۔ ھڑپہ سے شناسائی سے پہلے ہی یہ مقالہ قاری کو مصنف کی تحریر کا گرویدہ بنا لیتا ہے اور ہمیں قومی زبان، قومی ثقافت اور قومی یک جہتی کو ایک نئے انداز سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ دنیا کے ارتقا، اس میں موجود فکری اختلاط اور معاشی و سیاسی انقلابات سے بھی آشنائی ہوتی ہے۔ عمومی انسانی حیات اور آرکیالوجی کے حوالے سے دانش وروں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس مقالے میں اس پر بھرپور بحث ہے۔ یہ مقالہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے جو قاری کے ذہن کو متاثر کرتے ہیں۔

آرکیالوجی کے حوالے سے اس کتاب کے محاسن پر تو کوئی ماہر آثار قدیمہ ہی مستند رائے دے سکتا ہے۔ میں اردو ادب کے قاری کی حیثیت سے اسے ایک نہایت دلچسپ، عام فہم اور تادیر تاثر قائم رکھنے والی کتاب کہہ سکتا ہوں۔ ھڑپہ کے بارے میں اس سے پیشتر بھی بہت سی کتب نظر سے گزری ہیں جو تاریخ، ثقافت اور اعداد و شمار کی وجہ سے پڑھنے میں کہیں کہیں بوجھل لگتی ہیں کہ حقائق تو پھر بوجھل ہی ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ اس کتاب میں حقائق یا اعداد و شمار سے روگردانی کی گئی ہے بلکہ شاہ محمد مری کا طرز تحریر اور ڈکشن اس قدر عمدہ ہے کہ قاری ان حقائق کو جان لینے کا لطف اٹھاتا ہے۔

میری شاہ محمد مری سے ایک ادھوری سی ملاقات ہوئی تھی، پاک ٹی ہاوس لاہور میں جہاں ان کے ساتھ منائی جانے والی شام میں ،میں ان کی گفتگو سے بہت متاثر ہوا۔ سینئرز کے فرسودہ اور کئی بار کے دہرائے گئے سوالات اور نوجوان طالب علموں کے نئے نکور سوالات کے جوابات ، شاہ محمد مری نے بے شکن پیشانی اور بھرپور علمی اور فکری صلاحیت سے دیے۔ مصنف کی زیر ادارت ماہنامہ ” سنگت” کوئٹہ میں ان کی تحاریر کا تو میں گرویدہ تھا ہی لیکن اس گفتگو کے دوران مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ مقرر بذلہ سنج اور خوش گفتار ہے۔ ” ھڑپہ سے شناسائی” کے مطالعے کے بعد تو اس بذلہ سنجی والے احساس پر گویا مہر ثبت ہو گئی۔ تاریخی ورثے جیسے، قدرے خشک موضوع کو ایک افسانے یا ناول کی طرز پر تحریر کر کے مصنف نے یقیننا اپنے قاریئن کی تعداد میں اضافہ کیا ہوگا۔ اس کتاب میں کوئی نعرے بازی نہیں بلکہ بین السطور ڈاکٹر شاہ محمد مری کے ترقی پسندانہ، مارکسی نظریات اور اپنے خطے کی تہذیب و ثقافت سے ان کی ج±ڑت خوبصورتی سے گندھی ہوئی ملتی ہے۔

اس کتاب میں دساور سے لیے ہوئے تاریخی مشاہیر کی بجائے ہماری اس زمین کے بیٹوں کا بھرپور ذکر ہے اور قاری، ” شہید راستہ روکتے ہیں” نامی باب میں اپنی اصل تاریخ اور اصل جوانمردوں سے شناسائی حاصل کرتا ہے۔ ھڑپہ سے شناسائی صرف ھڑپہ سے شناسائی ہی نہیں بلکہ بہت سے اہل قلم، اہل دل اور دھرتی کے بیٹوں سے شناسائی ہے۔

( کتاب ، سنگت نے شائع کی ہے اور علم و ادب پبلشرز، اردو بازار کراچی سے دستیاب ہے)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*