تکبر نیاید ز صاحب دلاں

 

لینن اور کروپسکایا کو اکٹھے روس میں جم کے رہنے کے لیے صرف آخری سات سال نصیب ہوئے ؛ 1917سے 1924تک ۔ باقی ساری عمر وہ جلاوطنیوںمیں بھٹکتے ، رُلتے رہے ۔ اور اُن سات برسوں کے بعد لینن کا انتقال ہوگیا اور کروپسکایا کی زندگی کے بقیہ پندرہ سال بیوگی کے تھے۔

یونیورسٹی پڑھنے کے بعد اندرون ملک یعنی سائبیریا جلاوطنی تو گویا جہنم کو جلاوطنی تھی۔ وہاں جلاوطنی کے تین برس تک وہ دنیا سے کٹے رہے ، پارٹی اور اُس کے یونٹوں سے کٹے رہے ۔ اپنے خاندانوں عزیزوں سے کٹے رہے ۔

سائبیریاجلاوطنی کے مقررہ برس بھگتنے کے بعد لینن اور کروپسکایا جو روس سے اکھڑے تو پھر اکھڑے ہی رہے ۔ اگلے سترہ برس تک وہ مغربی یورپ میں جلاوطن رہے ۔یہ جلاوطنی اُس وقت شروع ہوئی جب لینن1900میں سائبیریا سے چھوٹ کر یورپ جلاوطن ہوا۔ اور اپریل 1917تک وہیں باہر سے اپنے ملک میں سوشلزم کے قیام کی جدوجہد کے سلسلے میں دربہ در رہا ۔ یوں اُس کی بیرون ملک جلاوطنی 17برس پر مشتمل تھی ۔(کل جلاوطنی 17، جمع سائبیریا جلاوطنی کے 3سال 20=برس ) ۔کروپسکایا سائبیریا جلاوطنی سے 1901میں رہا ہوئی اور پھر وہ بھی یورپ جلاوطن ہوئی ۔ 1917میں روس واپسی تک وہ 16 سال بیرون ملک جلاوطن رہی۔(کل جلاوطنی 16جمع سائبیریاکے 19=3برس)۔۔۔20برس ایک پوری زندگی ہوتی ہے بھئی !!۔

اِن دونوں انقلابی سیاسی ورکرز کو غریب ترین ہوٹلوں میں پیٹ کا جہنم بھرنا ہوتا تھا ۔ سرد یورپ میں بس برائے نام گرم لباس نصیب رہا تھا۔ سستے علاقوں میں سستا ترین کمرہ ان کی رہائش گاہ بنتا تھا۔ایسے میں عجزو انکساری تو عادت بن جاتی ہے ۔۔۔ اسی لیے کروپسکایا اور لینن نے اپنی نظریاتی کمٹ منٹ کی وجہ سے بھی ، اور اِن دربہ در اور مصیبت زدہ برسوں کے سبب بھی کوئی پیٹی بورژوا عادتیں نہیں پالیں۔

جو تھوڑی بہت ”عیاشی “انہیں نصیب ہوئی تھی ، وہ دوزخی سائبیریا میں غیر انسانی جلاوطنی کے ماہ وسال تھے ۔یوں تو سائبیریا دنیا جہاں سے دھتکارا ہوا علاقہ تھا۔وہاں موت آور حتمی بادشاہی برف کی تھی۔غیر آباد راستے تھے اور فرار ناممکن تھا ۔ اس لیے یہاں ہزاروں میل دور کے کسی جلاوطن قیدی کو ایک کوٹھڑی میں بند کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ جہنم کی دیواریں نہیں ہوئیں ۔برف کے صحرا میں دارو غہ نہیں ہوتا ۔ اِس ناقابلِ بیان ”سکراتستان “میں ان دو انقلابیوں کو تین برس کی جلاوطنی بھگتنی تھی۔ یہ سزا ایجاد کرنے والے کو خدا کرے قبر کے کیڑے آرام سے نہ چھوڑیں۔

چنانچہ وہاں لینن کبھی کبھی خرگوش کا شکار کرلیتا۔ وہ دونوں وہاں جنگلی کھمبیاںڈھونڈتے ۔ کروپسکایا نے سائبیریا جلاوطنی میں لینن کو ” پرجوش کھمبی تلاش “ کا خطاب دیا تھا(1) ۔اس کے علاوہ اِس حتمی برف شاہی ”کالا پانی “ میں کچھ ماہ ایسے ضرور ملتے جب جلاوطن کروپسکایا ، اپنی والدہ ، اور شوہر لینن کے ساتھ زمین کھودتی اور سبزیوں کا ایک باغیچہ تیار کرتی ۔ مولی ، گاجر ، ساگ ، ٹماٹر ، کدو اور چقندر کی ”فصل “ تیار ہوتی۔بادشاہی جلاوطنی !!۔

اور بھی وجوہات ہیں کہ جب بھی اس جوڑی کے بارے میں بات کی جائے تو خود بخود ایک تقدس ، ایک بھاری پن کا تاثر ابھرتاہے۔اُن میاں بیوی کی بایو گرافیوں میں کوئی ٹوٹی سابقہ شادی کا وجود نہیںتھا ۔ ان کی آپسی محبت میں کوئی ٹین ایجرز والی طوفانی محبت کی داستان نہیں تھی۔ ان کے پاس ایک دوسرے سے پہلی نظر میں محبت والا قصہ بھی نہیں تھا، کوئی بے مسرت لوافیئر نہ تھا ۔ وہ دونوں منجھے ہوئے انقلابی جذباتی محبت سے بہت دور تھے ۔یہ تو ایک نہ مرنے والی لازوال محبت تھی۔

دونوں ایک دوسرے کے بارے میں اپنے جذبات کم لکھتے تھے۔اُن کے بیچ شادی سے قبل بھی، اور شادی کے بعد بھی انقلابی کاز کے لئے کام میں اشتراک ہی سب سے بڑا رشتہ تھا۔ وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور بہت باوقار محبت کرتے تھے۔

کروپسکایا توبہت منکسر مزاج اور عاجز طبیعت انسان تھی۔وہ لینن سے ایک برس بڑی تھی۔ لباس کی سادگی اور وضع داری میں بہت محتاط تھی۔ اس کے بال بہت باوقار انداز میں کنگھی شدہ ہوتے ۔

لینن کے بارے میں ایک سینئر بالشویک ماریا ابسین نے لکھا تھا کہ ”وہ ایک ترکِ دنیا والا پارسا نہ تھا۔ وہ زندگی کے تمام پہلوﺅں سے پیار کرتا تھا ۔ ارد گرد، خوراک ، اور لباس کی چوائس کا اس کی زندگی میں کوئی رول نہیں تھا۔ یہ دستبرداری والا اور خود کو محروم رکھنے کا معاملہ نہ تھا؛ اُسے ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ مجھے لینن کے گھر میں یاد نہیں کہ حتی کہ عام لاپرواہی والی گفتگو میں بھی کبھی کسی لذیذ خوراک کے بارے میں بات ہوئی ہو ۔۔وہ لوگ کھانا ضرور کھاتے تھے ۔۔۔۔ مگر زندگی کا یہ پہلو کسی کی بھی دلچسپی کا نہ تھا “ (2)۔

ماما عبداللہ جان جمالدینی نے لکھا کہ ”اپنی تعریف اچھی بات نہیں ہوتی۔مگر کیا کیا جائے انسانی کمزوریاں بہت ہیں۔ کوشش سے بھی بہت کم لوگ اس پر قابو پاتے ہیں“ ۔ اور فیض احمد فیض نے خود تعریفی کو صرف بور نہیں بلکہ انتہائی بور لوگوں کا کام کہا تھا۔

روس میں انقلاب کے بعد لینن ملک کا سربراہ بنا۔ اور کروپسکایا فرسٹ لیڈی ۔ وہ انقلابی حکومت میں نائب وزیر بنی۔ بنی نوع انسان کی تاریخ میں دنیا میں کسی واحد گورنمنٹ والا سب سے بڑا رقبہ لینن کے پاس تھا۔ گلوب کے چھٹے حصے پر پھیلا ہواملک ۔ یہ جرمنی کو جاپان سے ملاتا تھا، اور ہمالیہ کو آرکٹک سے ۔ یہ سکینڈ نیویا، مغربی یورپ، بلقان، مشرقِ قریب ، پرشیا، انڈیا اور چین کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ اور الاسکا کے سبب یہ امریکہ کا بھی پڑوسی تھا۔

مارچ 1918میں روس کا دارالحکومت ،پیٹرسبرگ سے ماسکو منتقل ہوگیا ۔ کروپسکایا اور لینن پہ مشتمل خاندان کریملن شفٹ ہوگیا۔ ایک اپارٹمنٹ لینن کے نام پر الاٹ کیا گیا ۔ یہ اُن دونوں کی بقیہ پوری مشترک زندگی میں واقعتا ایک مستقل گھر بنا۔ چار سادہ سے کمروں والا”گھر “۔ایک کمرہ لینن کا تھا، ایک لینن کی بہن ماریا کا، اور ایک کروپسکایا کا ۔

سربراہِ مملکت کا یہ ”عالیشان محل“ اُس گھر سے بھی چھوٹا تھا جو سائبیریا جلاوطنی کے وقت اُن کے پاس ہوتا تھا ۔یہ اپارٹمنٹ تیسری منزل پہ واقع تھا ۔اونچی چھتوں کے سبب سمجھو پانچویں منزل پہ۔اور لینن کو اپنی بیوی کی تھا ئرائڈ نامی بیماری کے مارے ہوئے دل کے بارے میں پریشانی تھی (4)۔

حکمرانی والی نئی زندگی نوکر چاکروں سے شروع ہی نہیں ہوئی۔ گیل نامی ڈرائیور تھا، وہی لینن کا باڈی گارڈ بھی تھااور کامریڈ اور سنگت بھی۔

کلارا زیٹکن نے ملک کے اِس سربراہ کے بارے میں لکھا: ”میں ایک سے زیادہ مزدوروں کے گھر گئی جو کہ ”سب سے طاقتور ماسکوئی ڈکٹیٹر، لینن “ کے گھر سے بہت زیادہ فرنشڈ Furnishedتھے۔ میں نے لینن کی بیوی اور بہن کو رات کو کھانے پہ دیکھا ۔یہ ایک سادہ کھانا تھا ، جس طر ح کہ مشکل حالات تقاضا کرتے ہیں: چائے ، کالی روٹی، مکھن اور پنیر۔ بعد میں بہن نے مجھ ”گیسٹ آف آنر“ کے لیے کچھ ” سوویٹ ڈش“ ڈھونڈنے کی کوشش کی ، اور محفوظ کردہ خوراک کا ایک چھوٹا مرتبان دریافت کرلیا۔ یہ تو عام اور معلوم بات تھی کہ کسان”اپنے ایلیچ “ کو سفید آٹے، نمکین گوشت ، انڈوں ،اور پھلوں وغیرہ کے تحفے بھیجتے تھے ۔ مگر یہ بھی عام معلوم تھا کہ لینن کے گھر میں اِن میں سے کوئی چیز نہیں رہتی تھی ۔ ہر چیز ہسپتالوں اور چلڈرن ہومز کا رخ کرتی تھی۔ لینن کا خاندان محنت کش عوام کی طرح کی زندگی گزارنے کے اصول پر سختی سے کار بند تھا “(5)۔

کلارا لکھتی ہے کہ ”کروپسکایا،بورژوا تصورکے مطابق ”عظیم روسی سلطنت کی خاتون ِ اول “تھی مگر وہ تو خود کو فراموش کرنے کی خواہش کرنے میں اول تھی ، محنت کشوں اور محکوموں کے کاز کے لیے قربانیوں میں اول تھی ۔کام اور آئیڈیا ز کے قریب ترین اشتراک نے اُسے لینن سے باندھ دیا تھا۔ کروپسکایا کے بارے میں سوچے بغیر لینن کے بارے میں بات کرنا ناممکن ہے ۔ وہ ”لینن کی دستِ راست “تھی، اس کی اولین اور بہترین سیکریٹری ، فکر میں اُس کی کامریڈ ، اَس کے خیالات کی سب سے تجربہ کار تشریح کرنے والی ، مضبوطی اور عقلمندی کے ساتھ جی نی اَس کے مالک کے لیے دوست ، ورکنگ کلاس کے اندر پرو پیگنڈہ جاری رکھنے میں اولین ۔ اُس کے علاوہ اُس کے پاس سرگرمی کا اپنا ذاتی دائرہ تھا جس کے لیے اس نے اپنی ساری روح کے ساتھ خود کو وقف کر رکھا تھا : یعنی پاپولرایجوکیشن سسٹم اور انسٹرکشن۔

”یہ فرض کرنا مضحکہ خیز ،اور تو ہین آمیز ہے کہ کروپسکایا ” لینن کی ڈپٹی“ کے بطور کریملن میں تھی۔ اس کی گہری مادرانہ فطرت نے لینن کی رہائش گاہ کو لفظ کے نازک ترین معنوں میں ایک ”گھر “ بنادیا ۔۔۔یہ گھر روحانی فضا سے بھر ا ہوا تھا ، اور جو کہ اُن رشتوں کا نتیجہ تھی جو کہ وہاں رہنے اور حرکت کرنے والے انسانوں کو جوڑے رکھتا تھا۔ یہ بات واضح تھی کہ اُن رشتوں میں ہر چیز خلوص ، سچائی ، اورتفہیم سے متعین تھی ۔ ۔۔۔۔“(6) ۔

کروپسکایا 1917 کے انقلاب کے بعد بننے والی انقلابی حکومت میں ایجوکیشن کی نائب وزیر بنی ۔وہ بہت محنتی وزیر تھی۔ صبح سویرے دفتر آتی اور سارا دن کام کرتی ۔ رات بھی اُسی وقت اٹھتی جب لینن کافون آتا کہ کھانا اکیلا نہیں کھاﺅں گا، آجاﺅ۔ وہ توحتی کہ دفتر کی ہفت روزہ صفائی میں بھی سٹاف کے ساتھ حصہ لیتی ۔ اور کبھی کبھی جب اس کے ساتھی اُسے بتائے بغیر صفائی کا سارا کام مکمل کرلیتے تو وہ انہیں ”بے عدل دھوکے باز “کہتی۔ (7)۔

یہ میاں بیوی اپنی جسمانی فٹنس کا بہت خیال رکھتے تھے ۔ وہ دونوں سگریٹ نہیں پیتے تھے ۔لینن ہر روز ورزش کرتا تھا ۔ یہ عادت اس نے سائبیریا جلاوطن کیے جانے سے قبل پیٹرسبرگ جیل میں شروع کی تھی ۔ وہ لمبی سیر کو چلا جاتا ( 8)۔

لینن شراب کے معاملے میں کوئی ”بالکل بھی نہ پینے والا “ تو نہیں تھا ۔ مگر وہ اِس کا کچھ زیادہ شوقین بھی نہ تھا۔ کبھی کبھار بیئر کا ایک گلاس۔

ہاں،البتہ وہ چائے خوب پیتا تھا ۔ اس نے اپنی زندگی کے کئی یاد گار دنوں میں یاد گار چائے پی لی تھی: سینٹ پیٹرسبرگ میں اپنی پہلی گرفتاری پہ چائے ، سائبیریا میں اپنی شادی کی تقریب میں چائے ،سیلڈ ٹرین میں چائے ، فن لینڈ سٹیشن پہ پہنچنے کے فوراً بعد چائے ، اور 1918میں گولیوںسے زخمی ہونے پہ چائے۔سیلڈ ٹرین میں تو کروپسکایا نے باقاعدہ گھاسلیٹ کا ایک سٹوو ساتھ رکھا تا کہ جرمنی میں سے گزرتے ہوئے وہ اپنے محبوب اور سنگت کو چائے کی سپلائی جاری رکھ سکے (9)۔

ان بہت بڑے انسانوں کو خود کو عام انسان بنا کر رکھنے میںکوئی محنت کوئی ریاضت نہیں کرنی پڑتی ۔اس لیے کہ عظیم انسان خود کو عام انسان بناتا ہی تب ہے جب یہ اُس کی عادت ، اُس کی فطرت میں شامل ہو جائے ۔ مگر کتنا سکون ملتا ہوگا خود اپنے بارے میں ایک منکسر رائے رکھنے میں۔ اس سلسلے میں لینن دنیا کا پرسکون ترین آدمی تھا۔

لونا چارسکی نے ایک جگہ لکھا کہ جس وقت لینن پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ تندرست ہورہا تھا تو اُس نے برونچ، اور کچھ دیگر حکام کو بلایا اور کھردرے انداز میں ان سے کہا:” میں یہ دیکھ کر سخت ناخوش ہوا کہ لوگ میری شخصیت کو بڑھا چڑھاکر پیش کرنے لگے ہیں ۔ یہ ناراض کرنے اور نقصان دینے والی بات ہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ شخصیت اہمیت نہیں رکھتی ۔ مجھے ذاتی طور پر اس طرح کے مظہر کو منع کرنے پر شرم آتی ہے ۔۔۔۔ مگر آپ لوگوںکو اس سارے معاملے پر عاقلانہ طور پربریکیں لگانی چاہئےں“۔

ایک عمومی اور عالمگیر اصول ہے : بڑے لوگوں کو خود ستائش سے سخت نفرت ہوتی ہے ۔ جتنا بڑا انسان ہوگا، اتنا ہی نام و ناموس سے دور بھاگتا ہوگا۔مثال کے طور پر یہ دیکھیے کہ مارکسزم کے ساتھ لفظ ”لینن ازم “ لینن اور کروپسکایا کی زندگیوں میں ہی استعمال ہونا شروع ہوا تھا ۔لیکن لینن اور کروپسکایا”لینن ازم “ کی اِس اصطلاح کے خلاف اپنی سخت ناپسندید گی ظاہر کرتے تھے۔ اس لیے کہ لینن کے بقول یہ لفظ ”سیاست میں شخصی فیکٹر کی حد سے زیادہ دلالت کرتا ہے“(10)۔

لینن کی آخری بیماری میں بلائے گئے برلن کے ڈاکٹر کلیمپرر نے لکھا : ” میں نے پہلے اُسے اُس کے بیڈروم میں دیکھا۔ وہ ایک وسیع سپاٹ اپارٹمنٹ تھا جس میں صرف لوہے کا ایک پرانا نوکروں والا بیڈ رکھا تھا، ایک سپاٹ ڈیسک ، بہت سی لکڑی کی کرسیاں اور ایک میز رکھی تھی جو کتابوں سے بھری ہوتی تھی۔ دیواروں پر کوئی سجاوٹ اور آرائش نہ تھی ، نہ ہی کوئی تصویر یا قالین کا ٹکڑا ٹنگا تھا۔۔ جب میں نے دوبارہ اُسے اُسی سال جون 1922میں دیکھا تو وہ ماسکو کے سابقہ میئر کے عظیم الشان دیہی محل میں تھا۔ جہاں امید تھی کہ وہ آرام اور تفریح کرسکے گا۔ مگر وہ اُس عمدہ گھر کے اندر نہیں رہتا تھا بلکہ اُس کے برعکس قریب ہی ایک چھوٹے گھر کے ایک غریب کمرے میں رہتا تھا جسے ماضی میں نوکر استعمال کیاکرتے تھے ۔ مجھے اُ سے سخت دلائل دینے پڑے تب کہیں جاکر وہ اُس بڑے گھر میں جانے کے لیے تیار ہو گیا“۔ (11)۔

کروپسکایا اور لینن لگژری والی زندگی سے بہت دور تھے ۔وہ پارٹی کی جانب سے تنخواہ پر انحصار کرتے تھے ۔ وہ تنخواہ کبھی کبھار تو ان کے گزارے کے لیے بھی ناکافی ہوتی۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ عام سیاسی ورکرز بھی اپنی تصاویر اخبارات اور سوشل میڈیا پہ بھرتی کرتے رہتے ہیں۔ وجہ بے وجہ پریس ریلیزز کے نرغے میں رہتے ہیں۔ اپنی تعریف میں شاعری لکھواتے ہیں ، سوانحی الہامیات چھپواتے ہیں۔ لیکن لینن جو ملک کا سربراہ تھا، بابائے قوم تھا اُس کا چہرہ عام لوگوںمیں اس قدر ناشناس چہرہ تھا کہ ایک بار نوجوان کمیونسٹوں کی ایک گشت پارٹی نے جولائی 1918میں اُسے گرفتار کرلیا۔ جب اس نے اپنا شناختی کارڈ دکھایا جس پہ اس کانام ”لینن“ لکھا تھا ، اور ساتھ ” چیرمین کونسل آف پیپلز کمیسارز ” (سربراہ مملکت) لکھا تھا، تو گشت والی پارٹی نے یقین نہیں کیا۔ وہ لوگ اُسے قریبی پولیس سٹیشن لے گئے ۔ وہاں لینن کو پہچان لیا گیا اور رہا کیا گیا (12)۔

کروپسکایا کے مطابق اس سربراہِ مملکت لینن کو اقتدار کے دو سال بعد جنوری 1919تک کسی حد تک زیادہ پہچانا جانے لگا تھا۔6،7 جنوری 1918کو وہ کروپسکایا کے ساتھ روسی کرسمس منانے جارہا تھا۔ اس کی تو عادت تھی کہ وہ گاڑیوں کا کاروان ساتھ نہیں رکھتا تھا۔روڈ پہ موجود اُس کی تنہا کار کو ڈاکوﺅں نے روک دیا۔ جب انہیں پتہ چلا کہ کار میں کون ہے تو وہ ذرا سے حیران ہوئے ۔ مگر وہ پھر بھی گاڑی اور سامان چھین کر لے گئے ۔یہ احسان البتہ اُن ڈاکوﺅں نے یہ کیا کہ انہوں نے لینن ، اس کی بہن ماریا، ڈرائیور اور باڈی گارڈ کو زندہ چھوڑ دیا (13)۔

دنیا بھر میں انقلابیوں کی خاصیت ہوتی ہے کہ وہ ”میں میں“ کبھی نہیں ممیاتے ۔لینن اور کروپسکایا شاندار انقلابی تھے ۔ وہ اپنے بارے میں بہت کم بولتے تھے ،بہت کم سنتے تھے اور بہت کم لکھتے تھے۔ وہ دونوں عام انسانوں کے بیچ عام انسان بن کر رہتے تھے ۔ گورکی نے کہا تھا : ” وہ کسی بھی طرح ۔۔۔۔عام آدمی تھا۔ ایک لیڈر ہونے کا تاثر نہیں دیتا تھا“(14)۔

وہ دونوں ،بہت ہی بے نفس لوگ اپنا نام پرنٹ میں بھی بہت زیادہ چھپنے نہ دیتے تھے ۔جیسے کہ دنیا کا دستور ہے ، وہاں سوویت اخبارات میں بھی لینن کی تعریفیں ہوتی تھیں۔ یہ ”تسلسل سے انبار بنتی جاتی ناگوار تعریفیں “اُسے پریشان کرتی جاتیں۔ اُس نے بونچ بروئے وچ کو کچھ سر خیاں دکھاتے ہوئے پوچھا: ” یہ کس لیے ہے ؟۔ مجھے اخبارات پڑھتے ہوئے تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔ جہاں بھی دیکھو وہ میرے بارے میں لکھتے ہیں کہ میں ایسا ہوں ، میں ویسا ہوں۔ وہ ہر چیز میں مبالغہ کرتے ہیں۔ وہ مجھے ایک جی نی یئس کہتے ہیں۔ ایک طرح کا غیر معمولی آدمی۔۔۔۔ ہم اپنی ساری زندگیاں اپنی ذات کی وقعت بڑھانے کے خلاف لڑتے رہے ہیں، ایک فردِ واحد کو ارفع بنانے کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔۔۔ اور یہاں بار بار ایسا ہورہا ہے : ایک شخصیت کی تعریف و توصیف ۔یہ بالکل اچھا نہیں ہے ۔ ۔۔۔میں مکمل طور پر ایک فرد پر زور دینے والے اِس غیر مارکسی رویے کو سخت نقصان دِہ سمجھتا ہوں ۔ یہ برا ہے ،مکمل طور پر ناقابل ِ قبول اور غیر ضروری ہے ۔ اور میری یہ تصویریں ؟ ہر جگہ پر ! ۔ اس سب کا مقصد کیا ہے “؟۔۔۔ یہ سب فالتو اور نقصان دہ ہے ، اور ہمارے نظریہ کے خلاف ہے اور فرد کے رول کے بارے میں ہمارے نقطہِ نظر کے خلاف ہے “۔(15)۔

آئیے ،حکومت کے ایک عہدے دار بونچ بروئے وچ کے نام روس کے سربراہِ مملکت لینن کا ایک نوٹ پڑھتے ہیں:

” جناب بونچ بروئی وچ،بزنس منیجر،کونسل آف پیپلز کمیسارز ۔

” میرے اِس مسلسل مطالبے کی عدم تعمیل پہ ، کہ یکم مارچ1918 سے کس بنیاد پر میری ماہانہ تنخواہ500سے800 روبل تک بڑھائی دی گئی، اور اس بات پہ کہ سیکرٹری آف کونسل گوربونوف کے ساتھ مل کر آپ نے من مانے طور پر جو یہ غیر قانونی اضافہ کیا، وہ23 نومبر1917 کو عوامی کمیساروں کی کونسل کے جاری کردہ فرمان کی صریحاً خلاف ورزی ہے، میں آپ کو سختی سے وارننگ دیتا ہوں۔

چیئرمین،عوامی کمیساروں کی کونسل“۔

(تاریخ میں یہ شاید انوکھا ترین واقعہ ہے کہ ایک سربراہِ مملکت ایک افسر کو اپنی تنخواہ بڑھانے پر وارننگ لیٹر جاری کررہاہو)۔

ٹراٹسکی نے لینن پہ لکھی اپنی کتاب کے صفحہ340پر لکھا:

” میں ایک دلچسپ واقعہ یاد کیے بنا نہیں رہ سکتا ۔لینن اور ہم لوگوں نے ایک ” اصول “ متعارف کیا کہ جو کوئی بھی کسی اجلاس میں دس منٹ سے زیادہ دیر سے آئے ،اُسے جرمانہ دینا ہوگا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک میٹنگ سے نکلتے ہی ہمیں کریملن کے دُور کے دوسرے سرے پہ ایک دوسری میٹنگ پہ جانا تھا جس کے لیے ہمیں ایک بہت طویل میدان کو عبور کرنا تھا۔ لینن نے ذرا دیر کے لیے گھر ہو آنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اُسے فون کیا: ولادیمیر ایلیچ ، تم جرمانہ ہونے کا رسک لے رہے ہو۔ میٹنگ سٹارٹ ہونے میں تمہارے پاس محض دو سے تین منٹ ہیں“ ۔

”ٹھیک ہے “ اس نے دبی دبی ہنسی کے ساتھ جواب دیا ۔ جس کا راز مجھے بعد میں سمجھ آگیا۔ میں سیڑھیاں اترا اور اُس میدان پہنچ کر میں پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتا رہا کہ لینن کہیں نظر آرہا ہے ؟۔ اچانک ، بہت دور دوسرے سرے پر ، میرے سامنے تقریباً ایک سو قدم پہ، ایک جانے پہچانے وضع قطع کا شخص شوں کر کے گزر گیا اور کیولری بلڈنگ کے کونے کے گرد گم ہوگیا۔ کیا یہ لینن تھا؟ ناممکن ۔ وہ ہو ہی نہیں سکتا۔

” دو منٹ بعد میں کانفرنس روم پہنچ گیا۔پتہ ہے میں نے کس کو دیکھا تھا؟ ۔لینن کو۔ ابھی تک اس کا سانس ذرا ساپھولا ہوا تھا۔ وہ خوشی سے مجھ سے یہ کہتا ہوا ملا” ہیلو، یہ تم ہو جو ایک منٹ لیٹ ہو!“ اور اس نے فاتحانہ قہقہہ لگایا۔

” مجھے تسلیم کرنا ہوگا“ میں نے دوسرے کامریڈز سے وضاحت کی ” مجھے توقع نہ تھی۔ ۔۔ سچ ۔ مجھے لگا تھا کہ کیولری بلڈنگ کی طرف لینن سے ملتا جلتا کوئی لپک کراڑتا گیا، مگر میں یہ تصور تک نہ کرسکا کہ ملک کا سربراہ سب لوگوں کے سامنے کریملن کے میدان کے آرپار طوفان کی طرح دوڑلگائے گا“۔

1919 کی ابتداءمیں ایوانوف، نامی ایک کسان لینن سے ملنے آےا۔ وہ جب واپس پہنچا تو اُس نے مقامی سوویت کی انتظامیہ کمیٹی میں اپنی رپورٹ میں کہا کہ لینن کے کمرے کو گرم رکھنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے اور وہ ٹھنڈے کمرے میں کام کرتا ہے ۔ چنانچہ ولا دیمیر صوبے سودو گودسکی ضلع کی ملینووا تحصیل کی انتظامیہ کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ ” کامریڈ لینن کو انتظامیہ کمیٹی کے خرچ سے ایک ویگن لکڑی بھیجی جائے اور اگر ضرورت ہو تو اُن کا لوہار خود جا کر لوہے کا ایک آتش دان لگا دے “۔

اسی طرح انٹرنیشنل کمیونسٹ پارٹیوں کی ایک میٹنگ میں اٹلی کے وفد میں ایک موچی اور ایک حجام شامل تھے ۔ بارہ دن کے لمبے سفر میں موچی اپنے چھوٹے سے ٹرنک کی بڑی حفاظت کرتا رہا جس میں اس نے اپنے ہاتھ سے بنائے دو جوڑے جوتے رکھے تھے ۔ ایک جوڑا مردانہ ، ایک زنانہ ۔ وہ مردانہ جوڑا لینن کو پیش کرنا چاہتا تھا اور زنانہ جوڑا کروپسکایا کو ۔ حجام کاارادہ تھا کہ وہ لینن کو اس کی داڑھی کے سٹائل کے بارے میں ماہرانہ مشورے دے گا۔

ٍ لینن ایک عام انسان کی طرح خوشی اور غم سے متاثر ہوتا تھا۔ اس کی کامریڈ اور دوست اِنیسا آرمند 24ستمبر1920میں ہیضہ سے فوت ہوگئی تھی ۔ اینجلیکا بلابانوف 12اکتوبر کو اِنیسا کی ماسکو میں تدفین کے موقع پر لینن کو یوں بیان کرتی ہے: ”صرف چہرہ نہیں اس کا پورا بدن غم میں اس قدر غرق تھا کہ مجھے اُ سے معمولی اشارے سے بھی سلام کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ واضح تھا کہ وہ اپنے غم کے ساتھ تنہا رہنا چاہتا تھا۔۔ اس کی آنکھیں آنسوﺅں میں ڈوبتی لگتی تھیں جنہیں وہ کوشش سے روکے ہوئے تھا۔ “۔۔۔

بار بار دوہرانے کی ضرورت ہے کہ فطری لوگ ،جینوئن لوگ کبھی بھی نہ خود اپنی ستائش میں مبتلا ہوئے اور نہ دوسروں کو اس کی اجازت دی۔ ان بڑے انسانوں نے کبھی اپنی خصوصی خدمات پر زور نہ دیا۔بلکہ اس کے برعکس لینن انقلاب جتنی بڑی کامیابی پہ رینک اینڈ فائل کے اندر تکبر اور غرور کو یوں کچلتا رہا:

”کمیونسٹوں کی ایک سب سے بڑی اور انتہائی خطرناک غلطی یہ خیال ہے کہ انقلاب صرف انقلابی ہی کرسکتے ہیں۔ اس کے برعکس کامیاب ہونے کے لیے سنجیدہ انقلابی کام تقاضا کرتا ہے کہ انقلابی لوگ سچے ،توانا اور ترقی یافتہ طبقے کے صرف ہر اول کا رول ادا کریں ۔ اس خیال کو سمجھنا چاہیے اور اس پر عمل پیرا ہونا چاہیے ۔ ہر اول صرف اس وقت ہی ہر اول کے فرائض پورے کرتا ہے جب وہ عوام الناس سے علحدہ نہ ہو بلکہ تمام عوام الناس کو آگے بڑھانے میں واقعی رہنمائی کرے“ (16)۔

انقلاب کے بعد لینن یورپ کے ایک ملک کا حکمران تھا۔ اُس کا ایشیائی رسم و رواج سے کوئی تعلق نہ تھا۔ وہاں کی اخلاقیات ہمارے ہاں کی فیوڈل اخلاقیات سے بہت مختلف ہوتی ہے ۔ مگر یہ دلچسپ ہے کہ جونہی ملاقاتی کمرے میں داخل ہوتے تو لینن سب کے لیے ’ اپنی میز کے پیچھے سے پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوتا اور اُن سے ملنے آگے آتا۔ اس کا چہرہ مخلص مسرت سے دمک اٹھتا۔

لینن کے انتقال کے موقع پر پیٹرو گراڈ کے مزدوروں کی درخواست پر کانگریس نے پیٹرو گراڈ شہر کا نام بدل کر لینن گراڈرکھنے کا فیصلہ کیا ۔ایک دوسرا عجب اقدام یہ ہوا کہ لینن کی میت کو دفن نہیں کیا گیا بلکہ ریڈ سکوائر پر ایک خاص طور سے بنے ہوئے مقبرے میں اس کے جسم کو محفوظ کر دیا گیا ۔

اور یہیں پر اِس سب کے خلاف چیخنے ”والی “چیخ اٹھی۔ سوشلزم چیخ اٹھا۔ لینن کی روح چیخ اٹھی۔ چنانچہ جب کروپسکایا کو اس بات کا پتہ چلا کہ لینن کو دفن کرنے کے بجائے نمائش کے لیے رکھا جائے گا تو اگلے دن ”پراودا“ اخبار میں وہ کھنک اٹھی:“ میں آپ سب مزدوروں انسانوں سے عظیم درخواست کرتی ہوں کہ لینن کے لیے اپنے غم کو اُس کی ذات کے لیے بیرونی احترام کی صورت اختیار کرنے نہ دیں۔ اس کے لیے یادگاریں کھڑی نہ کریں ، اس کا نام محلات پہ نہ رکھیں ، اس کی یادمیں جاہ وجلال بھری تقریبات نہ رکھیں ۔۔۔ ان سب چیزوں کو وہ اپنی زندگی میں معمولی اہمیت بھی نہیں دیتا تھا، ایسی ساری چیزیں اُسے تکلیف دیتی تھیں“(17)۔

صرف کروپسکایا ہی ایسی نہ تھی ۔ دنیا بھر میں کمیونسٹ ایسے ہوتے ہیں۔میں ابھی تک کیوبا کے کمیونسٹ اور اُس ملک کے سربراہ فیڈل کاسٹرو کی اِس بات کو تحسین سے دیکھتا تھا کہ اُس نے اپنے ملک میں ” زندہ“ لیڈروں کی تصویر لگانے ، اُن کے نام پہ مقامات کے نام رکھنے پر پابندی لگادی تھی۔ ۔۔ اور میں اسے زبردست سمجھتا رہا تھا، اس لیے کہ وہ خود زندہ تھا ۔ اور اس نے اپنی زندگی میں اپنے متعلق یہ پابندیاں لگا دی تھیں۔ مگر یہاں تو کروپسکایا مرنے کے بعد ، اور وہ بھی لینن جیسے انسان کے ساتھ یہ سب کچھ کرنے نہیں دے رہی تھی۔

یہ الگ بات ہے کہ اپنی اِس جنگ میں کروپسکایا ہار گئی ، لینن ہار گیا ، لینن ازم ہار گیا۔ لینن کی میت کو دفن نہیں کیا گیا بلکہ شیشے میں لٹا کر رکھا گیا ۔ اور پوری دنیا سے لاکھوں کروڑوں لوگ سوبرس سے اُسے دیکھنے کریملن جاتے ہیں۔ اور آج تک دیکھنے والوں کی قطار کبھی بھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔

اسی طرح کروپسکایا کے احتجاج کے باوجود شہر کا نام بھی لینن گراڈ ہی رکھا گیا۔

مگر عاجزی تو کبھی نہیں ہارتی، انکسار کو کبھی شکست نہیں ہوتی۔ لینن کے لیے وقف محبوبہ نے اپنے ساتھی کے کارناموں کی تعریفوں میں تو جلدوں کی جلدیں لکھ دیں مگر اُس نے ایک بار بھی اِس ”مقبرے “اور اس کے اندر کا ذکر نہ کیا۔ وہ کبھی بھی پارٹی تقریبات کے دوران وہاں نہ گئی۔ اور اسی سپرٹ کے ساتھ اُس نے کبھی بھی پیٹرسبرگ کو ”لینن گراڈ“ نہ کہا (18)۔

لینن اور کروپسکایا خواہ جیل میں ہوتے، جلا وطنی بھگت رہے ہوتے،یا اقتدار میں ہوتے ،کبھی بھی اپنی حیثیت اور پوزیشن کے بارے میں بات نہیں کرتے تھے۔ نہ مصیبت میں مایوسی ،اور نہ اقتدار میں غرور!۔ ایک انقلاب مخالف عورت، لینن کے ایک نسبتاً نادر پورٹریٹ کو بگاڑ دینے کے جرم میں جیل میں تھی۔ لینن نے یہ کہہ کر اس کی رہائی کا حکم دیا:”کسی کو ایک تصویر بگاڑ دینے پر گرفتار نہ کیا جائے “(19)۔

یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ کروپسکایا اور لینن نے اپنی کوئی آٹو بایوگرافی نہیں لکھی ۔دراصل وہ کوئی ایسا کام نہیں کرتے تھے جس میں شخصی دکھاوے کا شائبہ تک ہوتا۔ لیکن یہ مشاہدہ بہت دلچسپ ہے کہ دنیا کے اب تک کے سب سے بڑے فلاسفر کارل مارکس نے اپنی سوانح عمری نہیں لکھی۔ اینگلز نے نہیں لکھی ۔ ہوچی منہ ، نور محمد ترہ کی ،ہرکشن سنگھ سرجیت، سی آر اسلم ۔۔۔۔نے اپنی سوانح عمری ، سرگزشت اور اپنی یادداشت “ نہ لکھی کیوں کہ آٹو بایوگرافی کا ہیرو تو خود ،لکھنے والا ہی ہوتا ہے ۔ لہذا آٹو بائیوگرافی پرسنیلٹی کلٹ اور ہیرو پرستی کو بہت تقویت دیتی ہے۔

لینن اور کروپسکایا اپنی شان میں پارٹیاں انجوائے نہیں کرتے تھے ۔ اپنی پچاسویں سالگرہ پر لینن نے مبارکباد کے کئی خطوط وصول کیے اور اگلے دن 23اپریل 1920کو ایک تقریب میں اس نے سالگرہ مبارکبادی تقریرسے بچانے پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ اس نے اپنی شان میں ایک میوزیم کھولنے کی تجویز سے انکار کیا اور اپنے ایک ہمکار ایس او لمنسکی سے رازداری میں کہا:” تمہیں اندازہ نہیں کہ میں مسلسل اپنی شخصیت ابھارنے کو دیکھ کر کس قدر ناخوشگوار محسوس کرتا ہوں“(20) ۔

لینن نے اپنی تصانیف کو جمع کرنے اور دوبارہ شائع کرنے کی کامینیف کی تجویز کو ”مکمل طور پر حد سے زیادہ “ کہا ۔اور صرف اُس وقت اپنا ذہن تبدیل کیا جب اس سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ پھر یہ چاہے گا کہ نوجوان اُس کے بجائے منشویک مصنفین کوپڑھیں ؟۔

انسان کی ایک اور معصومیت دیکھیے، اور لیڈر کاریسپانس بھی !۔کلینتسی کی استودول کپڑا مل کے مزدوروں نے لینن کو پیغامِ خیر سگالی اور سوٹ کا کپڑا بھیجا ۔ انہوں نے لکھا تھا کہ انہوں نے اپنی مل کا نام لینن رکھا ہے اور اس سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کپڑے کا سوٹ پہنے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے تیار کیا ہے ۔

اور اصلی لیڈر پھر یہ جواب دیتا ہے:” پیارے رفیقو ! آپ کے پیغامِ خیر سگالی اور تحفے کے لےے دلی شکریہ ۔ میں آپ سے ایک راز کی بات کہوں کہ مجھے تحفہ لینا مناسب نہیں لگتا۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ یہ راز بڑے پیمانے پر سارے مزدوروں سے کہےے ۔ انتہائی دلی شکریہ ۔ سلام اور نیک تمنائیں ۔ آپ کا اولیانوف (لینن)“۔

 

”لینن سکی ہلز “ماسکو سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک خوبصورت محل ہے ۔ یہ محل ایک پہاڑی پہ بنا ہواہے ۔ یہ محل انقلاب سے پہلے ایک جاگیردار کا ہوا کرتا تھا۔انقلاب کے بعد وہ سرکاری تحویل میں آگیا۔ اور وہ اس لیے مشہور جگہبنی کہ ڈاکٹر لینن کو اُس کی شدید بیماری کے دنوںمیں وہاں رکھتے تھے ۔ وہاں کی گائیڈ نے مجھے ایک بھدی ،اورکم قیمت جست کی معمولی پلیٹ دکھائی۔ اورکہا کہ لینن ہمیشہ اسی پلیٹ میں کھانا کھاتا تھا۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ لینن تو دکھاوا نہیں کرتا تھا ۔ تو اتنے بڑے ملک کا سربراہ ،بھلا اس فضول پلیٹ میںکیوں کھاتا ہوگا؟۔ جواب ملا کہ ” یہ اس کی راہبری میں لائے ہوئے مزدور انقلاب کے بعد قائم ہونے والے پہلے کارخانے میں بنی ہوئی سب سے پہلی پلیٹ تھی ۔ اسی لئے لینن اُسے عزیزرکھتا تھا….“ ۔

ایسا تھا روسی انقلاب اور وہاں کی انقلابی لیڈر شپ ۔ یہ انقلاب دنیا بھر میں ہر شعبہ کے اندر ایک امتیازی مثال تھا ۔ مثلاً اِس میں ”خاتون اِول “ نام کا کوئی عہدہ نہ تھا۔ کروپسکایا ،یوں تو سربراہِ مملکت کی بیوی تھی۔ مگر وہ استقبالیہ قطاروں میں مہما نوں سے ہاتھ ملانے کبھی کھڑی نہ ہوئی ۔ وہ عوامی، انقلابی تقریبات میں لینن کی بیوی (فرسٹ لیڈی )کے بجائے انقلابی کروپسکایا کے بطور جاتی تھی ۔

 

ریفرنسز

 

1کارٹر، ایل وُڈ ۔ دی نان جیومیٹرک لینن۔2011۔ اینتھم پریس، لندن ۔ صفحہ131۔

2۔ ایضاً ۔ صفحہ133۔

3۔ جمالدینی ، عبداللہ جان ۔ شمع فروزاں ۔ سنگت اکیڈمی کوئٹہ۔ صفحہ46

4۔ مِک نیل ۔ برائیڈ آف دی ریولیوشن۔صفحہ185

5۔کلارا زیٹکن ۔Reminiscences of lenin ۔انٹرنیشنل پبلشرز، نیویارک۔1934۔ صفحہ10۔

6۔کلارا زیٹکن۔ Reminiscences ۔صفحہ11۔

7۔مِک نیل ۔ برائیڈ ۔۔۔۔ صفحہ192

8۔ پیئرسن ، میخائل ۔ دَہ سیلڈ ٹرین ۔ 1975۔ Putnam، نیویارک ۔ صفحہ20۔

9۔ کار ٹر ، ایل وڈ۔ دی ۔۔۔۔ صفحہ134۔

10۔لینن : اے پولٹیکل لائف جلد3۔ صفحہ185

11۔ولسن ۔ ٹو دِی فن لینڈ سٹیشن ۔ صفحہ450

12۔کروپسکایا۔ memoirs۔ صفحہ533

13۔ایضاً۔صفحہ533

14۔گورکی ۔ ڈیز ودِھ لینن۔ صفحہ5

15۔ ڈیوڈ شَپ ۔لینن ، اے بایوگرافی ۔ 1966پنگوئن۔ صفحہ416

16۔ لینن ۔ اشتراکی نظریات اور ثقافت ۔ 1978۔دار الاشاعت ترقی ، ماسکو ۔صفحہ 196

17۔لینن ۔ لائف اینڈ لی گے سی ۔ صفحہ 440

18۔مِک نیل ۔ برائیڈ آف ۔۔۔۔ صفحہ184

19۔ریولیوشنری وار۔ صفحہ260

20۔Weber ۔ صفحہ 169

 

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*