دل کا کیا کیجئے

 

(تئوکلی مست سے ماخوذ)

 

دل ہے

دل کا کیا کیجئے

کرتا ہے بالک ہٹ

دیوانوں سی ضد کرتا ہے

دل کا کیا کیجئے

وادی کے

سب سے اونچے

پربت کی سب سے اونچی

چوٹی اور سب سے دشوار

ڈھلانوں پر

جو پھول کھلے

وہ مانگتا ہے

بیٹوں جیسی ضد کرتا ہے

دل کا کیا کیجئے

 

دل کا کیا کیجئے

کہ دل ہے

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*