ایک چراغ گل ہوا

 

دنیا میں شاید وقت سے ظالم چیز کوئی نہیں ، جو نا کسی کو دیکھتاہے اور نا ہی کسی کی سنتا ہے۔ اور ایک سیاسی کارکن کے لیے وقت تب ظالم ہوتا ہے جب یہ کسی سیاسی رفیق کسی سیاسی لیڈر کو کو دور لے جاتا ہے۔

یوسف مستی خان اس عہد کا ایک بڑا لیڈر ، ایک توانا آواز ، ایک حقیقی جہد کار ایک مخلص اور مدبر سیاست دان رہا۔ وہ کمٹمنٹ اور جدوجہد کا دوسرا نام تھا۔ اس نے اپنی پوری زندگی عوام کے لیے صرف کی۔ جیلیوں میں رہا ، ضیاءالحق کے سیاہ دور کو جھیلا۔ وہ ڈٹا رہا۔ہر اس بلا کا مقابلہ کرنے کے لیے جو عوام پر برسنے کے لیے بے تاب تھاچاہے وہ بلا مارشل لاء کی شکل میں ہو ،کٹھ پتلی جمہوریت ہو یا پھر عوام دشمن سردار غرض ہر بلا کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

یوسف مستی خان 16 جولائی 1944 کو کراچی کے ایک کاروباری گھرانے میں پیدا ہوا، اس کا خاندان ایرانی بلوچستان سے تھا کراچی کے مشینری سکول میں تعلیم حاصل کی اور 1968 میں کراچی سے گریجوئیشن کی۔

اپنی نیشنلسٹ سیاست کا آغاز اس نے کراچی میں ۔اس بلوچ مارکسسٹ لیڈر لال بخش رند کے ساتھ کام کیا۔ وہ نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہواکرتا رہا۔ 1975 میں جب شیرباز مزاری نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی تو وہ اس کے سینٹرل کمیٹی کا ممبر، بعد میں وہاں کا صدر منتخب ہوا۔ اس نے 1983 میں پاکستان نیشنل پارٹی میں شمولیٹ اختیار کی اور سینٹرل کمیٹی کا ممبر بنا۔وہ بابا بزنجو کا شاگرد رہا ان سے سیکھتا رہا اور آخری دم تک بزنجو ازم پر ہی قائم رہے۔ بابا بزنجو کے بعداس نے نیشنل ورکرز پارٹی بنائی ۔

وہ دیگر پارٹیوں کے ساتھ بھی انضمام کرتا رہا۔ اس نے ہر فورم پر بلوچ قوم، خواتین کے حقوق، طلباء، سندھ کی اقلیتوں اور مسنگ پرسنز کے لیے آواز بلند کی۔ وہ گوادر میں حق دو تحریک میں لوگوں کے ساتھ جڑ گیا ۔جس کی پاداش میں اسے دسمبر 2021 میں گرفتار کیا گیا پھر عوامی پریشر کی وجہ سے رہا ہوگیا ۔وہ ہمہ وقت تیار رہتا۔ بیماری کے باوجود جہاں تک ہوسکتا وہ بلوچ قوم کے لیے ہر پلیٹ فارم پر حاضر ہوتا اور اپنی جان دار آواز سے ظالم حکمرانوں کو للکارتا ۔ وہ انتہائی شفیق اور مخلص انسان تھا۔ تمام معاملات سے باخبر رہتا اور ایک واضح موقف کے ساتھ آگے بڑھتا۔

اس نے نہ دولت بنائی ، نہ سرکاری آسائشیں لیں۔ اس عظیم انسان کی توجہ تو نظریے اور کمٹمنٹ پر ٹکی رہی۔ وہ ایک لمحہ ڈگمگائے بنا اپنے کاز کے ساتھ وفادار رہا۔

خواتین کے معاملے پر یوسف مستی خان واضح موقف رکھتا تھا ۔ وہ سماج کی بڑھوتری کے لیے خواتین کی سیاست میں شمولیت کا بڑا حامی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ سماج عورت تحریک کے بنا ادھورا ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ بلوچستان کی عورتیں سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

ہمارے اس سیاسی لیڈر کو جگر کے کینسر کی بیماری لاحق ہوئی۔ وہ اس بیماری سے ہارے نہیں ڈٹے رہے اور آخری دم تک غریب عوام کے لیے اپنی کوشش جاری رکھی۔ 29 ستمبر 2022 کو 78 سال کی عمر میں کراچی میں یہ چراغ گل ہوا اور ہم سب کو سوگوار کر گیا۔ بلاشبہ یوسف مستی خان کا پیدا شدہ خلا پر نہیں کیا جاسکتا پھر بھی ہم عہد کرتے ہیں کہ ان کے اس کارواں کو آگے لے کر چلنے کی ذمہ داری ہم لیتے ہیں جو بلاشبہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*