قلم بھی دھڑکتا ہے 

 

کبھی کبھی کچھ پڑھتے ہوئے نظر کا سفر اچانک رُک جا تا ہے ۔کوئی بات ، کوئی لفظ یا کوئی جملہ ایسا آجا تا ہے کہ دوبارہ پڑھنے اور ذہن کے کسی کونے میں محفوظ کر لینے کو جی چاہتا ہے ۔میری کتابوں میں جگہ جگہ نشان لگے ہوئے ہیں ،یہ وہ مقامات ہیں جہاں میںنے کسی کے قلم کو جھک کر آداب کیا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ کاغذوں پر بکھرے ہوئے جواہرات کثرت سے مل جاتے تھے مگر اب وقت بدل گیا ہے ،ہم جس دور میں زندہ ہیں اُ س میں لکھا تو بہت جا رہا ہے، ہر طرف نئی کتابوں کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں مگر کوئی نئی بات نہ نظم میں ملتی ہے اورنہ نثر میں ۔ شاید اُس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ ہم سب بہت جلدی میں ہیں، ہمارے پاس سوچنے بلکہ خواب دیکھنے کا وقت بھی نہیں ہے ۔ اِس ماحول میں کوئی اچھا شعر سنائی دے جائے ،کوئی کہانی دل کو چُھو لے یا کوئی مضمون کچھ سوچنے پر آمادہ کردے تو حیرت ہونے لگتی ہے ۔ میرے پرانے کانوں کو ایسی آوازیں کم سنائی دیتی ہیں جس میں حسن ہو ، ندرت ہو اور اپنا ایک تیور ہو ۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ادب کے میدان میں کوئی قابل ذکر کام ہو ہی نہیں رہا ہے ،اب بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنے فن کی دیانت پر بات نہیں آنے دیتے ،اِس دور کے اُن چند لوگوں میں سے جنھوں نے مجھے چونکا یا ہے ایک نام فاطمہ حسن کا بھی ہے ۔!

فاطمہ بنیادی طور پر شاعرہ ہیں۔ اُ ن کی شاعری ایک ترقی پسند عورت کی شاعری ہے، جس کو معلوم ہے کہ اس کے حقوق کیا ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ اُن حقوق کو حاصل کرنے کے لیے ایک لمبی جنگ لڑنی ہے ،جو روایتوں کے سامنے سر جھکا نے کے لیے تیار نہیں ہیں ، جوبآواز بلند کہتی ہے کہ اس کودیکھنا ہے تو زلف و رخسار میں نہ دیکھیں بلکہ اس کی دانش اور افکار میں تلاش کریں ۔ فاطمہ حسن کی شاعری کا اپنا لہجہ ہے اگر چہ وہ اُسی ماحول کی پر وردہ ہیں جس نے فہمیدہ ریاض ،کشور ناہید اور پروین شاکر کو جنم دیا، پھر بھی اُ ن کے اظہار میں اُ ن کا اپنا تیور ہے ۔

فاطمہ ایک اچھی کہانی کار بھی ہیں۔ میں نے اب تک ان کی جتنی بھی کہانیاں پڑھی ہیں اُ ن میں زندگی کی رنگا رنگی اور تہہ داری کا شدید احساس ملتا ہے ۔اُ ن کی کہانیوں کی اپنی جما لیاتی فَضا ہے جو رومانیت نہیں ہے اور نہ ہی روکھی پھیکی بد مزہ حقیقت نگاری ہے ۔اُ ن کی کہانیوں کے موضوعات ایسے واقعات ہیں جو ہمارے آس پاس دن رات ہو تے رہتے ہیں مگرہم ان پر کوئی توجہ نہیں دیتے کیونکہ توجہ دینے کے لیے جس حسّاس ذہن کی ضرورت ہو تی ہے وہ ہر ایک کے پاس نہیں ہوتا ۔ فاطمہ حسن معمولی باتوں میں سے بھی غیر معمولی پہلو ڈھونڈ لیتی ہیں اور اِسی لیے اُ ن کے کردار بھی غیر معمولی معلوم ہونے لگتے ہیں ۔ فاطمہ کو لفظوں کو استعمال کرنے کا سلیقہ ہے اُس کے باوجود وہ اچھے اچھے لفظوں سے مینا کاری نہیں کرتی ہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت پیدا کر دیتی ہیں جو لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ پڑھتے پڑھتے رُک کر دوبارہ پڑھنے کو جی چاہے اور تحریر کی تعریف کی جائے ۔ اُن کی ایک خوبی اور بھی ہے کہ وہ جو کچھ بھی لکھتی ہیں اُس میں کوئی لگی لپٹی نہیں رکھتیں شاید اُس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں اپنے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں ہے اور نہ غلظ فہمی ۔وہ سچ کو سچ کی طرح بولنے کی ہمّت رکھتی ہیں اور یہ کمال ان کی نظم اور نثر دونوں جگہ نظر آ تا ہے ۔

اُ ن کی نثر نگاری کے ایک اور پہلو کا ذکر نہ کیاجائے تو بات ادھوری رہ جائے گی ۔منیر نیازی ، محبوب خزاں ،انور شعور اور دیگر افراد پر انھوں نے جو مضامین لکھے ہیں اگر چہ وہ اُ ن کو خاکہ نہیں کہتی ہیں مگر اُ ن میں ایک اچھے خاکے کی ساری خوبیاں موجود ہیں۔ خاص طور سے منیر نیازی کا خاکہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ فاطمہ نے اپنے رواں دواں انداز میں ایک ایسی تصویر بنائی ہے جس میں نیازی صاحب کی پوری شخصیت دکھائی دیتی ہے لیکن اِ س خاکے کی سب سے بڑی خوبی منیز نیازی کے لیے فاطمہ کا احترام اور ہمدردی ہے جس کے لیے انھوںنے ایسے الفاظ کا سہارا نہیں لیا ہے جو جذبات کے اظہار کے لیے عام طور پر استعمال کیے جاتے ہیں بلکہ بین السطور میں ایک ایسی کیفیت پیدا کی ہے جس کی مثال اُس درد سے دی جا سکتی ہے جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے بیان نہیں کیا جا سکتا ۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ لوگ اُس وقت نہیں مرتے جب ان کی سانس رُ ک جاتی ہے ،انسان کی موت تب ہوتی ہے جب اُسے یاد کرنے والا کو ئی نہ ہو ۔ فاطمہ کا احسان ہے کہ انھوںنے جن لوگوں پر بھی قلم اٹھا یا ہے ان کی زندگی طویل کر دی ہے ۔

جناب شاہد احمد دہلوی نے لکھا تھا

”ہمیں جو امانت ملی ہے اُ س کو بنا سنوار کر آنے والی نسل کے لیے چھوڑ جائیں !“

اُ ن کا اشارہ اردو زبان اور اُس تہذیب کی طرف تھا جسے گنگا جمنی کہا جا تا ہے۔مجھے یقین ہوچلا ہے کہ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے جیسے ہی شاہد صاحب کی نصیحت پڑھی ہو گی ،اُسی وقت اپنے پلّو میں باندھ لی ہو گی اور اُس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہوگا کیونکہ میںنے اب تک فاطمہ حسن کو جتنا بھی پڑھا ہے اُس میں اپنی زبان اور اپنی تہذیب سے محبت کسی عقیدے کی طرح نظر آ تی ہے ۔اس کی ایک بے حد خوبصورت مثال ہے” آدھا گاو¿ں میںمحّرم“بظاہر یہ ایک رپورتاز ہے مگر حقیقت میں ایک تہذیب کی تصویر ہے جو اِس Digital Cultureکے زمانے میں بھی گنگا کنارے ایک چھوٹے سے گاو¿ں میں زندہ ہے ۔ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد میں بہت دیر تک آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا اور خود سے سوال کرتا رہا کہ یہ کس دیس کی کہانی ہے جہاں محّرم کی مجلس میں ایک ہندو لڑکا راجو پانڈے مرثیے سناتا ہے اور جہاں تعزیوں کے جلوس کے آگے آگے سنّی مسجد کے امام الوداعی نوحہ پڑھتے ہو ئے چلتے ہیں ۔ کہاں ہے ہندو اور مسلمانوں کی نفرت اور شیعہ سنّی کی دشمنی، کہاں ہے وہ کشیدگی جس کی خبروں سے اخباروں کے کا لم بھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔

ایک وقت آئے گا جب اس مضمون کو ایک کہانی کی طرح پڑھا جائے گا اور بچّے حیرت سے پوچھیں گے کیا سچ مچ کبھی کوئی ایسی تہذیب تھی ؟ہم جیسے لوگ جس تہذیب کو بچا کر رکھنا چاہتے ہیں اور بنا سنوار کر آنے والی نسل کے حوالے کرنے کا خواب رکھتے ہیں کیا ہمیں معلوم ہے کہ ہماری تہذیب کہرے میں جلتی موم بتّی بن چکی ہے ،کہرا کم نہیں ہو سکتا اور موم بتّی کی روشنی بڑھائی نہیں جا سکتی ۔ پھر بھی ہمیں کوشش کرنی ہے اور تھکنا نہیں ہے کیونکہ ہم اپنی روایتی تہذیب کی آخری صف میں کھڑے ہیں اور ہمارے پیچھے کوئی نہیں ہے سوائے اُن چند حوالوں کے جنھیں تاریخ کہا جائے گا ۔

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*