مردے  کی  بو

 

ان کے دن کئی دنوں سے یکساں تھے اور راتیں ایک سی۔ وہ سب صبح خاص وقت پر خاص انداز سے اٹھتے . جلدی جلدی ناشتہ کرتے . رکشہ ، موٹر ، بس ، ٹرک ، موٹر سائیکل ، آدمی . بچوں اور کتوں کے شور میں شہر کی طرف دوڑتے . جیسے انہیں پکارا گیا ہو ۔ ہر صبح جانے والوں میں سے کوئی ایک کم ہو جاتا . گھر والے دروازہ کھلارکھ کر انتظار کرتے . مگر جانے دروازہ کھلا رکھنے سے بھی نہیں آتا . گھر کے لوگ روتے ، پیٹتے ، چیختے ، چلاتے ۔ مگر جانے والا کبھی بھی نہیں آتا .

سورج بہت دنوں سے اداس تھا ۔ اس کی کرنیں زمین پر اداسی ، یکسانیت ، مایوسی ، بے یقینی اور بے اعتباری پھیلاتیں. لوگ منہ لٹکائے ہوئے اپنے آپ سے بیزار ، اکتائے ہوئے ، جیسے کمزور کتے کی تھوتھنی لٹکتی رہتی ہے ۔ شہر کی آواز پر ایک ہی سمت دوڑتے اور شام کو واپسی پر کوئی اپنے گھر کا راستہ بھول جاتا . گھر کے لوگ انتظار کرتے ، روتے پیٹتے ، چیختے چلاتے ………….مگر جانے والانہیں آتا .

ایسا شروع سے ہوتا رہا ہے اس لئے اس پر حیرت کی بات نہیں تھی ۔ لیکن اب بچے بھی غائب ہونے لگے تھے ۔کندھوں پر بستہ لٹکائے پھول جیسے گول مٹول بچے ،فائل ہاتھوں میں تھامے بسوں کے پیچھے دوڑنے والے نوجوان ، چشمہ ناک کے آخری سرے پر لٹکائے ، گہری سوچوں میں گم ہو نہار طالب علم ، سوچنے والے ، انٹیلیکچوئل سب غائب ہونے لگے تھے .

مائیں بچوں کو درس گاہوں میں بھیجنے سے کتراتیں ، باپ خوف میں مبتلا رہتے اور بچے بے یقینی میں ۔ اس بے یقینی کو لے کر وہ صبح گھر سے نکلتے اور شام کو واپس نہیں آتے ۔مائیں روتیں ۔سینے میں سناٹا پھیل جاتا تو وہ ایک دوسرے کی حال پرسی کرتیں اور دلاسے دیتیں ۔

” سنا ہے ہمارے بچے جادوگر کی قید میں ہیں .یہاں سے دور سات سمندر پار بڑی بڑی فصیلوں والا قلعہ ہے . اس نے بچوں کو وہیں قید کر رکھا ہے . ”

” سنا ہے کوئی شہزادہ ان کو چھڑانے کے لئے آ رہا ہے ”

سب سے پرانی بوڑھی جس کے چہرے کی جھریوں میں صدیوں کے تجربات جھلک رہے ہیں زور سے ہنستی ہے . یہاں تک کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں .

” اب شہزادوں کا دور کہاں ؟ ۔اگر شہزادے ہیں بھی تو حرم سراو¿ں میں ۔ ان کی تلواریں نیام میں رہتے رہتے زنگ آلود ہو چکی ہیں ۔اب وہ حرم میں بیٹھ کر اپنی بہادری اور جرات کے قصے درباری قلم کاروں سے لکھواتے اور چھپواتے ہیں ۔ اب ان کی بہادری کا معیار ان کی زبان ہے تلوار نہیں ۔تم کس شہزادے کا ذکر کر رہی ہو . وہ شہزادہ تو کب کا مر گیا جو دور دیس کی شہزادی کو قید سے چھڑانے کے لئے سمندروں ، پہاڑوں ، دریاو¿ں ، جنگلوں اور صحراو¿ں کا سفر کرتا ۔دیو ، بلا ، جن ، غول بیابانی ،چڑیل ، پچھل پائیوں اور جادوگروں سے لڑتا ، اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر .اور اسے چھڑا لے جاتا ۔ وہ دن دوسرے تھے . اب دن دوسرے ہیں ۔ایک جیسے ، ایک ہی طرح کے ۔پہلے دن اس طرح نہیں تھے بیزار ، اکتائے ہوئے . بے یقینی کے دھول میں لپٹے ہوئے “۔

پھر ان سب میں ایک عجیب سا یقین پیدا ہو جاتا ۔ وہ سب ایک دوسرے کو دلاسے دیتیں کہ ان کے بچے خود اس قلعہ کے اندر ایک سرنگ کھودیں گے جو کھلی اور آزاد فضاو¿ں میں جا نکلے گا ۔ ان کی گفتگو ہمیشہ امید اور یقین کے اسی مرکز پہ آکر ختم ہو جاتی تھی اور دن کی یکسانیت پھر ان کو اپنی بانہوں میں جکڑ لیتی ۔

ایک صبح وہ اٹھے ۔یہ صبح بھی سب صبحوں کی طرح ایک صبح تھی ۔ لیکن اس صبح کی خاص بات شہر کے چوراہے پر فضا میں معلق تصویر تھی ۔ عجیب سی تصویر تھی وہ ۔اس میں کوئی خاص شکل خاص منظر نہیں تھا ۔ لیکن وہ سب کی تصویر تھی ہر چیز کی ۔ لوگ اس تصویر کو دیکھ کر کبھی ہراساں اور کبھی مشتعل ہوتے ۔یہ تصویر سب کو اپنی اپنی سوچ اور آنکھوں کے مطابق نظر آتی تھی ۔

” یہ سرخ ، خون آلود آسمان کی تصویر ہے . ہم پر کوئی عذاب ٹوٹنے واال ہے .”

ایک بہت بڑے رہنما نے کہا اور بہت سے لوگوں نے اس کی تائید کی۔ پھر وہ گلاپھاڑ پھاڑ کر آنے والی مصیبت کا جوان مردی سے مقابلہ کرنے کی تلقین کرنے لگا ۔اور سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا کہ اگر وہ سب اس کے پیچھے چلنے کو تیار ہوںتو انہیں آنے والی مصیبت سے بچا لے گا ۔ اس کا مخالف کچھ لوگوں کے درمیان کھڑا منہ بنا بنا کر بتا رہا تھا کہ وہ بکواس کر رہا ہے ۔جھوٹ بول رہا ہے ۔ اس کے اپنے مفادات ہیں . اسے صرف اقتدار کی فکر ہے ۔ ورنہ اسے قوم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے .

” نہیں ………یہ ایک بچے اور عورت کی تصویر ہے۔ جن کے سروں پر گدھ منڈلا رہے ہیں ۔ ہمارے بچوں اور عورتوں پر کوئی قیامت ٹوٹنے والی ہے ۔ خدا ہمارا امتحان لینا چاہتا ہے ” ۔

مسجد کے مولوی نے اختلاف کرتے ہوئے کہا. جو ہر جمعہ کے خطبہ میں سچ بولنے ،خیرات دینے اور دوسروں پر رحم کرنے کی تلقین کرتا تھا ۔ مگر خود اس کی بیوی اور بچے اس کے آزار میں تھے . اس کا پیٹ پھولا ہوا تھا . اور اس کی پیاس کبھی نہیں بجھتی تھی .اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں میں سے ایک گروہ نے مولوی کی بات پر لبیک کہا .

” نہیں ۔ یہ اس خواب کے اُس حصے کی تصویر ہے جو ملک ریان نے دیکھا تھا . اور جس کی تعبیر حضرت یوسف نے بتائی تھی .”

” ملک ریان نے خواب میں کیا دیکھا ” ہجوم کے ایک حصے سے بیک وقت آواز آئی .

” ملک ریان نے خواب میں دیکھا کہ سات موٹی تازی گائیں جن کو سات دبلی پتلی گائیں آ کر کھا گئیں. مگر یہاں صرف دبلی پتلی گائیں اور سوکھی بالیوں کی تصویر ہے . نہ موٹی تازی گائیں ہیں اور نہ ہری تازی بالیاں "۔

یہ سن کر جنہوں نے ملک ریان کے خوا ِب کے بارے میں پوچھا تھا ، ان پر دہشت طاری ہو گئی۔ مگر ایک گروہ چلانے لگا کہ کفر بکتا ہے ۔ لیکن خواب کے بارے میں بتانے والااپنی بات پر قائم رہا اور باقی لوگوں نے خوف کے مارے تعبیر نہیں پوچھی ۔ اس نیم پاگل شخص نے ، جو ہمیشہ خاموش رہتا تھا ، آہستہ سے سر اٹھا کر اوپر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا. اس کی پلکیں بھیگی ہوئی تھیں .

” یہ ایک لڑکی کی تصویر ہے . نوجوان برہنہ لڑکی کی . جو ہماری بیٹیوں کی شکل بدلتی ہے .”

کچھ لوگوں نے اپنی بیٹیوں کو برہنہ دیکھ کر شرم سے گردنیں جھکا دیں ۔کچھ اپنے ہونٹ چبانے اور گالیاں بکنے لگے۔ انہیں تصویر بنانے والے کا علم نہیں تھا اس لئے وہ قتل کی خواہش کے باوجود کسی کو قتل نہیں کر سکے۔ اور ان کو لڑکیاں یاد آ گئیں جو برہنہ کی گئیں .

” ہمیں عذاب میں مبتلا کر دیا گیا ہے . یہ جلتے سورج کی تصویر ہے .”

شہر کے سب سے بڑے دانشور نے کہا .

یہ تصویر سب سے پہلے اس فقیر نے دیکھی جو شہر کے مین چوراہے پر بھیک مانگا کر تا تھا۔ لوگ تصویر دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے تھے ۔ ان کا کھانا پینا چھوٹ گیا تھا۔ ان کی نیندیں حرام ہو گئی تھیں۔ وہ ایک دوسرے سے پوچھتے کہ اب کیا ہو گا؟۔ مگر اس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا . وہ نیاز بانٹتے . نذرانے دیتے . صدقہ و خیرات کرتے . دعائیں مانگتے .آدھی آدھی رات کو اٹھ اٹھ کر گڑ گڑا کے توبہ کرتے .مگر یہ آگ جو ساری بستی میں پھیل چکی تھی . بجھی نہیں . بلکہ قطرہ قطرہ ان کے وجود کو جھلسا کر پگھلانے لگی تھی .سب کو اپنی ہی فکر تھی.

ان کی ریاکاری ، اپنی ذات اور اپنے مفادات سے محبت نے انہیں یہ دن دکھایا تھا ۔ انہوں نے ہمیشہ جھوٹ کہا اور پوری زندگی جھوٹ میں گزار دی . وہ سچ سے بھاگتے اور حق کا منہ چڑاتے رہے ۔ وہ اب یہ یاد کرنا نہیں چاہتے تھے کہ انہوں نے کتنے لوگوں کتنے نوجوانوں کو محض اس جرم میں قتل کر دیا کہ وہ سچ کی تلاش میں ہیں .

انہیں ہر چیز کا خوف تھا اور سب سے زیادہ وہ مرنے سے خوف زدہ تھے ۔وہ اپنی گردنوں میں دھنسے ہوئے پنجے کو محض اس لئے ہٹا نہیں سکے کہ یہ پنجہ ان کی جان نہ لے لے ۔ حالانکہ وہ پنجہ کمزور سا تھا مگر مرنے کے خوف نے انہیں موت سے پہلے مار دیا تھا ۔ ان کے لئے یہ عذاب تھا کہ ان کے پسینے سے مردے کی بو آنے لگی تھی ۔ ایسی بو جو کبھی حزقیل کی قوم کے بدن سے آتی تھی ۔

یہ حکایت انہیں اس بوڑھے نے سنائی تھی جس نے دنیا دیکھی ہوئی تھی ۔ جو ہوا اور آسمان کو دیکھ کر انہیں بتا دیا کرتا تھا کہ اب کیا ہونے والاہے ۔ مگر اس بار وہ بھی چپ تھا . لوگ اس سے پوچھتے کہ اب کیا ہوگا . ؟

جواب میں اس کی آنکھوں میں ایک خلا چیخنے لگتا ۔ وہ انہیں ہمیشہ دل خوش کن اور مسرور کر دینے والی کہانیاں سنایا کر تا تھا ۔مگر اُس روز پتہ نہیں کیا بات تھی بوڑھے کی آنکھیں سرخ شفق جیسی ہو گئی تھیں ۔ اور اس کی آواز کسی صدیوں پرانے کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔اس روز جب بوڑھے نے یہ حکایت سنائی نہ ہمیشہ کی طرح بارش ہوئی اور نہ ہی ٹھنڈی ہوائیں چلیں ۔ بلکہ ایک حبس ان کے دل میں ، آنکھوں میں ، سروں پر ،مکانوں ، دریچوں اور روزنوں میں، ان کے سارے وجود میں پھیل گیا تھا ۔

بوڑھا انہیں بتا رہا تھا کہ حزقیل نے ایک دن بنی اسرائیل کو خدا کی طرف سے جہاد پر جانے کا حکم دیا ۔انہوں نے مرنے کے خوف سے جہاد پر جانے سے انکار کر دیا ۔ بے شک ، مردوں کے لئے مرنے سے بڑا کوئی خوف نہیں ہے ۔ ان پر اللہ تعالی کا غضب نازل ہوا اور ان میں طاعون کی وبا پھیل گئی ۔ بہت سے آدمی مر گئے اور بہت سے مرنے کے خوف کی وجہ سے بھاگ نکلے ۔ جب ایک کوس پر گئے تو ایسی دہشت ناک آواز آئی کہ سب مر گئے ۔ مگر مردوں کی کثرت کے سبب ان کو شہر میں لا کر دفن نہ کر سکے . اس لئے ان کے چاروں طرف ایک دیوار کھینچ دی گئی ۔ بالکل ویسی ہی دیوار جو ہمارے گرد کھینچ دی گئی ہے ۔ اور سب مُردوں کو وہاں رکھ دیا گیا ۔ آفتاب کی گرمی سے سارے مردے سڑ گئے . حزقیل نے سات روز کے اعتکاف سے نکل کر شہر سے باہر جاکر دیکھا تو ان سب کی بس ہڈیاں رہ گئی تھیں گوشت پوست گل گیا تھا۔ جیسے ہم گل گئے ہیں ۔ حزقیل کے دل میں رحم آیا . اس نے خداوند تعالی سے عرض کی .

” الہی تو نے میری قوم کو بلاک کیا . تو پھر ان کو زندہ کر .” مگر ہمارے لیے کوئی دعا مانگنے والا نہیں ہے ۔

ندا آئی . ” اے حزقیل یہ سب مرنے کے ڈر سے شہر سے نکل بھا گے تھے ۔ اور میری قبضہ قدرت کا خیال نہیں کیا ۔ اس لیے میں نے ان کو ہلاک کیا “ پھر خدا نے انہیں زندہ کیا ۔ لیکن ان میں اکثر ناشکرے تھے ۔ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرتے ۔پھر جب یہ لوگ شہر میں آئے ۔ کہتے ہیں ان سب کے بدن سے اور ان کی نسل کے بدن سے جب پسینہ نکلتا تو مُردے کی بو آتی تھی ۔

یہ حکایت سن کر سب پریشان ہو جاتے ہیں ۔مگر اپنا بدن نہیں سونگھتے ۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر کہتے ۔ ہم تو کبھی بھی نہیں بھا گے اور نہ ہی ہم نے جہاد سے انکار کیا ۔

” اور وہ جو ہمارے بچوں کو اٹھا کر لے گئے ہیں . ” ایک عورت سوال کرتی ہے .

” جہاد دوسروں کے خلاف ہوتا ہے . جو ہمارے بچوں کو اٹھا کر لے گئے ہیں وہ ہمارے اپنے ہیں ۔ پھر ہم جنگ کے کب انکاری تھے ۔ ہم تو ہمیشہ لڑتے رہے ہیں . دوسروں سے ، دوستوں سے ، پڑوسی سے ، اپنی ذات سے . بس لڑتے رہے ہیں . ”

” پھر یہ عذاب کیسا ہے ۔کہیں یہ اس خون کی بو تو نہیں ہے جو ہم ہر روز بہاتے ہیں اپنی روزانہ کی زندگی اور معمولات میں ” ۔

ایک بوجھل اور متوحش آواز ان کے سروں سے ہوتی دلوں میں پھیل جاتی .

انہوں نے دیکھا ان کے بچے شاہ دولہ کے چو ہے بنتے جا رہے ہیں ۔ چھوٹا سا سر ، چھوٹی سی گردن ، منحنی سا وجود ۔ اپنے بچوں کی یہ حالت دیکھ کر وہ دہشت زدہ ہو گئے۔ شہر کا دانشور یہ جان گیا تھا کہ ان کے پسینے سے مُردے کی بو آتی ہے ۔ مگر وہ یہ کسی کو بتا نہ سکا کہ جھوٹ اور مصلحت نے اسے بزدل بنا کر اس کی زبان پر پھپھوندی لگا دی تھی۔

انہیں یاد آیا وہ سفر میں تھے ۔ وقت شاید رات کا تھا یا دن کا ۔یہ کسی کو بھی صحیح یاد نہیں ہے کہ ان کا حافظہ یاد اور تاریخ سے خالی ہے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کی منزل زیادہ دور نہیں ہے ۔مگر راستے میں بڑی بڑی فصیلیں تھیں ۔ وہ آگے بڑھتے مگر فصیلیں انہیں روک دیتیں ۔ ان میں جوش پیدا ہوتا . وہ آگے بڑھتے مگر راستہ نہیں ملتا ۔ وہ پھر الٹے قدموں چلنا شروع کر دیتے ۔ اور وہیں پہنچ جاتے جہاں سے انہوں نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا ۔ وہ تھک کر بیٹھ جاتے ۔ پھر ان کی آوازیں آپس میں الجھنے لگتیں ۔

” آگے جانے کا کیا فائدہ جب نتیجے میں پیچھے ہی رہنا ہے . ”

” ہاں واقعی . ”

” نہیں . ہمیں آگے بڑھنا چاہئے ۔ ہم کب تک اس حصار میں رہیں گے . آخر ایک نہ ایک دن تو اس حد سے نکل ہی جائیں گے ” ۔

” آگے کا راستہ بھی تو نہیں معلوم "۔

” آدمی چلے تو سہی منزل خود ہی پا لیتا ہے ” ۔

” صحیح راستے پر سفر نہ ہو تو آدمی بھٹکتا رہتا ہے ” ۔

” تم بزدل ہو ” ۔

” تم خود فریبی میں مبتلاہو ” ۔

” تم اوپر والوں کے پٹھو ہو ۔ دالال ہو . تمہیں پیسے ملتے ہیں ” ۔

” تم خود بیوقوف ہو ۔ اپنے احمقانہ اعمال کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالتے ہو ” ۔

آوازیں بڑھتی چلی جاتی ہیں معانی ختم ہو جاتے ہیں ۔ صرف شور باقی رہ جاتا ہے ۔ پہلے الفاظ جھگڑتے ہیں ۔ آوازیں الجھتی ہیں ۔ پھر ہاتھ بلند ہوتے ہیں ۔ گریبان پھاڑ دیے جاتے ہیں ۔ چھری ، چاقو ، لکڑی ، پتھر حرکت میں آتے ہیں ۔خون ابلنا شروع ہو جاتا ہے ۔ جیسے اچانک دریا کا بند ٹوٹ جائے ۔ ہر طرف خون ہی خون نظر آتا ہے ۔ خون کی لذت ، خوں کا نشہ بڑی خراب شے ہے ۔ اپنے پرائے اچھے برے کی تمیز مٹا دیتا ہے .

ایک شور ایک ہنگامہ ہر سو بازو پھیلادیتا ہے ۔ جب شورتھم جا تا ہے تو ایک مہیب سناٹا ہر شے پر محیط ہو جاتا ہے ۔ جس طرح سیلاب ہر شے کو بہا کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے ۔ اور اس کے بعد صرف اس کے نشانات باقی رہ جاتے ہیں ۔ اس طرح اس قیامت کے بعد اس کی تباہی کے آثار باقی رہ جاتے ہیں . جو درس عبرت دیتے ہیں .

پھر سب سے دانا آدمی کہتا ہے . ” ہم نے اچھا نہیں کیا ۔ ہم کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ” ۔

” ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ” کا پچھتاوا ازل سے ان کی تقدیر میں لکھ دیا گیا تھا ۔ اور یہی ان کا مقدر تھا ۔ان کو خود بھی پتہ نہیں تھا وہ کیا کر رہے ہیں ۔ وہ کس کے جادو کے اثر میں ہیں ۔ وہ نہیں جانتے ہیں ۔ بس وہ ہر طوفان کے بعد یہی کہتے ہیں ” ہم نے اچھا نہیں کیا . ہم کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا "۔ ان کے بچے بڑی بڑی فصیلوں کے اس پار قلعہ کے اندر سے انہیں پکارتے ہیں کہ اس مرگ آمیز ہوا میں ہمارا دم گھٹ رہا ہے ۔ ہمارا وجود منحنی ہوتا جا رہا ہے ۔ ہمیں باہر نکالو . لیکن انہیں یہ آوازیں سنائی نہیں دیتیں ۔ اور نہ ہی وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پسینے سے مُردے کی بو آتی ہے۔

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*