دنیا کہاں جا رہی ہے؟ 

 

جب ایٹمی طاقتیں زیست کا استعارہ بنیں تو سمجھ لو کہ دنیا کہاں جا رہی ہے !

اپنی مٹھی میں تم پھول لے کر

جہاں کو بچانے چلے ہو

یہی سوچ کر

حسن دنیا کو آخر بچا لے گا۔۔۔۔۔۔۔

لیکن ایک الجھن ہے

کیا حسن اب بھی ؟

ایسا لگتا ہے

کہ آسماں کی یہ تاروں بھری رات

اب دوسری ہی زمیں کے لیے ہے

ہمارا مقدر فقط تیرگی ہے۔۔۔۔

خلقت بےنوا

ایک اندوہ میں مبتلا

خوف و مایوسی کے بند کوچوں میں سہمی ہوئی غم کی ماری ہوئی

بھوک و افلاس کی گود پالی ہوئی

ان کی حسرت زدہ زرد آنکھوں میں

صبح امید کے

خواب کی کرچیاں ڈھیر ہیں

ان کے سر پر کھڑی آتشیں موت ہے

موت انبوہ کی

موت انسان کی

ہم کو بے معنی لا حاصل جنگوں نے

جو کچھ دیا ہے

اسے دیکھ کے خوف آتا ہے

کیا امن اور حسن دھوکہ

کہیں واہمہ تو نہیں ہیں ؟

مگر زندگی اتنی بے دست و پا تو نہیں ہے کہ وہ موت سے آخری جنگ بھی

ہار جائے

حیات و نمو

جب تک امکاں میں ہیں

زندگی ہے

بقا ہے

ہمیں پھول درکار ہیں

استخواں اور قبروں کی خاطر نہیں

مسکراتی جواں لڑکیوں کے لئے بھولے بچوں کی بھولی ہنسی کے لئے زندگی کے لئے

اک نئی زندگی کے لئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*