فاختہ کے پنجے

 

ہسپتال کے کمرے کی ہلکی دودھیا روشنی میں اس کے چہرے کا رنگ اس گھاس کی طرح لگ رہا تھا جسے مہینوں سے پانی نہ ملا ہو،بے رونق ،زردی مائل ،سبز!۔

وہ سو رہی تھی اس لیے میں آہستہ سے آگے بڑھا اور بیڈ کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا ۔ آہٹ سن کر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ ان آنکھوں میں جہاں کبھی بلب جلتے تھے بڑی تھکان تھی ،جیسے کئی دنوں کی نیند جمع ہو گئی ہو۔ وہ مسکرائی ،لمبی لمبی پلکیں کئی بار جھپکائیں اور کمبل کے اندر سے ہاتھ باہر نکال لیا ۔میںنے اس کی انگلیوں کو اپنی مٹھی میں سمیٹ لیا ۔

”مجھے معلوم تھا تم ضرور آئو گے!“اس نے کہا

میںنے منہ بگاڑا ۔”بڑا پرانا پٹا ہوا فلمی ڈائلاگ ہے ،تمہارے اوپر بالکل فٹ نہیں ہو رہا ہے !“

وہ ہنسی ۔تھوڑی دیر کے لیے بہت تھوڑی سی دیر کے لیے اس کی آنکھوں میں بلب بھی جلے اور چہرے کی زردی بھی کم ہوگئی ۔ وہ دیر تک مجھے دیکھتی رہی پھر پوچھا

”تم ڈاکٹر سے مل کر آرہے ہو نا ؟“

”تمہیں کیسے معلوم کہ میں ڈاکٹر سے مل کر آرہا ہوں ؟“

”اگر نہیں ملتے تو آتے ہی پوچھتے ۔کیسی ہو ۔کیاکیا روگ لگا رکھے ہیں ۔ڈاکٹر کیا کہتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔“

میں ہنسا ۔

”اس کا مطلب ہے تمہاری کھوپڑی اب بھی چل رہی ہے !“

”بہت دیر سے رُکی ہوئی تھی تمہیں دیکھ کے چلنے لگی !“۔ پھر اچانک پوچھا ”کیا کہا ڈاکٹر نے کتنا ٹائم ہے میرے پاس ؟“

میں نے اس کے ہاتھ کو جوشاید بخار کی وجہ سے گرم ہو رہا تھا دھیرے سے سہلایا اور کہا

”Don’t worry۔تم جلدی مرنے والی نہیں ہو !“

اس نے سر ہلایا

”لیور سڑ گیا ہے یار ۔باقی پارٹ پرزے بھیCo-operateنہیں کر رہے ہیں !“

”میں نے تو پہلے ہی کہا تھا وسکی کم پیا کر !“

وہ مسکرائی ۔ حالانکہ بہت بجھی ہوئی تھی مگر تھی تو مسکراہٹ ہی اوربولی :

”وسکی بے چاری نے کچھ نہیں کیا ۔یہ سب گولیوں کا Reactionہے !“

”کون سی گولیاں ؟ “ میں نے پوچھا

”Drugs…“ اس نے کہا” کبھی ٹائم ملے تو Try کرنا One tab, and you are in the clouds…!“

میں نے سر ہلایا ”No. thank you…“

”ڈرپوک! “اس نے کہا اور زور سے ہنسی۔

میں حیرت سے اُس لڑکی کو دیکھ رہاتھا جو موت کی چوکھٹ پر کھڑی تھی اور ہنس ہنس کر اپنی تباہی کا قصّہ سنا رہی تھی ۔

مگر وہ تھی ہی ایسی!

راجندر سونی بڑا پروڈیوسر تھا اس لیے یہ اندازہ تو تھا کہ اس کا گھر بھی کافی بڑا ہوگا ۔مگر اتنا بڑا ہوگا یہ نہیں سوچا تھا اور اتنا خوبصورت ہوگا یہ تو گمان بھی نہیں تھا ۔ میں سفید پتھر کی پانچ چھ سیڑھیاں چڑھ کے بنگلے کے ہال میں پہونچا، جس کے رنگین شیشوں والے دریچوں کے پیچھے ایک بڑا سا لان اور سوئمنگ پول دکھائی دے رہا تھا۔ لان کے بیچ میں ایک سمر ہائوس جیسی جگہ تھی جو ہری بیلوں سے ڈھکی ہوئی تھی اور لان کی دیواروں کے ساتھ ساتھ موسمی پھولوں سے بوجھل پودے ہوا میں دھیرے دھیرے ہل رہے تھے ۔ہال میں کئی دروازے تھے ،جن میں سے ایک کھلا ہو اتھا ۔اس کے اندر قالین پر بکھرے ہوئے گدّوں اور گول تکیوں کو دیکھنے سے لگتا تھا کہ وہ سیٹنگ روم ہے ۔ فلم والوں کے گھروں اور دفتروںمیں ایسے فرشی نشست والے سیٹنگ روم اکثر ہوتے ہیں جن میں سکرپٹ کی، میوزک کی اورپروڈکشن کی مٹینگز ہوتی ہیں ۔ایک زینہ بل کھاتا ہوا اوپر چلا گیا تھا ،جس کی ہر سیڑھی پر طرح طرح کے کیکٹس پیتل کے گملوں میں لگے ہوئے تھے ۔ میںنے ایک صاف ستھرے نوکر کو اپنا نام بتایا اور بیٹھ کر ہال کا جائزہ لینے لگا ،دیواروں پر لگی ہوئی پینٹنگز سے لے کر چھوٹی چھوٹی میزوں پر سجی ہوئی چیزوں سے اُس دولت کا اندازہ ہو رہا تھا جو راجندر سونی نے تیس سال اور تیرہ فلموں میں کمائی تھی ۔

یہ ہوئی نا بات !میں نے دل میں سوچا

خدا دولت تو بہت سے لوگوں کو دے دیتا ہے مگر برتنے کا سلیقہ نہیں دیتا ۔ یہاں دولت بھی ہے اور سلیقہ بھی ۔اب دیکھنا ہے کہ آدمی کیساہے ؟ ۔میں نے راجندر سونی کا نام سنا تھا ،ان کی فلمیں بھی دیکھی تھیں مگرکبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔اس لیے جب فون آیا کہ سونی صاحب ملنا چاہتے ہیں تو بڑی خوشی ہوئی ۔ کسی نامور پروڈیوسر ،ڈائرکٹر کے ساتھ نام جُڑ جائے تورائٹرکا بھائو خود بخود بڑھ جاتا ہے ۔اچانک مجھے اپنے پیچھے سر سراہٹ سنائی دی اور خوشبو کا ہلکاساجھونکا آیا تو میں نے پلٹ کر دیکھا ،سیڑھیوں سے ایک دبلی ،پتلی سانولی سی لڑکی اُتر رہی تھی ،اس نے بڑے بڑے پھولوں والا انڈونیشی سیرونگ لپیٹ رکھا تھا ،اس سے ملتا جلتا ٹاپ تھا اور بال کندھوں پر پڑے ہوئے تھے ۔ اس نے ایک پل کے لیے آنکھ کے کونے سے مجھے دیکھا اور باہر نکل گئی ۔ ٹھیک اُسی وقت نوکر نے کہا

”چلئے!“

میں سمجھ رہا تھا کہ راجندر سونی کا آفس ایک بڑا سا کمرہ ہوگا جس میں گدّے دار کرسیاں لگی ہونگی ،وہ خود موٹے کانچ کی میز کے پیچھے بیٹھا ہوگا اور دیوار پر کلر ٹی وی لگا ہوگا، مگر ایسا کچھ نہیں تھا ،سونی صاحب نے جس کمرے میں بلایا تھا وہ کمرہ نہیں تھا بلکہ ایک غار تھا ۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پہاڑی کو تراش کر نہیں بنایا گیا تھا بلکہ گھر کے اندر تھا اور فن تعمیر کا خوبصورت نمونہ تھا ۔ اس کا دروازہ بھی کسی سرنگ کی طرح تھااور سر جھکا کر اندر جانا پڑتا تھا ، دیواروں پر اجنتا ایلورا جیسی پینٹنگز بنی ہوئی تھیں ،فرش پر ایرانی اور اُزبیک قالین بجھے ہوئے تھے جو اتنے دبیز تھے کہ پائوں دھنس جاتے تھے ۔بیٹھنے کے لیے چھوٹے چھوٹے گدّے بکھرے ہوئے تھے ،بیچ میں ایک گول میز تھی جس کا پیتل سونے کی طرح چمک رہا تھا، ہو سکتا ہے سونا ہی ہو ۔ اس غار میں دروازے اور بھی تھے جو آسانی سے نظر نہیں آتے تھے ،کیونکہ وہ پینٹنگز میں چھپ گئے تھے ۔ میں اس انوکھے کمرے کو دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک پینٹنگ ہلی ،ایک دروازہ کھلا اور سونی صاحب باہر آگئے ۔

”Welcome to my den!“انھوں نے زور سے کہا

”ہیلو سر ۔کمال کا Denہے آپ کا ۔ اگر کار پٹ اور کرسیاں نہ ہوں تو سچ مچ ایسا لگے جیسے اجنتا میں کھڑے ہیں !“

سونی صاحب ہنسے ۔

”یہ میرے آرٹ ڈائرکٹر مجید بھائی کا کمال ہے بیٹھئے بیٹھئے،آرام سے بیٹھئے، آ پ سے بہت سی باتیں کرنی ہیں !“

میں بیٹھ گیا اور میں نے غور سے اُنھیں دیکھا ،وہ کافی خوبصورت آدمی تھے۔شروع میں کچھ فلموں میں کام بھی کیا تھا جو فلاپ ہو گئیں تو پروڈیوسر بن گئے اور چل نکلے ۔ فلم انڈسٹری میں جتنی باتیں ان کی فلموں کی ہوتی تھیں اتنے ہی چرچے ان کی عشق بازیوں کے بھی ہوا کرتے تھے ۔کہاجاتا تھا کہ انھوں نے جتنی لڑکیوں کو ہیروئن بنایا ،سب ان کے بڈروم کے رستے شہرت کی بلندی پر پہونچی تھیں !۔

ان کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں ،کنپٹیوں پر سفید ہوتے بالوں اور شریر مسکراہٹ میں ایسی کشش تھی کہ غیر فلمی لڑکیاں بھی ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگتی تھیں ،وہ لگتے بھی کافی کم عمر تھے جبکہ پچاس سے زیادہ کے ہونگے ۔ راجندر سونی سے بات کرنے پر اندازہ ہوا کہ وہ کافی سلجھا ہوا آدمی ہے اور اچھی طرح جانتا ہے کہ اسے کیا چاہیے اور کیسے چاہیے۔انھوں نے مجھے کہانی کا آئیڈیا سنایا جو کافی دلچسپ تھا اور اس میں ایک کامیاب فلم کے سارے مسالے موجود تھے۔ اس لیے میں نے بھائوتائو کرنے اور اپنی قیمت طے کرنے سے پہلے ہی کام شروع کر دیا ۔ ہم دونوں فوراً ایک One Lineبنانے میں اس طرح لگ گئے کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا ،جب ایک باوردی نوکر آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر آیا توسونی صاحب نے چونک کر اُسے دیکھا اور کہا

”ارے کھانے کا ٹائم ہو گیا اور میں نے آپ کو چائے کے لیے بھی نہیں پوچھا ۔Sorry. Very Sorry۔جائیے آپ لنچ لے لیجئے ۔میں ذرا دیر سے کھاتا ہوں ۔!“

بڑے ڈائننگ ہال کے برابر ایک چھوٹا سا ڈائننگ روم اور تھا جس کی دیواریں کانچ کی تھیں،اورجن پر چھوٹے چھوٹے پتّوں والی بیلیں چڑھی ہوئی تھیں ۔یہ شاید فیملی ڈائننگ روم تھا۔میں داخل ہوا تو دو لڑکیاں پہلے سے بیٹھی تھیں ایک تو وہی تھی جسے میں نے باہر جاتے دیکھا تھا اور دوسری چودہ پندرہ سال کی ہوگی۔ اسے دیکھتے ہی لگتا تھا کہ وہ بہت تیز اور شریر ہے۔ میں نے کہا

”ہیلو !“اور اپنا نام بتایا ۔

چھوٹی لڑکی نے فوراً چہک کر کہا

”میں آپ کو جانتی ہوں ۔میں نے آپ کی Moviesبھی دیکھی ہیں ۔آپ ڈیڈ کی نئی فلم کے لیے آئے ہیں نا؟۔بیٹھئے بیٹھئے !“

میں بیٹھ گیا۔چھوٹی لڑکی پھر بولی

”میں انو ،یعنی انوشکا اور یہ انجوAlso known as Anjali“

میں مسکرادیا اور بولا

”Nice meeting you !“

انجو نے دھیرے سے سر ہلایا اور میرے پیچھے کھڑے نوکر کو اشارہ کیا۔چند منٹ میں ساری میز طرح طرح کی Dishesسے بھر دی گئی اورمیرے سامنے چاندی کی بڑی سی تھالی لگا دی گئی جس میں درجن بھر کٹوریاں رکھی تھیں ۔نوکرنے بڑے ادب سے پوچھا

”Veg or non veg Sir?“

میں نے کہا” جو اچھا ہو !“

”تب تو آپ کو ساری Dishes tryکرنی پڑیں گی ۔عبدل بھائیIs an amazing cock “

نوکر نے میری ساری کٹوریاں بھر دیں اور جھک کر ادب سے پوچھا

”سر ،پراٹھا ،روٹی یا پُھلکا؟“

”پُھلکا ۔!“ میں نے کہا

میں نے دیکھا انو کی تھالی میں وہی سب ہے جو میرے سامنے ہے مگر انجو کے سامنے دو پیالے رکھے ہیں جن میں سے ایک میں اُبلی ہوئی سبزیاں تھیں اور دوسرے میں کوئی سوپ تھا !

”آپ شاید Dietingکر رہی ہیں ؟“ میں نے انجو سے پوچھا ۔

انجو نے سر اٹھا کر اپنی بڑی بڑی بے حد کالی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور دھیرے سے کہا

”جی نہیں !“

اس سے پہلے کہ میں کچھ اور پوچھوں انونے زور سے ہاتھ ہلا یا اور بولی

” پچھلے ایک سال سے یہی انجو کا لنچ ہے !“

”رات میں تو کھاتی ہوں گی ؟ “میں نے کہا ۔

”ہاں ۔کبھی کبھی !“انو نے سر ہلایا

انجو نے غصّے سے اپنی بہن کو دیکھا

”Thats Enough Anu!“

نوکر نے میرے سامنے پُھلکا رکھ دیا جو غبارے کی طرح پھولا ہوا تھا ۔میں اسے دبانے کی کوشش کرنے لگا تو انو چیخی ۔

”ایسے نہیں کیجئے ۔ بھانپ سے ہاتھ جل جائے گا، پہلے اسےForkسے Punctureکیجئے!“

”تھینک یو ۔پُھلکے تو بہت کھائے ہیں مگر یہ تو فٹ بال کی فیملی سے لگتا ہے !“

”ڈیڈ کا آرڈر ہے !“انو ہنس کر بولی ”پھلکا بالکل گول اور پھولا ہوا ہونا چاہیے !“

اچانک انجو کھڑی ہوگئی ۔اس نے نیپکن کے کونے سے ہونٹ صاف کئے اور Excuse meکہہ کر باہر نکل گئی ۔

”آپ کی بہن بہت کم بولتی ہیں ۔“میں نے کہا

”انجو بہت موڈی ہے ۔“انو نے بتایا”دل چاہے گا تو بہت بولے گی ،نہیں تو جواب بھی نہیں دیتی ہے !“

”پڑھ رہی ہیں ؟“میں نے پوچھا

”جی ۔ماسٹرز کر رہی ہے چائلڈ سائکولوجی میں !“

سونی صاحب کے ہاں آنے جانے اور کھانے کا سلسلہ بہت دن تک چلتا رہا ۔کھانے کی میز پر ہم تینوں ہی ہوتے تھے یعنی انجو ،انو اور میں۔ انو پیاری بچی تھی اس کی معصوم مسکراہٹ اور شریر آنکھیں کسی کا بھی دل جیتنے کے لیے کا فی تھیں ۔ وہ مجھ سے اس طرح باتیں کر تی تھی جیسے برسوں سے جانتی ہو ۔ انجو بہت کم بولتی تھی ۔عام طور پر وہ چپ چاپ اپنی لمبی لمبی پلکیں جھپکاتی رہتی اور کھانا کھاتی رہتی ۔میں نے بس ایک بار اسے اونچی آواز میں بولتے سنا تھا ۔بات ایک نئی فلم کی چل رہی تھی جو باکس آفس پر ہٹ جا رہی تھی ۔انو نے کہا

”میوزک کی وجہ سے چل رہی ہے ۔ سٹوری میں تو کوئی Logicہی نہیں ہے ۔ایک اکیلا آدمی پوری سوسائٹی سے لڑسکتا ہے کیا ؟“

اس سے پہلے کہ میں کچھ بولوں انجو نے تیز آواز میں کہا

”لڑسکتا ہے !اگر کسی نے زیادتی کی ہے تو بدلہ ضرور لینا چاہیے ۔سامنے والے کی طاقت سے ڈر کے چپ نہیں ہو نا چاہیے !“

”I Agree!“میں نے انجو کی تعریف کرتے ہوئے کہا ”ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے تو وہ بڑھ جاتا ہے !“

انجونے پہلی دفعہ میری آنکھوں میں دیکھا اور کہا

”تھینک یو !“

پرانے بادشاہوں کے بارے میں پڑھا تھا کہ ان کا مزاج کب بدل جائے کوئی نہیں جانتا تھا ۔کچھ یہی حال بمبئی کی برسات کا ہے ۔کوئی نہیں بتا سکتا کہ کب جل تھل ایک کر دیگی اور کب دامن بھگو کے چلی جائے گی ۔اس دن بھی ایسا ہی ہوا ،میں ریگل سے فلم دیکھ کر نکلا تو سڑکیں گیلی تھیں ،پیڑوں سے پانی ٹپک رہا تھا اور رُک رُک کر تیز بارش ہو رہی تھی ۔ وہ تو اچھا ہوا کہ میری گاڑی پارکنگ میں تھی ورنہ اس تک پہونچتے پہونچتے بھیگا چوہا بن جاتا ۔شام ہو رہی تھی سامنے سمندر میں بادلوں سے جھانکتا ہوا سورج غوطہ لگانے کی تیاری کر رہا تھا اور میں قدرت کی بنائی ہوئی اس عظیم پینٹنگ کی داد دیتے ہوئے آہستہ آہستہ ڈرائیوکر رہا تھا کہ میری نظر انجو پر پڑی جو ایک بس اسٹاپ پر کھڑی تھی ۔مجھے یقین کرنے میں تھوڑا وقت لگا ۔یہ لڑکی انجو کیسے ہوسکتی ہے اور اگر ہے بھی تو بس کا انتظار کیوں کر رہی ہے؟ ۔اس کے باپ کے پاس تو درجنوں گاڑیاں ہیں ۔میں نے Mirror میں غور سے دیکھا وہ انجو ہی تھی،میں نے گاڑی بیک کی اور بس اسٹاپ کے پاس جا کر آواز لگائی ۔

”ہیلو !“

اس نے مجھے دیکھا ،پہچانا اور دھیرے سے سر ہلا دیا جیسے ہیلو بول رہی ہو ۔

”کہاں جا رہی ہیں ؟ ۔چلئے میں چھوڑ دوں؟“

”نو تھینک یو۔میں چلی جائونگی!“

”اگر آپ گھر کی طرف جا رہی ہیں تو آجائیے ۔میں بھی اُدھر ہی جا رہا ہوں !“

اس نے کچھ دیر سوچا پھر تیزی سے آگے بڑھ کے میرے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔

”تھینک یو !“اس نے بیلٹ لگا تے ہوئے کہا

میں نے گاڑی آگے بڑھائی اور کنکھیوں سے اُسے دیکھا ،وہ ٹی شرٹ اور ڈینم جینس پہنے ہوئے تھی اور کافی بھیگ چکی تھی۔

”آج آپ اپنی گاڑی نہیں لائیں ؟ “۔میں نے پوچھا

اس نے سر ٹیڑھا کر کے مجھے دیکھا پھر سامنے پھیلی ہوئی لمبی سڑک کو دیکھتے ہوئے بولی

”میرے پاس گاڑی نہیں ہے !“

میں حیران ہو گیا ۔ میں نے خود راجندر سونی کے بنگلے پر بہت سی امپور ٹڈ کاریں کھڑی دیکھی تھیں ۔

”مگر بنگلے پرتو “ اس نے میری بات کاٹ دی

”وہ سونی صاحب کی گاڑیاں ہیں !“

میں کچھ اور حیران ہو گیا ۔یہ لڑکی تو عجیب ہے اتنے بڑے آدمی کی بیٹی ہے اور بس سے سفر کر تی ہے اور اپنے باپ کا نام بھی اس طرح لیتی ہے جیسے وہ کوئی غیر آدمی ہو۔ میں نے دیکھا وہ اپنے چپکے ہوئے ٹی شرٹ کو بدن سے الگ کر رہی تھی شاید اُسے سردی لگ رہی تھی ۔میں نے Acبند کر دیا تو وہ چونک کر میری طرف مڑی اور پوچھا

” Acکیوں Offکر دیا ؟“

”آپ بہت بھیگ گئی ہیں ۔“میں نے کہا ”سردی لگ گئی تو بیمار ہو جائیں گی !“

اس نے پہلی بار مجھے غور سے دیکھا ۔اس کا چہرہ جس پر اب تک کوئی جذبہ نہیں تھا اچانک نرم پڑ گیا ۔وہ مسکرائی ،چھوٹے چھوٹے سفید دانتوں کی ایک جھلک دکھائی دی۔

”تھینک یو !“اس نے کہا

مگر اس بار اس کا لہجہ بدل گیا تھا۔ اس میں ذراسی گرمی آگئی تھی ۔میں نے باہر کی طرف دیکھا بھورے بادل کالے ہوتے جا رہے تھے ۔

”کافی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟“میں نے پوچھا”موسم بھی کافی کا ہے اور آپ کو بھی کسی گرم چیز کی ضرورت ہے !“

”Ok“ اس نے کہا اور سر کو سیٹ پر ٹیک کر آنکھیں بند کر لیں جیسے بہت تھک گئی ہو !

کڑوی کالی کافی کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لیتے ہوئے اس نے ایک بار بھی سر نہیں اٹھایا ،ایسا لگتا تھا جیسے اسے میری موجودگی کا احساس ہی نہ ہو ،وہ کافی مگ کو بار بار دونوں ہاتھوں میں اس طرح دبا لیتی تھی جیسے اس کی گرمی اپنی ہتھیلیوں میں اُتار رہی ہو۔میں اس سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر اس کی خاموشی نے اجازت ہی نہیں دی ۔وہ مجھے نہیں دیکھ رہی تھی مگر میں اُسی کو دیکھے جا رہا تھا ۔ اس دبلی ،پتلی ،سانولی لڑکی میں کوئی بات ایسی ضرور تھی جو اس کی طرف کھینچتی تھی ،اس کی بے حد سیاہ آنکھیں یا غیر معمولی لمبی پلکیں یا اس کا شاہانہ وقار ،کچھ تو تھا جو دوسری لڑکیوں میں نہیں ہوتا ۔اچانک اس نے مگ نیچے رکھا ،سر اٹھا یا اور کہا

”تھینکس!“

اپنے گھر پہونچ کر گاڑی سے اُترتے ہوئے بھی اس نے وہی ایک لفظ دوہرایا ۔

”تھینکس!“

دوسرے دن جب سونی صاحب سے میٹینگ کے بعد کھانے کے لیے ڈائیننگ روم میں پہونچا تو انو اکیلی تھی ۔میں نے انجوکے بارے میں پوچھا تو اس نے بتا یا

”اپنے روم میں ہے ۔طبیعت ٹھیک نہیں ہے !“

”یہ تو ہونا ہی تھا ! “ میں نے کہا ”کل وہ بہت بھیگ گئی تھیں!“

”آپ کو کیسے معلوم ؟“ انو نے پوچھا

”چرچ گیٹ سے یہاں تک میں ہی لے کر آیا تھا !“اور میں نے انو کو پورا واقعہ سنادیا ۔

”اوہ !“انو نے سر ہلایا

کھانا کھاتے کھاتے میں نے پوچھا

”انجو یونیورسٹی کیسے جاتی ہیں ؟“

”چرچ گیٹ تک ٹرین سے ،پھر ٹیکسی سے یا پیدل !“انو نے جواب دیا

”گاڑی میں کیوں نہیں جاتیں ؟“میں نے پوچھا

انو چُپ ہو گئی کچھ دیر تک مجھے اِس طرح دیکھتی رہی جیسے سوچ رہی ہو کہ اس آدمی پر جو سامنے بیٹھا ہے بھروسہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں ۔پھر دھیرے سے بولی

”انجو ڈیڈ کا احسان نہیں لینا چاہتی !“

”احسان ؟“میں نے حیران ہو کر کہا ”ماں باپ اپنے بچوں پر احسان نہیں کرتے !“۔

انو نے کوئی جواب نہیں دیا ۔مگر میری بے چینی بڑھ گئی تھی ،میں جاننا چاہتا تھا کہ انجو اور سونی صاحب کے تعلقات خراب کیوں ہے ،کسی کی ذاتی زندگی میں جھانکنا بڑا مشکل کام ہے مگر میرے اندر کا رائٹر مجبور کر رہا تھا اس لیے میں نے کہا

”مگر وہ رہتی تو یہیں ہیں !“

”میری وجہ سے !“انو نے جواب دیا ”ویسے پالی ہل پر اس کا اپنا فلیٹ ہے جو ممی نے اُسے دیا تھا !“۔

”یہ کہانی تو اُلجھتی ہی جا رہی ہے !“میں نے دل میں سوچا مگراس سے پہلے کہ میں کچھ اور پوچھ سکوں انو کھانا ختم کر کے کھڑی ہو گئی تھی ۔

”کیا میں انجو سے مل سکتا ہوں ؟“ ۔میں نے پوچھا

انونے سر ہلایا اور انٹر کوم پر انجو سے کچھ پوچھا پھر مجھ سے بولی

”آپ مل سکتے ہیں ۔ فرسٹ فلور پر پہلا روم“

انجو سفید کشمیری شال میں لپٹی ہوئی اس طرح بیٹھی تھی کہ صرف چہرہ دکھائی دے رہا تھا ۔ وہ ایک ایسی فاختہ لگ رہی تھی جو اکیلی رہ گئی ہو۔ ایک ہی دن میں اس کا چہرہ کافی اُتر گیا تھا اور وہ بار بار سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی۔ میں نے ہیلو ،ہائے کر نے کے بعد پوچھا

”کیا دوا لے رہی ہیں ؟“

”کل رات Crocin کھالی تھی!“

”کیا فیور بھی ہے ؟“میں نے پوچھا

”لگ تو رہا ہے “اس نے کہا

میں نے ہمّت کرکے اس کا ہاتھ چُھوا جو جل رہا تھا۔

”ارے ،آپ کو تو تیز بخار ہے ۔آ پ کا فیملی ڈاکٹر کون ہے ۔اُ سے فون لگائیے!“

”رہنے دیجئے ٹھیک ہو جائوں گی! “

”اتنا Lightly مت لیجئے ،ڈاکٹر کا نمبر بتائیے میں فون کرتا ہوں۔کو ن ہے آ پ کا ڈاکٹر ؟ “

”ڈاکٹر شیٹّی ،مگر اُسے فون مت کیجئے وہ سونی صاحب کو بتا دے گا!“

”تو کیا ہوگا؟“میں نے پوچھا

”پلیز!“انجونے کہا

میں کچھ دیر سوچتا رہا پھر اپنے ایک ڈاکٹر دوست کو فون کیا ،اس نے جو دوائیں بتائیں وہ ایک کاغذ پر لکھ کر میں نے کہا

”یہ میڈیسن فوراً منگوا لیجئے !“

انجو نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پوچھا

”آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں ؟“

”اس لیے کہ مجھے بیمار لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں !“

انجو ہنس پڑی۔

میں نے پہلی بار اُسے ہنستے دیکھا تھا ۔اس کی ہنسی بڑی پیاری تھی ،بڑی معصوم ،دل سے نکلی ہوئی ہنسی ۔جب وہ ہنستی تھی تو آنکھوں میں ایسی چمک آتی تھی جیسے بلب روشن ہو گئے ہوں ۔

”آپ مجھے اتنی حیرت سے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟“اس نے پوچھا

”حیرت کی تو بات ہی ہے !“ میں نے کہا ”آپ ہنستی بھی ہیں ! “

وہ پھر ہنسی اور اِس بار ہنسی کی آواز زیادہ بلند تھی ۔

یہ میری اور انجو کی دوستی کی شروعات تھی۔!

وہ جیسے جیسے میرے قریب آتی گئی یا یوں کہنا چاہیے کہ میں اس کے نزدیک ہو تا گیا مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بے حد ذہین ،حاضر جواب اور بے باک لڑکی ہے ۔اس کا مطالعہ بھی اچھا ہے اور ماڈرن لٹریچر پڑھتی رہتی ہے ۔اُسے کہانیاں سننے کا شوق تھا اور میرے پاس سنانے کے لیے ہزاروں کہانیاں تھیں اور نہ بھی ہوں تو کہانی گڑھنا کونسا بڑا کام ہے ۔

سونی صاحب کا سکرپٹ قریب قریب پورا ہو چکا تھا اس لیے ان کی طرف جانا کم ہوتا تھا مگر جب بھی جاتا انجو کی باتوں سے ایسا لگتا جیسے وہ میرا انتظار کرتی رہی ہو ۔مجھے بھی کبھی کبھی اس کی بہت یاد آتی توکسی بہانے یونیورسٹی کی طرف چلا جاتا اور اُسے لے کر آوارہ گردی کرتا رہتا۔ ایک دفعہ میں اُسے اپنی نئی فلم کی اسٹوری سنا رہا تھا جس میں ہیروئن اپنے ہیرو کو تلاش کر رہی ہے اور بہت سارے ڈرامائی اُتار چڑھائو کے بعدآخر اُسے ڈھونڈ نے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ انجوچپ چاپ سنتی رہی اور پلکیں جھپکاتی رہی ،میں خاموش ہوا تو اس نے پوچھا

”پھر کیا ہوا ؟“

”پھر وہی ہوا جو ہو تا آیا ہے !“ میںنے کہا”They lived happily ever after“

انجو کچھ دیر سوچتی رہی پھر بولی

”ہیروئن کی تلاش کا Reasonکیا تھا ؟“

میں مسکرا دیا ۔

”کیا Loveسے بڑا بھی کوئیReason ہو تا ہے ؟“

”ہوتا ہے !“ انجو نے سر ہلایا ”بدلہ،Revenge،اگر لڑکی اُس بے وفا آدمی سے بدلہ لینے کے لیے اتنی تکلیف اٹھا رہی ہے تو بات بنتی ہے ورنہ یہ ایک Ordinary Love Storyہے ۔“

میں حیران ہو گیا ۔ اس Angelسے تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ۔ میں نے بہت تعریف کی اور کہا

”تم اتنا اچھا سوچتی ہو تو کہانیاں کیوں نہیں لکھتیں؟“

”کوشش کی تھی ۔ایک تو پورا سکرپٹ ہی لکھ ڈالاتھا ،سونی صاحب نے دیکھا تو کہا وقت برباد کر رہی ہو !“

”کہاں ہے وہ سکرپٹ ؟ “میں نے پوچھا

”پھاڑ کے پھینک دیا !“اس نے کہا

میں بہت دیر تک انجو کو دیکھتا رہا جو اپنی کالی کافی کو اس طرح غور سے دیکھ رہی تھی جیسے اس میں کچھ ڈھونڈ رہی ہو ۔میں سوچنے لگا ماں باپ بچوں کے بارے میں کبھی کبھی اتنے غلط فیصلے کیوں کرتے ہیں ۔کوئی بھی حکم سنانے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے کہ بچے خود کیا چاہتے ہیں۔ اگر سونی صاحب انجو کی ہمت نہ توڑتے تو شاید آج وہ ایک کامیاب رائٹر ہوتی!۔میں نے انجو کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا او رپوچھا

”تم میرے لیے لکھو گی ؟“

انجو نے دھیرے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور آنکھیں چمکا کر بولی

”کیا ملے گا ؟“

”پیسے ملیں گے ،شہرت ملے گی ،جو فلم تم میرے ساتھ لکھو گی اس کے Creditsمیں میرے نام کے ساتھ تمہارا نام بھی آئے گا !“

وہ ہنسی۔

”اِس پر سوچا جا سکتا ہے ۔جب تم کسی نئی فلم کی Sittingکر رہے ہو تو مجھے بلالینا!“

”It’s a deal!“ میں نے کہا اور ہاتھ بڑھا دیا جو اس نے تھام لیا !

انو بہت خوش تھی کہ اس کی بہن کو ایک دوست مل گیا مگر میں ڈر تا رہتا تھا کہ پتہ نہیں میرے اور انجو کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر سونی صاحب کا کیا Reactionہو ۔انھوں نے مجھے اور انجو کو کئی بار ساتھ دیکھا، کبھی اس کے کمرے سے نکلتے ہوئے ،کبھی لان پر بیٹھے ہوئے اورکبھی گاڑی میں ساتھ جاتے ہوئے مگر کبھی بھی کچھ نہیں کہا اور نہ کچھ پوچھا اور یہی بات مجھے پریشان کرتی تھی ،میں جاننا چاہتا تھا کہ سونی صاحب مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں ،کیونکہ اُ ن کی ناراضگی پانی میں رہ کر مگرمچھ سے بیر لینے کی برابر تھی۔ اُن کا ایک اشارہ میرے اوپر انڈسٹری کے سارے دروازے بند کر سکتا تھا اور وہ ایسا کر بھی چکے تھے ۔ ایک نیا ہیرو جس کی فلم سوپر ڈوپر ہٹ ہوئی تھی ،اتنا مصروف ہو گیا کہ سونی صاحب کو Datesنہیں دے سکا ۔سونی صاحب نے کچھ نہیں کہا مگر اچانک پروڈیوسروں نے اُ س نئے ہیرو کو لینا بند کر دیا ۔ آج لوگ اُس ستارے کو بھول چکے ہیں جو ایک ہی فلم میں چمکا اور ہمیشہ کے لیے غائب ہو گیا۔ مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ کس کے اشارے پر ستارے سے اس کی روشنی چھین لی گئی تھی ۔میں اپنے لیے ایسا انجام نہیں چاہتا تھا مگر انجو سے دور رہنا بھی مشکل تھا ۔ایک بار میں نے فاصلہ بڑھانے کی کوشش کی تو وہ بالکل ہی پاس آ گئی !

مجھے جب بھی کسی نئے پروجکٹ پر کام کرنا ہوتا تھا تو میں کسی ہل اسٹیشن پر چلا جاتا تھا یاپھر کسی خاموش سے ہوٹل میں ایک کمرہ لے کر خود کو بند کر لیا کر تا تھا ۔

ایسا ہی کوئی موقع تھا اور میں اپنی نئی کہانی کے جنگل میں بھٹکتے بھٹکتے اُکتا کر کھڑا ہو گیا تھا اور باہر دور تک پھیلے ہوئے سمندر کو دیکھ رہا تھا، مجھے بمبئی کا سمندر کبھی پسند نہیں آیا ۔اس کا میلا ،بدرنگ پانی دیکھ کر ہمیشہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی جوہڑ سے لا کر ڈال دیا گیا ہے ۔ آسمان پر نیلا رنگ ہونا چاہیے مگر اُسے دیکھنے سے بھی یوں لگتا ہے جیسے کوئی سادھو جسم پر بھبھوت لگا کر بیٹھا ہو ۔مطلب یہ کہ وہ ایک بے ہودہ شام تھی اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں اپنا موڈ کس طرح ٹھیک کروں۔ اچانک کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک سنائی دی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو انجو کھڑی تھی ۔

”ارے“میں حیران ہو گیا ”تم یہاں کیسے آگئیں ؟“

”بس آ گئی ! “وہ مسکرائی ۔

”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں اِس ہوٹل میں چھُپا ہوا ہوں ۔“ میں نے پوچھا

انجو کمرے کے اندر آ گئی اور چاروں طرف دیکھتی ہوئی بولی

”روم تو اچھا ہے! “پھر کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا ”آپ کو ڈھونڈنے کے لیے کافی جاسوسی کرنی پڑی ہے مجھے !“

میں اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔

”اچھا ہوا جو تم آ گئیں، میں بہت بور ہو رہا تھا ۔یہ بتائو کیا پیو گی ،وہی کالی کافی یا کچھ اور ؟“

انجو میرے چہرے پر نظریں جمائے کچھ دیر تک سوچتی رہی پھر بولی

”یہاں کوئی مردانی ڈرنک نہیں ملتی ؟“

”مردانی ڈرنک؟ وہ کیا ہوتی ہے ؟ “ میں نے پوچھا

”Vodka,Whisky,Rumوغیرہ“

”ارے باپ رے دارو پیوگی ؟“میں نے کہا

”پلائیں گے یا نہیں ؟ “ اس نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا

”اب تم سے یہ کہنا کہ اچھے بچے شراب نہیں پیتے تو بیکار ہی ہوگا اس لیے بتائو کیا پیو گی ؟“

اس نے سر ٹیڑھا کیا اور بولی

”Black Label on the rocks… “

میں سچ مچ حیران ہو گیاتھا مگر آرڈر دے دیا !۔مجھے اندازہ ہو ا کہ وہ کچھ اُداس ہے اور زیادہ باتیں کرنے کے موڈ میں نہیں ہے ،اس لیے ہم دونوں وسکی پیتے رہے اور چیز کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کھاتے رہے ۔باہر کا گدلا آسمان سرمئی ہو گیا تھا، کہیں کہیں ایک دو تارے دکھائی دے رہے تھے ۔جب انجو تین ڈرنکس ختم کر چکی اور چوتھی کی فرمائش کی تو میں خود کو روک نہیں سکا ۔

”کیا بات ہے انجو ،تم بڑی اُلجھی اُلجھی سی لگ رہی ہو ؟“

انجو نے برف سے بھرے گلاس کو اٹھا کر اپنے گال سے لگایا اور دھیرے سے بولی

”آج ممی کی برسی ہے !“

”اوہ “میں نے کہا ”وہ تو کافی جوان رہی ہوں گی ،کیا ہوا تھا اُ ن کو ؟“

”Murderکیا گیا تھا اُن کا !“

”Really?“میں اچھُل پڑا ”مگر جہاں تک مجھے یا د ہے میڈیا میں تو یہ نیوز تھی کہ انھیں ہارٹ اٹیک ہو اتھا !“

انجو نے سر ہلایا ۔

”وہ راجندر سونی کی بیوی تھیں اس لیے کس کی ہمت تھی کہ سچ جاننے کی کوشش کرتا !“

انجو کی آنکھیں لال ہو گئی تھیں ،وسکی کی وجہ سے یا شاید آنسو روکنے کی کوشش میں ۔

”راجندر سونی نے اُن کا Murderکیا تھا !“اس نے کہا

”تمہیں معلوم ہے تم کیا بول رہی ہو انجو ؟“

ایسا لگا جیسے انجو نے میری بات سنی ہی نہ ہو ،اس نے اپنی دہکتی ہوئی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور ذرا سی اونچی آواز میں بولی

”راجندر سونی کو گریٹ شو مین بنانے والی میری ماں تھی ،پہلی پکچر پروڈیوس کرنے کے لیے کوئی پیسہ نہیں دے رہا تھا تو ممی نے اپنی زمین اور بنگلہ بیچ دیا تھا جو نانا نے انھیں دیا تھا اور اس آدمی نے ممی کو کیا دیا ؟۔ سالا لڑکیوں کو لے کر آتا تھا اور بڈروم میں بند ہو جایاکرتا تھا اور میری ماں بیچاری کسی کونے میں بیٹھی آنسو بہاتی رہتی تھی اور روز روز کے لڑائی جھگڑے ،گالی گلوج میں اور انو دونوں دیکھتے تھے مگر کیا کر سکتے تھے ۔ ایک دن وہ اپنی نئی گرل فرینڈ کے ساتھ لان پر چائے پی رہا تھا اور ممی بھوکی بیٹھی تھیں،انھوں نے کھانا پینا ہی چھوڑ دیا تھا ،میں نے جا کرراجندر سونی کو بتایا تو وہ بولا ڈاکٹر کو فون کرو ،میں نے غصّے میں گرم چائے سے بھرا ہوا کپ اس کے منہ پر مار دیا مجھے کئی دن تک روم میں بند رکھا تھا اس نے ۔اور جب میں باہر نکلی تو ممی Sleeping pill’sلے کر سو چکی تھیں

I Hate That Bastard۔He is a killer۔میں اُسے سزا دینا چاہتی ہوں ایسی سزا کہ وہ غصّے میں پاگل ہو جائے ،اپنے کپڑے پھاڑنے لگے بال نوچنے لگے مگر میرا کچھ نہ بگاڑ سکے ۔میں اُسے چھوڑوں گی نہیں I promise! “

مجھے اس کے اکیلے پن پر بہت ترس آیا اور جی چاہا کہ اُسے گلے لگا لوں اور کہوں

”اُن آنسوئوں کو مت روک ،رو دے ،ایک بار جی کھول کے رو شاید تیرا درد کم ہو جائے !“

انجو نے کانپتے ہاتھوں سے پیگ بنایا ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی ایک تھکی ہوئی اُداس مسکراہٹ اور اس نے پوچھا

”کیا سوچ رہے ہیں ؟کیا مجھ سے ہمدردی کرنے کے لیے Wordsڈھونڈ رہے ہیں ؟۔مجھے کسی کی ہمدردی نہیں چاہیے!“

” راجندرسونی کو دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ وہ اتنا گھٹیا آ دمی ہو گا ! “میں نے کہا۔

انجو ہنسی ۔ اس کی ہنسی میں زہر گھُلا ہو اتھا

”اس کے آگے مت سوچنا ورنہ پکچر ہاتھ سے نکل جا ئے گی !“۔

میرا موڈ اتنا زیادہ خراب ہو گیا تھا کہ میں نے اپنا گلاس دو گھونٹ میں خالی کر دیا ۔اس کے بعد ہم دونوں دیر تک خاموشی سے پیتے رہے ۔پتہ نہیں کتنی پی ڈالی مگرجب انجو نے پھر ایک بار بوتل کی طرف ہاتھ بڑھایا جو تقریباً خالی ہو چکی تھی تو میں نے روک دیا

”تم پہلے ہی بہت پی چکی ہو ،بس کرو !“

انجونے زور سے سر ہلایا

”ہاں آج کچھ زیادہ ہو گئی !“

اس کی آواز لڑ کھڑا رہی تھی اور ہاتھ کانپ رہا تھا ۔

”اس حالت میں تم گھر کیسے جائوگی ؟“ میں نے پوچھا

”آج میں گھر نہیں جائوں گی !“ پھر ذرا سا رُک کر بولی ”یہیں سو جائوں گی تمہارے پاس !“

”مگر “ میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن انجو کھڑی ہو گئی اور میری طرف بڑھی ،وہ لڑکھڑا رہی تھی مگر اس سے پہلے کہ گرجاتی میں نے سنبھال لیا ،وہ اِ س طرح لپٹ گئی جیسے میں نے چھوڑدیا تو گر جا ئے گی۔ میں نے اُسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور مجھے ایسا لگا جیسے اس کے بدن کی خوشبو دارگر می شراب کے مہک کے ساتھ میرے اندر اُتر رہی ہے ۔میں نے آنکھیں بند کر لیں !

دوسرے دن میں بہت دیر سے جاگا تو انجونہیں تھی شاید وہ سویرے ہی نکل گئی تھی۔ میں کافی دیر تک اس کے بارے میں سوچتا رہا ،کل رات جو کچھ بھی ہمارے درمیان ہوا اُس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی ،غلطی انجو کی بھی نہیں تھی مگر پھر بھی دل بار بار ایک سوال کر رہا تھا کہ انجو یہ تو نہیں سو چے گی کہ میں نے اُس کی مد ہوشی سے فائدہ اٹھایا ہے اسی خوف سے میں نے اس کو فون بھی نہیں کیا مگر شام ہوتے ہی انجو واپس آگئی، اس کے ہاتھ میں ایک Over nightبیگ تھا ۔

”کہاں چلی گئی تھیں ،کچھ بتایا بھی نہیں !“

”کپڑے لانے گئی تھی !“ اس نے مسکرا کے جواب دیا۔

وہ بالکل پہلی والی انجو لگ رہی تھی ۔

”سونی صاحب نے پوچھا نہیں کہ تم رات بھر کہاں تھیں ؟“ میں نے اس کے ہاتھ سے بیگ لیتے ہوئے سوال کیا ۔

”اگر اپنی نئی ہیروئن کے Skirtسے باہر ہوتے تو ضرور پوچھتے !“۔

میں اُس ہوٹل میں دس دن رہا جس میں سے سات دن انجو میرے ساتھ تھی ،اس نے پورے ہفتے مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیا ۔ ہم دونوں صبح سے رات تک دنیا بھر کی فالتو باتیں کرتے رہتے تھے ۔انجو کو اپنے باپ کے، اپنے دوستوں کے ،یونیورسٹی کے اور دوسرے فلم والوں کے درجنوں قصّے یا د تھے جنھیں وہ مزے لے لیکر سنایا کرتی تھی ۔کبھی کبھی ہم دونوں باہر بھی نکل جاتے اور دور تک یوں ہی بے مقصد گھومتے رہتے یا ریت پر بیٹھ کر سمندر کے کنارے گھومنے والوں کے تماشے دیکھتے رہتے ،مجھے انجو سے زیادہ اپنے اوپر حیرت تھی کہ میں اس کی باتو ں سے بور نہیں ہوتا تھا بلکہ مزے لیتا رہتا تھا ۔کبھی کبھی جب میں بڑی خوشامد سے کہتا ۔

”انجو پلیز ،تھوڑا سا لکھ لینے دے یار ،ورنہ نوکری چلی جائے گی ،نیا پروڈیوسر ہے ،بدک گیا تو مشکل ہو گی !“

اور وہ مغل اعظم کے اکبر کی طرح ہاتھ اٹھا کر بولتی

”اجازت ہے !“

پھر وہ میرے کندھے سے لگ کر بیٹھ جاتی اور دیکھتی رہتی کہ میں کیا ٹائپ کر رہا ہوں ۔رات کو سوتی بھی اس طرح تھی کہ اپنا سر میری گردن میں پھنسا دیتی اور آنکھیں بند کر لیتی اورمیں بھی اس کے بالوں کو سونگھتے سونگھتے سوجاتا !

انجو میری زندگی میں پانی کے اُس ریلے کی طرح داخل ہو ئی تھی جس میں سنبھلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔مجھے اُ س کی عادت سی پڑنے لگی تھی وہ آس پاس نہ ہوتی تو ایسا لگتا جیسے کوئی کمی ہے ۔ شایدوہ بھی اِس کمزوری کو سمجھ گئی تھی اور جب بھی موقع ملتا میرے پاس پہونچ جاتی ۔ہوٹلوں میں جتنے دن بھی رہتا وہ صبح سے شام تک ساتھ رہتی اور اکثر راتوں کو بھی رُک جاتی ۔ایک دفعہ تواس نے حد ہی کر دی میں نے کھنڈالا کی پہاڑیوں میں ایک چھوٹا سا بنگلہ کرائے پر لیا جو گھاٹی کے کونے پر تھا اورآبادی سے اتنی دور تھا کہ ایسا لگتا تھا جیسے وہاں اُس بنگلے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے ۔کام ذرا ارجنٹ تھا شوٹنگ شروع ہونے والی تھی اور مجھے دس دن کے اندر سکرپٹ پورا کر کے دینا تھا ،میرے ساتھ ڈرائیور کے سوا کوئی نہیں تھا جو چائے وغیرہ بھی بنادیا کر تا تھا اور شہر جا کر کھانا بھی لے آیا کرتا تھا، مجھے اُس بنگلے میں رہتے ہوئے تین ہی دن گزرے تھے کہ ایک رات گیٹ پر کسی گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی ،ہارن بار بار بج رہا تھا اور سناٹے میں اس کی آواز کچھ زیادہ ہی گونج ہو رہی تھی ۔میں نے کمرے کی کھڑ کی سے نیچے دیکھا ،ڈرائیور گیٹ کھول رہا تھا اور ایک ٹیکسی اندر آرہی تھی ۔بنگلہ چونکہ بہت اونچائی پر تھا اس لیے بار بار بادلوں سے بھر جایا کرتا تھا اس وقت بھی چاروں طرف بادل تھے اور ہر چیز دھندلی دکھائی دے رہی تھی اس لیے میں نے چیخ کر پوچھا

”کون ہے ؟ “

ڈرائیور جو پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول رہا تھا میری طرف مڑا اور چلّا کر بولا

”انجو میڈم آئیں ہیں !“

میں حیران رہ گیا ! یہ لڑکی ایک ٹیکسی میں اکیلی سو کلو میٹر کا سفر کر کے یہاں تک آئی ہے ۔یہ پاگل ہے بالکل پاگل ۔

میں تیزی سے نیچے اترا کہ آج اسے اچھی طرح ڈانٹوں گا مگر وہ میرے منہ کھولنے سے پہلے ہی مجھ پر برس پڑی ۔

”مجھے بتایا کیوں نہیں کہ تم یہاں آ نے والے ہو ۔کیا میں تمہیں روک لیتی؟۔ کتنی مشکل سے ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں تک آئی ہوں ! “

میں شرمندہ ہو گیا۔

”غلطی ہو گئی یار ،میں ذرا جلدی میں تھا، ادھر ایکٹر میری جان کھا رہا تھا اس لیے بھول گیا ،سوری!“

انجو نے آنکھیں چمکائیں اور زور سے سر ہلا یا

”جانتے ہو اس کی سزا کیا ملے گی ؟۔میں تمہیں ایک سین بھی نہیں لکھنے دوں گی! “

”ارے نہیں یار !“میں نے آنکھیں پھیلا کر کہا”میں مر جائوں گا !“

وہ ہنس پڑی ۔

”پہلے میں نے یہی سوچا تھا کہ یہاں نہیں آئوں گی مگر تمہارے بغیر کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا !“

میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جن میں وہی فاختہ والی معصومیت جھلک رہی تھی ۔میں نے اس کی آنکھوں کو چو م لیا ۔

انجو اس پہاڑی بنگلے میں میرے ساتھ اس طرح رہی کہ اپنی موجودگی کا احساس بھی نہیں ہونے دیا تاکہ میرے کام میں کوئی رکاوٹ نہ پڑے لیکن وہ میری ہر بات کا خیال رکھتی تھی یہاں تک کہ جب میں صبح کو اٹھتا تھا تو واش روم میں میرے توٹھ برش پر کریم بھی لگی ہوئی ملتی تھی ،ناشتہ ہم دونوں ساتھ میں کرتے جس کے بعد وہ وادی میں گھومنے کے لیے نکل جاتی اور چلتے چلتے بولتی ۔

”ایسا لکھنا کہ ایوارڈ مل جائے ،شام کو آکر سنوں گی !“

مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ہم دونوں میں جو رشتہ بن گیا ہے وہ صرف جسمانی نہیں ہے اُ س سے بہت زیادہ ہے ۔ اورمیں سوچنے لگا تھا کہ اس لڑکی میں ایک اچھی بیوی بننے کی تمام خوبیاں موجود ہیں مگر ڈر بھی لگتا تھا کیونکہ وہ راجندر سونی کی بیٹی تھی !

جس دن میں بمبئی پہونچا اُسی دن سونی صاحب کا فون آیا ۔

”ارے بھئی کہاں ہیں آپ ؟ بہت دن سے ملاقات نہیں ہوئی ،ٹائم ہو تو شام کو آجائیے، چائے ساتھ پیئں گے !“

میں پہونچا توسونی صاحب نے ہمیشہ کی طرح گرم جوشی سے استقبال کیا ،بہت دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے پھر اچانک پوچھا

”کیا انجو آج کل آ پ کے ساتھ رہتی ہے ؟“

میں پریشان ہو گیا ۔جھوٹ بولنے کی جگہ نہیں تھی ،اُ ن کا سوال بتا رہا تھا کہ وہ میرے اور انجو کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اس لیے میں نے کہا

”جی “

”کیا آپ انجو کو پسند کرتے ہیں ؟ “ سونی صاحب نے پوچھا

”وہ بہت اچھی لڑکی ہے !“ میں نے دھیرے سے کہا

”کیا آپ اُس سے شادی کرنا چاہتے ہیں ؟ “ انھوں نے اس طرح پوچھا جیسے وہ اپنی بیٹی کی نہیں کسی فلم کی بات کر رہے ہوں ،اُ ن کی آواز یا لہجے میں کوئی جذبہ نہیں تھا ۔میں کچھ اور پریشان ہو گیا ،میرے اور انجو کے رشتے میں وہ جگہ آ تو چکی تھی جہاں شادی بیاہ کے بارے میں سوچا جا تا ہے ، مگرانجو سے کھل کر کبھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی اس لیے ہاں یا نا کہنا بڑا مشکل تھا ۔اس لیے میں نے ٹالنے کی کوشش کی ۔

”جی ابھی تک تو ایسا کچھ سوچا نہیں ہے !“

سونی صاحب نے اپنی نظریں میرے چہرے پر جمادیں اور کہا

”تو پھر سوچ لیجئے ۔ اگر وہ پاگل لڑکی آپ سے شادی کر نا چاہے تو مجھے کوئی Objectionنہیں ہے ۔ آپ ہوشیار آدمی ہیں شاید اُسے سنبھال لیں !“

میں نے جب اپنی اورسونی صاحب کی میٹنگ کی رپورٹ انجو کو دی تو اُس نے اپنا وسکی کا گلاس نیچے رکھ دیا اور کھڑی ہو گئی ۔وہ دیر تک حیرت سے مجھے دیکھتی رہی پھر پوچھا

”Are you sure؟ سونی صاحب نے کہا انھیں کوئی Objectionنہیں ہے ؟“

میں نے سر ہلایا

”بڑی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے، اب تم بتائو کیا کرنا ہے ۔شادی کروگی مجھ سے ؟“

وہ سر ٹیڑھا کر کے دیر تک مجھے اس طرح دیکھتی رہی جیسے میری بات پر یقین کرنے کی کوشش کر رہی ہو پھر مسکرائی

”تو انھیں کوئی Objectionنہیں ہے ؟“

”بالکل نہیں !“ میں نے کہا ”انھیں مجھ جیسا داماد کہاں ملے گا تو بولو تمہارے لیے ڈولی اور میرے لیے گھوڑے کا آرڈر دے دیا جائے ؟ “

وہ ہنسی اور بولی

”اِس پر سوچا جا سکتا ہے ! “

وہ دیر تک خاموشی سے مجھے دیکھتی رہی اس کی آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی بہت ہی گہری سوچ میں ہے ایک دو بار اس نے ہونٹ بھی کھولے جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو مگر ارادہ بدل دیا اور وسکی کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لیتی رہی میں بھی چپ چاپ بیٹھا رہا کیونکہ مجھے جو کہنا تھا وہ کہہ چکا تھا اب انجو کی باری تھی اور میں منتظر تھا کہ وہ کیا بولتی ہے اچانک وہ جھکی اور اپنے گرم گیلے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے ،دیر تک اِسی طرح کھڑی رہی پھر پلٹی اور بولی

”چلتی ہوں !“

”کہاں جا رہی ہو یار؟“ میں نے پوچھا ”یہ تو وسکی پی کر بے ہوش ہوجانے کا وقت ہے ! “

اس نے اپنی آنکھیں چمکائیں اور بولی

”Wrongیہ ہوش میں آنے کا وقت ہے !“

پھر اپنا پرس اٹھا یا اور باہر نکل گئی !

اُس شام انجو نہیں آئی ،دوسرے دن بھی نہیں آئی ،میں نے فون کیا تو انونے بتایا کہ وہ گھر پر نہیں ہے۔ میں پریشان ہو گیا ،اس سے پہلے تو انجو نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا جب بھی کہیں جاتی بتادیا کرتی تھی ایسا کیا ہوا ہوگا کہ وہ بنا کچھ بولے کہیں چلی گئی ۔میں اُسے ڈھونڈنا چاہتا تھا مگر کہاں ڈھونڈ تا ؟میں تو اس کے دوستوں کو بھی نہیں جانتا تھا۔ تیسرے دن مجھ سے برداشت نہیں ہو سکا ،مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے انجو ناراض ہو گئی ہے مگر وہ کس بات پر ناراض ہو سکتی ہے۔ ہمارے بیچ ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوئی جو اُسے بری لگتی ۔ہو سکتا ہے شادی کا Proposal پسند نہ آیا ہو مگر چہرے سے تو نہیں لگ رہا تھا کہ اُسے بُرا لگا ہواوراگر اسے کوئی اعتراض تھا تو بول سکتی تھی ،یہ خاموشی کیوں؟ میں سوچتے سوچتے تھک گیا تو بنگلے پر پہونچ گیا، انو کی آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ وہ پریشان ہے اور کچھ چھپا رہی ہے ،بہت پوچھنے پر اس نے بتایا کہ انجو اچانک کشمیر چلی گئی ہے ۔

”کشمیر ؟“میں نے حیرت سے پوچھا ” اچانک کشمیر کا پروگرام کیسے بن گیا ؟کس کے ساتھ گئی ہے ؟“

”آپ تو جانتے ہیں انجو کو وہ کیسی لڑکی ہے کب ،کہاں، کیا کرے گی کسی کو بتاتی بھی نہیں ہے !“

انو نے یہ سب کچھ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں کھڑ کی کے باہر دیکھتے ہوئے کہا تھا اس لیے میرا شک کچھ اور بڑھ گیا اور یقین ہونے لگا کہ بات کچھ اور ہے جو چھپائی جا رہی ہے پھر بھی میںنے پوچھا

”اس کا نمبر ہے تمہارے پاس ؟“

”نہیں!“ انو نے سر ہلایا

میں بہت اُلجھن میں تھا مگر کر بھی کیا سکتا تھا اس لیے جانے کو کھڑا ہو گیا، چلتے چلتے میں نے انو سے کہا

”اگر اس کا فون آئے تو کہنا ایک بار مجھ سے بات کر لے “

مگر انجوکا فون نہیں آیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ وہ شادی والی بات سے ناراض ہو گئی ہے مگر ایسی بھی کیا ناراضگی کہ کوئی غائب ہی ہو جائے !

کوئی پندرہ دن بعد مجھے اپنی بے چینی اور پریشانی کا جواب مل گیا ۔انگلش کے ایک بہت مشہور ہفتہ وار اخبارمیں جو فلمی دنیا کی ساری چھوٹی بڑی خبروں کے لیے مشہور تھا انجو کا فوٹو دکھائی دیا، وہ سری نگر کی کسی پارٹی میں بہت سے لوگوں کے بیچ کھڑی تھی اور اس کا ہاتھ ایک گنجے موٹے اَڈھیر عمر کے کندھے پر رکھا ہوا تھا اور بہت خوش نظر آرہی تھی ۔میں اس آدمی کو پہچانتا تھا وہ ایک مشہور فلم ڈسٹری بیوٹر تھابابو رام بھنڈاری ،راجندر سونی کی طرح اس کی دولت اور عیاشی بھی ساری انڈسٹری میں مشہور تھی ۔میں حیران تھا کہ انجو بابو رام تک کیسے پہونچ گئی ۔جہاں تک مجھے معلوم تھا راجندر سونی اور بھنڈاری ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے ۔کہانی یہ بتائی جاتی تھی کہ سونی صاحب کی بہت سی فلمیں بھنڈاری نے ریلیز کی تھیں اور ان کے پیسے کھا گیا تھا ۔ سونی صاحب کے لیے بھنڈاری کا نام ایک گالی تھا اوراب ان کی بیٹی اس گالی سے چپکی ہوئی کھڑی تھی ۔ غصّہ روکنے کی کوشش میں میری آنکھوں میں آنسو آگئے ۔دل چاہ رہا تھا کہ خود کو ہنٹر سے اتنا ماروں کہ سارا جسم نیلا ہو جائے ۔میں اتنا بڑا دھوکہ کیسے کھاگیا ۔میں اُس لڑکی کو کیوں نہیں پہچان سکا جس کی آنکھوں میں فاختہ جیسی معصومیت دکھائی دیتی تھی ،وہ معصومیت شاید ایک نقاب تھی جس کے پیچھے ایک مکّار لڑکی کا چہرہ چھپا ہو اتھا جو مجھ سے کھیل رہی تھی۔ میں نے Penاٹھایا اور انجو کے فوٹوپر اتنی لکیریں بنائیں کہ وہ بالکل سیاہ ہو گیا پھر میں نے اخبار کو ردّی کی ٹوکری میں پھینکا اور کہا

”یاد رکھو تم کسی انجلی سونی کو نہیں جانتے ہو ،تم نے کبھی کسی انجو نام کی لڑکی سے عشق نہیں کیا ہے ۔زندگی کا یہ سین وقت کے ایڈیٹر نے نکال کر پھینک دیا ہے، بھول جائو اس کو ! “

ایسا کوئی حادثہ ہو جائے جیسا میرے ساتھ ہوا تو وقت بہت دھیرے دھیرے چلنے لگتا ہے مگر جیسے جیسے ہم حادثے کو بھولتے جاتے ہیں ویسے ویسے وقت کی رفتار بھی تیز ہوتی جاتی ہے اور ایک دن سب کچھ ویسا ہی ہو جاتا ہے جیسے کبھی پہلے تھا ۔میرے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ذہن کی آئینے میں انجو کی جو تصویر تھی دھندلی ہوتی گئی ۔اس کے بارے میں خبریں ملتی رہتی تھیں کبھی دوستوں سے ،کبھی دشمنوں سے ،کبھی اخباروں سے اور کبھی انوسے مگر جو کچھ بھی سننے میں آتا اُسے سن کر خوشی نہیں ہوتی تھی بلکہ گھِن آنے لگتی تھی ۔ انجو بابو رام بھنڈاری کے ساتھ لندن چلی گئی تھی اور اس کے ساتھ ہی رہتی تھی پھر ایک دن اُسے وسنت شیٹّی کے ساتھ دیکھا گیا ، وسنت کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ حوالہ کا کاروبار کرتا ہے اس پر بہت سے مقدمے بھی چلے مگر کبھی جرم ثابت نہیں ہو سکا۔ شیٹی کے بعد ایک مشہور ہیرو کا بھائی پھر اس کے بعد ایک اور بد نام غنڈہ جو پیسے کے بل پر الیکشن جیت کر ایم ایل اے بن گیا تھا اور پھر آصف ٹوپی جو ایک سفید پوش سمگلر تھا اور جس کے رشتے ڈی کمپنی سے بتائے جاتے تھے ۔میں یہ سب خبریں سنتا اور غصّے میں جھنجلا کر سوچتا کہ انجو یہ سب کیا کر رہی ہے ۔کیا وہ پاگل ہو گئی ہے جو دنیا بھر کے غنڈوں، بدمعاشوں اور سمگلروں کے ساتھ اپنی زندگی برباد کر رہی ہے اور جو بدنامی مل رہی ہے وہ الگ ہے ۔ مگر کوئی اس کا جواب دینے والا نہیں تھا ۔ اِسی طرح چھ برس گزر گئے !

میں موریشس میں تھا جہاں میری ایک فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی اور میں بھی یونٹ کے ساتھ آگیا تھا ۔موریشس بڑی خوبصورت جگہ ہے اُسے دیکھ کر اکثر خیال آتا ہے کہ اگر دوسری دنیا میں کوئی جنت ہو گی تو شاید ایسی ہی ہوگی ۔ میں اپنے کمرے کی بالکنی میں کھڑا سمندر کو دیکھ رہا تھا جو پل پل رنگ بدل رہا تھا ہلکا ہرا، گہرا ہرا ،نیلا ،گلابی ،سورج کے خون میں ڈوبا ہوا لال، عجیب سمندر ہے یہاں کا !زندگی کی طرح رنگ بدلتا رہتا ہے ۔گھنٹی بجی تو میں سمجھا وہ اسسٹنٹ ڈائرکٹر ہو گا جسے میں نے سین لینے لے لیے بلایا تھا ۔ دروازہ کھولا تو انجو کھڑی تھی ۔میں اُسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ پل بھر میں غم ،غصّہ،نفر ت سب گڈمڈ ہو گئے۔کچھ سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ کیا کروں اور کیا بولوں۔ ہم دونوں چپ چاپ دیر تک ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر وہ مسکرائی

”اندر آنے کو نہیں کہو گے ؟“

میں ایک طرف کو ہٹ گیا وہ صوفے پر بیٹھ گئی ،میں اُسے دیکھے جا رہا تھا ۔ایک زمانہ تھا کہ یہ لڑکی جو کسی اجنبی کی طرح سامنے بیٹھی ہے ،میری محبوبہ ہو اکرتی تھی بات بہت پرانی نہیں تھی مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے صدیاں بیت گئی ہیں ۔وہ دور جب وقت رستہ بھول جا تا ہے، جب لمحے پگھلتے نہیں ہیں برف کی بوندوں کی طرح جم جاتے ہیں ۔ جب چاروں طرف ایک سرخ دھند چھا جاتی ہے ، جیسے شام کے سورج نے رات کو اپنی بانہوں میں لے لیا ہو ۔ مگر وہ شامیں کب آئی تھیں ؟۔ وہ راتیں کب ملی تھیں جن کی عمر بہت کم ہوتی ہے اور وہ د ن کہاں گئے جو گزرتے ہی نہ تھے ۔ یہ سپنوں جیسی باتیں کس جنم کی ہیں ۔شایدکسی پچھلے جنم کی۔ آج جو لڑکی سامنے بیٹھی ہے یہ وہ نہیں ہے جسے میں جانتا تھا ،جسے میں چاہتا تھا اور اگر یہ وہی ہے تو بہت بدل گئی ہے ۔ اب اس کی آنکھوں میں وہ فاختہ والی معصومیت نہیں ہے ۔اب وہ ایک ایسی عورت کی آنکھیں ہیں جس نے بہت کم وقت میں بہت کچھ دیکھ لیا ہو ۔ وہ بھی چپ چاپ مجھے دیکھے جا رہی تھی ۔

میں نے اپنے غصّے کو دباتے ہوئے پوچھا

”تم یہاں کیا کررہی ہو ؟“

”میں بھی اِسی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ہوں ،تمہارے بارے میں پتہ لگا تو سوچا ایک ہیلو بولنا تو بنتا ہے! “

”تھینک یو !“ میں نے ایک زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور پوچھا”آج کل کس کے ساتھ ہو ؟“

وہ مسکرائی ”میری چھوڑو اپنی سنائو کیا کیا لکھ رہے ہو، سونی صاحب سے ملاقات ہو تی ہے یا نہیں ؟“

مجھے اس سے نفرت ہو رہی تھی اور جی چاہتا تھا کہ کسی بات کا جواب دینے کے بجائے چیخ کر کہوں ۔

”Get Outیہاں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے !“

مگر پتہ نہیں کیوں ہمت نہیں ہوئی ،اندر سے بار بار آواز آرہی تھی کم سے کم ایک بار پوچھ تو لے کہ تو جو کچھ کر رہی ہے وہ کیوں کر رہی ہے ۔ہو سکتا ہے اس کے پاس کوئی ایسا جواب ہو جو تجھے حیران کر دے اور سارا غصّہ پگھل جائے ۔خاموشی لمبی ہوگئی تو اس نے کہا

”کوئی کسی کو Hateکرے تو گالی دیتا ہے گالی ہی دو !“

میں نے ایک ایسے لہجے میں جس میں تیزاب گھلا ہو اتھا پوچھا

”کتنی گالیاں سن سکوگی؟“

”جتنی تمہارے پا س ہیں !“اس نے جواب دیا

اور میں واقعی پھٹ پڑا ،جھوٹی ،مکّار،دھوکے باز ،آوارہ اور نہ جانے کیا کیا کہہ ڈالا ۔

وہ سنتی رہی اور پلکیں جھپکاتی رہی ۔اُس کی آنکھوں میں کوئی جذبہ نہیں تھا نہ درد ،نہ شرم،نہ غصّہ جب میں تھک کر رُک گیا تو وہ مسکرائی

”بولتے رہو، مجھے بُرا نہیں لگ رہا ہے !“

میں بیٹھ گیا ،اچانک مجھے احساس ہو ا کہ میری آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے ،شاید غصّے کی زیادتی کی وجہ سے یا شاید اُس تکلیف کی وجہ سے جو برسوں سے کہیں اندر دبی ہوئی تھی اور آج اُبھر آئی تھی ۔ وہ خاموش بیٹھی مجھے دیکھتی رہی ۔میں نے آنکھیں صاف کیں ،پانی کا ایک گھونٹ پیا اور ایک ایسے آدمی کی طرح جو سب کچھ ہار چکا ہو پوچھا

”اگرتمہیں مرد بدلنے کا اتنا ہی شوق ہے تو یہ چور ،غنڈے،سمگلر کیوں ؟ دنیا میں اچھے لوگ بھی تو ہیں ۔کیوں کررہی ہو یہ سب کچھ ؟“

وہ سنبھل کر بیٹھ گئی ۔

”کیا تم اب تک نہیں سمجھے میں تو بتا کر گئی تھی !“

”کیا بتا کر گئی تھی ؟ “ میںنے پوچھا

”تمہیں یاد ہے میں نے کہا تھا میں کچھ ایسا کرنا چاہتی ہوں کہ راجندر سونی غصّے میں پاگل ہو جائے ،چیخے ،چلّائے ،سر کے بال نوچے مگر میرا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ اور میں یہی کر رہی ہوں ۔وہ میری ماں کا خونی ہے ،میں اُسے سزا دے رہی ہوں۔ تمہیں معلوم ہے ،میری گندی storiesسن کر اُسے ایک اٹیک آ چکا ہے مگر میں معاف نہیں کروں گی ،یہ سزا اُس وقت تک چلتی رہے گی جب تک وہ پاگل ہو کر Suicideنہیں کر لیتا یا مر نہیں جاتا !“

”اوہ گوڈ ۔“ میرے منہ سے نکلا اوردہشت کی ایک ٹھنڈی لہر رگوں میں اُتر گئی مجھے بہت کچھ یاد آگیا ، انجو کی نفرت ،اس کی باتیں ،اُ س کی آخری ملاقات اور وہ شام بھی یاد آگئی جب سونی صاحب نے مجھے بلایا تھا اور انجو کی فوٹو والا نیوزپیپر دکھا کر اتنی زور زور سے چیخے تھے کہ اُ ن کی آواز پھٹ گئی تھی ۔

”میری بیٹی ،کمینی ،حرامزادی میرے سب سے بڑے دشمن کے ساتھ گھوم رہی ہے That bastard بابو رام وہ بدلہ لے رہا ہے مجھ سے ،میری بیٹی کو برباد کر کے ، تم نے اُسے روکا کیوں نہیں ،بلائو اس کو ،فون کرو ۔ ورنہ میں خود سری نگر جا کے دونوں کو گولی مار دوں گا ۔جائوجائو کچھ کرو !“

میں نے سری نگر کے ہوٹل کا پتہ ڈھونڈ کر فون بھی کیا تھا مگر انجو نے فون لینے سے انکار کر دیا تھا ۔ مجھے وہ مسکراہٹیں بھی یاد آگئیں جو فلمی پارٹیوں میں راجندر سونی کی بیٹی کی آوار گی کی رنگین کہانیاں سن کر لوگوں کے ہونٹوں پر آیا کرتی تھیں ۔ اب اور کچھ یاد کرنے کی ہمت نہیں تھی ۔میں نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں دبا لیا اور آنکھیں بند کر لیں ۔ کمرے میں بہت دیر تک خاموشی رہی ،ایسا لگتا تھا جیسے لفظ اچانک ختم ہو گئے ہوں ۔

”اچھا میں چلتی ہوں!“

انجو کی آواز سنائی دی تو میں نے آنکھیں کھول دیں،وہ کھڑی ہو گئی تھی اور بالکنی سے باہر دیکھ رہی تھی جہاں سمندر ایک اور رنگ بدل چکا تھا ۔ میں پاس کے پاس جا کے کھڑا ہو گیا ۔

”بہت زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے انجو ،بھول جائو سب کچھ اور واپس آجائو !“

وہ مسکرائی ۔بہت دیر بعد اس کی مسکراہٹ میں وہ پرانا رنگ دکھائی دیا جو مجھے بے چین کر دیا کرتا تھا ۔

”اِس پر سوچا جا سکتا ہے !“

اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اُسے چوما اور باہر نکل گئی !

انجو واپس نہیں آئی ۔مجھے معلوم تھاوہ واپس نہیں آئے گی ،وہ اتنی دور جا چکی ہے کہ واپسی کے تمام راستوں کے نشان کھو گئے ہیں مگر ایک فرق آ گیا تھا ،وہ کبھی کبھی فون کرنے لگی تھی، شروع شروع میں تو اچھا نہیں لگا مگر پھر سوچا اور سب کچھ تو ختم ہو چکا ہے یہ ایک چھوٹا سا تعلق کسی خوبصورت یاد کی طرح قائم رہے تو بُرائی کیا ہے ۔ اس لیے وہ جب بھی فون کرتی اور ہنس ہنس کر اپنے عاشقوں کے قصّے سنایا کرتی تو میں سنتا رہتا ۔مجھے اس کی باتوں میں وہی مزہ آنے لگا تھا جو پہلے آیا کرتا تھا جب وہ اپنے دوستوں کی ،یونیورسٹی کی اور فلم والوں کی کہانیاں سنایا کرتی تھی۔ میرے اور اس کے درمیان جو رشتہ بن گیا تھا وہ دوستی نہیں تھا اور دشمنی بھی نہیں تھا ،پتہ نہیں کیا تھا اِ س طرح چار برس اور گزر گئے ۔ انو اٹلانٹا جا بسی ۔سونی صاحب کی دو فلمیں بُری طرح فلاپ ہوئیں اور انھیں اپنا Distribution Officeبند کرنا پڑا ۔ انھوں نے پارٹیاں دینا تو کیا پارٹیوں میں جانا بھی بند کر دیا تھا اور زیادہ تر اپنے گھر ہی میں رہا کرتے تھے ۔میری زندگی میں بھی ایک لڑکی آگئی تھی اور میں پھر ایک بار وہ خواب دیکھنے لگاتھا جو انجو کے ساتھ چلے گئے تھے ۔وہ ایک اُداس شام تھی، میں اپنا پہلا پیگ بنا رہا تھا جب انو کا فون آیا، اس نے بتا یا کہ انجو اسپتال میں ہے اور آپ سے ملنا چاہتی ہے !

میں اُسے دیکھے جا رہا تھا مجھے اُس پر ترس آ رہا تھا۔میں سوچنے لگا فاختہ نے بدلہ لینے کے لیے باز کے نوکیلے پنجے لگاتو لیے مگرنادان یہ نہیں جانتی تھی کہ تیز ناخن خود اس کو بھی لہولہان کر دینگے۔انجو نے آنکھیں کھول کر پھر پوچھا

”تم نے بتایا نہیں ڈاکٹر نے کیا کہا ؟“

”کیوں پوچھ رہی ہو؟“میں نے کہا

”کیونکہ وہ باسٹرڈ مجھے کچھ نہیں بتاتا ہے !“

میں نے اس کا ہاتھ تھپ تھپایا

”ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ لیور میں جو انجکشن دیا ہے اگر کام کر گیا تو پندرہ دن میں گھر چلی جائوگی!“

وہ مسکرائی اس کے چھوٹے چھوٹے خوبصورت دانتوں کی سفید قطار نظر آئی ۔

”اور اگر انجکشن فیل ہو گیا تو پندرہ دن بعد شمشان چلی جائونگی رائٹ؟“

”رائٹ ! “ میں نے سر ہلایا

وہ دیر تک مجھے دیکھتی رہی پھر پوچھا

”ایک کام کروگے ؟“

”بولو“

”میرے پاس آکر لیٹ جائو !“

”کیا ؟“ میں حیران ہو گیا

”میں تمہاری گرمی کو محسوس کرنا چاہتی ہوں ۔پھر ایک بار !“

”تم پاگل ہوگئی ہو انجو !“

”پلیز!“ اس نے کہا اور میرا ہاتھ زور سے دبانے کی کوشش کی جو اس کا کمزور ہاتھ نہیں کر سکا ۔ مجھے رحم آگیا یہ وہی لڑکی ہے جس کے بدن کی خوشبو دار گرمی میری رگوں میں نشے کی طرح اُتر جایا کرتی تھی ،جس کے لمس کے سرور سے آنکھیں بند ہو جایا کرتی تھیں ۔

”پلیز !“اس نے پھر کہا

میری آنکھوں میں جلن ہونے لگی ،دبلی پتلی تو وہ ہمیشہ سے تھی مگر اس طرح پگھل گئی ہوگی یہ تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ہسپتال کے کمبل کے اندر چھپا ہوا اس کا بدن کسی ایسی چڑیا جیسا ہو گیا تھا جس کے تمام پر نوچ لیے گئے ہوں ۔وہ میری گود میں سمٹ گئی اور اپنا سر میرے گردن پر ٹیک دیا ، یہ اس کا پسندیدہ پوز تھا ۔ میں نے اس کے بالوں پر ہونٹ رکھ دیئے ،ان میں قیمتی شیمپو کی خوشبو باقی تھی مگر بال روکھے اور بے رونق تھے ۔ میںاس کی گرم سانسوں اور سوکھے ہونٹوں کو اپنے سینے پر محسوس کرتا رہا ۔اچانک اس نے سراٹھایا اپنے کمزور کانپتے ہاتھ سے میرے بالوں کو ٹھیک کیا جو ماتھے پر آگئے تھے اور دھیرے سے بولی

”میں نے ہاسپٹل میں تمہارا نام لکھوا دیا ہے ۔میری لاش تمہارے سوا کسی اور کو نہ دی جائے !“

”تجھے کچھ نہیں ہو گا یار ۔لاش واش کی باتیں کیوں کر رہی ہے ؟“

میں نے اُسے روکنا چاہا مگر اس نے سنا ہی نہیں ۔

”کسی کو بتائے بنا چپکے سے لے جا کر جلا دینا ۔راجندر سونی کو کبھی نہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں مر چکی ہوں !“

میرا جی چاہا کہ اُسے کہیں چھپا دوں جیسے بچے اپنے کھلونوں کو چھپا دیتے ہیں۔ کسی ایسی جگہ لے جائوں جہاں موت بھی نہ ڈھونڈ سکے ۔ مگر ایسی جگہ کہیں نہیں تھی نہ اس کمرے میں نہ کمرے کے باہر اور نہ میرے تصور میں ۔ میں دیر تک انجو کو دیکھتا رہا پھر اپنی جلتی ہوئی آنکھیں بند کر لیں !!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*