ناہید صدِیقی کا رقص

انفرادی رقص بالخصوص ِ برصغیر کے کلچرل ماتھے کا جھومر بن گیا۔ شمالی ہندوستان میں کتھک نامی رقص یک نفری ہوتا ہے۔ کتھک ، کتھایعنی کہانی پر مبنی ہوتا ہے۔ اجتماعی بلوچی رقص کی طرح اِس کتھک رقص میں بھی ناظرین کے علاوہ سامعین بھی شامل ہوتے ہیں۔

میں یہ انفرادی رقص دیکھنے کا عرصے سے متمنی تھا۔ ہم نے عمر کا بڑا حصہ ایسے دوستوں کی تلاش اور صحبت میں گزار دیا جو زندگی کا انسپیریشن دیتے ہوںجو اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ ترین ہنر کار ہوں ۔ ۔۔اور پھرلاہور شہر میں ایک سنہرا موقع مل ہی گیا کہ اُس آرٹسٹ کے فن کے کمال کو دیکھوں جو اعضا کو شعوری طورپر فطرت سے ہم آہنگ کرنے میں ثانی نہیں رکھتی۔اُس شام آرٹ سے مکالمہ اپنے اعلیٰ ترین لمحات میںداخل ہونے والا تھا جب اپنے فن میں یکتا نا ہید صدیقی ہمارے انگ ا نگ سے ” واہ“ کہلواتی ژولیدہ ارواح کے سوالوں کی تشفی کرنے والی تھی۔

اُس سال کو14 اکتوبر کی رات، پندرہ اکتوبر بن رہی تھی اور پورا ہال ‘بازار کی وحشت سے دھیرے دھیرے نجیب انسانوںکی بلند ارواحی میں ڈھل رہا تھا۔بے ترتیبی کو ترتیب دینے کے یہ ساری لوازمات لاہور الحمرا میں پورے ہورہے تھے۔ جب سارے مندوبین کھانے والے ہال میں تھے، میں کھانے کو چھوڑ پیٹ کو روحانی صفائی کے شایان شان بنانے روزے کی حالت میں سیدھا اُس ہال کی جانب چل دیا جہاں مکمل ہارمنی کا نزول ہونے والا تھا۔میں اُن میں سب سے آگے آگے تھا۔پہلے پہنچنے میں ایک لالچ یہ تھی کہ اولین صف میں وہ جگہ مل جائے جہاں پاکیزگی کا سرچشمہ اپنی قریب ترین اور واضح ترین صورت میں دکھائی سنائی دیتا ہو،جہاں آپ رقاصہ کو انتہائی قریب سے دیکھ سکیں ۔اور کتھک میں قربت کا مطلب اُس کے گھنگھرو بندھے پیر ہوتے ہیں……..اور ہم وہ جگہ پانے میں کامیاب ہوگئے۔ میرے دائیں طرف طبعی حسن سے منور اور آرٹ کی نعمتوں سے مخمور خاتون‘ ثمینہ پیرزادہ بیٹھی میرے ساتھ مقدس دوستی کا پل تعمیر کررہی تھی اور بائیں طرف اُس کا آرٹسٹ دیور بیٹھا تھا۔ فاطمہ حسن یہاں بھی دوستیوں کا موجب تھی اور فرحت پروین ‘عطاءالحق قاسمی، ڈاکٹر انوار احمد اور منیر بادینی ہمارے الیکٹران بنی وحشتوں کو قابو کرنے والے پروٹان تھے …….. فن شناس ارواح!!۔

کھچا کھچ بھرے ہال میں انسانوں کی بھنبھناہٹ اُس وقت اتھاہ تعظیم کی طرح خاموش ہوگئی جب اچانک روشنیاں گُل ہوگئیں۔محض ایک مضمحل و ناتواں کرن سٹیج کے ایک کونے پر آرٹسٹک اندا ز میں ایک دائرے میں مرکوز ہوئی۔” شب دُز“ رقص کی شروعات روشنی کو کنٹرول کرنے سے ہوئی ۔ ( اور روشنی بہت باشعور مظہر ہوتی ہے۔یہ کبھی بھی آمریت و فسطائیت سے قابو نہیں ہوتی مگر آرٹ اور مہر تو درخشاں مہر کی روشنی کو بھی اپنا بھائی بند بنا لیتے ہیں)۔

فضیلت ، حیرت زدہ کردیتی ہے۔ اور یوں، ناہید کی تربیت ونظم کے شاگرد سکون آور ماحول کو اٹھان دینے لگے۔ ہم اُس کے شاگردوںکی اِن تہہ دار حیرتوں میں گم تھے کہ حیرتوں کی ملکہ خود آئی …….. نا ہید صدیقی۔ روشنی کی مرکوز شعا ع اپنے محور پہ کھچ گئی ۔ عبادت کی معراج تو وہی لمحہ ہوتا ہے جب ساری انسانی حسیات ایک نقطے پر جا مرکوز ہوجائیں……..اور یہ محض ایک لمحہ نہ تھا۔ یہ پورے دو گھنٹے تھے۔ مکمل ہوش و حواس میں رہتے ہوئے بھی مکمل مدہوشی کے دو گھنٹے ۔بلوچ و کوچ ، مست و سمو، شاعر و آرٹسٹ سب کے سب ہپنا ٹائز رہے۔ نقش بن رہے تھے، نگار بکھر رہے تھے، مناظر شکل پذیر ہورہے تھے۔ رقاصہ تماشائی تھی ، تماشائی رقاص بن چکے تھے۔ اعلیٰ عیت ، ارفعیت، شاعریت ، دانشوریت ، اکیس گریڈےت سب کچھ اگلی کے پیروں تلے۔ جی ہاں گھنگرو بندھے پیروں کے تلوﺅں پہ ہماری روح کے کان تھے اور اُس کے انگوٹھے اور ٹخنے تک کی حد تک ہی ہماری بصارت کی بصیرت محدود تھی۔

ماضی جھڑ چکا تھا ،مستقبل فراموش ہوچکا تھا، روز و شب سے پرے ، روز و شب کے معاملات و مسائل سے پرے، تعصبات و امتیازات و مسلّمات و روایات سے پرے، بس لمحہِ موجود موجود تھا۔ لمحہِ موجود جو فنکارہ کے پیروں سے بندھا تھا۔

سچ بہت ہی بلاواسطہ ، بہت ہی فوری دستیاب تھا ۔ ذات اُس سے جڑ چکی تھی۔ ایک ایسی کھوج جس میں ذہن کو سُن ہونا پڑتا ہے ۔( اور ذہن کافر تو گہرے انستھیزیا میں بھی سُن نہیں ہوتا)۔…….. اور اس آرٹسٹ نے ایک نہیں دو نہیں پورے نیم ہزار حاضردماغ سُن کر رکھے تھے ۔ اور وہ بھی رومی کے گردشی رقص سے نہیں ، بلکہ چھنچھناتے گھنگھرﺅں کی معجزاتی ہم بستہ و پیوستہ و ہم آہنگ جھنکار سے ۔ یہ سُن اذہان خود کو دریافت و بازیافت کررہے تھے۔

امتیازات کی ساری دیواریں ٹوٹ چکی تھیں، تعصبات کی ساری چٹانیں بخارات بن چکی تھیں، اَنا کُشی کی ہماری عبادت شیریں ترین جشن بن چکی تھی۔ ہم عالمِ بقا میں تھے، بجتے گھنگھرﺅں بھرے تھرکتے پیروں نے ہمیں وہ شاہراہ عطا کردی تھی جو ہمارے عہد کی شناخت یعنی مکمل ژولیدگی سے نجات کی منزل تک لے جاتی ہے۔

ہماری جبلی انسانی مراقباتی ذہانت ہمیں دوبارہ عطاہوئی جو درد کی نوعیت پہ مشتمل قصے کہانیاں نہیں سناتی بلکہ علاج کی تلاش میں نکلنے کی خاصیت سے مالامال ہے۔ رقاصہ ہر بے پیر کی مرشد بن چکی تھی، آزادی جیسی مقدس منزل کی راہنما پیر۔ ہم ایک ایسی کیفیت میں آگئے جو جاگتے ذہن کی فریکوئنسی سے گرفت میں نہیں آتی۔ وہ سب کچھ جو استبداد کی تلوار ، مارشل لا کے تشدد اور تیز ترین شراب پینے سے بھی سینے سے باہر نہیں نکلتا وہ سب کچھ طبلے کی چند دھڑکنوں، سارنگی کے چند ہچکولوں اور ملائکہ جیسے دو ٹخنوںکی مافوق الفطرت جنبشوں کے سامنے سر بہ سجود افشاں ہونے صف بستہ چلاآتا ہے۔ خود کو مکمل طور پر جاننے کی ساعت ۔ ہم اپنے چھوٹے وجود کو کسی بڑی شئے میں غائب کردینے کی شاندار اہلیت پا چکے تھے، ایسی بڑی شئے جو محفوظ ہے ، نا قد سے بھی ناصح سے بھی۔

آس پاس کا کچھ ہوش نہیں ۔ اس کے برگزیدہ چہرے پر تو صرف اُس وقت نگاہ پڑتی تھی جس وقت اس کے پیر ایسا کرنے کا حکم دیتے۔ اور اسکا چہرہ بہت گریس فل تھا۔ اس کا جسم گریس فل تھا، جسم کا ارتعاش گریس فل تھا، اس کی انگلیاں ہاتھ ، بازو، کہنیاں کندھے ، گٹھنے ، سرین اور پیرگریس فل انداز میںبول رہے تھے، گارہے تھے …….. جیسے بحیرہ ِ بلوچ کی پرسکون لہریں جھومتی ہوں، جیسے پارے کو رقص کرتی بوتل میں ڈال دیا جائے ، جیسے شادمانی کی تقریب میں محبوبہ لہرا رہی ہو۔

ہمارا ہر ہر خلیہ حیرت و استغراق کے ساتھ مودب و مہذب سن رہا تھا۔ ہم ممنون و مشکور ہورہے تھے ۔مخمورو مبہوت، مجبورو مخبوط ، محصور و مسحور، مربوط و مغلوب ، منظوم و منضبط ۔ہمیں معلوم ہوا کہ ہماری ہر حرکت، ہر لمحہ ، ہر دھڑکن ، ہر وقفہ ، ہر سوچ ، ہر مدبھیڑ ، ہر دعا ، ہر قدح ، ہر جام، ہر کچھ، ہمہ کچھ رقص ہی میں تو ہے۔ ہم کارل ساگاں بن چکے تھے، ہم اُس کی کتاب ” کاسموس“ بن چکے تھے۔

ہم Pulse Silent ہوچکے تھے۔ہم انہماک کے ایسے بے کراں لمحہ میں تھے جہاں ہمارا ایک ایک جُزو مجسم رقص میں تھا۔ ہم ناہید کے پیروں کے گھنگھرو بن چکے تھے۔ ہمارا نروان ہمیں مکمل مل چکا تھا۔ دو گھنٹے کا نروان۔

رقص تو سماج سے مکالمہ ہوتا ہے۔ ریاضت و مہارت و تجربہ ایک عجیب نور بھری گریس عطا کردیتی ہے اور ناہید کا تجربہ کلہاڑی ماری کا تجربہ نہ تھا ۔ یہ تو فائن سے بھی فائن کام تھا۔ نزاکت کا تجربہ، ہم آہنگی کا تجربہ، لولاک کی synchronization کا تجربہ، جب پورے ہال کے دل الگ الگ دھڑکنا بند کرکے اجماع کی صورت اختیا رکریں ۔ یہاں دل گم ، دھڑکن گم،حتیٰ کہ سارنگی ستار اور طبلہ تک گم ۔ ساری کائنات اُس آرٹسٹ کے پیروں کے گھنگھرﺅں کی ہم آہنگی سے ہم آہنگ ہوچکی تھی۔ وہ اپنے پیروں کے تلوے فرش پہ کچھ اس طرح سے جھٹک کر ٹکرا دیتی کہ فرش و تلوہ ایک تالی کی سی آواز پیدا کرجاتے اور یہ تکرار اس قدر باریک و سبک ومہذب وموزون و خو کن ہوتی کہ خود ہی طبلے کا کام کرتی ۔ ساری حرکت ساری گردش اُس کے دو پیروں کی محتاج جو اس تیزی سے مرقص ہلتے کہ اُن کا فی سیکنڈ شمار کرنا نا ممکن ۔ کوئی کمپوٹر آپریٹر ہو یا ماہرنو جواں ٹائپسٹ ، اس قدر ہم آہنگ سبک رفتاری سے تو ہاتھ کی انگلیاں تک نہیں چل پاتیں جس سے کہ وہ پورے پیر کو زمین سے ایک انچ کی بلند ی کے علاقے میں ارتعاش دے رہی تھی۔ ہماری سوچ کی رفتار سے بھی سبک تر۔

اُس کی سبک رفتار روح اُڑتی رہتی ہے، اوپر، آسمان کی جانب۔وہ پتھر جیسے فرش پہ رقص کرتی ہے، وہ روشنی کو چھو لیتی ہے، وہ عقابوں سے لڑپڑتی ہے ، وہ روشنی کو روحوں کی غذا بنالیتی ہے۔ فرشتوں کی طرح کی اس کی نازک جنبش دلوں میں مضبوط خواب جگا دیتی ہے۔ اپنی سانسوں اور دھڑکنوں پہ اس کا کنٹرول ایک معجزہ ہے، اس کی اپنی تجلی، اس کی آنکھیں، اس کی پر سکونیت، اس کا تقدس …….. ایسی مکمل جیسے آسمان پہ ایک چمکتا ستارہ۔

جمالیات کی معراج سے پہلے میں نے اپنی احمقی میں ارادہ باندھ رکھا تھا کہ محویت کے عروج پہ کچھ دعا مانگوں گا ، مگر مقبولیت کے اس سارے دورانےے میں میں وہ سب کچھ بھول گیا۔ کوئی دعا کوئی دغا یاد نہیں رہی۔ یاد رہنا بھی نہ تھا۔ وگرنہ استغراق کے کیا معنی رہ جاتے؟ ۔ یہاں تو ہم ایسے منہمک کہ کھال کی طرح چمٹے ہمارے سارے تواہمات ، سارے شرک و پال ، سارے تعصب و امتیازات تقدس نے سات پہاڑ دور بھگادےے تھے۔ محبت کی ایسی سیر شدہ فضا جس میں کسی نا معقولیت کی گنجائش نہ تھی۔ محبوب سے ملنے کے گناہ میں ٹانگ ٹوٹنے کا ملاّﺅں کا پھیلا یا خوف دور ہوچکا تھا ۔ عشق کی حتمی قدرت پہ ایمان کامل ہوچکے تھے۔ سارا ہال ٹرانس فارم ہوچکا تھا۔ سب ، ” سب ہیومن“ سطح سے بلند ہوچکے تھے ۔ہم سو فیصدتسلیم و رضا بن کر محبت کی ایک ایسی وادی میں تھے جہاں جفا، خفگی، چھوٹے پن کا کوئی گزر نہ تھا ۔ ہم مصر کی ممیوں کی طرح آنت دھلے اور آلودگی سے پاک تھے۔ ہمارا باطن ناہید کی گرفت میں ظاہر ہوچکا تھا اور ہم اچانک ” مزیدمزید “ کے بھکاری بن چکے تھے ۔

اس کے رقص نے ایک طرف تو ہمیںسب کچھ سے الگ کرکے رکھ دیا اور دوسری طرف ارض و سما میں موجود ہر شئے کے جوہر سے جوڑ دیا تھا۔ اس کا رقص فطرت کو محسوس کرنا تھا ۔ اس کا رقص فطرت کی توصیف تھا ۔ فطرت کا شکریہ ادا کرنا تھا ۔ ہم جوڑنے کی ریشمی زنجیر کا ایک حلقہ بن چکے تھے۔ ہماری اصلیت ( انسانیت ) لوٹ آئی تھی ( کتنی آوارہ ہے یہ ۔ لوٹی آتی ہے تو بھی مکمل نہیں …….. مگر آج تو یہ سالم لوٹ آئی تھی)۔

سماج شاید گناہ میں اس قدرڈوبا ہوا ہے کہ اس عظیم رقص سے نکلتی تسکین دِہ اور شاداں نیک لہریں بھی کبھی کبھی اسے اپنی لپیٹ میں لینے میں ناکام تھیں ۔ سماج کی یہ کرختگی اُ س وقت بہت بہت محسوس ہوتی تھی جب انہماک کی عمیق گہرائی میں لوگ تالیاں بجا اٹھتے ۔ شاید ہماری عادت ہوگئی ہے۔ جیسے گیانی کا گیان ٹوٹ جائے ،جیسے مضمون نگار کی روانی کو چھینک آجائے ، جیسے توکلی مست کے وصلِ سمو کی سوچوںمیں رکاوٹ ڈال دی جائے۔ اس کرختگی نے ہمارے پر خمار انہماک کو کئی بار توڑ دیا ۔ یقین جانےے یہ تالیاں نہیں، ضیاءالحق کے کوڑے لگ رہے تھے، جیسے وہ ہماری اپنی پیٹھ پر برس رہے ہوں۔ جیسے گھومتے لٹو کے عروج پر اُس کی نوک کے نیچے کوئی کنکر آجائے ۔

کاش شاہوں، درباروں، بیوروکریٹوں اورپیسے والوں تک ہی محدود یہ نعمت، عام عوام کو میسر ہو۔ اُن کی تربیت میں اس فن کو بھی شامل کیا جاتا …….. تو تب مجھے یقین ہے کہ رقص کے عروج میں تالیاں نہ بجتیں ۔ کہ رحمان بابا کے مزار کو بم نہ لگتے ، کہ دوستیں وڈھ میں ایٹم کا دھماکہ نہ ہوتا کہ چھٹی جماعت میں کسی کو یتیم نہ بنایا جاتا ،کہ تُو تک میں اولادِ آدم کی مسخ میتیں اجتماعی قبروں میں نہ ہوتیں…….. مگر ایسا تو ممکن نہیں۔ ایسا کرنے کے لےے تو بہت کچھ بدلنا پڑے گا۔ شاید پورا نظام۔ پورا نظام جس کے ستار کی ایک تار ٹوٹ چکی ہے، جس کی ہم آہنگی میں مکھی گر گئی ہے، جس کی چہچہاہٹ میں گدھا بولا ہے۔

ٍ …….. اور ہم ؟ ۔ ہمارے باطن کے اندر زندگی کو زندہ رہ کر جینے کا ارادہ شفاف ہوگیا۔ اور زندگی کی ہارمنی اور آہنگ سمجھ میں آگئی۔ بے سُرا پن ممنوع ٹھہرا …….. دہشت گردی، رجعت پسندی، ماضی پرستی ، معاشی لوٹ، جنسی امتیاز اور نسل پرستی انسانی سماج کا بے سُرا پن ہی تو ہیں۔

مجھے مزید مطالعہ کرنا چاہےے۔ یہ دیکھنا چاہےے کہ آیا تاریخ میں کہیں دنیا کے سماجی معاشی مسائل کے حل کی جدوجہد کرنے والوں کی قیادت کبھی کسی رقا ص یا رقاصہ نے کی ہے؟۔ ایک بے ترتیب کلوں، پرزوں، اور اعضا کورقاص کس خوبصورتی سے تربیت دیتا ہے۔ ہے نا !۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*