آخری خواہش

کامریڈز ،
اگر میں وہ دن دیکھنے کے لئے نہ بچا
مطلب یہی کہ اگر میں آزادی سے پہلے مر گیا
مُجھے اُٹھا کے لے جانا
مرے گاوں اناطالیہ کے
آبائی قبرستان میں دفنا دینا،

عُثمان محنت کش
وہی جو حسن بے کے حکم پر
گولی سے مارا گیا
میرے ایک طرف کی جگہ اُس کی ہوگی
شہید عائشہ
جو چارے کے ڈھیر ہی میں
بچہ جنم دینے کے چالیس دن بعد گُزر گئی
سو میرے دوسری طرف کی جگہ اُس کی ہوگی

دن کا اُجالا ، نئے لوگ و جلتے پٹرول کی بو
مشترکہ کھیتیاں ،
کاریزوں سے بہتا شفاف پانی
نہ ہو قحط اور نہ ہو پولیس کے آجانے کا ڈر
ٹریکٹر اور نغمے قبرستان میں سے گُزرنے چاہئیں

ہاں ہم وہ نغمے سن تو نہ سکیں گے
ہم مردے تو زیرِ زمیں اکڑے ہوئے
پیڑ کے خشک کالی جڑ کے جیسے سڑتے ہوئے
اندھے ، بہرے ، گونگے و لاچار پڑے ہیں

لیکن میں وہ نغمے گا چُکا ہوں
ان کے لکھے جانے سے پہلے
میں جلتے تیل کو بھی سونگھ چُکا
ٹریکٹرز کی تخلیق سے بھی بہُت پہلے،

اور میرے پہلو میں موجود ہمسائے
محنت کش عثمان و شہید عائشہ بھی
جن کی ساری عمر یہی آرزو رہی ہوگی
اور شاید اُن کو اس کی خبر ہی نہ تھی

کامریڑز !
اگر میں اُس دن سے پہلے مر جاوں
اور مُجھے تو یقین ہے کہ ۔۔ ایسا ہی ہوگا
مُجھے انطالیہ گاوں کے قبرستان میں دفنا دینا
اگر میرے سرہانے ایک بالشت جتنی جگہ ہو
کہ جہاں ایک اونچا درخت ایستادہ ہو سکے
تو مجھے کسی پتھر
یا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*