*

لال تجھے چھاتی پہ لٹا لوں، سن مرے من کی بات

جس دن تو چندا سا جنما، کالی تھی وہ رات

گھوم گئی تھی دیس کی دھرتی پر اندھی گھنگھور

لوگ نہتے سہم گئے تھے، دیکھ کے ننگا زور

جس دن تجھ کو مان بھری ممتا کا دودھ پلایا

خون چوستا وحشی اُس دن شہروں میں دَر آیا

جب ترا مکھڑا چوم کے میں نے لی تھیں تری بلائیں

کوڑے کھاتے بیٹے اُس دم دیکھ رہی تھیں مائیں

جب ترے ماتھے میں نے پہلا کاجل ٹیک لگایا

گھر گھر پر چھایا تھا اُس دن سنگینوں کا سایہ

ہار کے جنتا بیٹھی تھی جب تو نے سیس اٹھایا

بلک بلک خلقت روتی تھی جس دن تو مسکایا

گھڑی گھڑی نے پھڑک پھڑک کر تیرے دم کو پالا

کوکھ کا سکھ کیا سج کا سکھ جب من میں بھڑکے جوالا

تو رن بھومی پر جایا ہے مرے جگر کے ٹکڑے

دیکھ تجھے پرچانے میں ماتا کا قدم نہ اکھڑے

کیسا لاڈا رے جیون کی ہر کٹھنائی جھیل

ہاتھ نہ میں روکوں گی ترا تو انگاروں سے کھیل

باٹ کے کانٹے تجھے پکاریں، لے یہ میرا ہاتھ

پہلا قدم اٹھا دھرتی پہ اپنی ماں کے ساتھ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*