خوابوں کا نو حہ

میں جو خوابوں کا نو حہ لیے

آسمانوں کو سر کرنے چلا

دور پہنچا افق پر تو دیکھا

زمین میرے قدموں تلے

بچھا خواب ہو گئی

خواب۔ جو میرا تھا لیکن مجھے برہم سا لگا

دوریوں کا پیامبر جو مجھ سے ملا

تو پتہ چلا

جنت آسمانوں پہ نہیں تھی

وہ وہاں تھی جہاں

ریگزاروں کے چمکتے شیشے

تتلیاں، باغ، خوشبو، چرند پرند

آبشاروں کے نغمے، پہاڑ اور بن

بارشیں، آندھیاں، بادِ صبا

سبھی کچھ میرا تھا

میں نے یونہی سرابوں کا پیچھا کیا

کس نگر آ گیا میں

خواب لے کر اڑا، خواب ہو گیا

اب شکستہ پروں کو لیے کب تلک

آسمانوں کی جانب اڑانیں بھروں

وہ بہشتِ بریں تو وہیں رہ گئی

وہ مِرا جانِ من، وہ مِرا گل زمیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*