میاں محمود

27 نومبر1927……..3 جولائی1999

پاکستان کے اندر کمیونسٹ سیاست کی مست جوانی دیکھنی ہوتی تو میں آپ کو فیصل آباد جانے کا کہتا۔ وہاں کچہری بازار میں ” گلی وکیلاں“ نام کی ایک تنگ گلی ہے۔ ایک سادہ مگر کشادہ دو منزلہ مکان میں ادھیڑ عمر کا ایک شخص، چھڑا چھانگ رہتا تھا۔اپنی مجرد حالت کو شادی شدہ مرد حضرات کی زن مریدیوں پرمصنوعی قہقہے لگاتا ہوا چھپا دیتا تھا۔یہ شخص اپنے شہر کا مشہور وکیل تھا۔ چھوٹا قد، فربہ جسم، سر تقریباً گنجا، موٹے ہونٹ اور موٹی آنکھیں،چھوٹے ہاتھوں پہ چھوٹی چھوٹی انگلیاں، کلین شیو…….. سنجیدہ سنجیدہ سا، مگر باوقار طور پر سنجیدہ۔ کم آمیز مگر عام انسانوں کے ساتھ خوش خلق۔ اگر پتلون میں نہ ہوتا تو ہمیشہ سفید موٹی قمیص شلوار میں ہوتا۔ یہ تھا ہمارے انقلاب کا ہیڈ ماسٹر، میاں محمود احمد۔
اور وہ پارٹی ڈسپلن کے بارے میں واقعی ایک ہیڈ ماسٹر تھا۔ وہ مارشل لا اور رجعت کے سخت ترین مخالفوں میں سے تھا۔ غصے میں ہوتا تو اس کا پورا بدن کانپتا ، خوش ہوتا تو گول چہرے پر وسیع مسکراہٹ ، آنکھیں چمک اُٹھتیں ۔وہ بہت ہی کھلے ڈلے دل کا آدمی تھا دوستوں میں ہوتا توخوب چہکتا۔ لطیفے، مسکراہٹیں، قہقہے، بے تکلفیاں۔ تکیہِ کلام تھا: ” لالے“(بڑا بھائی،بلوچی میں ادّا) یا ، پھر پیار بھرا لفظ” بے ایمانا“ اور ، یا ” اوئے کمینے“۔ کبھی
کبھی ” اوئے ملتانی “ یا ” جااوئے بلوچی“ کہہ ڈالتا ، اِس صورت میں کہ آنکھوں میں چمکدار پانی بھر جاتا، چہرہ ہلکے سرخ رنگ سے منورہوجاتا اور ایک وسیع مسکراہٹ چہرے پر پھیل جاتی …….. اِس افق سے اُس افق تک …….. میاں محمود احمد۔
وہ طالب علمی کے زمانے میں کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوا تھا ۔اور تب سے لے کر اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک ایک غیر متزلزل کمیونسٹ ہی رہا۔کمیونسٹ تحریک میں وہ سی آر اسلم نامی ایک اور مستقل دریاکا ایسا دست و بازو رہا کہ یک جان و دوقالب والی بات مکمل طور پر صادق آتی تھی۔
سماج کی جس تبدیلی کو اُس نے اپنا مقصد و مرکزِ حیات بنا رکھا تھا اُس کی تکمیل ابھی تک تشنہ ہے ۔ وہ ایک عوامی جمہوری ریاست کا قیام چاہتا تھا ۔ اس کے نزدیک جمہوریت کوئی مبہم لفظ نہ تھا۔ وہ جمہوریت کو دو باتوں سے مربوط مشروط سمجھتا تھا:
ایک تو سامراج سے نجات کی شرط تھی کہ پاکستان ایک غلام ریاست کی حیثیت سے کبھی جمہوری بن نہیں سکتا ۔ اس لےے کہ جمہوریت ہوتی ہی آزاد ملک میں ہے۔
جمہوریت کے لےے دوسری لازمی شرط و ہ فیوڈلزم کے خاتمے کو سمجھتا تھا۔
یہ دونوں اھداف ، یہ دونوں فریضے ابھی طبعی طور پر زندہ لوگوں کے لےے باقی ہیں۔
میاں محمود اپنی ساری زندگی مارشل لائوں کے خلاف جدوجہد میں رہا، میدان خواہ جلوس اور جلسہ ہوتا ،یا جیل۔ اس کا موقف تھا کہ جس جمہوریت میں ہمیں مبتلا کردیا گیا وہ تو بہت بڑا فراڈ ہے۔ آئی ایم ایف اپنے قرضوں کی وصولیابی کے لیے پاکستان میں اپنے نائب مقرر کرتا رہتا ہے۔ کبھی ڈنڈے بردار فوجی نائب اپوائنٹ کرتا ہے، کبھی ووٹ کا ڈرامہ سجا کر ” منتخب“ نائب کو حلف دلاتا ہے اور کبھی کبھی تو کسی غیر ملکی کو شیروانی پہننے کے عذاب میں مبتلا کردیتا ہے ۔ میاں محمود نے لیاقت علی خان سے لے کر پرویز مشرف تک سب امریکی نائبوں کو بھگتا۔ وہ ایوبی دور میں جیل گیا، ضیاءالحقی زمانے میں جیل گیا ۔۔۔اس نے جسمانی و نظریاتی مصیبتیں جھیلیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*