ریلوے مزدور راہنما لعل خان

 

یکم اپریل1924……..12مئی1966

 

انقلاب کا کل وقتی کارکن میاں محمود اپنی کار پر مجھے،سی آر اسلم ،اوراسلم ملک کو لاہور سے اسلام آباد لے جا رہا تھا۔وہ راستے میں جہلم سے چار میل مغرب میں کالا گوجراں نامی گائوں کی قبرستان کی طرف مڑا۔ لعل خان کی قبر پہ دعاکرنے ۔ ہم اس کی قبر پر دو منٹ خاموش رہے اورپھر اُس کے لےے دعا کی ۔

آگے راستہ بھر اُس شخص کی زندگی اور جدوجہد کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں۔پورا راستہ ہر دوست اُس سے متعلق اپنی اپنی یادوںکو کریدتا رہا ۔

لعل خان ، لعل محمد، لعل ہاں، لعل بخش، لعل بیگ۔۔۔ یہ تو حتماً بلوچی نام ہیں۔ میں نے پنجاب میں لوگوں کے یہ نام بہت کم سنے۔جہلم کا لعل خان ایک مستثنیٰ لگا ۔…….. بلوچ ، بلوچ سا۔

لعل خان اُن انقلابی کرداروں میں سے ہے جن کے گرد بہت سے قصوں روایتوں ، واقعات اور با شرف لطیفوں کا ایک حالہ موجود رہتا ہے ۔ بالکل ایسا جیسے کہ ہمارے کلاسیکل ادب کے ہیروﺅں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ اور یہ سارے اوصاف در اصل لعل خان کی ایک خاصیت کی بدولت ہیں۔اوروہ خاصیت تھی اُس کی بہادری ۔ ایسا بہادر جو نتائج کی کچھ پرواہ نہ کرتا ہو، اور جب ضرورت محسوس ہوئی،میدان میںکود جاتا ہو۔ میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ جن احباب نے لعل خان کو دیکھ رکھا تھا ان میںسے ہر ایک کے پاس اُس کے متعلق ایک نہ ایک واقعہ ضرورموجود تھا :اُس کی بہادری کا ،کمٹ منٹ کااور انسان دوستی کا۔ اور واقعات کے دو بڑے خزانے، میاںمحموداحمد اورخواجہ رفیق تھے جوخود اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔

لعل خان یکم اپریل 1924 میں جہلم کے کالا گوجراں نامی گاﺅں میں ایک غریب کسان گھرانے میں پیدا ہوا ۔ مگر، جہلم میں زمین کہاںاور زمیں داری کہاں!!۔ بس خشکا بہ کا ایک ٹکڑا ہو گا اُن کے پاس۔ جہلم ہمارے بلوچستان کی طرح نا ہموار ، پہاڑی علاقہ ہے ۔ بہت غریب ، بے روزگار اور در بدر علاقہ۔ اس لےے قدرتی طور پر وہاں غریبی امیری کے نظام کی مخالفت میں بے شمار لوگ پیدا ہوئے۔ مگر میں حیران ہوتا ہوں کہ وہیں سے اِس نظام کو بچانے والے بھی ہزاروں لاکھوں لوگ پیدا ہوئے۔ اِن دونوں معاملوں میں میں عام لوگوں کی بات نہیںکررہا بلکہ لیڈروں، ججوں، جرنیلوں کی بات کررہا ہوں…….. ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں۔ لعل خان کے والدکا نام بھی عجب تھا۔۔۔۔ غریب خان ۔ اوریہ نام بھی بلوچوں کے علاوہ میں نے کہیں نہیں سنا ۔

غریب خان واقعی غریب خان تھا۔ اس نے تقریباً تیس سال ریلوے کی ملازمت کی تھی۔

ایک دانہ سکول تھا وہاں کالا گوجراں میں……..، لوئر مڈل۔لعل خان نے وہاں سے چھ جماعتیں پاس کر لیں۔ اس کے بعد کرنے کو کچھ نہ تھا۔ کھانے کو کچھ نہ تھا ۔ چنانچہ وہ لاہور میں اپنے بھائی محمد خان کے پاس آگیا جو کہ لاہور مغلپورہ ورکشاپ میں ریلوے ملازم تھا۔

لعل خان 16 سال کی عمر میں مغلپورہ ریلوے ورکشاپس میں بطور اپرنٹس ملازم ہوا ۔

مگر چار برس بعد دوسری عالمی جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے تو وہ فوج میں بھرتی ہوگیا۔لعل خان محاذ جنگ پر چلا گیا۔ اوریوں اس نے ہندوستان کے مختلف علاقے دیکھے۔ جنگ کے خاتمے پر جری اور بے باک طبیعت کا مالک لعل خان فوجی پابندیوںکو لات مار کردوبارہ لاہور آیا اور اسی ریلوے ورکشاپ میں فٹر کی حیثیت سے مزدور بن گیا۔

لعل خان ولد غریب خان دیہات کا سچا خالص انسان تھا۔ اس نے اپنے اس دیہاتی پن کو زندگی بھر محفوظ رکھا ۔ کہتے ہیں وہ بہت جسیم شخص تھا، لمبے الجھے بال تھے، پشاوری چپل ، راست گو ، صلح جو اور بشر دوست دیہاتی لعل خان۔

وہ شروع میں کچھ عرصہ ریلوے انتظامیہ کا منظور ِنظر بن کراُن کا ڈنڈے مار بنا رہا ۔مگر جلد ہی اپنی دیہی پاک خصلتوں سے مزین لعل خان نے یونین کی سرگرمیوں میں دلچسپی لینی شروع کر دی ۔ وہ مزدوریونین کا باقاعدہ رکن بن گیا اور اپنے گا¶ںوالی پاکی کو پرولتاریہ پن کے اصل جوہرسے ملا ڈالا۔یوں وہ ایک مکمل انسان بنتاگیا۔ غریب ومظلوم انسانوں کی بہتری کی سوچ پروان چڑھتی گئی ۔ رفتہ رفت وہ ٹریڈ یونین کی تحریکی سرگرمیوں کا ایک ایسا حصہ بن گیا جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیاجا سکے گا ۔اُس کی بلند ہمتی سے دوسرے مزدور بھی توانائی حاصل کرنے لگے۔

دلیر لعل خان میدانِ عمل کا آدمی تھا ۔ وہ نظریات پر کوئی لیکچر تو نہیں دے سکتا تھا مگر اس کی عادتیں خصلتیں اچھے انسانوں کی ہوتی رہیں۔ وہ گالی گلوچ اور مکابازی سے بہت دور بھاگتا تھا مگر جب بات مزدور کاز کی آجاتی تویہ سچا انسان سر اوردھڑ کی بازی لگا لیتا ۔ لعل خان جلد ہی ایک ایسا سرگرم ٹریڈ یونین کارکن بن جاتا ہے کہ ساری مزدور تحریک اس کے گرد گھومتی نظر آتی ہے ۔۔۔۔!

اُس وقت ریلوے کی یونین پر کمیونسٹ پارٹی کا بہت اثر تھا۔اس لئے لعل خان بھی کمیونسٹ فکر سے متاثر ہونے لگا ۔ سامراج دشمنی ویسے ہی عروج پر تھی ۔ کمیونسٹ کارکنوں میں درس وتدریس کا عمل بہت منظم اور باقاعدہ ہوا کرتا تھا لہٰذا لعل خان سوشلسٹ نظام کا طرفدار بنتا گیا۔ وہ بار بار نوکری سے نکالا جاتا رہا مگر اپنی جدوجہد سے باز نہ آیا ۔ ہوتے ہوتے وہ کمیونسٹ پارٹی کا کل وقتی کارکن بن گیا اور پارٹی کے زیر اثر سوشلزم کی جدوجہد میں سرگرم عمل ہو گیا ۔ اسی جدوجہد میں وہ مزیدمارکسزم سیکھتا گیا ۔ تنظیمی صلاحیتیں خداداد تھیں ۔الجھاﺅ کو سلجھانے کی مہارت حاصل کرتے ہوئے وہ بہت معتبر کمیونسٹ بنتاگیا۔ مارکسزم کے جو نظریات اس کے ذہن پرمرکوز ہوتے گئے انہوں نے لعل خان کے اندر اس قدر بصیرت اور خود اعتمادی پیدا کر دی کہ وہ دانشوروں ، صحافیوں ، وکیلوں اور سیاسی کارکنوں کی محفلوں میںہرموضوع پر بلا تکلف بحث و مباحثہ کرسکتا تھا ۔

لعل خان کی یونیورسٹی تو مزدور تحریک تھی۔اوراس کا ٹیچر سیاسی جدوجہد ۔اس نے گلی میں، فیکٹری میں، اورکشاپ میں شعوری پروان پائی ۔اسی مارکسی شعورکی روشنی میںوہ تمام عمر ایک بہادر کی طرح اپنے نظریاتی موقف پر ڈٹ کر جاگیرداری اورسرمایہ داری نظام کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرتا رہا ۔ اس کا ہاتھ ظالم کے گریبان تک پہنچنے والا ہاتھ بن گیا ، ہتھکڑیوں سے کھیلنے والا ہاتھ ۔

1951 میں مرزا ابراہیم جیل میں تھاکہ پارٹی نے اُسے مزدور سیٹ پر الیکشن میں کھڑا کر دیا ۔ فیلڈ میں سارا کام لعل خان کو کرنا پڑا ۔ وہ مختصرنوٹس پر جلوس نکلوا سکتا تھا ، بڑا اور کامیاب جلوس ۔ وہ جلسہ منعقد کرتا تا کہ روپوش راہنما اُس سے خطاب کریں۔ سرکار کی غنڈہ گردی، پکڑ دھکڑ، دھونس، دولت بے پناہ تھی ۔۔۔۔ مگر لعل خان ، اٹل لعل خان اپنے دھن میں مگن عمل میں جتا رہا اور مرزا ابراہیم کو کامیاب کرکے دکھایا ۔

اسے لیاقت علی( راولپنڈی سازش) کیس میں لاہورشاہی قلعہ میں الٹا لٹکایا گیا، سلاخوں سے اُسے داغا گیا، مگراستقلال کے اس کے قدم نہ کانپے ۔

1954 میںکمیونسٹ پارٹی پرپابندی لگ گئی لعل خان کا ٹھکانہ سوائے جیل کے اور کہاں ہو سکتا تھا؟۔ گھرکا افلاس ، خاندان کی بہبود ،بچوں کی تعلیم ، اُن کی صحت کا غم، اپنوں سے جدائی ۔۔۔ اور پھر جیل کے اندر جسمانی ونفسیاتی تشدد ۔۔۔ یہ کمیونسٹ لوگ پتہ نہیں کس چیز سے بنے ہوتے ہیں۔ ان سارے عذابوں کے باوجود لعل خان مستقل مزاج رہا ۔ اس سب کے باوجود وہ اپنے رفقاءکے بارے میں ، اپنی پارٹی کے بارے میں اور حتیٰ کہ اپنے سماج کے بارے میں تخلیقی انداز میں سوچ سکتا تھا۔مباحثوںمیں مثبت حصہ ڈال سکتا تھا ۔

جب ساری عوام دوست پارٹیاں مل کر نیشنل عوامی پارٹی بنا رہی تھیں تو اس بغیر ڈگری والے لعل خان نے اختلافات ختم کرانے میں اہم کردارادا کیا ۔

ڈنڈے کوڑے لئے ہوئے ایوب خان اپنے مارشل لا کے ساتھ آیا تو سارے نیک لوگ جیل میں ٹھوس دےے گئے اور شیطان کے چاچے کے بیٹے وزیر مشیر بن گئے۔ لعل خان جیل میںپایا گیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے تیسری دنیا میں جیلیں زیارت گاہیںہوںاور خیر و نیکی کے مبلغ اُن کے زائرین۔ حسن ناصر انہی زائرین میں سے تھا اور جب راہِ وفا میںمار کھاتے کھاتے اس نے اپنی جان دے دی تو بھری عدالت میںاُس پر تشدد کرنے والے قہار ڈی ایس پی کا گلہ دبوچنے لعل خان ہی جھپٹا تھا ۔

پسماندہ قوموں کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ ان کا مقتدرہ بہت پست معیار، بہت نا اہل اور بہت بے وقوف ہوتا ہے۔ اور پاکستان کاحکمران عنصر تواحمقوںکا کیپٹن رہاہے۔اگر آپ چٹکی بجاتے ہی مخاطب سے گھل مل جانے ،اس سے فوری دوستی بنانے اور گھنٹے کے اندر اندر اُسے اپنا سیاسی حلیف بنانے کی صلاحیتوں سے بھرے لعل خان کو لاہورسے شہر بدر کر دیں اور گجرانوالہ بھیج دیں تو گویا آپ نے اُس بلا خیز تخم کو لاہور کے بعدگجرانوالہ بھی بھیج دیا۔ لعل خان نے اتھل پتھل کر دیا گجرانوالہ کے حاکموں کے قرار کو ۔

لعل خان کو سوبھو کی طرح پتہ نہیں کتنی بار اور کتنا عرصہ اپنے گاﺅں میں بھی نظر بند رکھا گیاتھا ۔

نیشنل عوامی پارٹی پنجاب کا یہ معمولی ساجائنٹ سیکرٹری حیران کن صلاحیت رکھتا تھا ۔وہ مزدوروں کسانوںکو تنظیم میں پرو دینے کی بے پناہ قابلیت رکھتا تھا ۔ایساجادو گر جو دل اوردماغ میں گھر کر جاتا ۔

لعل خان مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونے کی عادت رکھتا تھا ۔ اور جب بھی مستضعفین کے اجتماع پر سرکاری غنڈے حملہ کرتے تو لعل خان اس اکٹھ کے مرکز میں ، پھر نہیں ہوتاتھا ، وہ ہمیشہ اس کے بیرونی شیل میں اُس کے مرکزے سے آنکھوں کا پیٹھ کئے موجود ہوتا ۔ ہاتھ میں ڈنڈا اینٹ ہو نہ ہو سینہ تو تھا ہی ‘بازو تو تھے ہی۔ پنجاب کے ہر شہر میں مستنگ کے قلات سٹیٹ نیشنل پارٹی کے جلسہ پر حملہ کرانے والے سرداروںکو پتہ ہوتاتھا کہ اُن کا راستہ روکنے لعل خان ولد غریب خان سکنہ کالا گوجراں ضرور موجود ہو گا ۔

سماج کا قانون ہے کہ وہ اپنے لعل خان کبھی تنہا پیدا نہیں کرتا ۔ ایک ستاروںکا جھرمٹ ہوتا ہے اچھے انسانوں کا ، جن کے ہاتھ سیلابی دریا پار کر نے کیلئے، محسوس اور غیر محسوس دونوں طریقوں سے ایک دوسرے سے پیوست رہتے ہیں۔ لعل خان بھی تنہا نہ تھا۔ شائستہ ترین انسانوں کا ایک گروہ اس کے حلقے میں تھا۔

لعل خان عارضہ قلب کی بیماری میں مبتلا ہو کر یاروں کے اصرار پہ میو ہسپتال اور پھر گنگا رام ہسپتال داخل کر دیا گیا ۔ جہلم والے انسان کےلئے پرہیزی کھانا کشمیری خواجہ رفیق کی بیگم اور بہو بیٹیوں کے ہاتھوں پکتا تھا ۔ اس کے کپڑے فیصل آباد میں میاں محمود کی بہنیں سیتیں،اس کو کتابیں اخبار گوالمنڈی کا کم سن راشد رفیق پہنچاتا، اس کی عیادت سی آراسلم کرتا۔مولوی رحمن اورعبید اللہ اس مریض کو لطیفے سنانے آتے تھے…….. اس کی طبع پرسی کے لئے آنے والوں کی بڑی تعداد سے وارڈ کے لوگ انہیں پیر گرداننے لگے ۔

12 مئی 1966 کی شام کو لعل خان کی زندگی کی شام ہو گئی ۔دل نے ساتھ نہ دیا ۔ پانچ بچوںکو یتیم کرنے والا لعل خان اپنی اُس بیگم کو بھی بیوہ کر گیا جسے وہ زندگی میں مزدور سیاست کے سبب پیار اور سکھ نہ دے سکا تھا۔

لاہورسے سینکڑوں کوس دور مزدوروں کسانوں کے دلوں کے کندھوں پہ اُس کی میت 13 مئی کو اپنے گاﺅں کی قبرستان میں دفن ہوئی جس کی زیارت پچاس برس بعد مجھ بلوچ نے میاں محمود،سی آراسلم اور اسلم ملک کی رفاقت میں کی ۔۔۔۔ بڑی تکریم کے ساتھ ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*