بلوچستان سنڈے پارٹی

آج 8 مئی صبح 11 بجے  پرفیشنل اکیڈمی کوئٹہ میں بلوچستان سنڈے پارٹی  منعقد ہوئی ۔   شاہ محمد ، وحید زہیر، پروفیسر جاوید اختر ، کلثوم بلوچ، عابدہ رحمان ،جوہر بنگلزئی، محمد علی، گل حسن مری،  علی عارض، عابدمیر، محمد نواز مری  و دیگر نے شرکت کی۔ عنوان ہمیشہ کی طرح ” حالات حاضرہ” تھا۔ دنیا کی  موجودہ صورتحال خطے میں حالات کی تیزی سے تبدیلی ، وفاق اور وفاقی یونٹ پنجاب میں حکومت  کی تبدیلی اور  کراچی میں چائنیز پر تعلیم یافتہ خاتون  خود کش بمبار جیسے واقعات پہ بات ہوئی۔  تعلیم یافتہ خود کش شاری بلوچ نے  ذہنوں میں کئی سوالات جنم دیئے ہیں۔  عوام کو برابری کی بنیاد پر ان کو حقوق نہیں ملیں گے تو ایسے واقعات جنم لیتے ہیں ۔

شرکاء نے مزید کہا کہ حکومتوں کا تبدیل ہونا نئی اور بڑی بات نہیں۔ یہ دولتمندوں کے بیچ پاور پالٹکس کا نتیجہ ہے۔  غریب طبقے کے لوگوں کے مسائل  موجودہ حکومتوں کا ایجنڈے ہی نہیں ہیں۔  اس حکومت میں شامل وزراء کی اکثریت بھی  امیر طبقے سے ہے۔ بلوچستان میں ترقی و خوشحالی کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق نہیں ملیں گے۔  یہاں تو حالت یہ ہے کہ بلوچستان کی کئی یونیورسٹیز  فوج کی کالونیاں  ہیں ۔صوبہ پنجاب میں زیر تعلیم  بلوچستان کے طلبہ پر طرح طرح کے ظلم ستائے ڈھا رہے ہیں۔ پنجاب میں ہمارے طلبہ کی بلند  شعوری سطح پر دیکھ کر وہاں کے تنگ نظر لوگ طلبہ کو تنگ کرکے تعلیم چھوڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ موجودہ دور میں  آج نہ بڑے لوگ خوش ہیں  نہ کوئی چھوٹا خوش ہے ۔ بے شمار لوگ اس نظام سے خوش نہیں ہیں۔ہم بھی اس نظام سے خوش نہیں ہیں۔ ناخوش لوگوں کی آپسی  یکجہتی فطری بات ہے۔اس وقت ریاستی نظام اور اس کے اداروں  سے 90 فیصد لوگ خوش نہیں ہے۔

واضح رہے کہ   ریاست ایک سیاسی ادارہ ہے جو اپنے تحت موجود  سارے  سیاسی اداروں کا مجموعہ ہے۔    ملک میں تمام افسر اور تمام  ادارے سیاست کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ریاست اور ان کے تمام ادارے سیاسی ہیں۔ یہاں کوئی ادارہ غیر سیاسی نہیں۔           ریاست دولتمندوں کی ساتھی ہے۔ اور دولتمند طبقہ  عوام کے خلاف ہوتا ہے۔ ریاست جبر کا وہ ہتھیار ہے جسے حکمران طبقہ  محکوم طبقے کے خلاف استعمال کرتاہے۔  ریاست سرمایہ دار طبقہ،  زورآور خان  اور وڈیروں کو سپورٹ کرتا ہے۔ ریاست اصل میں امراء اور بالا طبقے کے لئے ڈھال ہے ۔

سنڈے پارٹی کی توسط سے ہم کہتے ہیں کہ جاگیر دارانہ نظام کا خاتمہ ہو زمین پہ کام کرنے والا زمین کا مالک کارخانے میں کام کرنے والا کارخانے کامالک ہو ۔تمام سرکاری افسر اور   عہدے  براہ راست ووٹنگ سے لگائے جائیں۔ ہم عوامی  سیاست کے ذریعے ریاست کو ہاتھ میں لینا  چاہتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*