مست تئوکلی

 

 

تو لونگ کی ایک جھاڑی ہے جو گہری گھاٹیوں میں اُگی ہے

جس کی خوشبو ُمشک کی طرح چاروں طرف پھیل رہی ہے

 

غیرمستقل دریاﺅں ، چٹیلے میدانوں ، نا ہموار وادیوں اور برہنہ پہاڑوں سے مرتب سرزمینِ بلوچستان کا شاعر مست توکلی مری قبیلے کی شیرانی شاخ سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ مانٹرک بند نامی گاﺅں کے لال خان نامی ایک عام آدمی کے گھر1830ء کی دہائی کے اوائل میں پیدا ہوا۔ والدین نے اس کا نام سہراب خان رکھا لیکن مری قبیلے کے سردار خاندان کو یہ نام قابلِ قبول نہ تھا کیونکہ ان کے خاندان میں اس نام کا ایک سردار گزر چکا تھا لہذا ایک عام آدمی کے اس بچے کا نام بدل کر توکلی رکھ دیا گیا۔

توکلی نے اپنا بچپن اور اوائل جوانی کا زمانہ مویشیوں کے ریوڑ چراتے اور سیر و شکار کرتے گزارا۔ وہ شکار کے تعاقب میں پہاڑوں اور جنگلوں میں پھرتا۔ شکار کا یہی شوق اسے ایک بار کوہ دربھانی کی ان گھاٹیوں میں لے آیا جہاں سمّو پیار کی دیوی کے روپ میں اس کی منتظر تھی۔ گہرے بادل آسمان پر چھائے تھے ، تیز ہوائیں چل رہی تھیں اور توکلی شکار کی تاک میں گھوم رہا تھا ۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ عشق کا دیوتا بھی اس کی تاک میں ہے۔ تیز اور موسلا دھار بارش نے توکلی کو اس گدان (بلوچی خیمہ) کی طر ف بڑھنے پر مجبور کر دیا جہاں تیز ہوا اور طوفانی بارش میں سمّو خیمے کی طنابوں کو سہارا دیئے کھڑی تھی۔ اچانک بارش کی تیز بوچھاڑ نے سمّو کی اوڑھنی دور جا ڈالی۔ سمّو کا سراپا بجلی کی طرح کوندا اور توکلی عشق کے دیوتا کے تیر کا گھائل ہو گیا۔ یوں توکلی مست توکلی بن گیا۔ وہ سمّو سے عشق کی بھڑکتی آگ میں اپنا قرار قائم نہ رکھ سکا اور ایک کوچے سے دوسرے کوچے ، ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف بھٹکنے لگا، جب فراق کی آگ بھڑکتی اور جنونِ عشق کا اثر شدید ہوتا تو مست توکلی گھر بار چھوڑ کر جہاں منہ اٹھتا چل دیتا۔ یوں وہ ڈیرہ غازی خان، سندھ، سبی، کچھی، قلّات، ملتان، لاہور یہاں تک کہ دہلی تک مارا مارا پھرا۔ دہلی میں اسے پاگل جان کر جیل میں بند کر دیا گیا۔ یوں اس نے جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ مست توکلی کا یہ معمول تھا کہ جب کبھی بھی صحرا نوردی کر کے اپنے آبائی علاقے لوٹتا تو سمّو کے دیدار سے اپنی آنکھیں روشن کرتا۔ ایک بار جب سمّو کے دیدا ر کے لئے اس کے مسکن پہنچا تو سمّو کے خیمے کی جگہ پتھروں کا ایک ڈھیرتھا۔ یوں صحرانوردی اختتام کو پہنچی اور مست توکلی سمّو کے مرقد کا مجاور بن بیٹھا۔

سمّوکی موت کے بعد وہ تقریباً پندرہ برس زندہ رہا اور 1890 کی دہائی میں وفات پائی اور کوہلو سے بیس میل دور میدان گری میں مدفون ہوا جہاں ہر سال مست توکلی کا میلہ منایا جاتا ہے جس میں لوگ دور دور سے آ کر شریک ہوتے ہیں۔

مست توکلی کی شاعری کا تانا بانا سمّو کے عشق سے بنا ہوا ہے اور اس کی شاعری کا اگر کوئی عنوان ہے تو وہ صرف سمّو ہی ہے جس کے سراپے کا مست توکلی نے اپنا کلام میں کچھ یوں نقشہ کھینچا ہے۔

”موسلا دھار بارش نے خیمے کی طنابیں توڑ ڈالیں۔ خیمے کی کڑیاں ہوا میں بکھر گئیں، دوپٹہ تیز ہوا اُڑا کر دور لے گئی جس کا تعاقب دور تک میری نظروں نے کیا۔ چہرہ کیا تھا ایک چراغ ِروشن، زُلفیں سیاہ ناگ جیسی کنڈل مارے، آنکھیں غزال رسیدہ جیسی سہمی ہوئی اور بندوق کی طرح دل کو چھید جانے والی ، میرا دل اسی روز سے جنوں آشنا ہوا، دم خوردہ اور خود سے بیگانہ ، رات آنکھوں میں کٹنے لگی اور دن خیالوں میں بسرہونے لگا۔ “

سمّوجو بلوچستان کے مری قبیلہ کی پھروٹی شاخ کی اور مخماڑ نامی گاﺅں کی رہنے والی بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ پہاڑوں کی گھاٹیوں میں ننگے پاﺅں پھرنے والی ایک عام بیا ہتا گھر بار والی عورت تھی لیکن توکلی کی شاعری میں وہ جس شان وشوکت کی حامل ہے وہ شاید وہی ہے جو وارث شاہ کی ہیر کو حاصل ہے۔ باوجود اس کے کہ سمّو توکلی کی شاعری کا عنوان ہے لیکن یہ صرف ایک عورت سے ایک مرد کے عشق کی شاعری نہیں بلکہ بلوچی ثقافت کی شاعری ہے، جتنی گہری توکلی کی شاعری ہے اتنی ہی گہری بلوچی ثقافت ہے۔ اگرکوئی شخص صحیح معنوں میں بلوچی ثقافت کو قلم بند کرنے کی کوشش کرے گا تو شاید مست توکلی کی شاعری ہی اس کے سامنے آئے۔

مست توکلی سے پیشتر جن بلوچی شعراء نے نام کمایا وہ شہ مرید اور جام درک ہیں ۔ مست توکلی کی شاعری پر ان دونوں شعراء کا اثر موجود ہے۔ شہ مرید ابتدائی بلوچی زمانے کا وہ شاعر ہے جو حانی کے عشق میں مبتلا تو ہو گیا تھا لیکن پیمانِ مردانگی کی مجبوریوں کی وجہ سے اسے نہ پا سکا البتہ اپنے کلام سے اسے زندہ جاوید بنا دیا۔ اس کا بیشتر کلام حسرت و یاس، غم ، اندوہ اور کرب و محرومی کا مظہر ہے جبکہ جام درک ایک وسیع المشرب شاعرہے جس کے گیتوں اور نغموں میں سعدی و حافظ کی مستی، عمر خیام کی بے نیازی اور امیر خسرو کا تغزل دلوں کو موہ لیتا ہے۔ شہ مرید اور مست توکلی میں فکری موافقت اور مماثلت کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے جب شہ مرید کی آہوں اور کراہوں سے اس کے رفقاء متوجہ ہو کر پوچھتے ہیں کہ تیرے رنج کا باعث کیا ہے تو وہ کہتا ہے؛

”بارِ غم ٹوٹا ہے میری قامت پہ گراں

اٹھے مرکب نہ بچھیروں سے اے میاں

امر مجبوری اونٹ اسے کھنچیں ہیں گماں“

جبکہ مست اس کیف کو ایک اور انداز سے یوں بیان کر تا ہے۔

”سمّو تیرے فراق کے دکھ دم بہ دم تازہ ہوتے ہیں

قہر کی آگ کی مانند جسم و جاں کو خاکستر کرتے ہیں

آہوں نے جُھلسا ڈالا ہے من کو میرے

سرتا پا جُھلس کر ہو گیا ہوں کیلڑ کی طرح سیاہ“

اسی طرح جام درک اورمست توکلی کے کلام میں جو ہم آہنگی ہے اس کی مثال کچھ یوں ہے ۔ جام درک کہتا ہے:

” میرا محبوب پھولوں سے بھی تازہ ہے

گیسواس کا کالے ناگ کی مانند ہے

میانہ قد اور ہرنی جیسی گردن ہے “

جبکہ مست توکلی اپنے محبوب کو اپنے ماحول میں ڈھال کر یوں پیش کرتا ہے۔

”میرا محبوب کوہِ جاندراں میں اُگا لیموں کا پیڑ ہے

جو ارغوانی پہاڑوں پہ لہرا تا ہے

زاہد سے چہرے پر اس کی پتیاں کیا بھلی لگتی ہیں

وہ ابر کا ہم شکل ہے وہ نسیم جانفزا کا جھونکا ہے“

مست توکلی نے ان کے بین بین راستہ اختیار کیا ہے ۔ فکری موافقت اورمماثلت کے اعتبار سے وہ شہ مرید کے نزدیک ہے جس کا باعث وہ غم ہے جو شہ مرید کو حانی کی اور مست توکلی کو سمّو کی محبت نے بخشا ۔ جام درک اور مست توکلی اِس لحاظ سے ہم رنگ ہیں کہ دونوں لطیف وحسین احساسات کو بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ جہاں محبوب کا ذکر ہے وہاں جام درک اور مست توکلی کا قلم رنگوں اور خوشبوﺅں کی محفل سجاتا ہے۔ جام درک کو قوسِ قزح اور اس کے پہلو میں بادل کا سفید ٹکڑا محبوب کے لباس اور صورت کی یاد دلاتا ہے تو مست توکلی کو سمّو کا چہرہ ایک روشن چراغ کی مانند ، اس کی زلفیں کنڈلی مارے کا لے ناگ کی مانند ، آنکھیں غزال رمیدہ کی طرح سہمی ہوئی اور بندوق کی گولی کی طرح دل کو

چھید کر جانے والی نظر آتی ہے۔

مست توکلی کی شاعری پر شہ مرید اور جام درک کے اثرات خواہ کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں مست توکلی بلوچی زبان کا وہ منفرد شاعر ہے جس نے کسی دوسری زبان کا لفظ شاذو نادر ہی استعمال کیا اور اگر کہیں ایسا ہوا بھی تو اس نے ا س لفظ کے تلفظ کو مقامی زبان کا جامہ پہنادیا۔

مست توکلی نے اپنی شاعری میں جن تشبیہات اور استعاروں کا استعمال کیا ہے وہ اسی علاقے سے مستعار ہیں جہاں وہ پیدا ہوا، پلا بڑھا اور جس فضا میں اس کی شاعری پروان چڑھی وہ سمّو کے چہرے کو چاند سے تشبیہہ دینے کی بجائے اس چراغ سے مماثل قرار دیتا ہے جو اس کے جھونپڑے کو روشن کرتا ہے۔ ایک شعر میں وہ سمّو کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں تمہارے دیدار کا اتنا پیاسا ہوں کہ ندیوں کو صدا دیتا ہوں ، مشکیزوں کا پانی، ان کے منہ کو باندھنے والی رسی کی نمی تک چوس جاﺅں تو بھی یہ پیاس نہ بجھے یہاں وہ باآسانی سمندروں کی مثال دے سکتا تھا لیکن شاید وہ اپنے ماحول سے باہر کی تشبیہہ دینا اپنی انفرادیت کے خلاف سمجھتا تھا۔ مست توکلی چونکہ خود پہاڑوں ، وادیوں ، چٹانوں اورسنگلاخ میدانوں میں جذبہ ءعشق کی تسکین کے لئے پھرتا رہا اور سمّو بھی بھیڑ بکریوں کے ریوڑ لئے انہیں جگہوں پر چلتی رہی اس لئے مست نے اس کا اظہار کرنے کے لئے تشبیہات بھی وہیں سے اخذ کی ہیں:

”سمّو ایک دریا ہے اندھیری راتوں میں

سمّو ایک بوٹی ہے ڈھلوان چٹانوں کی

سمّو انجیر کے بڑے بڑے پتوں والا پیڑ ہے

جو اونچے پہاڑوں اور ندیوں کے قریب اُگتا ہے“

ان تمام تشبیہات و استعارات میں کوئی بھی چیز اُس ماحول سے باہر نہیں جہاں مست کی شاعری پروان چڑھتی رہی ہے۔

مست توکلی کی شاعری میں منظر نگاری اتنی گہری ہے کہ پڑھنے والے کے سامنے وہی منظر لہرانے لگتا ہے ۔ شاید اس میں اس کی سیلا نی طبیعت اور صحرا نوردی کوبھی دخل حاصل ہے۔ یہ اس کا کما ل ہے کہ اس نے بجلی کی چمک اور کڑک ، بادلوں کی گھن گرج ، بادو باراں ، ندی نالوں ، درختوں اور سنگلاخ چٹانوں کو اس خوش اسلوبی سے اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے کہ یہ تمام استعارے اور تشبیہیں اپنا کرخت پن کھو کر لطیف احساسات سے ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔

مست توکلی کی شاعری میں ایک منظر کشی کچھ یوں ہے۔

”ساون کا موسم ہے دھند کی کوکھ سے بادل جنم لیتے ہیں

سمندر سے اُٹھتے بادل بجلی کی لہروں پر سوار آتے ہیں

خراساں میں جا کر یہ بادل دودھ کی دھاریں برساتے ہیں،

کالے بادل’ سالو‘ اور’ سانگاں‘ پر ٹوٹ کر برستے ہیں

شمس کے مرقد پر فقیر کے دل کی بھڑاس بن کر برستے ہیں“

یہ طویل نظم ہے جو ساون کے پورے موسم اور بادلوں کے برسنے کی کیفیت سے بھرپور ہے ۔ایک اور نظم میں وہ بارش کی بوندوں کا خیر مقدم کرتا ہے انہیں ہدایت کرتا ہے کہ وہ مانٹرک بند پر جا کر برسیں ۔ وہ بادلوں سے استدعا کر تا ہے کہ وہ سمّو کے گھر پر سایہ فگن ہوں پر وہ اس بات سے بھی پریشان ہے کہ بارش کے قطر ے کہیں سمّو کی زلفوں کو چھو نہ لیں اگر ایسا ہو گیا تو بارش کی نمی اس کے گیسوﺅں کی خوشبو زائل کر دے گی۔

مست توکلی نے سمّو کو دیکھا ، چاہا اور شاعری میں اس کی پرستش کی مگر اس کا قرب تا حیات حاصل نہ کر سکا یوں اس کی شاعری میں ایسا درد اور دُکھ بھی آیا جس نے بلوچی شاعری کو ایک گراں قدر سرمایہ عطا کیا۔ سوز، دُکھ، حزن اور ہجر کی کیفیت کا اظہار اس کی شاعری میں کُچھ اس طرح نظر آتا ہے:

” سانپ کی طرح لہراتا ہوا بیاباں کا رُخ کرتا ہوں

تیرے ہونٹوں کی پنکھڑیوں نے مجھے لُو کی تپش دی ہے

تیرے سیپوں سے سفید دانت میرے لئے شورہ اور بارود ہیں“

مست توکلی کی شاعری میں صوفیانہ رنگ بھی نمایاں ہے وہ عالمِ سر مستی میں عشق کے رموز و اسرار کو روزمرہ زبان میں انتہائی سلیس پیرائے میں بیان کرتا ہے، یوں وہ شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست، بُلھّے شاہ، رحمٰن بابا اور وارث شاہ جیسے شاعروں کی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے۔

وہ جب جذب وکشف کی حالت میں آتا ہے تو اپنے عام اسلوب سے ہٹ کر کائنات اور رموز ہستی سے اس طرح پردہ اُٹھاتا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ شخص کوہستانوں میں بھٹکنے والا ایک اَن پڑھ چرواہا ہے۔ مست توکلی کے کلام میں جو عرفان موجود ہے وہ اس کی ابیات میں موجود ہے۔ ایک کا مفہوم کُچھ یوں ہے:

”موتی خاک اور دوسری چیزوں پر نہیں چمکتا اسے سیاہ چادر پر ڈال کر پرکھا جاتا ہے، انسان ازل سے جو صلاحتیں لایا ہے وہ موتی کی طرح تابناک ہیں، اس مادی دنیا کی تحریص و طلب اعمال سیاہ بن کر ان صلاحیتوں کے لئے امتحان کا باعث بنتے ہیں“

مست توکلی نے جس دنیا میں آنکھ کھولی تھی وہ قبائلی سرداروں اور فرنگی حاکموں کی دنیا تھی۔ مری بلوچ ایک لڑاکا قبیلہ تھا اور خود کو قلّات کے تسلط سے چھڑا لینے کے بعد انگریزوں سے نبرد آزما تھا۔ مری قبیلے کے لوگ1840 ء تک اپنے قبیلے کا نظم و نسق خود چلاتے رہے تھے لیکن بعد ازاں وہ دو عملی کا شکار ہو گئے ایک طرف وہ افغان انگریز جنگ اور دوسرے موقعوں پر انگریزوں کی طرفداری کرتے اور انہیں امداد باہم پہنچاتے جبکہ دوسری طرف وہ انگریزوں سے خود بھی نبرد آزما رہتے۔ مری بلوچ قبیلے کی یہ دو عملی انیسویں صدی ختم ہونے تک جاری رہی چنانچہ مست توکلی کی شاعری میں فرنگی حاکموں کے خلاف نفرت اور اپنی آزادی برقرار رکھنے کا جذبہ جگہ جگہ مِلتا ہے:

”قید و بند میں پڑے رہائی پائیں گے

اور ایسی رہائی ملے گی

جس طرح میراں کافروں کی قید سے رہا ہوئے“

ایک جگہ وہ کسی انگریز بلوچ جنگ میں انگریزوں کی شکست پر اپنی خوشی کا اظہار یوں کرتا ہے:

”رات سردار دودہ کو خواب میں دیکھا

جس نے بتایا کہ عساکر یہود کو شکست ہوئی

اور وہ پشیمان ہوئے“

ایک اور جگہ وہ یوں رقم طراز ہے:

”کہنے لگے جلد لوٹ آﺅ

کاہان پر کافروں نے قبضہ کر لیا ہے“

مست توکلی کو اپنے عظیم ماضی اور اسلاف کی درخشاں تاریخ کا مکمل ادراک و احساس تھا لہٰذا وہ اس بارے میں بھی اپنے شعروں میں تذکرہ کرتا ہے۔ مست توکلی کی شاعری میں اس معاشرتی جبر کے خلاف جذبات کا اظہار بھی ملتا ہے جس کا شکار بلوچ معاشرے کی عورت ہے:

”یوں تو میں ایک عورت ہوں ہر طرح سے بے اختیار

مگر اب آﺅ گے تومیں تم پہ اپنی جان نچھاور کروں گی“

مست توکلی جو سمّو کے عشق میں مست ہو کر پہاڑوں اور ویرانوں میں گھومتا رہا، در بدر کی خاک چھانتا رہا ، اپنے علاقے کو کبھی نہ بھلا پایا یہی وجہ ہے کہ اس کی شاعری میں بارہا وطن کی یاد اور واپس لوٹنے کی خواہش چھلکتی ہے؛

”کونجیں لوٹ رہی ہیں میں بھی لوٹ چلتا ہوں

کونجوں کی اک ڈار کے ساتھ میں بھی ہو لیتا ہوں

کاش وہ دن آئے جب موسم کی طرح

میں بھی لوٹ آﺅں“

جب کونجیں سندھ سے آئندہ موسم لوٹیں

میں بھی لوٹ جاﺅں“

لڑاکا مری قبیلے کی روایت کے برعکس مست توکلی جنگ کو ایک عذاب سمجھتا ہے اس کا خیال ہے

کہ جنگ نفرت کا اور امن محبت کا پیغام ہے؛

”جہاں سمّو جیسی محبوبہ کا مسکن ہے

وہاں جنگ کی بری باتیں ہرگز اچھی نہیں

کون ہے جو اپنے پیاروں کو دربدر کرنا چاہتا ہے“

جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کی آفاقی حقیقت سے آشنائی کے ساتھ وہ اس بات سے بھی آگاہ ہے کہ جب جنگ ناگزیر ہو جائے تو اسے کس کا ساتھ دینا ہے، وہ واضح طور پر خود کو مَظلوموں کے ساتھ صف آراء کرتا ہے اور ظالموں سے کھلی جنگ کا اعلان کرتا ہے:

”ہماری جنگ قاتلانِ حسین سے ہے

ہم امام حسین کے گروہ سے ہیں“

غریب عوام کی مفلوک الحالی کا ذکر بھی جا بجا اس کی شاعری میں ملتا ہے وہ زمین کو قدرت کا عظیم عطیہ سمجھتا ہے اور اس پر کسی ایک کی ملکیت تسلیم نہیں کرتا اور اس بات کو تسلیم نہ کرنے والوں کو شیطان قرار دیتا ہے؛

” یہ زمین ہما ری ہے جو مالک کا عطیہ ہے

مست توکلی عاشق صادق کی بھی یہی صدا ہے

ابلیس سے جنگ ہماری ہے“

مست توکلی کی شاعری آمد کی شاعری ہے وہ اگرچہ خواندہ نہیں مگر اس کی شاعری طبع رواں پہاڑی چشمے کی طرح پھوٹ کر بہتی ہے اور فکر سخن کی بندش سے آزاد اپنے راستے میں گہری جھیلیں بناتی ہوئی جاتی ہے۔ مست توکلی کی شاعری پر دو طرح کی آراء سامنے آتی ہیں ایک رائے کے مطابق وہ سلوک و تصوف کا شاعر خیال کیا جاتا ہے ، دوسری رائے کے مطابق مست توکلی ادب اور شاعری کے میدان میں ان پُر پیچ راہوں کا راہ نورد اور منزلوں کا متلاشی ہے جن کا تعین اس سے پہلے لی برگ ، شہ مرید اور جام درک نے کیا تھا۔ یہ دونوں آراء شاید اپنی علیحدہ علیحدہ جگہ پر درست نہیں البتہ مست توکلی کی شاعری پر ان دونوں آراء کو ملا دیا جائے تو مست توکلی کی شاعری کی بہتر تعریف و توصیف ہو سکے گی اور یہ تو طے شُدہ بات ہے کہ مست توکلی محبت امن اور آزادی کا شاعر ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*