نظم

 

 

میں اک قرطاسِ ابیض کی طرح انسان تھا

 

(قرطاسِ ابیض کی طرح شفّاف)

 

جانے کس گھڑی مجھ میں کہیں سے

 

اک فرشتہ اور اک شیطان در آئے

 

سو میں اک مستقل آماجگہ بنتا گیا

 

مدت سے یہ دونوں مرے پیکر میں باہم برسرِ پیکار ہیں

 

آپس میں یوں دست و گریباں ہیں

 

کہ میرے آئینہ خانے میں صدیوں سے

 

شکست و ریخت جاری ہے

 

(جہاں دونوں شکست و فتح کے امکان میں مصروف رہتے ہیں)

 

مگر میں آج تک جرم و سزا کے درمیاں

 

سولی پہ لٹکا ہوں

 

یونہی اک روز اس پیہم شکست و ریخت سے

 

اک ریت کی دیوار کی مانند میں ڈھے جاؤں گا

 

لیکن یہ دونوں جنگجو

 

اس دن کسی اور آئینہ خانے کو اپنا گھر بنا لیں

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*