فحاشی

تین منزلہ شاپنگ مال کی وسیع و عریض دیوار پر ایک نہایت ہی دلفریب بکنی میں ملبوس حسینہ کی  ابھری ہوئی تصویرلگی  تھی جس کا اوپری دھڑ ایک مجسمہ کی شکل میں تھا- تصویر سے باہر نکلتا ہوا  دودھیا سینہ وہاں سے گزرنے  والوں کو ٹھٹک کر دوبارہ دیکھنے پر اکسا رہا تھا –

طویل مسافت طے کر کے آئی ہوئی چادر میں سر تا پا ڈھکی نوجوان عورت کی تلاش کرتی ہوئی نگاہیں اس مجسمے پر آ ٹکیں – اس  کی گود میں چھ ماہ   کا بچہ بہت دیر سے بھوک سے بلبلا رہا تھا  – مسلسل روتے رہنے سے بچہ کافی نڈھال ہو چلا تھا -مجسمے کے سینے کی آڑ لے کر  اس نے اپنی چادر ذرا سی سرکائی،  ابھی بچے کو  پرسکون کرنے میں پوری طرح کامیاب بھی نہ ہوئی تھی کہ  دو محافظین اس کے سر پر آن کھڑے ہوئے۔ ان کے ساتھ ایک پولیس افسر بھی تھا- وہ گھبرا گئی-  دل میں سوچا میں نے تو کوئی چوری نہیں کی پھر یہ سب کیا ہے – قبل اس کہ  دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوتا پولیس والے نے اس کے ہاتھ ہتھکڑی میں جکڑ دیئے اور بولا سر عام فحاشی پھیلانے کے الزام میں تمہیں گرفتار کیا جاتا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*