سرمایہ دار سے

 

نالہِ دلفگار کا عالم

جیسے ہنگامہ زار کا عالم

میں نے دیکھا نہیں کہیں ایسا

ترے اِس اقتدار کا عالم

مرے کارِ دراز کی دنیا

ترے لیل و نہار کا عالم

تری بد کاریوں کا صدقہ ہے

عرصہِ کا ر زار کا عالم

مری مجبوریوں کا ہنگامہ

یہ ترے اختیار کا عالم

مری بربادیاں ترے ہاتھوں

دیکھ یہ خار زار کا عالم

اِک مری کس مپر سیوں کا جہاں

اک ترے اختیار کا عالم

تری دنیا ئے عیش سے بہتر

میرے گردو غبار کا عالم

درسِ عبرت ہے ہر نظر کے لیے

مرے اجڑے دیار کا عالم

تری ہستی کوخاک کر دیگا

نگہِ شعلہ بار کا عالم

مرے قدموں میں ایک دِن ہوگا

ترے عزّ وو قار کا عالم

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*