تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی ۔۔۔

 

 

کور سر پینٹس رُوسی مصنف ایوان یفری موف کا تنصیف کردہ ناول ہے۔

 

ناول کی کہانی اس طرح شروع ہوتی ہے کہ زمین کے باسی انسانوں نے کپٹلزم اور کمیونزم کی تضاد کو حل کرلیا ہے۔ ہماری دنیا میں ایک ہی معاشی نظام رائج ہو چکا ہے۔ استحصال سے آزاد ایک معاشرہ بننا شروع ہوگیا ہے۔ جو محنت اور وقت اسلحہ سازی پر ضائع ہورہی تھی اس کی بندی پر سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کئی گنا تیزی سے جاری ہے۔ نئی نئی دریافتوں کا زمانہ آچکا ہے۔

 

زمین والوں نے ایک سپیس شپ بھیجا ہے کہ دوسرے سیاروں پرIntelligent beings کی تلاش کی جائے۔ اس جہاز پر ایک روسی، امریکن، جاپانی اور ہندوستانی سوار ہیں۔ عرصہ دراز ہوچکا ہے۔ اس جہاز کو زمین سے روانہ ہوئے۔ اور یہ خلا میں galaxiesکو چھوتا ہوا اپنے مقصد کے لیے سرگرداں ہے۔ زمین سے رابطہ یعنی رپورٹنگ اور راہنمائی تو جاری پراسیس  ہے۔  خوراک، انرجی اور سانس کا انتظام ہونے پر ہی سپیس شپ روانہ ہوسکتا تھا۔ اور یہ اعلیٰ سائنسی ٹیکنالوجی کی بدولت ہوا۔

 

اچانک سکرین پر کچھ دھبے نظر آئے۔ تو اٹنڈنٹ چوکنا ہوکر بیٹھ گیا کہ دیکھے کوئی شہابِ ثاقب کا Meteor ہے یا محض  بادل  یا دھند۔  meteor جہاز کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔اسکی سمت اور رفتار ناپنا شروع ہوگیا۔ بعد میں اس کا mass دریافت کرکیا گیا۔ رفتار دریافت کرنے کے دوران اس نے محسوس کیا کہ اس کی یونیفارم ولاسٹی نہیں۔اس نے اپنے شبہ کے بارے میں ساتھیوں کو مطلع کیا تو چاروں اکٹھے ہوکر سکرین کے گرد بیٹھ گئے اور بغور دیکھنے کرنے لگے۔ ہاں uniformity نہیں ہے۔ اس دوران دھبے ایک مبہم سی شکل بنانے لگے۔

 

روسی خلاباز نے کہا کہ یہ آسمانی جسم نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے ہم اپنی منزل کے قریب ہوں۔ جاپانی نے پوچھا کہ آپ کا مطلب intelligent beings  ہیں؟۔ہاں اس نے جواب دیا۔ intelligent beings ہی ولاسٹی کو گھٹا بڑھا سکتے ہیں۔ کوئی آسمانی جسم تو ایسا behavior نہیں دیکھا سکتی۔ زمین والوں سے رابطہ کرو۔ امریکن نے کہا انہوں نے تو کوئی ship نہیں بھیجا ہماری مدد کے لیے۔ نفی میں جواب آیا۔

 

اب جہاز میں خوف کی فضا پھیل گئی۔ اگر یہ واقعی زمین سے باہر کے وجودوں کا کوئی gadget ہے  تو کہیں یہ ہم پر حملہ نہ کردے۔سب لوگ سوچ میں  ڈوبے چپ بیٹھ گئے۔ پھر روسی خلاباز جو انکا چنا ہوا لیڈر تھا نے کہا خوف بڑی خطرناک چیز ہے۔ ہمیں پر امیدی کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہمیں ان سے رابطہ کرنا ہوگا۔ ہم ایک دوسرے کی زبان نہیں جانتے۔ کیسے بات بنے۔

 

ہندوستانی نے کہا موسیقی یونیورسل زبان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ انہیں موسیقی کے ذریعے  خیر سگالی بھیجیں۔سب نے اتفاق کیا تو موسیقی براڈ کاسٹ کرنی شروع کی گئی۔ جب بند کی گئی تو ان کی طرف سے موسیقی آنی شروع ہوگئی۔ سب نے خوشی کا نعرہ لگایا۔ زمین والوں کو مبارک دی۔ آخر کار ہمارا مشن کامیاب ہوا۔

 

انکا جہاز نزدیک آنے لگ گیا۔ اور کچھ فاصلے پر ہمارے جہاز کے گرد چکر لگانے لگ گیا۔ اب یہ واضح ہوگیا کہ وہ کوئی آسمانی جسم نہیں تھا۔ موسیقی کے ذریعے اعتماد پیدا ہوگیا۔ اب رابطے کو گہرا کرنے کے لیے طریقے سوچے جانے لگے۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھے۔ زمین والوں نے اپنے ڈیٹا دینے شروع کیے۔ ارتھ سولر سسٹم ملکی وے کے ڈیٹا دیئے جانے لگے۔ پہاڑ دریا سمندر جنگلات کے ڈیٹا اور تصویریں درختوں اور پودوں کی تصویریں اور ڈیٹا مرد عورت کی تصویریں اور تمام ڈیٹا بھیجے گئے۔  پھر انہوں نے اپنے تمام نقشے فوٹو گراف  وغیرہ دئیے۔ اُن لوگوں کی ایک آنکھ تھی۔ آکسیجن کی بجائے فلورین سے سانس لیتے تھے۔ اُن کے سمندر سرخ رنگ کے تھے۔ اور پہاڑ نیلے۔انکی گیلکسی کا فاصلہ وہاں کے ستاروں اور planets کے بارے تمام حقائق دیے گئے۔

 

روسی خلا باز نے کہا دنیا کی نشوونما کے قوانین ہر جگہ ایک سے ہیں۔ اپنے اپنے حالات کے مطابق ارتقا ہوئی ہے۔ اسی لیے کچھ فرق بھی نظر آتے ہیں۔  جہاں حالات سازگار تھے وہاں intelligent beings پیدا ہوئے ہیں۔ وہ Gregarious beings تھے مل جل کر کام کرتے اسی لیے تو اتنے بڑے کارنامے کر پائے۔ اگر وہ انفرادیت پسند ہوتے تو اس مقام پر ہرگز نہ پہنچ پاتے۔

 

ہمیں اپنے بھائیوں سے مل کر ایک روحانی مسرت حاصل ہوئی جو اس سے پہلے کبھی محسوس نہ ہوئی تھی۔ ہماری وژن بہت وسیع ہوگئی۔ اب ہم دونوں دنیاؤں کے دوست مل کر اور intelligent beings کی تلاش کریں گے۔ اور سب intelligent beingsملتے جائیں گے۔ دور درازگلیکسیوں کے باذہن وجود مل کر تحقیق کریں گے کہ کاسموس کی فطرت کیا ہے۔ کیسے اور کیوں بنا۔

 

بعض intelligent beings  اپنے globes پر نظاموں کی کے تضادات کو حل نہ کر پائے اور ایٹمی جنگوں  میں Intelligent beings کی نسل کو ہی تباہ کر بیٹھے۔ ان کی کہانی ہی ختم ہوگئی۔ ان کا سفر بھی اختتام کو پہنچا۔ صرف وہ جو اس خطرناک مرحلے سے بچ نکلے نظاموں کے تضادات میں ایٹمی جنگ میں نہ الجھے، انصاف پر مبنی معاشرہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ انسان ایک بن جائے۔ جنگوں اور چودراہٹ میں محنت اور وقت ضائع نہ کرتے ہوں۔ علم اور بہبود پر محنت صرف کریں۔ وہی کائنات کے آخری راز جاننے کے طالبعلم بنے۔

 

گلوبل گاؤں ایک اہم اور ضروری مرحلہ ہے جس میں انسان ایک بن سکتا ہے۔ جس کے لیے انصاف پر مبنی معاشرہ ضروری ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک طاقت جو Monopoly dominance اور منافع پر کھڑی ہو اور مضبوط فوج کا threat رکھتی ہو سمجھے اور کہے کہ صرف وہی اکیلے انسانی مسئلے کو حل کرسکتی ہے۔ یہ اکڑ پن ہے۔ درحقیقت یہی مسئلے کے الجھاؤ کا باعث ہے۔ ہمارا گلوب اس خطرناک مرحلے سے گزررہا ہے جہاں یہ ممکن ہے کہ ہم آخری راز کے طالبعلم بن جائیں یا ہماری کہانی ہی اختتام پذیر ہو۔

 

فہمیدہ اور سنجیدہ انسانوں کے لیے یہ وقت بہت اہم ہے۔  واحد سپر پاور کا بنایا ہوا ورلڈ آرڈر جمہوری اقدار کمزور، عورتوں کی غلامی، جاگیردارانہ رشتے مضبوط، مذہبی جنون اپنے جوبن پر، مسائل کے حل کے لیے تشدد کا استعمال بیورو کریٹک اکڑ پن۔ انصاف کے حصول کے لیے دولت۔ سچ اور پراپیگنڈہ کی سرحدیں گڈ مڈ۔ایسی صورت حال میں انسان کو ایک نہیں کہا جاسکتا۔ جو اگلی منزل کی طرف پرواز کرسکے۔

 

کون دستبردار ہوگا۔ پہلے جب نظاموں کے تضاد اپنے منطقی کلائمکس کو پہنچے کولڈ وار میں فرسٹ سٹرائک کا سوال اُبھرا۔ کیافرسٹ سٹرائک کرنے والا اپنے دشمن کو سو فیصد یقین کے ساتھ بے بس یا ختم کرسکتا ہے۔ بہت سے عناصر اور امکانات کو کنگھالا کیا گیا۔سو فیصد یقین مشکوک رہی۔ مگر دونوں عالمی طاقتوں کے لیے چوبیس گھنٹے جو کسی اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے ہمہ وقت تیاری کی صورت حال نے وہ دباؤ بنایا جو دونوں کے لیے اعصاب شکن تھا۔ اس حالت کو مزید قائم رکھنا دشوار معلوم ہوتا تھا۔

 

اب دو صورتیں سامنے تھیں۔ ایک تو یہ کہ شدید دباؤ کی وجہ سے اعصاب ابنارمل رویہ رکھنا شروع کردیں اور سو فیصد والا فیصلہ لے لیا جائے۔ دوسرا یہ کہ ایک عالمی طاقت دستبردار ہوجائے۔دنیا کی بقا کے لیے دوسرا فیصلہ قدرتی مگر عقل کے منافی نہ تھا۔ گوربا چوف نے دوسرا راستہ دستبردار ہونے والا لے لیا۔

 

دوسری عالمی طاقت اسے بالکل  سمجھ نہ پائی۔ انہوں نے اسے اپنی بہتر تدبیر اور طاقت کی بدولت دشمن کا تباہ ہونا قرار دیا۔ شادیانے بجائے۔واحد سپر پاورہونے کو کا جشن منایا۔ اور اپنا پرانا دھونس دھاندلی والا رویہ جاری رکھا۔

 

نظاموں کا بڑا تضاد تو بار بار ابھرتا رہے گا(وقت کے بارے میں البتہ کوئی پیش گوئی ممکن نہیں)۔ یہ  اس وقت تک ابھرتا رہے گا جب تک یا تو یہ حل ہو پاتا ہے یا مد بھیڑ ہوکر کہانی ہی ختم ہوتی ہے۔ ختم کہانیوں کے آثار دریافت ہوسکیں مستقبل کی بات ہے۔ مستقبل میں بھی اسی رویے کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ کپٹلزم نجات اور مکتی والا نظام نہیں۔ یہ ظلم اور ڈاکے والا نظام ہے۔ پرانے  modus operandiسب کو سمجھ آچکے۔ ناگاساکی والی غیر ذمہ داری اور تکبر کا متحمل نہیں ہوا جاسکتا۔

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*