تاریخ کا لوکل سر ٹیفکیٹ

سامراج نے ہمیں ہماری جڑوں سے کاٹ دیا، ہمیں ہماری تاریخ سے جدا کر دیا۔ ہم کبھی حلب سے لائے گئے، کبھی کوہِ البرز کی چوٹیوں پہ بٹھائے گئے، کبھی حسینی قافلے کے بچھے کھچے سپاہی دکھائے گئے، تو کبھی کسی محمد بن قاسم کے ساتھ لائے گئے۔ گویا اپنی ہی سرزمین پر نووارد دکھانے کی ہر ممکن سعی کی گئی، اپنے ہی وطن کا لوکل سرٹیفکیٹ گم کر کے آبادکار بنا دیا گیا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ میں ہمارا لوکل سرٹیفکیٹ گم کرنے کی کوشش کرنے والے خود سبھی آباد کار تھے یعنی نان لوکل۔ یہ کیسی لطف کی بات ہے کہ باہر سے آنے والے، اہلِ وطن کو بتاتے رہے کہ وہ یہاں کے مقامی نہیں۔ قبضہ گیر ہمیں یقین دلاتے رہے کہ ہم اس سرزمین کے وارث نہیں، کہیں باہر سے لائے گئے، تاکہ ان کے قبضے کو اخلاقی جواز مل سکے۔ مگر قبضہ تو بذاتِ خود غیراخلاقی عمل ہے، اسے تقدیس کی کیسی ہی چادر چڑھا دیں، اس کا مکروہ چہرہ چھپ پاتا ہے نہ اس کی غلاظت پسندیدہ ہو سکتی ہے۔

البتہ اس استعماری پروپیگنڈے کا اثر یہ ہوا کہ وسائل کی کمی اور استعماری نفسیات کے زیراثر ہمارے ابتدائی معصوم مؤرخین بھی اس دام میں آ گئے اور ہماری بیرونی آمد کے تاریخی پروپیگنڈے کو دلیل مان کر اس پہ صاد کر لیا۔ مگر تابہ کے صاحب……سچ پہ جھوٹ بھلا کب حاوی آیا ہے۔ اور تاریخ کے سچ کو بھلا کون جھٹلا سکا۔ تاریخ کے سچ کے سامنے سام راج کا پروپیگنڈہ بھلا کب تک رہ سکتا تھا۔ ہمارے ایک اکابر کے بقول، ”تاریخ کا نغمہ وہ واحد نغمہ ہے جو ایک ہی دفعہ بجتا ہے اِس کو آپ بار بار’نیا‘نہیں بناسکتے۔ بس جو ہوا ہوا۔یہ نہ خود کو دوہراتی ہے،اور نہ اسے کوئی دوسرادوہراسکتا ہے۔بہتی ندی میں جو چُلّو ایک بار بھرا، وہی پانی دوبارہ اُسی جگہ سے چلّو میں نہیں آتا۔“سو، تاریخ کا نغمہ تو بج چکا تھا، اس کی سریلی آواز کو روکنے کی سب کوششیں سائنس نے ناکام بنا ڈالیں۔

”سائنس،گزشتہ بیس پچیس سالوں سے بے شمار نئی دریافتیں لائی۔آرکیالوجی،کاربن ڈیٹنگ،اناٹومی، ڈی این اے، اور ڈیجیٹل سائنس کی نئی نئی دریافتیں سامنے آتی گئیں۔ ایسی دریافتیں کہ ہمارے پیش رومؤرخوں کی بہت سی تحریریں سوالیہ نشانوں سے بھرچکی ہیں۔یوں ان سائنسز نے ”چار ہزار سال سے پہلے“کی بلوچ تاریخ کے بارے میں تواکابر ین کے لکھے سارے حروف، سارے صفحے ہی پھاڑ ڈالے ہیں۔ ساری شاعری، ساری فوک کہانیاں اور ضرب الامثال باطل کر کے پرے پھینک دی ہیں۔معلومات نہ ہونے کی وجہ سے حالیہ چار ہزار برسوں کے بھی کئی ادوار اُن محترم لوگوں کی توجہ سے محروم رہ گئے تھے۔“(از شاہ محمد مری، پری ہسٹاریکل بلوچستان، صفحہ7)

ہوا یہ کہ بیسویں صدی کے آخری ربع میں مہرگڑھ کی دریافت ہوئی۔ اس مہرگڑھ نامی دریافت نے سام راجی تاریخ کا تیاپانچا کر ڈالا۔ محض اس ایک دریافت سے ہماری پوری تاریخ (دراصل استعمار کی لکھی تاریخ) حرفِ غلط قرار پائی۔بلوچ کی ساری ہجرتیں محض مفروضہ بن کر رہ گئیں۔ اپنے وطن میں ہماری بیرونی آمد کے نظریات باطل ہو گئے۔ ہم اپنی زمین کے بچے قرار پائے۔ بلوچستان ہمارا مادرِ وطن ہے، مہرگڑھ ہمارا لوکل سرٹیفکیٹ ہے۔

اس بگ بینگ کی دریافت کے بعد ہمارے جدید مؤرخین نے تاریخ کا قبلہ درست کرنا شروع کر دیا۔ میر گل خان نصیر سے لے کرمیر نصیر خان احمد زئی، محمد حسین عنقا، ملک سعید دہوار کی تصانیف اب محض ہماری تاریخ نویسی کے نقشِ اول کے بہ طور محفوظ ہیں۔ جن میں تاریخ سے زیادہ تاریخی قصے ہیں، تاریخی موشگافیاں ہیں، اپنی جڑوں کی تلاش کی ایک موہوم سی جستجو ہے جو آج ایک ٹھوس سائنسی حقیقت کی صورت ہمارے سامنے ہے۔  یہ تاریخ کاوہ نکتہ نظر ہے جو خالص مقامی اور سائنسی ہے، جو بیرونی اور ملکی استعمار کے نکتہ نظر سے یکسر الگ ہے۔ یہ ہماری انڈی جینئس تاریخ ہے، جس کا ابھی صرف پہلا باب لکھا گیا ہے۔

اس انڈی جینئس نکتہ نظر کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اب یہ تاریخ نویسی مزید مقامی سطح تک آ گئی ہے اور مقامی لکھاری اب اپنے اپنے علاقوں کی تاریخ لکھ رہے ہیں، جو مکمل طور پر مقامی ہے، عوامی ہے۔ کسی نے مکران کی قدیم عہد سے جدید عہد تک کی تاریخ جمع کرلی توکسی نے بارکھان کی ثقافتی تاریخ لکھی دی، کسی نے پنجگور کے تاریخی پس منظر پہ کتاب مرتب کر دی، کوئی صحبت پور کی جدید تاریخ کو جمع کر رہا ہے، کسی نے کوشقلات کے تاریخی منظرنامے پہ کتاب ترتیب دے دی۔کوئی صرف کسان تحریک پہ کام کر رہا ہے تو کوئی ہماری عورت تحریک کا مواد مرتب کر رہا ہے۔یعنی ہماری تاریخ بادشاہوں اور سرداروں کے تذکرے سے نکل کر اب عام آدمی کے تذکرے تک آ پہنچی ہے۔ دربار سے نکل کر عوامی میلوں اور تحریکوں تک آ گئی ہے۔

اس تاریخ نویسی میں ایک اہم حصہ اُن یادداشتوں کا بھی ہے جو حال ہی میں ماضی کے متحرک سیاسی کارکنوں اور بیوروکریٹس نے لکھی ہیں۔ یہ تاریخ کے وہ مسودات ہیں جن سے فرسٹ ہینڈ انفارمیشن ہاتھ آتی ہے۔نجی یادداشتوں میں مصنف اپنی ذات سے متعلق کیسا ہی بائسٹ کیوں نہ ہو، تاریخی واقعات سے متعلق غلط بیانی کا امکان یوں بھی کم ہوتا ہے کہ اس کی گواہی دینے کو کئی معاصرین موجود ہوتے ہیں۔ یہ حقائق ری چیک ہوسکتے ہیں، کاؤنٹر چیک ہو سکتے ہیں۔ ان کی تصدیق اور تردید کے کئی ذرائع موجود ہیں۔ جب کہ ماضی کی تاریخ میں بادشاہوں اور سرداروں سے متعلق جو کچھ ان کے بہی خواہوں نے لکھ دیا، اس کی تصدیق یا تردید کا اب کوئی سامان نہیں۔ سوائے ان سائنسی تاریخی دریافتوں کے جو تاریخ کے جھوٹ سے پردہ اٹھاتی جاتی ہیں۔

اکیسویں صدی سے پہلے کی ہماری ساری تاریخ نویسی چاکر اعظم سے شروع ہو کر خان قلات پہ ختم ہو جاتی، گویا بلوچستان کی ہزارہا برس کی تاریخ میں صرف بادشاہ اور سردار ہی جنمے ہوں۔ یہاں اور کوئی انسانی وجود بستا ہی نہ تھا؛ نہ کوئی چرواہا،نہ کوئی ہاری نہ کسان۔ بیرونی استعمار نے ہمیں بیرونی آبادکار ثابت کرنے پہ اپنی توانائی صرف کی تو ہمارے اپنے مؤرخین ہماری مقامی استعماری قوتوں کے فکری باڈی گارڈز کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ مہرگڑھ ہماری تاریخ کا سنگ ِ میل اس لیے بھی قرار پایا کہ اس کی دریافت نے باشادہوں کی اس ساری تاریخ پہ لکیر پھیر دی۔ ہمیں نہ صرف یہ معلوم ہوا کہ ہم نو ہزار سال سے اس زمین کے باسی ہیں بلکہ ہمارے آباواجداد ہزارہا برس قبل گندم کاشت کر رہے تھے، دانتوں کی صفائی کا نظام وضع کر رہے تھے، غاروں اور میدانوں سے نکل کر شہریت والے قصبے بسارہے تھے، ڈرینج کا جدید نظام اپنارہے تھے……اور یہ سب ہونے کا مطلب یہ تھا کہ وہاں طبقات موجود تھے۔ مہرگڑھ ایک طبقاتی سماج تھا۔اسی طرح میر چاکر سردار تھا، شہ مرید اس کی رعیت تھا،یعنی چاکری عہد میں بھی طبقے موجود تھے۔ خان قلات، خان تھا، بادشاہ تھا، وہ اپنی رعیت سے ٹیکس لیتا تھا۔ اس کے زیراثر رئیس، ٹکری، میر، معتبر، اور ان کے نیچے عوام الناس تھے۔ یعنی طبقاتی سماج کی پوری ہیرارکی موجود تھی۔ یعنی خان قلات کا بلوچستان بھی طبقاتی سماج تھا۔ آج کے بلوچستان میں سردار بھی ہے، جاگیردار بھی، ہاری کسان بھی ہے، مزدور بھی، چرواہا بھی ہے، ٹکری اور میر و معتبر بھی۔ ایک طرف موٹی توند والے، ہزاروں ایکڑ زمین رکھنے والے،ایک وقت میں اپنے دسترخوان پہ درجن بھر پکوان سجانے والے، شاہانہ گاڑیوں کی قطاریں اور باڈی گارڈز رکھنے والے ہیں اور دوسری طرف دو وقت کی روٹی کو ترستے مزدور، دہقان، کسان اور چرواہے ہیں۔ یعنی آج کا بلوچستان بھی طبقات والا سماج ہے۔ ہماری تاریخ محض قومی تاریخ نہیں، طبقاتی تاریخ بھی ہے۔ اور ہماری تاریخ نویسی میں یہ لنک آج سے چند سال پہلے تک ’لاپتا‘ تھا۔

 

ہمارے خطے میں محض انسان لاپتا نہیں ہوتے، تاریخ بھی لاپتا ہوتی ہے، تاریخی شعور بھی لاپتا ہوتا ہے!

اس گم شدہ تاریخ کی بازیابی ابھی حال ہی کی بات ہے، جب ’پیپلز ہسٹری آف بلوچستان‘ لکھی جانے لگی۔عوام کی بات ہونے لگی۔کسانوں کی تحریکوں کا تذکرہ ہونے لگا۔ ٹریڈ یونینز کی جدوجہد بیان کی جانے لگی۔ پہلی بار عورتوں کی تحریک کا ذکر ہوا۔ اس سے پہلے خواتین کا تذکرہ ہماری تاریخ میں محض رومانوی کہانیوں تک محدود تھا۔ پہلی بار گل بی بی اور بانڑی سے لے کر کریمہ بلوچ اور سمو راج تک عورت کامؤثر سماجی کرداراور عورتوں کی تحریکیں زیربحث آئیں۔ہمیں پہلی بار معلوم ہوا کہ 1930ء کی دَہائی میں امین کھوسو اور اُن کے رُفقا کی سربراہی میں سندھ بلوچستان کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی جا چکی تھی، جس نے ہماری سیاسی تاریخ کی سمت واضح کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جس کے بعد بزنجو سے لے کر خیر بخش مری تک اپنے انٹرویوز میں کھل کر کہتے رہے کہ’بلوچستان کا مستقبل سوشل ازم سے وابستہ ہے‘(بحوالہ، ’خیر بخش مری کے انٹرویوز، اشاعت2011ء)۔

 

ہماری تاریخ کی یہ گم شدہ بلکہ گم کردہ کڑیاں ملنے کے بعد ہماری تاریخ نویسی نے پہلی بار عوامی صورت اختیار کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ تاریخی دریافتیں اور یہ مقامی طرزِتاریخ نویسی ہی وہ چنگ و رُباب ہیں جن سے تاریخ کے سُریلے سُر پھوٹیں گے۔ انھی دُھنوں پر تاریخ کے عوامی نغمے گونجیں گے۔ ہر اہلِ وطن کے ہاتھ میں تاریخ کا لوکل سرٹیفکیٹ ہو گا۔یہی لوکل سر  ٹیفکیٹ کسی زمیں زاد کو اپنے وطن میں اجنبی نہ ہونے دے گا اور کسی بھی اہلِ زمین کو وہاں سے بے دخل نہ کیے جانے کی حتمی ضمانت ہو گا.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*