غزل

 

اب بھی توہینِ اطاعت ، نہیں ہوگی ہم سے
دل نہیں ہوگا ، تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے

روز اِک تازہ قصیدہ ، نئی تشبیب کے ساتھ
رزق برحق ہے ، یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے

دل کے معبود جبینوں کے خدائی سے الگ
ایسے عالم میں ، عبادت نہیں ہوگی ہم سے

اْجرت عشق وفا ہے تو ہم ایسے مزدور
کچھ بھی کر لیں گے ، یہ محنت نہیں ہوگی ہم سے

ہرنئی نسل کو ، اِک تازہ مدینے کی تلاش
صاحبو !! اب کوئی ہجرت نہیں ہوگی ہم سے

سخن آرائی کی ، صْورت تو نکل سکتی ہے
پر یہ چکی کی مشقت ، نہیں ہوگی ہم سے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*