مست کیا سوچتا ہے

 

 

مست جیسی ہستی پہ تبصرہ کرنے سے پہلے مجھ جیسے خاکستر کو  سات عمر مست کو اور مست کی شاعری کو سمجھنے کیلئے درکار ہونگے۔میں اس بات سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود یہ گناہِ کبیرہ محض اس لئے کر پارہا ہوں کیونکہ میں مری قبیلے کے اس شاخ (شیرانی)سے تعلق رکھنے کی بنا پر جس سے مست تعلق رکھتا ہے خود کو مست کا ناخوزا (cousin)تصور کرتا ہوں۔تو بہشت میں میری تحریر اگر مست کو پسند نا بھی آئے جو کہ یقینی ہے تو ناکوزا ہونے کی بنا پر مرشد مجھے زیادہ سے زیادہ ڈانٹ دیں گے۔ اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مست کی ڈانٹ سے بھی اس کم علم کو استفادہ ہوگا۔

 

مست اور مست کے مداحوں کو طویل صفائی دینے کے بعد عنوان کی طرف آتے ہوئے آپ کو بتادوں کہ ایک 69 سالہ بزرگ جو 1975 میں قانون کے شعبے میں لینن گراڈ سٹیٹ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہونے کے بعد دنیا کے ایک ترقی یافتہ ملک کے متعدد عہدوں پر فائز رہے اور دور حاضر میں اسی ملک کے صدر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں،جنہوں نے فروری 2022 کے آخری عشرے میں بہت دلچسپ بیانات دیتے ہوئے اپنے ہمسائے ملک پر حملہ کر دیا۔اس کے برعکس انیسویں صدی کے ایک شخص جو بلوچستان کے ایک ایسے پس ماندہ علاقے سے تعلق رکھتا تھا جہاں آج تک بجلی اور پانی کی رسائی ممکن نہ ہوسکی۔وہ نہ تو کسی عہدے پر فائض رہے نہ ہی کسی ملک کے صدر بنے بلکہ انھیں تو ان کے دور کے لوگوں نے دیوانہ قرار دے دیا۔وہ کہ ایک جنگجو قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔وہ معتبر، وہ شاعر، وہ ولی اور وہ درویش جسے زمانہ تؤکلی مست کے نام سے پہچانتی  اور یاد کرتی ہے۔

 

اب قابلِ غور بات یہ ہے کہ وہ مست انیسویں صدی میں اکیسویں صدی کے ماڈرن ورلدڈ کے ماڈرن صدر کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے، یعنی مست کیا سوچتا ہے۔ ماڈرن صدر نے دو مختلف بیانات میں دو مختلف جواز پیش کئے جن کی بنیاد پر انھیں ہمسائے ملک پر حملہ کرنا جائز لگا۔ پہلا بیان:“روس اور یوکرین کے لوگ ایک ہیں اور اس سے قبل بھی ہم ایک ہی ریاست تھے۔“ ویسے تو یہ بیان حملے کو جائز قراردینے کی ذرا بھی قوت نہیں رکھتا البتہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس بارے میں مست کیا سوچتا ہے۔

 

مست اس بیان پر اپنی رائے اپنی زندگی کے ایک واقعے سے یوں دیتے ہیں:“ ایک مرتبہ مری اور بگٹی قبیلہ چمبھڑی کے مقام پر معرکہ آرا ہوئے تو مست بھی جنگ کی نیّت سے چمبھڑی جانے کیلئے تیار ہوا لیکن جب مست نے یہ منظر دیکھا کہ ایک تمدن،ایک ثقافت اور ایک ہی نسل کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں تو مست اپنے ہی لوگوں سے جنگ کو اپنی توہین سمجھ کر میدان جنگ سے واپس لوٹ گیا۔بلاشبہ بلوچوں میں یہ ایک بہت ہی معیوب بات سمجھی جاتی تھی مگر مست نے کسی بھی چیز کی پروا کئے بغیر ایسی جنگ لڑنے سے انکار کر دیا”۔ اس واقعے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ماڈرن صدر کے پہلے بیان کو مست مسترد کرتا ہے۔

 

ماڈرن صدر کا دوسرا بیان جو کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے انھوں نے ہلاکو خان یا ہٹلر سے متاثر ہو کے دیا ہو۔ پیش ہے”ہمارے معاملات میں جو بھی مداخلت کرے گا یا ہمارے ملک کیلئے خطرات پیدا کرے گا، تو ہمارے لوگ یہ جان لیں کہ روس کا ردِعمل فوری ہوگا اور نتائج ایسے ہونگے جن کا سامنا آپ نے تاریخ میں کبھی نہیں کیا ہوگا”۔اس بیان کے بعد وہ ہمسائے ملک پر حملہ آور ہوا جس کے نتیجے میں کئی جانی نقصان ہوئے اورکئی لوگ اپنے گھر ویران چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر گئے۔مست اپنی ایک نظم کے پہلے دو مصرعوں میں اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرنے کے بعد اگلے مصروں میں اس کے نتائج پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

 

جواں نہ ینت جنگانی بذیں بولی

 

کئے وثی جوائیں مڑدماں رولی

 

دوست ژا دیریں الکہاں بیایاں

 

ہلکئے مں اولی بودناں ننداں

 

باہنڑئے  اولی بوذناں ساراں

 

 

 

ترجمہ:۔

 

“جنگ کی بیہودہ باتیں اچھی نہیں

 

کون اپنے پیاروں کو دربدر پسند کرتا ہے

 

(کاش کہ)عزیز واقارب دور دراز کے علاقوں سے واپس لوٹیں

 

اپنے پرانے مسکنو ں میں آ کر قیام کریں

 

اپنے چھوڑے گھروں کو از سرِ نو آباد کریں ”

 

جو بات مست انیسویں صدی میں ایک جنگجو قبیلے کے درمیان رہ کر ایک پس ماندہ علاقے میں سمجھ گئے تھے وہ  بات شاید اکیسویں صدی کے ماڈرن ورلڈ کے ماڈرن صدر سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جنگ چاہے کسی بھی صدی میں،کسی بھی جواز کی بنیاد پر لڑی جائے اس کے اختتام میں چاروں طرف محض تباہی اور بے گناہوں کی لاشیں نظر آئیں گی۔اس لیے  یہ  ہر گز برا نہ ہوگا کہ اگر ماڈرن صدر کو بلوچ ادیبوں کے ہاتھوں قلمبند ہونے والے مست کے اشعار کے مطالعہ کی صلاح دی جائے۔

 

 

 

ریفرنسز

 

سموبیلی مست(کتاب): مٹھا خان مری

 

سمو۔۔محبت سے پہلے(مضمون): ڈاکٹر شاہ محمد مری

 

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*