ہانی مریذ

 

 

جلاوطن مریذ گرتے پڑتے، تھکان اور بھوک اور موسموں کی شدتیں سہتے مکہ پہنچ جاتا ہے۔ ذہن بدل گیا تو وہ کمزور اور شکست خوردہ مریذ اب قبائلی نہیں رہتا۔ اس لیے کہ قبائلی رہ کر تو اُسے چاکر سے لڑنا پڑتا ہے۔۔۔۔ اور وہ چاکر سے لڑ نہیں سکتا۔ دوسرا کیا راستہ رہ جاتا ہے؟۔ بس صوفی بن جانا، یا پھر نشہ ای بن جانا۔ ہمارا ممدوح مریذ اول الذکر لائن اختیار کرتا ہے۔ وہ ملنگ بن جاتا ہے۔ جوگی بن جاتا ہے۔

 

پاسپورٹ تو اُس زمانے میں ہوتا نہیں تھا۔ اور اگر  ہوتا بھی تو مریذ کے پاس توبین الاقوامی راہداری کا سرٹیفیکیٹ موجود تھا۔ محبت کا پاسپورٹ۔دل کے  ہفت غلافوں میں لپٹا ہانی کی تصویر لگا پاسپورٹ۔ غم کا پاسپورٹ، وابستگی کا پاسپورٹ۔ عشق کا عطا کردہ۔ درد کا عطا کردہ پاسپورٹ،عطا کنندہ کے لیے بھی اور وصول کنندہ کے لیے بھی۔ دل دونوں کا اپنے اپنے سینے میں نہ تھا۔

 

ظالم خواہ جتنے طاقتور ہوں، جابر خواہ کتنے باسامان ہوں،محبوباؤں کے دل سے اُن کے شہ مریذ نکال نہیں سکتے۔ نتیجہ یہ کہ چاکر نے مریذ کا گھر تو اجاڑ دیا تھا مگر خود اُس کا گھر بھی آباد نہ ہوسکا۔ ہانی  محض جسمانی طور پر اس کی بیوی تھی۔ دل تو جوگی مریذ کی گدڑی میں چلا گیا تھا۔ یوں کہنے کو تو وہ سردار کی بیوی، رند کے سردار کی بیوی۔مگر اُس کی روح اس کی بیوی قطعاً نہیں بن سکتی تھی۔

 

اِدھر مریذ کے بوڑھے باپ کی دنیا اندھیر رہتی ہے۔ اُس پر لمحے صدیاں بن جاتے ہیں۔ بیچارہ اور بوڑھا باپ (غالباً اکلوتے)بیٹے کی تلاش میں کبھی یہاں بھٹکتا ہے کبھی وہاں سفر کرتا ہے۔ اسی دوران کسی نے اُسے خبر دی کہ مریذ تو فتح پور میں ایک سنار کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ تو وہ وہاں چلا جاتا ہے:

 

پتح پورا سوناروے

 

نندیث و ساثانہ  گھڑی

 

داثاں مریذہ دروشماں

 

ترجمہ:۔

 

”پتح پور میں ایک سنار ہے

 

زیورات بناتا ہے

 

وہ مریذکی شکل کا ہے

 

وہ بوڑھا تو عید کی خوشیاں جھول گیا۔ امید، بیم۔۔۔قدم اُسی طرف رواں۔ نہ سفر کی صعوبتیں دیکھیں، نہ گرمی سردی کو خاطر میں لایا۔ گرتا پڑتا نروان جاہ پہنچا۔ آج اس کا ہنگلاج، اُس کا رسترانی، اُس کا طُور پتح پور تھا۔۔پتح پور میں اُس پہ کیا کیا بیتی، ملاحظہ کریں:

 

سی سال و سالے گارکناں

 

آف مں گھڑو آں ڈھوئثوں

 

مئیں سر سیاہ سریں کرماں جثہ

 

ترجمہ:۔

 

میں اکتیس سال وہاں ضائع کر بیٹھا

 

گھڑے بھر بھر کر پانی ڈھوتا رہا

 

میرے سر پہ سیاہ سروں والے کیڑے پڑ گئے

 

اور پھر:۔

 

روشے لغورا کندثہ

 

دتاں  سرے سہرا کثہ

 

تامیں مریذ تامیں مریذ

 

ترجمہ:

 

ایک روز جب وہ بزدل ہنس پڑا

 

(تو)اُس کے دانت نظر آئے

 

ارے کہاں ہے مریذکہاں ہے مریذ

 

یہ تو کوئی اور تھا۔نتیجہ؟۔ اتاہ مایوسی۔ کالی ناکامی۔۔۔۔ بددعا دِل سے نکلی تو کائنات لرزاٹھی:

 

 

 

پتح پو ر و کوہیں قلات

 

برباث و بری آ کفا

 

گوں ہشت و دہ ایں دروازغاں

 

سُن باث و سُنی آ روا

 

ڈھینگے رڑاثاں  بانہڑاں

 

 

 

ترجمہ:۔

 

اے فتح پور کا پتھر کا بنا قلعہ

 

تو تباہ و ویران ہو جائے!!

 

بمع اپنے آٹھ دس دروازوں کے

 

آبادیوں سے خالی ہوجائے!!

 

تمہارے کھنڈروں میں شالا الّو بولیں

 

شہ مبارک، ضعیف و ناتواں مبارک، چاکر سردار کے مظالم کا نتیجہ مبارک، اور دین و دنیا ہارا ہوا مبارک …………اپنا جی دار جواں بیٹا کھو کر دن رات روتا ہے، دہائیاں دیتا ہے،بدعائیں کرتا ہے،  نیک دعائیں مانگتا ہے۔ فریادیں کرتا ہے۔

 

بالخصوص جب وہ رند قبیلے کی لڑکیوں کو بے فکر اور خوشحال دیکھتا ہے تو اسے اپنے بیٹے کی یادکئی گنازیادہ ستاتی ہے۔ بیٹے کے گھر بار کی بربادی یاد آتی ہے۔ وہ تڑپ جاتا ہے اور اُس کے دھواں شدہ دل سے رند اور رند لڑکیوں کے لیے بد دعائیں نکلتی ہیں:

 

منڈ کُجڑو آں درکفاں

 

بامی چو ہاں بڑز بیثغاں

 

رندیں جناں شوئے وائی روا

 

کوڈی اوں گوں بوآں بُھرا

 

کاٹ و گھڑیں لوغے  شُشا

 

رنداں حذا وَیراں کنا

 

رنداں مناں وَیراں کثہ

 

ترجمہ:

 

لڑکیاں منڈیروں پہ آتی ہیں

 

صبح کی روشنی کی طرح ابھرتی آتی ہیں

 

اے رند عورتو! خدا کرے تمہاری صدائیں بند ہوں

 

پراندوں پہ تمہاری خوشبو لگی سیپی ٹوٹ جائے

 

خدا کرے تمہارے بنے بنائے گھر جل جائیں

 

رندوں کو خدا ویران کردے

 

کہ رندوں نے مجھے ویران کردیا

 

اللہ رحم کر۔ ایسی بد عائیں تو آسمان پھاڑ ڈالتی ہیں۔ عرش و فرش کو لرزاتی ہیں۔ مَلک و فلک ہل جاتے ہیں۔ اور ایسی فریادیں گڑ گڑا ہٹیں وقتی نہیں ہوتیں، اُن کے باز گشت بہت سلو ریلزنگ ہوتے ہیں۔صدیوں تک چلتے ہیں!۔پتہ نہیں ہمارے آبا کی کتنی بد دعائیں ڈیپازٹ ہو ہو کر، مرتکز ہو ہو کر، اکیومولیٹ ہو ہو کر ہمیں آفتوں میں رکھے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں قوم کو کتنے کالے بیل خیرات کرنے ہوں گے، کتنے کفارے ادا کرنے ہوں گے، ایک آدھ چاکر کی مستیوں کے۔

 

آہ‘مگر ہانی کیا کرے۔ اپنے محبوب سے محروم،اپنی منشا کے برخلاف کسی اور کی بیوی بن کر اگر اُسے خاوند سے وفا کرنی پڑتی ہے اور مریذ سے بالکل لا تعلقی کرنی پڑتی ہے تو ایسا تو صرف اور صرف بلوچ  سر قبیلوی ثقافت کی لاج رکھنے کے باعث ہے۔اوروہ چُپ چاپ یہ فریضہ ادا کرتی رہتی ہے۔مگر وہ ہے تو مریذ کی محبوبہ۔ دل تو وہیں ہے۔

 

یہ مظلوم ترین انسان روئے زمین پہ کسی انسان سے اپنا درد ظاہر نہیں کرسکتی۔ ہاں، البتہ مریذ کے والد سے تو دل کی بات کہہ سکتی ہے ناں!۔ چنانچہ وہ اس کی بد دعاؤں سے خفا نہیں ہوتی، اپنا دل چیر کے رکھ دیتی ہے:۔

 

بابا مناں دعاں یاں مہ ذئے

 

اَشتو مریذ دوستہ مناں

 

دوستہ  ژہ دوئیں دیذغاں

 

ترجمہ:۔

 

با با مجھے بد عائیں نہ دو

 

میں مریذ سے تم سے زیادہ محبت کرتی ہوں

 

مجھے وہ اپنی دونوں آنکھوں سے بھی زیادہ پیارا ہے

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*