چے گویرا۔۔۔ ایک انقلابی دانشور

 

چے گوارا کو 9 اکتوبر 1967 کو امریکہ اور بولیویا کی حکومتوں نے پراسرار طریقے سے قتل کر کے کسی نامعلوم جگہ پر اپنے دو درجن کامریڈ ساتھیوں کے ساتھ دفن کر دیا۔

چے گوارا مر گئے لیکن ان کی یاد ان کے سینکڑوں ہزاروں لاکھوں چاہنے والوں ’ مداحوں اور پرستاروں کے دل میں زندہ رہی۔

چے گوارا کی موت ایک معمہ تھی

ان کی لاش ایک بجھارت تھی

ان کا دفن ہونا ایک پہیلی تھی

اپنی پراسرار موت کے تقریباً تیس سال بعد جس جرنلسٹ نے وہ پہیلی بوجھ لی ان کا نام جون لی اینڈرسن تھا۔

جون لی بولیویا کے ایک ریٹارئرڈ فوجی جرنل کے ساتھ ایک صبح کافی پینے اور خوش گپیاں لگانے میں مصروف تھے جب جون لی نے جرنیل سے کہا

‘ یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ اس شہر میں چے گوارا کہیں تیس سال سے دفن ہیں اور کسی کو کوئی خبر نہیں؟’

جرنیل نے بڑی بے نیازی سے کہا ‘مجھے خبر ہے’

‘ وہ کیسے؟’ جون لی نے استفسار کیا‘

کیونکہ چے گوارا کو قتل کرنے اور پراسرار طریقے سے رات کی تاریکی میں دفن کرنے کا ذمہ دار میں تھا’

جون لی نے نہ صرف چے گوارا اور ان کے انقلابی ساتھیوں کی اجتماعی قبر تلاش کر لی بلکہ پریس کانفرنس کر کے ساری دنیا کو خبر بھی دے دی۔

اس پریس کانفرنس کے بعد اس جرنیل پر ملک کا راز کسی جرنلسٹ پر افشا کرنے پر حکومت کا عذاب نازل ہوا اور انہیں نظر بند کر دیا گیا۔ اس انکشاف سے چے گوارا کے مداحوں کو موقع ملا کہ وہ چے گوارا کی لاش کو بولیویا کے گمنام قبرستان سے نکال کر کیوبا کے شہر سینٹا کلارا لے جا کر دوبارہ عزت و احترام سے دفن کریں۔

کیوبا میں چے گوارا کے کامریڈ دوست فیڈل کاسٹرو نے شہر سینٹا کلارا میں چے گوارا کا ایک بلند و بالا مجسمہ بھی بنایا اور ایک میوزیم بھی تعمیر کیا جہاں اب ہر سال سینکڑوں ہزاروں چے گوارا کے مداح ان سے ملنے جاتے ہیں۔

ایک انسان دوست ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میرے لیے ایک ڈاکٹر ’ رائٹر اور انقلابی دانشور چے گوارا کی زندگی اور فیڈیل کاسٹرو سے ان کی دوستی شروع سے ہی دلچسپی کی حامل رہی ہے۔

چے گویرا کا تعلق ارجنٹیناسے تھا لیکن وہ کیوبا کی آزادی کی تحریک میں شامل ہوئے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صرف ارجنٹینا یا کیوبا ہی نہیں بلکہ پورے لاطینی امریکہ کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانا اور خود مختاری کی راہ پر ڈالنا چاہتے تھے۔ چے گویرا سوشلسٹ انقلاب سے شدت سے محبت اور سرمایہ دارانہ استعماریت سے شدت سے نفرت کرتے تھے۔

جب میکسیکو میں پہلی دفعہ چے گویرا کی ملاقات فیڈل کاسٹروسے ہوئی تو کاسٹرو نے انہیں ایک ڈاکٹر کے طور پر اپنی گوریلا فوج میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی ۔لیکن آہستہ آہستہ وہ ڈاکٹر ایک گوریلا فوجی اور کاسٹرو کے دستِ راست بن گئے۔ چے گویرا کی مدد کے بغیر کیوبا کا انقلاب شاید کامیاب نہ ہوتا۔

کامیابی حاصل کرنے کے بعد جب کاسٹرو نے کیوبا کی قیادت سنبھالی تو انہوں نے چے گویرا کو اپنا وزیر چنا۔ چے گویرا نے چند برسوں تک اس ذمہ داری کو سنبھالا لیکن جب اس نے دیکھا کہ کیوبا کا انقلاب اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو گیا ہے تو انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ کیوبا کے انقلاب کو لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک میں متعارف کروانا چاہتے تھے۔

جب چے گویرا کیوبا سے روپوش ہوئے تو امریکہ کی سی آئی اے نے ان کا پیچھا شروع کر دیا ۔کیونکہ اس وقت تک کاسٹرو اور چے گویرا امریکہ کے دو بڑے دشمن بن چکے تھے اور کاسٹرو پر کئی قاتلانہ حملے بھی ہو چکے تھے۔ چند سالوں کی جاسوسی کے بعد امریکہ کی خفیہ پولیس نے 8 اکتوبر 1967 کو چے گویرا اور اس کے گوریلا ساتھیوں کو پکڑ لیا اور اگلے دن ان سب کو پراسرار طریقے سے قتل کر دیا۔ امریکی حکومت چے گویرا کی مقبولیت سے اتنا خوفزدہ تھی کہ اس نے صرف ان کے دو ہاتھ ساری دنیا کو دکھائے لیکن ان کی لاش کو اس کے گوریلا ساتھیوں کی لاشوں کے ساتھ کسی خفیہ جگہ پر دفن کر دیا۔ ایک طویل عرصے تک چے گویرا کے چاہنے والوں کو خبر نہ ہوئی کہ ان کا ہیرو کہاں دفن ہے اور چے گویرا کے پرستاروں کو موقع ملا کہ وہ اپنے ہیرو کی لاش کو بولیویا سے کیوبا لا سکیں اور عزت سے دفنا سکیں۔

چے گویرا کی سوانح عمری پڑھنے کے بعد میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں اس جگہ جاﺅں جہاں بیسویں صدی کے اس انقلابی کو دفن کیا گیا ہے۔ چنانچہ میں نے ٹکٹ خریدا اور کیوبا پہنچ گیا۔ معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ چے گویرا سینٹا کلارا کے شہر میں دفن ہیں جو میرے ہوٹل سے سو میل دور تھا۔ بدقسمتی سے میرے ہوٹل سے کوئی بس وہاں نہ جاتی تھی، چنانچہ میں نے ایک ٹیکسی ڈرائیور سے بات کی جو مجھے تین سو ڈالر لے کر سینٹا کلارا لے جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ جس دن ہمیں سینٹا کلارا جانا تھا اسی دن کیوبا میں ہریکین چارلی نے طوفان برپا کر دیا۔اس طوفان نے چے گویرا کی شوریدہ سر شخصیت کی یاد تازہ کر دی۔

اگلے دن میں نے چے گویرا کی قبر پر حاضری دی۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ کاسٹرو اور کیوبا کی حکومت نے وہاں چے گویرا کا ایک بیس فٹ اونچا مجسمہ ایستادہ کر رکھا تھا۔ اس مجسمے میں چے گریرا ایک بندوق لیے کھڑے ہیں۔اس گوریلا فوجی کے مجسمے میں سٹیچو آف لبرٹی کا سا حسن اور وقار ہے۔ اس مجسمے کے ساتھ ایک پتھر کی سل بھی ایستادہ ہے جس پر ہسپانوی زبان میں وہ خط رقم ہے جو چے گویرا نے کیوبا سے رخصت سے پہلے کاسٹرو کو لکھا تھا۔

جہاں چے گویرا اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں دفن ہیں وہاں ایک ہلکی آنچ کا شعلہ بھی جل رہا ہے۔ یہ شعلہ ان قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے جو ان انقلابیوں نے آزادی کی راہ میں پیش کی تھیں۔

اس مجسمے سے چند میل دور ایک چے گویرا کا عجائب گھر بھی ہے جو ریل گاڑی کے ڈبوں میں بنایا گیا ہے۔ یہ اس گاڑی کے ڈبے ہیں جن پر انقلاب کے آخری دن چے گویرا نے حملہ کیا تھا اور بتستا کی فوج کو شکستِ فاش دی تھی۔ اس حملے کے بعد بتستا اور امریکہ کا زور ٹوٹ گیا تھا اور اگلے دن یکم جنوری 1995کو چے گویرا اور کاسٹرو نے کیوبا کی حکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔ بتستا کی فوج پر چے گویرا کے آخری حملے کی یاد میں وہ گاڑی کے ڈبے محفوظ کر لیے گئے ہیں اور ان میں چے گویرا کا بستر‘ اس کے کپڑے‘ اس کی بندوقیں‘ اس کے بزوکازBAZUKAS اور ہیموک HAMMOCK نشانی کے طور پر رکھ دیے گئے ہیں تا کہ ان کے چاہنے والوں کو ایک گوریلا فوجی کی طرزِ زندگی کا اندازہ ہو سکے۔

جب میں چے گویرا کے مجسمے اور عجائب گھر کو دیکھ کر واپس لوٹ رہا تھا تو مجھے ان کی وہ تقریر یاد آرہی تھی۔ جو انہوں نے 1965میں ٹرائی کونٹیننٹل کانفرنس کے لیے زیرِ زمین رہتے ہوئے خفیہ طور پر بھیجی تھی۔

اس تقریر میں انہوں نے ایشیا‘ افریقہ اور لاطینی امریکہ کے عوام سے درخواست کی تھی کہ وہ جمہوریت اور سوشلزم سے ٹوٹ کر محبت اور سرمایہ دارانہ استعماریت سے شدت سے نفرت کریں تا کہ وہ اپنے اپنے ملک میں ایک سوشلسٹ انقلاب لا سکیں اور اپنے سماجی‘ معاشی اور سیاسی مسائل کا منصفانہ حل تلاش کر سکیں۔

جہاں چے گویرا کے دل میں سرمایہ دارانہ نظام کے لیے شدید نفرت تھی وہیں ان کے دل میں اپنے دوستوں‘ بچوں اور انقلاب کے پرستاروں کے لیے بے پناہ محبت تھی اور اس محبت کا اظہار ان دو خطوط سے ہوتا ہے جو انہوں نے کیوبا کو خیر باد کہنے سے پہلے اپنے کامریڈ دوست کاسٹرو اور اپنے بچوں کو لکھے تھے۔ ان خطوط کا اردو ترجمہ حاضرِ خدمت ہے۔

چے گویرا کا کاسٹرو کے نام آخری خط۔۔۔

الوداع۔۔۔۔فیڈل۔۔۔۔ الوداع

فیڈل! اس وقت مجھے تمہارے ساتھ اپنی دوستی کے بارے میں بہت سے واقعات یاد آ رہے ہیں۔ مجھے وہ دن یاد آ رہا ہے جب ماریا انٹونیا MARIA ANTONIA کے گھر میں ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی‘جب تم نے مجھے انقلاب میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی اور انقلاب کی تیاری میں ہمیں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا‘ مجھے وہ سب باتیں یاد آ رہی ہیں۔

ایک وہ دور تھا جب یہ سوال پوچھا جاتا تھا کہ موت آنے سے کس کو مطلع کیا جائے کیونکہ ان دنوں انقلاب کی راہ میں موت آنے کا ہم سب کو خطرہ تھا۔ بعد میں ہمیں احساس ہوا کہ انقلاب لانے والے یا تو کامیاب ہو کر فتح و کامرانی سے ہمکنار ہوتے ہیں یا موت کو گلے لگا لیتے ہیں (اگر وہ انقلاب ایک سچا انقلاب ہو) اور ہمارے کئی دوست موت سے بغلگیر ہو گئے۔

اب جبکہ ہم انقلاب کی بلوغت کے کئی زینے طے کر چکے ہیں حالات اتنے ڈرامائی نہیں رہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نے ان تمام فرائض کو حتی المقدور خوش اسلوبی سے نبھایا جو کیوبا اور اس کے انقلاب نے مجھ پر عاید کیے تھے۔ اب میں تمہیں‘ اپنے کامریڈ ساتھیوں اور کیوبا کے عوام کو الوداع کہہ رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں اور کیوبا کے عوام انقلاب کی راہ میں ہمسفر تھے۔

آج میں پارٹی کی رہنمائی‘ وزارت کے عہدے‘ فوج میں میجر کے رتبے اور کیوبا کی شہریت سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ اب قانونی طور پر کیوبا سے میرا کوئی بندھن نہیں رہا۔ اب صرف وہی بندھن رہیں گے جو کچھ اور نوعیت کے ہیں اور وہ اٹوٹ ہیں۔

جب میں ماضی کی طرف نگاہ دوڑاتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے انقلاب کی کامیابی اور کامرانی کے لیے بہت محنت اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا تھا۔ میری صرف یہ غلطی تھی کہ میں نے شروع میں تم پر پورا بھروسہ نہ کیا تھا۔ مجھے تمہاری انقلابی اور سپہ سالارانہ صلاحیتوں کو سمجھنے میں کچھ دیر لگی تھی۔ میں نے تمہارے اور کیوبا کے عوام کے ساتھ کچھ یادگار دن گزارے ہیں۔ مجھے انقلاب کی جدوجہد میں شامل ہونے پر فخر ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ کریبین بحران کے دوران ہمیں کچھ سوگوار دن بھی دیکھنے پڑے تھے۔ان مشکل حالات میں بھی تم نے عوام کی خوش اسلوبی سے رہنمائی کی اور میں نے بڑے خلوص سے تمہاری پیروی کی اور تمہارے پیغام اور تمہارے اصولوں کو دل سے لگایا۔

اب میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے دوسرے ممالک کو میری خدمات کی ضرورت ہے۔ تم اس سفر میں میرا ساتھ نہیں دے سکتے کیونکہ تمہارے کندھوں پر تمہاری قوم کے مستقبل کی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ میں اب ان سے آزاد ہوں اس لیے الوداع کہہ سکتا ہوں۔

میں اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میں یہ قدم ملے جلے جذبات سے اٹھا رہا ہوں۔ میرے دل میں خوشی کے جذبات بھی ہیں اور دکھ کے بھی۔ میں اپنے پیچھے اپنے خواب‘ اپنے آدرش اور اپنے عزیز چھوڑے جا رہا ہوں۔ میں اس دھرتی کے ان لوگوں سے جدا ہو رہا ہوں جنہوں نے مجھے اپنا بیٹا بنایا تھا۔ مجھے اس کا بہت دکھ ہے۔ تم نے مجھے جس جنگ کے آداب سکھائے ہیں میں اس جنگ کو نئے محاذوں پر لے جا رہا ہوں۔ میں وہ انقلابی روح دوسری قوموں کی عوام میں پھونکنا چاہتا ہوں۔ میں استعماریت کے خلاف جنگ کو اپنا مقدس ترین فرض سمجھتاہوں۔ جب میں اس جدوجہد میں شریک ہوتا ہوں تو میرے زخموں پر مرہم لگ جاتا ہے۔ میں اس حقیقت کا ایک دفعہ پھر اقرار کرنا چاہتا ہوں کہ اب کیوبا میرے اعمال کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اگر اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت میں کسی اور آسمان کے نیچے ہوا تو میرے دل میں کیوبا کی دھرتی اور اس کے عوام کے ساتھ چاہت اور لگاﺅ کے جذبات ہوں گے۔

میں تمہارا ممنون ہوں کیونکہ میں نے تم سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں آخری دم تک تمہارا وفادار رہوں گا۔ میں کیوبا کی خارجہ پالیسی سے ہمیشہ متفق رہا ہوں۔ میں جہاں بھی جاﺅں گا اپنے آپ کو کیوبا کا انقلابی سمجھوں گا۔ مجھے اس بات کا افسوس نہیں کہ میں اپنی بیوی اور بچوں کے لیے کوئی مالی اور مادی چیز نہیں چھوڑ کر جا رہا۔ میں اسی حال میں خوش ہوں۔ میں ان کے لیے تم سے کچھ بھی نہیں مانگتا۔ مجھے پوری امید ہے کہ کیوبا کی حکومت ان کا خیال رکھے گی اور ان کے کھانے‘ پینے‘ رہائش اور تعلیم کا انتظام کرے گی۔

میں تم سے اور کیوبا کے لوگوں سے بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن وہ سب کچھ کہنا ضروری نہیں ہے۔ میرے الفاظ میرے جذبات کی مکمل ترجمانی نہیں کر سکتے اور میں الفاظ کی بازیگری کے بھی حق میں نہیں ہوں۔

ہم ہمیشہ انقلاب کی طرف قدم بڑھاتے رہیں گے۔ میں اپنے انقلابی جوش و خروش کے ساتھ تمہیں گلے لگا تا ہوں۔ چے

چے گویرا کا اپنے بچوں کے نام خط

میرے عزیز بچو !

تمہارا باپ ساری عمر اپنے خوابوں اور آدرشوں کے ساتھ وفادار رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ تم بھی انقلابی بننا۔ دنیا میں جہاں بھی ناانصافی نظر آئے اس کے خلاف احتجاج کرنا۔ ظلم کے خلاف احتجاج کرنا ہی ایک انقلابی کی بہترین خصوصیت ہے۔ تمہارا ابو۔۔۔چے

چے گویرا کی سوانح کا مطالعہ کرنا اور کیوبا جا کر ان کے مجسمے کو دیکھنا میری زندگی کا ایک یادگار واقعہ ہے جسے میں ساری عمر فراموش نہ کرسکوں گا۔ چے گویرا نے انصاف‘ آزادی اور انقلاب کا جو خواب دیکھا تھا اسے اب لاطینی امریکہ کے سیاسی رہنما شرمندہِ تعبیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان پر امریکہ کی استعماریت کے خفیہ منصوبے واضح ہوتے جا رہے ہیں‘ وہ منصوبے جن کی نشاندہی آج سے چالیس سال پیشتر چے گویرا نے کی تھی۔ امریکی حکومت نے چے گویرا کو پراسرار طریقے سے دفن کرنے کی پوری کوشش کی لیکن وہ اس کی یاد اور آدرش کو نہ مٹا سکے جو ساری دنیا کے انقلابیوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ چے گویرا اور ہوچی منہ بیسویں صدی کے ان رہنماﺅں میں سے ہیں جنہوں نے ظلم کے خلاف جنگ لڑنے میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ ان کی زندگیاں بہت سے انقلابیوں کے لیے آج بھی مشعلِ راہ ہیں۔ وہ لوگ انقلاب اور عشق کے اس راز سے واقف تھے جس کے بارے میں فیض احمد فیض فرماتے ہیں:

گر بازی عشق کی بازی ہے سب کچھ ہی لگا دو ڈر کیسا

گر جیت گئے تو کیا کہنا‘ ہارے بھی تو بازی مات نہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*