طلبا سیاست پر پابندی

 

حکومتِ بلوچستان نے ایک نوٹفکیشن کے ذریعے صوبے میں طلبا سیاست پر پابندی لگادی ہے ۔
بلوچستان میں طلبا سیاست پر پابندی لگانے کی بات غیر سنجیدگی کی انتہا ہے ۔ یہ ناممکن العمل بات ہے ۔ عقل میں نہ آنے والی بات ہے ۔
اگر ہم سٹوڈنٹس پالیٹکس کے فوائد پرفلاسوفیکلی بات نہ بھی کریں اور صرف بلوچستان کی اپنی تاریخ پہ ہی غور کریں تو اندازہ ہو جائے گا کہ اس پر عمل نہیں ہوگا۔یہ بلا جواز اقدام ہے ۔ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔
اس ملک میں پہلے ہی ٹریڈ یونین ازم کو کرپٹ کردیا گیا، کسانوں کی کوئی تنظیم موجود نہیں ہے۔ عورتوں کی کوئی جمہوری اور منظم صور ت ،وجود نہیں رکھتی۔ سیاسی پارٹیاں ، بگاڑ بگاڑ کر سٹیٹس کو کی ہمنوا بنادی گئی ہیں۔ اب آخری بات سٹوڈنٹس پالٹکس کی رہ گئی تھی ، اُسے بھی ایک نوٹی فی کیشن کے تحت بند کردیا گیا ۔ جمہوریت دشمنی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ، بے شعوری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ،اور خیالی پلاؤ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔
تعلیم کے محکمے نے یہ نوٹی فی کیشن کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کو دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اگر کسی بھی شہری نے عدالت کا رخ کیا تو یہ نوٹی فیکیشن دھڑام سے غیر قانونی قرار دی جائے گی۔ ارے بھائی آپ تحریر، تقریر، تنظیم سازی جیسی بنیادی انسانی حقوق کو کس حیثیت میں سلب کرسکتے ہیں۔ آپ ملک اور صوبے پر صرف یہ ظلم نہیں کر رہے کہ ایک جمہوری سرگرمی کو بند کر رہے ہیں، آپ اس ملک اور صوبے کے مستقبل سے بھی کھیل رہے ہیں؟۔ آپ نے تعلیمی اداروں میں طلبا یونینوں کے الیکشن تو پہلے ہی ختم کر رکھے ہیں۔ اب طلبا تنظیموں کی سیاست پہ پابندی لگا رہے ہیں۔ کل تو آپ تعلیمی اداروں میں خود طلبا کی آمد تک پر پابندی لگائیں گے !۔
یہ نوٹی فکیشن فوری طور پر واپس لینا چاہیے ۔ اس لیے کہ سٹوڈنٹس تو ہمارے سماج کا سب سے متحرک ، سب سے جوان ، صحت مند ، پڑھا لکھا اور حساس گروپ ہے ۔ اسے آپ ملکی معاملات کو سمجھنے ، دیکھنے اور بہتر کرنے کے امکان سے خارج کر رہے ہیں؟ ۔ اسی پڑھے لکھے گروپ سے ہی تو آنے والے کل کی قیادت نے آنا ہے ۔ اِن کی سیاسی ٹریننگ کے راستے بندکر کے کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اَن پڑھی والی روایتی لوگوں کی صدیوں کی حکمرانی جاری رکھنا چاہتے ہیں؟۔ کیا آپ ہمارے سماج اور ہماری سیاست کو واپس گھوڑوں گھڑ سواروں کے عہد میں لے جاناچاہتے ہیں؟۔ کیا آپ دلیل ، بحث، قرارداد اور ووٹ والے پر اسیس سے خائف ہیں؟۔ سٹوڈنٹس سیاست تو عمومی عوامی سیاست کی پرورش گاہ ہے ، نرسری ہے۔ آپ اُس ارتقائی عمل کو روک رہے ہیں؟۔آپ کا خیال ہے کہ پھر سردار بادشاہی کرے ؟۔ اکیسویں صدی میں ؟، پوسٹ ٹکنالوجی کے عہد میں؟ ۔آپ بلوچستان کو کہاں لے جانا چاہ رہے ہیں؟۔
ذرا اپنی اسمبلی پہ نظر تو دوڑائیں۔ سرداروں کو ہٹا کر دیکھیں تو پوری اسمبلی طالب علم سیاست سے ابھر کر آنے والے لوگوں پر مشتمل نظر آئے گی۔ آپ یہاں کی ساری جمہوری سیاسی پارٹیوں کو دیکھیں، اُن کی قیادت پوری کی پوری سٹوڈنٹس پالٹکس سے ابھر کر آئی ہے ۔آپ عدلیہ کو دیکھیں ، سارے جج انہی کالجوں یونیورسٹیوں اور طلبا تنظیموں کی گود میں تربیت پاچکے ہیں۔طالب علم اور تعلیمی ادارے صرف جج ، سیکریٹری اور ڈائریکٹر ہی پیدا نہیں کرتے بلکہ طب،انجینئرنگ اور سیاست میں سپیشلسٹ بھی وہیں سے نکلتے ہیں ۔
تعلیمی اداروں کے اندر تو بلکہ موجود سیاسی تنظیموں کو مزید مضبوط ، اور مزید جمہوری بنانے کی ضرورت ہے ۔ ہماری سیاست اگر تعلیم یافتہ لوگوں کے ہاتھ جائے گی تو اُس میں لٹھ ماری کے بجائے عقل اور دلیل آجائے گی، سیاست نئے تصورات اور افکار سے منور ہوگی۔ اور قرونِ وسطیٰ کی سوچ اور حربوں سے نجات ملے گی۔ سیاسی عمل وہیں سے ، تعلیمی اداروں سے شروع ہوگا تو ہی ریاستی اور حکومتی شعبوں میں جمہوری رجحان جکڑ پکڑے گا۔
ہر مہذب سوسائٹی کی طرح ہمارے معاشرے میں بھی تربیت یافتہ سیاسی ورکرز کی مسلسل آمد جاری رہنی ضروری ہے ۔ نوجوانوں کا سیاست میں آنا اور اپنا کردار ادا کرنا ایک عالمگیر مظہر ہے ۔ کیا جمہوری ممالک میں ایک بھی مثال موجود ہے جہاں طلبا کی سیاست میں آنے کی راہ بند کی گئی ہو؟۔
یہ تو خودکشی ہے ۔ ۔۔۔ اکیسویں صدی کی خودکشی

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*