ہو چکا میرا تماشہ کافی

 

مجھ پہ تیزاب نہ پھینک

میں تو خود جھلسی ہوئی روح لئے پھرتی ہوں

اب مرے حق میں نہ آواز اٹھائی جائے

نہ کسی ظلم کو تحریر یا تقریر میں لایا جائے

ہو چکا میرا تماشہ کافی

اور اک بات بتا دوں یہ بھی

چار سو پہرے لگانے والے

درو دیوار سے کیا ہوتا ہے

مجھ کو حاجت ہی نہیں اب کسی آزادی کی

منتظر ہوں میں نئی روح کی بیداری کی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*