سپارٹیکس

 

سلطنت رُوم کے خلاف غلاموں کی عظیم بغاوت پر شاہکار ناول

مصنف : ہاورڈ فاسٹ

مترجم : شاہ محمد مری

مبصر : مصباح نوید

سپارٹیکس،ہاورڈ فاسٹ کا لکھا ہوا وہ شاہکار ناول ہے۔ جو سلطنت رُوم میں آقاؤں کے خلاف غلاموں کی عظیم بغاوت سے متعلق ہے۔ سپارٹیکس ایک پیدائشی غلام تھا۔ جس کو قتل کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ تاکہ غلام غلام کو قتل کرکے فارغ اور بیکار آقاؤں کی تفریحِ طبع کا سامان مہیا کریں۔

”آپ کو یہاں بہت اچھی لڑائی اور بہتا ہوا بہت سارا خون نظر آئے گا۔“

”رومن اکھاڑے جہاں زندگی جیسی عظیم الشان اہم ترین نعمت قصائی کی نذر ہو جاتی ہے۔“

سپارٹیکس میں جا بجا مقاماتِ آہ و فغاں ہیں۔ آدمی کے ہاتھوں انسان کی ذلت بہیمانہ ہے۔ انسانی رُوح اذیت سے کراہتی محسوس ہوتی ہے۔ ابنِ آدم کی نہ ختم ہونے والی بھوک دوسروں کا نوالہ چھین کر کھانے کے باوجود شکم سیر نہیں ہوتی۔

غلاموں کی بغاوت کو تو کچل دیا گیا۔ آزادی کی چاہ کے جرم میں غلاموں کو مصلوب کر دیا گیا۔ انسان وقت کے سمندر میں تہہِ آب ہو جاتے ہیں، لیکن تھوڑی سی قوت، تھوڑی سی اُمید، تھوڑی سی محبت چھوڑ جاتے ہیں۔ درندگی کے وحشت ناک رقص کے بعد بھی اگر دلوں میں اُمید ہمدردی اور محبت کی رمق بھی رہ جاتی ہے تو انسانیت زندہ ہو جاتی ہے۔

یہ ناول نئے حوصلوں کی تعمیر کرتا ہے۔ اس ناول میں غلاموں کے متوازی عظیم الشان سلطنت رُوم کی گدھ صفت اشرافیہ ہے۔ استحصالی طبقہ جن کی شان و شوکت کا مول غلام اپنے خون پسینے سے ادا کرتے ہیں۔ مردہ ضمیروں کی سڑاند کو خوشبودار لبادوں میں چھپائے، اپنے بھیانک و یمپائر چہروں پر انسانی ماسک چڑھائے بہت سارے کردار ہیں۔ ان میں ایک کردار ”ئیسیرو“ کا بھی ہے۔ ”اس میں خاص بات یہ تھی کہ وہ ان نوجوانوں میں سے ایک تھا۔ جو ہر قسم کی شرم، اصول اخلاقیات ضمیر کو سکون پہنچانے والی ہر خواہش اور رحم یا التفات کی ہر اس آرزو کو اتار پھینک سکتا ہے جو کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہو“۔

”فلسفہ اور اُمور سلطنت کے بارے میں اس کے مضامین اور لیکچر توصیف و پذیرائی کے ساتھ پڑھے سنے جاتے تھے۔ اور ان میں جو باریک باتیں وہ دوسروں کی چوری کرتا تھا۔ زیادہ تر لوگوں کو ان کا پتا بھی نہیں چلتا تھا“۔

درجِ بالا پیرے پڑھتے ہوئے کیا آپ کو بھی ”سئیسیرو“ کچھ شناسا محسوس ہو رہا ہے؟کوئی شباہت! کوئی انداز! بے حیائی کی حد تک پہنچی ہوئی بددیانتی! انصاف کو من چاہے معنی کی اوڑھنی اوڑھانا!۔

”بہت عرصہ قبل سائیسیرونے انصاف اور اخلاقیات میں موجود فرق کو ڈھونڈ نکالا تھا۔ انصاف طاقتوروں کا ہتھیار ہوتا ہے اس وقت استعمال ہوتا ہے جب طاقتوروں کو اس کی ضرورت ہوتی ہے“۔

رُوم کے چکا چوند سماج کی جھلکیاں دیکھیے:۔

”وہ مکمل طور پر غلاموں کی پیٹھ پر تعمیر کردہ معاشرہ تھا۔ اس معاشرے کی خوش آہنگ آواز کوڑے کی شائیں شائیں کرتی گفتار تھی“۔

”رُوم کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ لوگوں کو ان کے خاندانوں کے علاوہ ان کی دولت سے بھی ناپتا تھا“۔

مگر بغاوت کی کونپل تو موجود تھی، باریک، نازک اور بڑھتی ہوئی کونپل۔

”سپارٹیکس کو اپنے لئے کوئی غم، کوئی پریشانی اور کوئی ترس نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے لئے غمگین رہتا۔ دوسروں کے لئے ہمدردی رکھتا۔“

”اُس نے اُمید تعمیر کی“

اس نے انسانوں کے مابین مساوات اور بھائی چارہ قائم کیا۔ وہاں مشترکہ سٹور پر کبھی تالا نہیں لگایا گیا۔ اور جب انہوں نے دیکھا کہ وہ چوری کے بغیر اپنی ضرورت کی چیزیں حاصل کر سکتے ہیں تو انہوں نے چوری بند کر دی۔

”جب تک انسان محنت کرتا رہے گا۔ اور دوسرا انسان اس کی محنت کا ثمر اور منافع چھینتا رہے گا۔ سپارٹیکس کا نام یاد رکھا جائے گا۔ کبھی کھسر پھسر میں اور کبھی صاف اور بلند آواز میں چیخوں کے ساتھ“۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری نے ادبی تراجم کا

آ غاز ہاورڈ فاسٹ کے تاریخی ناول سپارٹیکس سے کیا۔ وہ اس ناول کو دنیا کا عظیم تاریخی ناول قرار دیتے ہیں۔ کسی بھی تخلیق کا ترجمہ اس خوبی سے کرنا کہ اس کی رُوح کی تر و تازگی برقرار رہے، اوکھا گھاٹ ہے۔ شاہ محمد نے روانی سبھاؤ لگن لگاؤ سے اِسے نبھایا ہے۔

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*