ہچکی

 

 

سنتی بھی ہو کبر کی ماری مٹی کی ڈھیری

کتنے سال پرانی ہو گئی یہ تیری چمڑی

دیکھ چکی ہے کتنے منظر آنکھوں کی پتلی

تھاپ چکی ہے ان ہونٹوں پر کتنے من سرخی

کیا کیا ہڑپ لیا ہے تو نے بھوک بھری تھالی

کتنا پانی جذب کیا ہے کتنی سانسیں لیں

ناپ سکی ہے ان پیروں سے کتنے میل زمیں

کات چکی ہے کتنا سوتر ہاتھوں کی چرخی

پھانک چکی ہے کتنے سورج کتنی تاریکی

تیر چکی ہے کتنے دریا خوابوں کی کشتی

چکھی بھی ہے تو نے عشق محبت کی مصری

چھو کر بھی دیکھی ہے کبھی کیا یہ رنگیں تتلی

کتنی دھوپ ہوا نگلی ہے، ہو گئی کیا اجلی

کتنا دھول دھواں چاٹا ہے، ہو گئی کیا میلی

ٹھیکر ٹھیکر چن کر آخر بھر گئی ناں تھیلی

سلگ سلگ کر بھی جل جاتی ہے گیلی لکڑی

اب کیا سوچے اب کیا چاہے آ گئی ہے پرچی

کیا کیا بیجا کیا کیا کاٹا کرلو اب گنتی

اک سندر موہن سپنے کی یہ تھی بس جھلکی

صدیوں سے تو کھینچ رہی تھی یہ بھاری ریڑھی

ہر لمحہ خود کاٹ رہی تھی سانسوں کی قینچی

جھپک پلک کی پلک جھپک کی اتنی تھی دیری

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*