عورت ذات

 

جلتا سورج، راہیں لمبی

ننگے پاؤں، دْور ہے ندی

ٹیڑھا پینڈا، گہری وادی

موڑ مْڑے گی کب پگڈنڈی

کبھی میں رکھوں راہ پہ آنکھیں

کبھی اْٹھاؤں رکھ کے گگری

 

 

 

کبھی یہ سوچوں کنکر، پتھر

توڑ نہ ڈالیں میری جھجھری

کبھی نکالوں کْھلتا گھونگھٹ

کبھی سمیٹوں گِرتی چْنری

کبھی نکالوں پیر سے کانٹا

کبھی سنبھالوں سر پر مٹکی

”بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی”

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*