نیند کی گولی

 

وکٹورئین طرد کی اُونچی چھت میں لگے ہوئے لمبی راڈوالے پنکھے آہستہ آہستہ بڑے وقار سے گھوم رہے تھے۔ ہال نما وسیع کمرے میں پرانا مگر قیمتی قالین دیواروں تک پیوست تھا۔ لمبی چوڑی شفاف میز پر سرخ، سفید اور سیاہ ٹیلی فون قطار میں دھرے جگمگا رہے تھے۔ چھوٹی سی آبنو سی ٹرے پر ہاتھی دانت کا چاقو لیٹا تازہ ڈاک کا انتظار کر رہا تھا۔ فائلوں کے رَیک میں بے شمار فائلیں مُنہ چھپائے آگے پیچھے اَٹکی ہوئی تھیں۔

 

رفیق نے گھومنے والی کُرسی پر ذرا سا جُھک کر سگریٹ سُلگایا اور ایک ٹائپ کی ہوئی درخواست پر نظر ڈالنے لگا۔ دس برس سے وہ ایسے ہی نفیس اور شانداردفتروں میں کام کر رہا تھا۔

 

”آپ کی کال ہے سر“ سیکرٹری کی کھنکتی ہوئی آواز آئی۔

 

”ہَلو۔۔۔ کلب سے بول رہی ہوں۔ تم ابھی تک بیٹھے ہو“۔

 

”آج کام بہت تھا۔ ابھی ابھی ختم ہوا ہے“۔ رفیق نے جمائی لینے کے انداز میں کہا۔

 

”کتنی دیر میں پہنچ رہے ہو؟“

 

”میں آج تھک گیا ہوں“۔

 

”تب تو اور بھی اچھا ہے۔ یہاں آکر رِلَیکس کر لینا“۔ فریدہ نے فون رکھ دیا۔

 

رفیق نے گھڑی دیکھی، پانچ بجنے والے تھے۔ صبح سے اتنے لوگ ملنے آئے۔ بے شمار فائلیں دیکھنی پڑیں۔ دو وفد آئے جن سے سر کھپاتے اور بولتے بولتے اس کا حلق خشک ہوگیاتھا۔ وہ گھر جا کر اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن کر چائے کی ایک گرم پیالی پینا چاہتا تھا۔ اس کے بعد اپنی لائبریری میں جو اس نے بڑے شوق سے بنائی تھی بیٹھ کر اچھے اچھے ریکارڈ سُننا چاہتا تھا۔ اُن کتابوں کو دیکھنا چاہتا تھا۔ جو عرصے سے بند پڑی تھیں۔ مگر فریدہ۔ وہ جتنا اچھا افسر تھا اتنا ہی اچھا شوہر بھی۔ اُس نے گھنٹی بجائی۔ چپراسی نے اس کا سیاہ بیگ اُٹھا لیا اور پنکھوں کے سوئچ بند کرنے لگا۔

 

فریدہ نے اپنا پانچواں چکّر پورا کیا اور سُومنگ پُول سے باہر آکر لمبی کُرسی پر لیٹ گئی۔ گیلے جسم سے ہوا نے رگڑ کھائی تو اسے جُھرجُھری سی محسوس ہوئی۔ بڑا سا تولیہ اس نے ٹانگوں پر پھیلالیا اور سر کُرسی کی پُشت سے ٹِکا کر سامنے دیکھنے لگی۔ ایک لڑکا اور لڑکی بھاگتے ہوئے آئے اور چھینٹے  اُڑاتے تالاب میں کود گئے۔ پانی کے اندر ان کے ہونٹ آپس میں ملے اور پھر وہ کھکھلاتے ہوئے سطح پر آگئے۔ دو لڑکیاں تالاب سے نکل کر قریب ہی گھاس پر بیٹھ گئیں۔

 

”تم اپنے بال اُتارتی ہو؟“۔

 

گوری لڑکی نے، سانولی لڑکی کی لانبی چکنی ٹانگوں پر رشک سے نظریں پھیرتے ہوئے پوچھا۔

 

”نہیں تو“۔

 

”میرے لیے یہ اچھی خاصی مصیبت ہے“۔

 

”آجکل کس بیوٹی پارلر میں جاتی ہو؟“

 

”کہیں بھی نہیں۔ مجھے ایک بھی پسند نہیں۔ اس مرتبہ تم باہر جاؤ تو میرے لیے ویکس کا ایک بڑے سائز والا جار ضرور لے آنا“۔

 

”ضرور“ سانولی لڑکی نے گردن ہلائی۔

 

”مجھے رات شادی میں جانا ہے“۔

 

”کیا پہنوگی؟“ گوری لڑکی نے پوچھا۔

 

”سمجھ میں نہیں آتا۔ ایک ہری ساری آج ہی تیار ہو کر آئی ہے مگر اس پر بنا ہوا کام۔۔۔“۔

 

فریدہ آہستہ آہستہ بچوں کے سوئمنگ پول کی جانب چل دی۔ سیاہ کا سٹیوم میں اس کا بھرا بھرا جسم بہت خوبصورت لگتا تھا۔ کئی نگاہیں اُس کی جانب اُٹھ گئیں۔

 

بچوں کے تالاب میں بیٹھ کر وہ دونوں بچوں کو تھوڑی دیر تک تیرنا سکھاتی رہی مگر اب ہوا ٹھنڈی چل رہی تھی، اُنہیں باہر نکل کر آیا کے سپرد کیا۔ اور خود تیار ہونے کے لیے ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔

 

اندھیرا پھیل گیا۔ جب وہ باہر نکلی۔ لاؤنج کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے دیکھا رفیق نے برجِ روم سے باہر آکر پینا شروع کردیا تھا۔ جمال صاحب اور اُن کی بیگم بھی بیٹھے تھے۔ جمال سے وہ مل چکی تھی۔ مسز جمال کو اس نے دُور سے دیکھا۔بھاری جسم کی چالیس پینتالیس کے لگ بھگ تھیں۔ بالوں میں تیل لگا کر چھوٹا سا جوڑا بنایا تھا اور ہاتھوں میں روح افزا کا لمبا سا گلاس تھامے غٹا غٹ پی رہی تھیں۔

 

اُس نے مُسکرا کر سامنے لگے شیشے میں اپنی ساری کا  جائزہ لیا۔ بالوں کو ہلکے سے تھپتھپایا اور مطمئن ہو کر اعتماد سے آگے بڑھنے لگی۔ وہ اُسے دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔ جمال نے کرسی کھینچ کر پیش کی۔

 

”آپ کیا پئیں گی؟“۔جمال نے شائستگی سے پوچھا۔

 

”جِن وِتھ ٹانک پلیز“۔

 

فریدہ نے جواب دیا اور مسز جمال کو دلفریبی سے دیکھ کر مُسکرانے لگی جو اُس سے بہت مرعوب لگتی تھیں۔ آنے جانے والوں میں بہت سے لوگ رفیق اور فریدہ سے صاحب سلامت کرتے رہے۔ وہ سب ہشاش بشاش اور خوش لباس تھے۔ مختلف اہم اور اونچے عہدوں اور شعبوں سے تعلق رکھتے تھے ۔

 

”غالب نے کائنات کی بے ثباتی کا فلسفہ پیش کیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اِس تمام گردشِ شب و روز، سال، مہینے، دن اور گھنٹوں کو کہیں نہ کہیں ثبات ضرور ہے۔۔۔۔“ فریدہ نے کنکھیوں سے دیکھا۔ ”آج ابھی سے بہکنے لگا“۔ اس نے رفیق کے سنجیدہ موڈ کو محسوس کر کے سوچا اور قریب کی میز پر بیٹھی اپنی ایک سہیلی سے ملنے چلی گئی۔ مسٹر اینڈ مسز جمال عقیدت سے رفیق کی باتوں پر سرہلاتے رہے۔ اتنے اعلیٰ افسر کی سنجیدہ اور غیر دفتری باتوں پر سر ہلانا بھی ایک کاروباری معاملہ تھا۔

 

کلب کے ڈائننگ ہال میں بھیڑ بہت تھی۔ فریدہ نے بُرا سا مُنہ بنایا۔ جمال اس کا موڈ بھانپ گیا۔

 

”اچھے سے ہوٹل میں چلتے ہیں“۔ انہوں نے تجویز پیش کی۔

 

وہ سب جمال کی کار میں بیٹھ کر انٹر کانٹی نیٹل گئے۔ جمال نے کھانے کا آرڈر دیا۔ رفیق نے مزید ڈرنکس منگوائیں۔ سٹیج پر کھڑے بینڈ گروپ میں شانوں تک کُھلا شام کا لباس پہنے ایک گوری سی لڑکی بھرپور آواز میں گا رہی تھی۔ چند جوڑے ایک دوسرے سے چمٹے آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔ جیسے ناچنے کی رسم پوری کر رہے ہوں۔اچانک بینڈ نے ایک چلتی ہوئی دُھن چھیڑ دی۔ بہت سے لوگ فلور پر پہنچ گئے۔ فریدہ نے بے چینی سے رفیق کو دیکھا۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر دوسرے جوڑوں کے ساتھ شامل ہوگیا۔ فریدہ مگن ہو کر نا چتی رہی۔ ایک دُھن ختم ہوتی تو وہ دوسری کے انتظار میں ساری اور بال درست کرنے لگتی۔ رفیق ذرا دیر میں تھک کر بیٹھ گیا تو جمال کو اس کی جگہ لینی پڑی۔ مسز جمال اور رفیق اپنی اپنی نشستوں پر خاموش بیٹھے رہے۔ رفیق کو رقص کرنا بہت اچھا لگتا تھا، وہ چاہتا تھا کہ گھنٹوں ناچتا رہے۔ مگر ذرا سی دیر میں اکتا جاتا۔ وہ تو ہر چیز سے اُکتا جاتا۔ پوری طرح کہیں بھی دل نہ لگا پاتا۔ آخر کیوں؟ اس کے پاس سب کچھ تھا جس کی آرزو لوگ خواب میں کرتے ہیں۔ رفیق نے اُچٹتی سی نظر سامنے ڈالی۔ ناچنے والے اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تھے اور سامنے کھڑی کیبرے گرل کا جسم بل کھائے اسپرنگ کی طرح اُچھل رہا تھا۔ آہستہ آہستہ شیفون کا جھلملاتا گُون اُس کے جسم سے اُترنے لگا۔ اچانک رفیق کو اپنے دماغ میں دُھواں بھرتا محسوس ہوا۔

 

کھٹا کھٹ، کھٹا کھٹ ایک بڑی سی ہیبت ناک مشین چل رہی تھی۔ اور وہ اس میں ایک اہم پُرزے کی مانند اپنے محور پر آگے پیچھے ہل رہا تھا۔ اگر اس کیبرے گرل کی طرح میں اچانک ہلنا بندکردوں؟ اگر رُک جاؤں تو۔۔۔ تو نکال کر پھینک دیا جاؤں گا اور میری جگہ۔۔۔ دیمک زدہ پرزوں کی طویل قطار اُس کے پیچھے کھڑی تھی۔ اُس کی جگہ لینے کے لیے بے چین۔

 

وہ گھبرا کر  کلاس ہاتھ میں تھامے ہال سے باہر نکل آیا اور سیڑھیوں کے قریب ایک کُرسی پر اندھیرے میں بیٹھ گیا۔ قریب ہی کہیں رات کی رانی کھل اُٹھی تھی۔ رفیق نے دو تین لمبے لمبے سائنس لے کر اس خوشبو کو پکڑنے کی کوشش کی۔

 

***

 

”لالٹین بجھا کر سونا بیٹے“ ماں نے تکیے پر سے سر اُٹھا کر کہا اورا پھر سو گئی۔ اُن دنوں وہ امتحان کی تیاری میں رات رات بھر پڑھا کرتا۔چھوٹے سے صحن میں جہاں پھولوں کی کیاری تھی وہ شام ہی سے اپنی میز، کرسی اور بستر لگا لیتا۔ ماں ایک صراحی پر پتیل کا گلاس ڈھک کر رکھ دیتی اور قریب ہی رات کی رانی اور بیلا مہکا کرتا۔ صحن کے وسط میں اماں، ابّا اور چھوٹے بھائی کی چار پائیاں بچھی ہوتیں۔ انگریزی ادب کا وہ رسیا تھا اور نمبر بھی اسے سب سے زیادہ اسی مضمون میں  ملتے تھے۔ اشعار پڑھتے  پڑھتے اس کی نظریں اِرد گرد بھٹکتیں تو وہ عجیب سی کسک محسوس کرتا۔

 

”میں پاس ہوگیا تو سب سے پہلے اپنے لیے ایک شاندار لائبریری ضرور بناؤں گا۔ بھلا یہ بھی کوئی پڑھنے کی جگہ ہے ۔جہاں دُنیا بھر کی بہترین کتابیں، رسالے اور ریکارڈ ہوں گے۔ کبنٹ میں نفیس مشروبات رکھی ہوں گی۔ وہاں میں اپنے آپ کو بند کر کے خوب لکھوں گا،پڑھوں گا۔ ریکارڈ سنوں گا“۔

 

ایک آرام دہ لائبریری کا تصور اُس کی جان کو لگ گیا تھا۔ جب سے اس نے اپنے دوست کے ابا کی سٹڈی دیکھی تھی وہ مستقبل کے خواب اِسی انداز میں دیکھنے لگا تھا۔ یوں لگتا کہ اس کی پوری محنت ایک خوبصورت سی لائبریری کے گرد گھوم رہی تھی۔

 

***

 

اور اب اس کے پاس سجی سجائی لائبریری تھی۔ وہ جب بھی باہر جاتا ڈھیروں ریکارڈ اور کتابیں خرید لاتا جنہیں فریدہ نفاست سے الماریوں میں سجادیتی۔ بَیرا صبح و شام ایک ایک چیز اُٹھا کر اپنے جھاڑن سے چمکایا کرتا۔مگر رفیق لائبریری میں تب ہی بیٹھتا جب باہر کا کوئی پروگرام نہ ہوتا اور اُسے کھانے سے پہلے ڈرنکس کرنی ہوتیں۔

 

اُس کے چاروں طرف ایک سمندر تھا۔ خواہشوں، اندیشوں، مصلحتوں اور آرزوؤں کا سمندر!۔ انکے موج در موج حملوں سے سچ کر  وہ کبھی کبھی اُس جزیرے سے ٹکرا جاتا جو اس کے بچپن کا خواب تھا تو اپنے آپ کو اجنبی اور کھویا کھویا محسوس کرتا۔ اور اس دُکھی اجنبیت سے بچنے کے لیے وہ جلدی سے مُنہ چھپائے دوبارہ لہروں کے ہجوم میں گم ہوجاتا جہاں اُبھرنے اور ڈوبنے کا کھیل جاری تھا۔ جہاں بیکراں وسعتوں کے باوجود سب لہریں حبس اور خوف میں جکڑی ہوئی کناروں سے چمٹی ہوئی تھیں۔

 

”مجھے نکل جانا چاہیے۔ نکل جانا چاہیے“۔ وہ دوبارہ خوشبو کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگا۔

 

”کدھا جانا چاہیے؟۔۔۔۔ لالٹین کی بتّی کے پیچھے۔۔۔۔ وہاں روشنی بہت کم ہے۔ اندھا کر دینے کے برابر۔ اس چھوٹے سے آنگن میں۔۔۔۔ مگر وہ خطرناک ہے چاروں طرف سے کُھلا ہوا۔ غربت، گمنامی اور تکلیفیں کسی بھی وقت پھاند کر اندر آجائیں گی۔۔۔کوئی دوسرا امتحان؟۔۔۔۔ مگر اب میں کس امتحان کے قابل ہوں؟۔ میں تنہا بھی تو نہیں ہوں۔ اتنی بہت سی ذمہ داریاں“۔

 

اُس نے جھنجھلا کر گلاس میں تیرتے برف کے ٹکڑوں کو دیکھا۔ اس کا جی چاہا گلاس اُٹھا کر پھینک دے ۔مگر اتنے بھرے پُرے رنگین، اور جاندار گلاس کو پھینکنے کی ہمت نہیں پڑی۔ اس کی انگلیاں شیشے کی ٹھنڈی سطح پر سے جم گئیں۔

 

”تم یہاں کیوں بیٹھے ہو۔ مسز جمال اکیلی بور ہورہی ہیں“۔ فریدہ نے پیچھے سے آکر محبت سے اُس کے شانوں کو تھپتھپایا۔

 

”میں بیٹھا تھا تب بھی بور ہورہی تھیں“۔ رفیق نے اٹھتے ہوئے کہا۔

 

”تمہارے ساتھ بھلا کوئی بور ہوسکتا ہے؟“ فریدہ گھوم کر سامنے آگئی۔ رفیق اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر ہال کی جانب چل دیا۔

 

مُرغی کی تلی ہوئی ایک ٹانگ ہاتھ میں پکڑے مسز جمال آنکھیں پھیلائے میز پر رکھے اتنے بہت سے عمدہ کھانوں کو دیکھ رہی تھیں۔

 

”بہت منگا لیا جمال نے“۔۔ رفیق نے ان سے ہمدردی جتائی۔

 

”آپ لوگ کھایئے تو“۔

 

”آہستہ آہستہ کھائیں گے“۔ رفیق نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا اور سامنے دیکھنے لگا۔

 

بینڈ ماسٹر مُسکرا مُسکرا کرناچنے والوں کی ہمت افزائی کر رہا تھا۔ لوگ تیز کٹتی ہوئی دُھنوں کا ساتھ دینے کے لیے تمام قوتیں یکجا کیے جسم کے ہر حصے کو بھگانے کی کوشش میں پسینہ پسینہ ہورہے تھے۔

 

”تفریح میں تیز رفتاری کی یہ کیفیت کیسا سکون بخشتی ہے؟“۔ اس نے آنکھیں بند کر کے سوچا۔۔۔ ”شاید میں خود بور ہوگیا ہوں“۔ اور ہتھیلی کو میز پر آہستہ آہستہ مارنے لگا۔ دھپ دھپ کی آواز موسیقی کی لہروں سے ہم آہنگ ہوگئی۔

 

دُور کونے والی میز پر جہاں روشنی کم تھی ایک نو عمر سی لڑکی بُری طرح بہک رہی تھی۔ وہ بار بار اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے مرد کی گردن میں بانہیں ڈال کر اسے چومنے لگتی۔ بیرے نے منیجر کے اشارے پر اس میز کی بتی گُل کردی۔ ایک بہت بڑا گروپ آیا۔ انہوں نے آتے ہی بینڈ سے سالگرہ کے گانے کی فرمائش کردی۔ ان میں سے کسی لڑکی کا جنم دن تھا۔ بینڈ نے ”ہیپی برتھ ڈے“ کی دُھن چھیڑ دی۔

 

فریدہ فلور سے آکر میز پر بیٹھ گئی اور پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگی۔

 

***

 

چاروں نے کئی مرتبہ جُھک جُھک کر ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیا۔ دُودھ والوں کا ٹرک سٹرک پر شور مچاتا گزر گیا۔ رفیق اور فریدہ گھر میں داخل ہوئے تو چوکیدار لیٹے لیٹے بنچ پر سو چکا تھا۔ بنچ کے نیچے موٹا تازہ ایل سیشن تھکا تھکا سا آنکھیں مُوندے بیٹھا تھا جیسے چوکیدار کی موجودگی میں اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوگیا ہو۔

 

کپڑے بدلتے ہوئے رفیق کی آنکھیں بند ہونے لگیں مگر فریدہ سفید لیس کے گون میں ڈریسنگ روم سے بالوں کو برش کرتی ہوئی باہر آئی تو وہ نیند سے لڑنے لگا۔

 

”فریدہ“

 

”ہُوں“۔

 

”اب آجاؤ نا پلیز“۔ وہ تکیہ کو بھینچتے ہوئے بولا۔

 

”یہ پردے پھیلا پھیلا دوں ورنہ سو بھی نہیں سکیں گے“۔ وہ نیلے ریشمی پردے کھڑکیوں کے شفاف شیشوں پر پھیلانے لگی۔”آیا سے کتنی مرتبہ کہا کہ شام ہوتے ہی کمروں کے پردے پھیلا دیا کرے مگر اسے کبھی یاد ہی نہیں رہتا“۔ فریدہ نے جھنجھلا کر آسمان کے کونے میں پتلی سی اُجلی لکیر کو دیکھا جو تھوڑی دیر میں پھیل کر بڑھنے والی تھی۔ اور پلنگ پر بیٹھ کر گون کاربن کھولنے لگی۔

 

رفیق نے اسے بے پناہ خواہش سے دیکھتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا مگر دوسرے لمحے تکان اور نشے سے چُور اس کا ہاتھ بستر پر آن گِرا۔ فریدہ نے پلٹ کر چند لمحے اسے خراٹے لیتے دیکھا  اور کانوں تک سُرخ ہوگئی۔ کچھ دیر تک وہ چِت لیٹی ہاتھوں کی اُنگلیاں توڑتی رہی۔ پھر گھبرا کر کھڑکیوں کی طرف دیکھا۔

 

”روشنی آنے لگی تو سو بھی نہیں سکوں گی“۔ جُھک کر اس نے نیند دلانے والی ایک گولی دراز میں سے نکالی اور نگل کر آنکھیں مُوند لیں

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*