اردو ادب میں عورت کا کردار

 

مولانا حالی نے جب مناجات، بیوہ اور چپ کی داد جیسی نظمیں لکھیں اور عورت کی پہلی بار اُردو شاعری میں ”اے ماؤ بہنو بیٹیو“ کے محترم ناموں سے پکارا تو صالحہ عابد حسین نے یاد گارِ حالی میں لکھا۔ ”حالی سے پہلے کوئی بدیسی اگر ہمارے اُس وقت کے سارے اُردو شاعری کے خزانے کو کھنگا لے تو اس کو یہ رائے قائم کرنی پڑے گی کہ اس قوم میں عورت کا نہ کوئی درجہ ہے نہ اخلاق، نہ اہمیت نہ کوئی حیثیت اور جو عورت اُسے ملے گی، وہ اوّل تو بدترین صفات کی حامل نظر آئے گی۔ دوسرے اُسے عورت کہنا بھی مشکل ہے۔ اس لیے کہ اس میں زنانہ و مردانہ صفات کچھ اس طرح ملی جلی ہوئی ہیں کہ اسے ہیجڑے قسم کی کوئی مخلوق کہا جاسکتا ہے۔ جس پر اُردو کا شاعر دل و جان سے فدا ہوتا ہے۔“

قدیم اور روایتی اُردو شاعری کے معشوق یا محبوب کو اگر عورت تصور کر لیا جائے تو یہ ایک عجیب و غریب صفات کا حامل کردار بنتا ے۔ ہر جائی، بے وفا، بے رحم، ظالم و ستمگر۔اگر شریف زادی تو ایسی کہ سورج بھی ننگی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت نہ کرے اور اگر بازاری تو ایسی کہ عاشقوں کے ٹھٹھ لگے ہیں۔ کسی پر پیک اُچھالی کسی پر ٹھٹھہ کیا کسی کو ادائے دِلرُبا سے لبھایا تو کسی کو ڈھینگا دِکھایا۔دھول دھپا چاہے۔اُس سراپا ناز کا شیوہ نہ سہی لیکن خصلت ایسی ہی غیر شائستہ اور گھٹیا ہے۔

دہلوی شعرا میں میر درد اِک رکھ رکھاؤ والے شاعر ہیں۔ انتہائی سلجھے ہوئے انداز میں اُس دور کے معشوق کی تصویر کچھ یوں پیش کرتے ہیں:

صورتوں میں خوب ہوں گی شیخ  کو حور بہشت

پر کہاں یہ شوخیاں یہ طور یہ محبوبیاں

یہی محبوبیت، دلرُبائی، ناز وادا، غمزے وعشوے، بدعہدی وبے وفائی گویا اُس کے خصائصِ معشوقانہ اور کردار دلبرانہ ہے۔ اسی لیے تو غالب نے کہا تھا:

ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی

جس کو ہودین و دل عزیز اُس کی گلی میں جائے کیوں

ہماری غزل میں اس جنگجو یا نہ فطرت اور خونخوارانہ طرزِ عمل کو حسن کی شان تصور کیا جاتا رہا اور عاشق کے لیے اعزاز یعنی عاشق جس قدر معشوق کی ستم گری کا شکار ہوگا اُسی قدر ثابت قدم تصور ہوگا۔ میر نے کہا تھا:

جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف

اے کشتہِ ستم تیری غیرت کو کیا ہوا

ایسے ہرجائی اور اخلاق باختہ قسم کے کردار شاعری میں ہی نہیں بلکہ ہماری نثری داستانوں میں بھی عام ہیں۔ اُردو کی واحد اعلیٰ پایہ کی حامل داستان باغ وبہار کے نسوانی کردار بھی کسی اخلاقی وکرداری او صاف سے عاری ہیں، بلکہ انتقام اور نفسی خواہشات کی آگ میں بھڑکتی ہوئی جنونی قسم کی عورتیں سامنے آتی ہیں۔ شایداسی تصور کی بنا پر غالب ؔ نے کہاتھا۔

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے

ہوئے تم دوست جس کے دُشمن اس کا آسماں کیوں

دبستان دہلی میں تو پھر بھی عورت کے تصور کو عشق وتقدس کی روئی میں چھوئی موئی سالپیٹ دیا گیا۔ لکھنوی شعرا نے تو اس غریب کے بخیے ہی اُدھیڑ کر رکھ دیے۔ ریختی جیسی بدنام زمانہ صنفِ نظم اختر اع کی جس میں عورتوں کا مخصوص محاورہ روز مرہ، لباس و سنگھار اور خارجی و داخلی معمولات ِ زندگی کو موضوع سخن بنایا گیا اور معاملات ِ خلوت کو زینت بزم مئے نوشاں کر کے رکھ دیا گیا۔ دہلی میں تو معاملات ِ مونث کو صیغہ مذکر میں لپیٹا گیا تو کچھ پردہ داری رہ گئی لیکن یہاں تو معاملات مردانہ بھی تثنیث میں ڈھل گئے اور عورت تماشہ اور مردتما شائی بن کر رہ گیا اور معانکہ دل حسن فروشوں کی دُکان، زوال پذیر معاشرتوں میں ہمیشہ نسوانیت غالب آجاتی ہے جو تباہی کا استعارہ بنتی ہے۔ یہ عمل یہاں بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ نوابانِ اودھ تو اپنی آرٹسٹک معاشرت کے ہمراہ قصہ پارینہ ہوئے۔ لیکن عورت سے وابستہ تصورات اور اعمال میں کوئی خاص تبدیلی نہ آسکی۔ حالی اور اشد الخیری بھی اس کی خلقی خدمت گزاریوں، وفا شعاریوں  اور پاکیزگیوں کی مدح سے آگے بڑح کر اُسے ایک مکمل انسان کا کردار نہ بخش سکے۔ حد یہ کہ علامہ اقبال جنکے حوالے سے ہمارے تمام فکری وشعری نظریات بنیادیں اخذ کرتے ہیں۔ اُن کے خیالات بھی اکبر الہ آبادی کے نظریات سے زیادہ فرق نہ رکھتے تھے۔ اکبر الٰہ آبادی عورت کی جدید تعلیم، نوکری اور آزادی کی تحریکوں کے شدید مخالف تھے۔

گھر سے پڑھ لکھ کر نکلیں گی کنواری لڑکیاں

دلکش، آزاد، خوشرو ساختہ پرداختہ

اور اقبال بھی عورت کو گھر کے آنگن میں محض ماں کے فرائض کی انجام دہی تک ہی محدود دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ افلاطون کے مقالات اُس سے لکھوانے کے ہر گز قائل نہیں۔ البتہ افلاطونوں کی تربیت کا فریضہ اُس کے سپرد ضرور کرتے ہیں۔ بصورتِ دیگر وہ زن نہیں نازن بن کر مریخ کی فضاؤں میں بھٹکتی پھرے گی۔ عورت کا جدید علوم سے آراستہ ہو کر پیشہ وارانہ ذمہ داریاں اُٹھانا مغرب جیسی بے راہ روی اور خانکی تباہی کا باعث ہوگا۔ یہ نظر یہ محض اقبال کا ہی نہیں غالباً اس مرد حاوی معاشرت کا عمومی فیصلہ تھا۔

کیا چیز ہے آرائش وقیمت میں زیادہ

آزادیِ نسواں کہ زمرد کا گلوبند!!

شاید عورت زمرد کے گلو بند کی آرائش میں ہی مقیدرہ جاتی تا آنکہ خود عورتوں نے آگے بڑھ کر اُسے باور کروایا کہ یہ آرائش نہیں بلکہ گلو بند اِک غلامی کی علامت بنتا ہے۔ اسی لیے تو شبنم شکیل آگاہ کرتی ہیں۔

کسی بھی لفظ نے تھاما نہیں ہے ہاتھ میرا

میں بڑھ کے دیکھ چکی آخری عبارت بھی

شعروں کی علامتوں کے تیروسناں سے چھلنی یہ عورت اب خود اپنا سائبان تھامے آگے بڑھتی ہے۔

وہ اِک رائیگاں مسافت کے بعد اپنے ہونے کا اعتبار حاصل کرتی ہے کہ وہ محض اپنے قدموں تلے جنت ہی نہیں رکھتی محض گھر کی جنت کی آرائش کرنے والی حور ہی نہیں وہ اپنے ذات کی کھوج کے بھی کئی حوالے رکھتی ہے اور ملکی و عمرانی منظرنامے پر بھی نگاہ رکھتی ہے۔ شعر ونثر میں پیش کیے جانے والے عورت کے قضیے کا مقدمہ خود عورتوں نے اپنے ہاتھوں لے لیا اور اُس کے قلم نے جس جدید عورت کا نقشہ پیش کیا وہ نہ محبوب تھی نہ رنڈی بلکہ زندگی کے مسائل سے نبرد آزما ایک حقیقی انسان تھی۔ اُردو میں فکشن کے حوالے سے پہلانام رشید ۃ النسا کا دکھائی دیتا ہے۔ جنہوں نے عورتوں کی تعلیم اور مساویانہ حقوق کی بات کی ان کے پیچھے محمدی بیگم، صغرا ہمایوں مرزا، نذر سجاد حیدر، آمنہ عفت  آمنہ نازلی جیسی لکھنے والیاں جو معاشرے میں عورت کی اصلاح و فلاح کی علمدار بنیں اُن کی جراتِ رندانہ اور جدت آموزی قابلِ داد ہے۔ مسز حجاب امتیاز علی اور مسز عبدالقادر نے گورومانیت کی پُر اسرار کہانیاں کہیں لیکن خواتین لکھاریوں کے راہ کے کئی کانٹے چن دیئے اور جدت وندرت کی کئی راہیں واکیں۔ تہذیب نسواں اور عصمت جیسے رسائل کی اشاعت نے خواتین تخلیق کے منجمد سوتوں کو بہاؤ کی مزید کئی راہیں دکھائیں۔

ڈاکٹر رشیدہ جہاں نے اگر چہ کم لکھا لیکن انگارے جیسے باغی لحن میں اُن کی آواز ساحل تھی اسی لیے شورزیادہ اُٹھا۔ عصمت چغتائی نے عورت دنیا کو جھنجھوڑ کر دکھ دیا۔ لیکن یہاں بھی عورت کے ساتھ اک عجیب جانبداری کا رویہ روا رکھا جانے لگا کہ اُس کے ہر شعر میں اور افسانے میں اُس کی اپنی ذات کے پرتو تلاش کیے جانے لگے۔ عصمت چغتائی جب پہلی بار عورتوں کے داخلی و خانگی مسائل کی داعی بنیں تو خود انہی کو گھریلو خواتین اور اُن کے سکول کی طالبات کے لیے خطرہ قرار دیا گیا اور اُن کی کہانیوں کے واقعات کو اُن کی اپنی ہی زندگی سے جوڑ دیا گیا۔ اُردو میں مقالاتِ افلاطون لکھنے والی قراۃ العین کی اعلیٰ تخلیقات بھی اُن کی مجرد زندگی کے تابع ہوگئیں۔ اُن کے پیچھے کھڑی بانو قدسیہ بھی اشفاق احمد کی پرچھائیں میں چھپی رہیں۔

لیکن اُردو فکشن کو اپنی موجودگی سے جھنجوڑ نے کا سلسلہ کبھی تھما نہیں ہے۔ قراۃ العین کا رہنا چاہے اس کا کیکٹس لینڈ میں ممکن نہ رہا ہو لیکن اُن کے سامنے کار جہاں دراز تھا۔ وہ آگ کے دریا عبور کرنے آخر شب کی ہمسفر رہیں۔خواہ اُن کے اعتراف میں دیر لگی۔ قراۃ العین حیدر کے لیے تخلیق ایک کے حذینہ حسن و آہنگ کو پیش کرتی ہے۔ وہ نظریات، فلسفوں اور تواریخ کی رفتار جانچتی ہیں، داخلی تجربے کی حیثیت رکھتی ہے۔ خارجی عوامل دداخلی حسیت میں رچ بس کر ایک باطنی واردات کا روپ دھار جانے میں حال کے لمحوں میں ماضی کے وژن کی شمولیت تلازمہ خیال کی تکنیک بن جاتی ہے۔ برف باری سے پہلے کیکٹس لینڈ، جلاوطن ہاؤسنگ سوسائٹی، ان کے افسانوں کی فضا کی انوکھی نگری جمیلہ ہاشمی کو بھی تلاش بہاراں میں خوب پھٹکنا بڑا۔دشت سوس کی سیامی نے خدیجہ مستور نے چاہے گھر آنگن میں ہی پڑاؤ لکھا لیکن تقسیم ِ ملک کے سیاسی منظرنامے کو سماجیات و نفسیات کے تناظر میں یوں پیش کیا کہ اس عہد کی روح کشید کر لی۔انہوں نے ہر ملکی و عمرانی مسئلے پر لکھا چاہے وہ تقسیم کی خونچکاں کہانی ہو کہ 65کی جنگ کے واقعات پُر جوش واقعات ہوں۔

الطاف فاطمہ نے جب اندھے گونگے کواڑوں پر دستک دی تو باز گشت بہت دور تک گئی۔ ہاجرہ مسرور کے نعرہِ مستانہ نے بھی چونکا دیا۔ ان کے بہترین افسانے طنز کی تکنیک میں لکھے گئے۔یہ طنز آمرانہ حکومتوں کے خود ساختہ قوانین،اسلامی سکالر کی تشریح اور عوام کی بے حسی اور اُن کے اندر پروان چڑھتے وحشی جذبات پر کی گئی ہے۔ اُن کے افسانے کی عصری حسیت علامت و تجریدیت کی بجائے ٹھوس بیانیہ پر مشتمل ہے جس میں گہری وابستگی اور جذباتی شدت موجود ہے۔وہ پوری سچائی کے ساتھ اپنے قومی اور اجتماعی مسائل سے وابستہ ہے۔ اختر جمال، جیلانی بانو، نثار عزیز بٹ، جاوید جعفری، فرخندہ لودھی، شکیلہ اختر، رضیہ فصیح احمد سے ہوتی ہوئی فکشن کی یہ سواری خالدہ حسین تک پہنچی۔ جنہوں نے ساٹھ کی دہائی میں سواری پہنچان بیزار یا یہ آخری سمت اور شہر پناہ جیسے افسانے لکھ کر ناقدین کو چونکا دیا۔ اگر چہ اُن کا مجموعہ پہچان بہت بعد میں 80کی دہائی میں چھپا لیکن ان کہانیوں میں القباض اور وحشت و دہشت کی فضا آمریت کے ہر عہد سے منطبق ہوجاتی ہے۔ ان کی کہانیوں کی بنت میں خوف کا ایک پُر اسرار ہاتھ کار فرمارہتا ہے جو وجودی فلسفے کی از لی تنہائی لایعنیت و بے معنویت کی تعمیر کرتا ہے۔ جس کا شکار بیشتر کہانیوں میں عورت ذات ہے۔ اس داخلی اکلاپے ہاس وہراس اور شکست وریخت کی کیفیت اُس طبعی حسیت اور روشنی طبع کی دین ہے جو خارجی حالات پر اُن کا ردِ عمل نظر آتا ہے۔

زاہدہ حنا کی بیشتر کہانیوں کا موضوع استحصالی قوتوں کی چیرہ دستیوں کا شکار وہ انقلابی ہیں جو انہیں آزادی رائے کے لیے جانیں دیتے تشدد برداشت کرتے ہیں لیکن کبھی ہار نہیں مانتے ہیں۔ ریاستی جبر کا شکار مرد ہی نہیں عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ ان اذیت گاہوں، ٹارچرسیلوں، بندی خانوں، ”جسم و جان کی موت سے پہلے“ اذیتوں کے عجب کھیل کھیلے جاتے ہیں۔کیونکہ اس راہ میں اجل ہے اور ہر تتلیاں ڈھوے والی بھی اسی راہ کی سلامتی ہے۔ یہ کہانی انتہائی پُر اثر ہے۔ جو اس امید پر اختتام پذیر ہوتی ہے کہ آنے والی نسلوں کی راہ کے کانٹے پہلی نسل نے اپنی قربانیوں سے چن لیے ہیں۔ مہدی کے اچھے مستقبل کے لیے اس کی ماں نے اپنے حال کو دان کردیا ہے۔ زاہدہ حنا کے افسانوں میں ہجرت کے کرب کا ناسٹلجیائی اظہار اور سامراجی قوتوں کے خلاف سینہ سپرد ہوجانے کا عزم نمایاں ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خواتین فکشن نگاروں نے جذباتیت اور رومانیت کے الزام کو عملاً رد کردیا ہے۔ملکی سیاسی اور عمرانی حوالے سے ہر اس تبدیلی پر انہوں نے بھر پور اظہار کیا جس نے ادبی منظر نامے کو متاثر کیا۔

اس حوالے سے ایک اہم نام سلمیٰ اعوان کا ہے۔ اُن کا ناول ”تنہا“ سقوط ڈھاکہ کے جرم کا وائٹ پیپر ہے۔ شاید اسی بے باکی کی پاداش میں اس بڑے ناول کو نظر انداز کیا گیا۔ لیکن ڈریں وہ پھر بھی نہیں۔ہر ملکی اور بین الاقوامی  ایشو پر لکھتی چلی گئیں چاہے وہ بنگال کا المیہ ہو دہشت گردی، عراق و بیروت کی تباہی، فلسطین کا قبضہ۔ مثلا ان کا ایک افسانہ اور غزہ کے بچوں میں مسئلہ فلسطین پر تاریخی حوالوں کے ساتھ اس قوم کا المیہ اور تاریخ پیش کرتا ہے۔ اس قوم کی حوصلہ مندی ان کے گیت اور لوریاں جو آزادی کی خواہش اور وطن پر قربان ہوجانے کی اُمنگ سے لبریز ہیں۔ ان کا بیان افسانے کو فنی لحاظ سے پُر جہت بنادیتا ہے۔

اسی طرح 65کی جنگ کے حوالے سے خدیجہ مستور کے ”ٹھنڈا میٹھا پانی تریا۔ راستہ“ رضیہ فصیح احمد کا ”خندق کا پودا“ فرخندہ لودھی کا ”یار بیتی“، اختر جمال کا”مے تلخی ایام“ عفر ابخاری کا”کروٹ“ اہم افسانے ہیں۔

جبر کے موسم ہوں کہ دہشت گردی کی تباہیاں خواتین فکشن نگاروں نے ہر آہٹ کا جواب ضرور لکھا۔ سعیدہ گزدر کے کولکی اور جنرل خصوصاً فریدہ حفیظ کے افسانے رب نہ کر کے میں ضیا ء دور میں سر پر دوپٹہ اوڑھنے اور نماز روزے کی زبردستی پابندی کروانے پر عجیب مضحکہ خیز صورتِ حال کو پیش کیا گیا ہے کہ جتنی سختی کی جاتی اُتنی ہی مزاحمت پیدا ہوتی۔ اس پس منظر میں لکھی گئی کہانیوں میں چونکہ تنوع زیادہ نہ ہوسکتا تھا۔ اس لیے جبر و ستم کی اس کہانی کو خواتین نے پہلو بدل بدل کر لکھا۔ اسی لیے اسلوب و تکنیک کے تجربے بہت ہوئے۔کبھی علامت تجرید  کبھی تمثل کبھی خواب و خیال کے سلسلے۔کبھی پرندوں جانوروں کی علامتیں استعمال ہوتیں۔کبھی داستان و اسطور سے ماخذات لیے گئے کبھی خیال اور شعور لاشعور کی غوامی کی گئی لیکن وقت کی آواز پہ لبیک ضرور کیا گیا جیسے نائن الیون کے پس منظر میں نا گہانی موت، بارود، آگ اور بھوک کے رقصِ ابلیس کی داستانِ الم کی عکاسی خوب کی گئی ہے۔

مثلاً فرحت پروین کے ہاں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں پر جو گزری انہوں نے بیانیہ اسلوب میں پاکستانی خاندانوں کی توڑ پھوڑ،اقدار کا تصادم نئی وپرانی نسل کے جنریشن گیپ کو اپنے افسانوں بن باس شاخ آہو وغیرہ میں پیش کیا۔ اس موضوع پر فہمیدہ ریاض کا افسانہ دسترس اہم ہے۔ پروین عاطف کا افسانہ اینڈ آ ف دی ٹائم میں اُن اجارہ داروں اور زمینی خداؤں کے مقاصد پر طنز کی گئی ہے۔ جو دنیا اور انسان پر اپنا قبضہ رکھنے کو اسے دائمی موت کی طرف دکھیل رہے ہیں۔

عطیہ سید کا افسانہ بلقان کا بت اس موضوع پر کثیر الجہات افسانہ ہے۔ نیلونی اقبال کے گھنٹی سے لے کر کرشن مائیس تک ایک باوقار سفرکے سنگِ میل ہیں۔ بات پروین عاطف کی  کہانی ڈیزل میں لتھڑی چڑیا سے لے کر نیلم احمد بشیر کے جو کو کے ہار سے نکلے تک پہنچتی ہے۔ انہی اثرات کا حاصل ہے یعنی اس واقعے کے پس منظر میں اس گلوبل ولیج میں نسل، مذہب اور معاشرتی مفاکرات اور تحذید پیدا ہورہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُردو فکشن نگار خواتین نے اپنی تخلیق کار اس اپنے زمانے اور معاشرے سے کشید کیا ہے۔ سیاسی، تاریخی، سماجی یا معاشی صورتِ حال سے جو مسائل اور حالات پیدا ہوتے ہیں ان کے تناظر میں معاشرے کے افراد جس کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں جو عمل اور ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں جو نفسیاتی کشمکش جنم لیتی ہے جو طبقاتی و گروہی سوچ پنپتی ہے۔ جس جس طرح دماغی وجذباتی صحت متاثر ہوتی ہے روحانی اور اخلاقی اقدار کی شکست وریخت برپا ہوتی ہے جس کے نتائج ضمیر کو ابھارتے یا مارتے ہیں یعنی زندگی کے اندرون میں اُس کے باطن میں جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ یہ سب رجحانات عمل ردِ عمل اور تحریکات خواتین فکشن نگاروں کے فن کا حصہ ہے اور یہ سفر بشریٰ اعجاز کی مابعد الطبیعات سے لے کر طاہرہ اقبال کی دیہات نگاری تک جاری ہے۔ان کے ہمراہ ایک قافلہ محو سفر ہے۔ شہناز شورو، سائرہ غلام نبی، سماں پیروز، فردوس انور قاضی، طاہرہ احساس، اُجالا مینگل، اُجالا تبسم، حمیرا صدف، سمیں کرن، رابعہ الربا، اس چراغ کی لواُونچی کیے ہوئے ہیں۔

جنہوں نے جدید عہد کی نئی عورت کی بے بسی اور سائیکی کو اِک فلسفیانہ جہت دی۔اُن کے ہاں نئی عورت اعتماد کی راجد ھانی کی وہ ملکہ ہے کہ جو اپنے ماحول کی تنہائی کو اپنے ذات کی ڈھال بنالیتی ہے۔ بات نیلم احمد بشیر کے اس اقتباس پر ختم کروں گی، کہتی ہیں ”ملکہ نے ایک نئی سوچ کو کلک کیا۔ سناٹے کی ایک اپنی اہمیت اور ضرورت تو ہوتی ہے۔سناٹا نہ ہوتو ”بگ بینگ“ کے بعد کائناتیں وجود میں نہ آئیں۔ تخلیق کا کنول جب سکوت کے تالاب میں کھلتا ہے تو زیادہ دلفریب اور خوشبودار ہوتا ہے۔ سنڈریلا گزرے ہوئے کل کی خیالی شہزادی تھی اور ملکہ آج کی حقیقی عورت“۔

اگر چہ آج بھی عورت انتقام کی آگ بجھانے سے لے کر دل پشوری کے سبھی مراحل سے گزر رہی ہے۔ لیکن اپنے استحصال کو رومانی کرب سمجھا کر حرز جان نہیں بناتی، وہ تعطل کے کہرے میں اپنی سوچ اور فیصلہ کا چراغ ضرور جلاتی ہے۔

دل کے دیے کی تیز ہوئی ہے بھڑک کے لو

یہ خوف ابر و باد سے آزاد ہوگا آج

ابرو باد کے خوف سے بریت کی خواہش مند آج کی عورت زمرد کے گلوبند کی آرائش سے چندھائی نہیں ہے اور وہ اپنی ذات کے ہالے کی خود تزئین کار ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*